امریکا کے زوال میں القاعدہ کابڑا کردارہے ،تجزیہ کار

امریکی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ گیارہ ستمبر 2001 کو امریکی سرزمین پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد القاعدہ اپنی اس حکمت عملی میں کافی کامیاب رہی ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر امریکا کے زوال کے عمل کو تیز کرنا تھا۔خارجہ پالیسی کے عمل میں شامل فکری اشرافیہ میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ سابق صدر جارج بش کی انتظامیہ نے گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں پر ضرورت سے زیادہ ردعمل ظاہر کیا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق تجزیہ کاروں نے کہاکہ اس کی ایک اہم وجہ اس وقت کی امریکی انتظامیہ میں حامیوں کے طور پر نئے قدامت پسندوں یعنی نیو کنزرویٹیوز کا اثر و رسوخ تھا جن میں نائب صدر ڈک چینی، پینٹاگون کے سربراہ ڈونلڈ رمزفیلڈ اور ان کے بیشتر ساتھی شامل تھے۔ابھی لوئر مین ہٹن میں زمین بوس ہونے والی عمارتوں کی گرد بیٹھی بھی نہ تھی کہ نئے قدامت پسندوں نے صدر بش کی خارجہ پالیسی پر قبضہ جما لیا اور اسے ایک ایسی انتہاپسند راہ پر لے کر چل پڑے جس کا مقصد نہ صرف وسیع تر مشرق وسطیٰ میں امریکی غلبے کو مستحکم کرنا تھا بلکہ عالمی طاقت بننے کا خواب دیکھنے والے ملکوں اور علاقائی حریف طاقتوں کو بھی ان کے عزائم سے باز رکھنا تھا۔نئے قدامت پسندوں نے چار برس قبل پروجیکٹ فار نیو امریکن سینچری نامی تھنک ٹینک میں شمولیت اختیار کی تھی۔

Electrolux