با ئیو آملہ شیمپو بنانے والی کمپنی فارول کاسمیٹکس،کاشف ضیاء ،اویس صلاح الدین، ذکاء شیخ پر300 کروڑ ٹیکس چوری کانیا اسکینڈل

بائیو آملہ شیمپو بنانے والی کمپنی فارول کاسمیٹکس (تحلیل شدہ)کے شریک مالکان کاشف ضیاء ،محمد اویس صلاح الدین اور ذکاء الدین شیخ کا 300 کروڑ روپے کی ٹیکس چوری کا ایک اور نیا اسکینڈل سامنے آگیا ،کمپنی مالکان بائیو آملہ شیمپو کا ’’ٹریڈ مارک ‘‘رجسٹرڈ نہ ہونے کے باوجود نہ صرف جعلی طریقے سے شیمپو بناتے رہے بلکہ اس کی مد میں کروڑوں روپے کا سیلز ٹیکس بھی ہڑپ کرگئے ،دوسری جانب تحلیل شدہ کمپنی کی تشکیل بھی دھوکہ دہی کی بنیاد پر رکھے جانے کا انکشاف ،کمپنی کے شریک مالکان کاشف ضیاء کے والد ضیاء الدین ،محمد اویس صلاح الدین کی والدہ سعیدہ جبین اور ذکاء الدین شیخ کی زوجہ خالدہ پروین کی جانب سے لاہور کے مستقل رہائشی ہونے کے باوجود فارول کاسمیٹکس کمپنی کو رجسٹرار آف انڈسٹریز پشاورسے ر جسٹرڈ کرانے کے لیے مینگورہ سوات کا ایڈریس دیا گیا۔فارول کاسمیٹکس کمپنی کے حوالے سے جرأت کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق بائیو آملہ شیمپو بنانے والی کمپنی فارول کاسمیٹکس (تحلیل شدہ)کے شریک مالکان کاشف ضیاء ،محمد اویس صلاح الدین اور ذکاء الدین شیخ کا 300 کروڑ روپے کی ٹیکس چوری کا ایک اور نیا اسکینڈل سامنے آیا ہے جس میں 169کروڑ روپے کی ٹیکس چوری کا الزام صرف کاشف ضیاء پر ہے۔ذرائع کے مطابق فارول کاسمیٹکس کمپنی (تحلیل شدہ )کے مالکان ضیاء الدین (کاشف ضیاء کے والد)، سعیدہ جبیں (محمد اویس صلاح الدین کی والدہ)اور خالدہ پروین (زوجہ ذکاء الدین شیخ)جو لاہور کے مستقل رہائشی ہونے کے باوجود ان کی جانب سے فارول کاسمیٹکس کمپنی کو مینگورہ سوات کے ایڈریس پر رجسٹرار آف انڈسٹریز پشاور سے رجسٹرڈ کروایا گیا

اس ضمن میں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان کی جانب سے یہ عمل ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تاکہ مستقبل میں ’’ٹیکس ‘‘جیسی صورتحال سے بچا جاسکے ۔ذرائع کے مطابق فارول کاسمیٹکس کمپنی پشاور جو کہ 2013میں کمپنی کی ایک مالک خالدہ پروین (زوجہ ذکاء الدین شیخ) کی جانب سے پارٹنر شپ ایکٹ کے تحت تحلیل کروادی گئی ہے جبکہ اس سے پہلے2010 میں ضیاء الدین اور سعیدہ جبین کی جانب سے کمال اسفر ایڈووکیٹ کے ذریعے سندھ ہائیکورٹ میں کمپنی تحلیل کرکے مالکان کے درمیان حصے داری کاتصفیہ کرانے کی رٹ بھی دائر کی گئی تھی جو آج تک حکم امتناعی کی حیثیت پر ہے ۔ذرائع کے مطابق کمپنی کے شریک مالک کاشف ضیاء کے خلاف 169کروڑ روپے ٹیکس چوری کا مقدمہ سپریم کورٹ میں ہے جس میں ایف بی آر کاشف ضیاء کے خلاف براہ راست فریق ہے۔ ذرائع کے مطابق کمپنی کے شریک مالک ذکاء الدین شیخ اور کاشف ضیاء کو اس وقت مجموعی طور 1300کروڑ روپے سے زائد کی ٹیکس چوری کے مقدمات کا سامنا ہے.

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ تحلیل شدہ کمپنی کے بائیو آملہ شیمپو کا ٹریڈ مارک میں بھی نہیں ہے اس کے باوجود وہ سرکاری اداروں کی آنکھوں دھول جھونک کر دھڑلے سے نہ صرف شیمپو بنارہی ہے بلکہ اس مد میں کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری بھی کررہی ہے۔ دوسری جانب اپنی ٹیکس چوری میں رعایت حاصل کرنے کے لیے نہ صرف ذکاء الدین شیخ ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں بلکہ کاشف ضیاء بھی قومی اداروں کو گمراہ کرنے کے لیے تدبیریں کررہے ہیں۔ذرائع کے مطابق فارول کاسمیٹکس کمپنی کے حوالے سے یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کیے جانے بعد خود کو ممکنہ سزا سے بچانے کے لیے ذکاء الدین شیخ اور ان کے بھتیجے کاشف ضیاء نے ایک دوسرے پر اس کا ملبہ ڈالنے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف ایف آئی آر یں بھی کٹوا رکھی ہیں۔

Electrolux