100کے کارڈپرپورا100

سپریم کورٹ نے موبائل ٹیلی فون کمپنیوں اور ایف بی آر کی جانب سے موبائل کارڈ پر وصول کیے جانے والے ٹیکس معطل کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ عدالتی احکامات پر دو دن کے اندر اندر عملدرآمد یقینی بنایا جائے،اِس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اِس معاملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں سے لوٹ مار کی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ریڑھی بان ٹیکس نیٹ میں نہیں آتا اْس سے ٹیکس کی وصولی کیسے کی جا سکتی ہے؟ ایک سو روپے کا کارڈ لوڈ کرنے پر64.38 روپے وصول ہوتے ہیں، جو غیر قانونی ہے، عدالت کو بتایا گیا موبائل استعمال کرنے والوں کی تعداد 13کروڑ ہے، جبکہ ٹیکس دینے والے صرف5فیصد ہیں۔ چیف جسٹس نے اِس پر حیرت کا اظہار کیا کہ5فیصد سے ٹیکس لینے کے لیے13کروڑ افراد پر اسے کیسے لاگو کیا جا سکتا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جس کا ٹیلیفون استعمال حد سے زیادہ ہے اْس کا ریکارڈ حاصل کریں اور ٹیکس لیں،عدالت نے حکم دیا کہ موبائل فون کارڈز پر ٹیکس وصولی کے لیے جامع پالیسی بنائی جائے۔

ٹیلی فون کمپنیوں کے لیے پاکستان ایک ایسی جنت بنا رہا ہے، جس میں اْن کے منافع پر کوئی روک ٹوک نہیں، وہ جتنا چاہیں پیسہ کمائیں کوئی اْنہیں پوچھنے والا نہیں،غالباً اِسی وجہ سے سوچا گیا کہ جب ٹیلی فون کمپنیاں اپنے صارفین سے اتنا منافع کما رہی ہیں تو حکومت بھی کیوں نہ انہی صارفین پر بوجھ ڈال دے،شروع شروع میں تو کال سننے کے چارجز بھی تھے، جو آہستہ آہستہ ختم ہو گئے اور کال ریٹ بھی کم ہو گئے تاہم موبائل فون کارڈ پر ٹیکس بڑھتے چلے گئے۔اِس وقت13کروڑ موبائل صارفین میں سے ہر کوئی ٹیکس دے رہا ہے چاہے اس کی آمدنی قابلِ ٹیکس ہے یا نہیں، گویا اِس طریقے سے10کروڑ پاکستانیوں کو بالواسطہ ٹیکس نیٹ میں شامل کر لیا گیا ہے، کیونکہ ایک ایک کے پاس کئی کئی کنکشن ہیں دوسرے الفاظ میں اِس کا مطلب یہ ہے نصف کے لگ بھگ آبادی حکومت کو ٹیکس دے رہی ہے۔یہ ایسا بالواسطہ ٹیکس ہے جس کے جمع کرنے پر بھی حکومت کا کچھ خرچ نہیں اٹھتا،کارڈ چارج ہوتے ہی یہ ٹیکس کٹ جاتا ہے اور پھر موبائل کمپنیاں اسے سرکار کے خزانے میں جمع کرا دیتی ہیں،جبکہ براہِ راست ٹیکسوں کی وصولی کے لیے حکومت کو وسیع نیٹ ورک بنانے پڑتے ہیں،ٹیکس دینے والوں کے گوشوارے چیک کرنے پڑتے ہیں۔یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ کس ٹیکس گزار نے کیا کمایا اور کتنا ٹیکس دیا۔

حکومت سالہا سال سے ٹیکس نیٹ وسیع کرنے میں کوشاں ہے۔ تاجروں کو انکم ٹیکس کے گوشوارے داخل کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ ہڑتال کر دیتے ہیں اور پھر بعد از خرابء بسیار حکومت یا تو اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جاتی ہے یا تھوڑا بہت کمپرومائز کر کے معاملے کو آگے بڑھایا جاتا ہے،اِس سلسلے میں کسی حکومت کی کوئی تخصیص نہیں،حکومت فوجی ہو،جمہوری ہو ، کسی جماعت کی ہو یہ مسئلہ درپیش رہتا ہے۔ اس کے برعکس موبائل کارڈ پر ٹیکس چْٹکیوں میں کٹ جاتا ہے،ہنگ لگتی ہے نہ پھٹکری اور چوکھی رقم سرکاری خزانے میں جمع ہوتی ہے،ستم ظریفی یہ ہے کہ 13کروڑ موبائل صارفین سے ٹیکس لے کر بھی کہا جاتا ہے کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے، جبکہ امرِ واقعہ یہ ہے کہ اگر کسی بھکاری نے بھی ٹیلی فون رکھا ہوا ہے تو وہ اپنی جمع کی ہوئی بھیک میں سے 35فیصد سے زائد ٹیکس ادا کرتا ہے۔

حکومت چونکہ براہِ راست ٹیکسوں کی وصولی میں مشکلات سے دوچار ہوتی ہے اِس لیے اْس نے یہ آسان راستہ اختیار کیا ہوا ہے، اِسی طرح پٹرول پر بھی بھاری ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں اور ان کی وصولی بھی آسان ہے اور ’’سورس‘‘پر ہی یہ رقم کٹ جاتی ہے کوئی اگر ایک لیٹر بھی پٹرول خریدے گا تو قیمت اور ٹیکس بیک وقت ادا کرے گا۔ یہ ٹیکس بھی جمع کرنا آسان ہے، اِسی لیے حکومت عالمی منڈی میں پٹرول سستا ہونے پر بھی ٹیکس میں کمی نہیں کرتی۔یہی حال جی ایس ٹی کا ہے،یہ ٹیکس بھی ہر کسی سے وصول کیا جاتا ہے،غریب اور امیر کے لیے جی ایس ٹی کی شرح یکساں ہے۔ دْنیا میں بہت سے مْلک ایسے ہیں جہاں خوراک اور کپڑوں پر کوئی ٹیکس عائد نہیں،بلکہ خوراک پر تو سبسڈی بھی دی جاتی ہے،لیکن ہمارے ہاں ہوٹلوں میں کھانے پر بھی سیلز ٹیکس عائد ہے جواز یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص ہوٹل میں کھانا کھاتا ہے اْسے حکومت کو بھی اس کا حصہ دینا چاہئے۔ یہ ٹیکس بھی جمع کرنا آسان ہے یہ بھی غریب اور امیر سے بیک وقت ایک ہی شرح سے وصول کیا جاتا ہے۔بعض شعبے ایسے ہیں جہاں سے لوگ کروڑوں روپے کماتے ہیں،لیکن ٹیکس برائے نام دیتے ہیں یا سرے سے نہیں دیتے۔ ان میں سے ایک زرعی شعبہ ہے جہاں وسیع قطعاتِ اراضی کے مالکان کو کروڑوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ جدید میکنائزڈ زراعت تو معقول آمدنی کا ایک ذریعہ ہے،لیکن زرعی سیکٹر سے ٹیکسوں کا بہت کم حصہ حاصل ہوتا ہے اور بھی کئی سیکٹر ایسے ہیں جہاں سے زیادہ ٹیکس حاصل ہونا چاہئے،لیکن نسبتاً بہت کم جمع ہو پاتا ہے، نتیجے کے طور پر حکومت کا سارا زور بالواسطہ ٹیکسوں پر ہے،بجلی کے بل کے ساتھ بھی سات قسم کے ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں اور بِل کا تقریباً ایک تہائی ٹیکسوں کی شکل میں ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ٹیلی ویڑن فیس بھی بجلی کے بِل پر وصول کی جاتی ہے اور لطیفہ یہ ہے کہ مساجد کو جو بِل بھیجے جاتے ہیں، چونکہ وہ بھی کسی نہ کسی کے نام پر ہوتے ہیں اِس لیے اْن میں بھی ٹی وی فیس شامل کر دی جاتی ہے تاہم اگر کوئی تردّد کر کے شدید موسم میں متعلقہ دفتر میں جانے کی ہمت کرے اور جا کر بتائے کہ بھئی یہ تو مسجد کا بِل ہے ،جہاں ٹیلی ویڑن نہیں ہوتا تو از راہِ مہربانی35روپے کی رقم بِل سے منہا کر دی جاتی ہے۔

موبائل کارڈ پر ٹیکس کٹوتی کے کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے جو سوال اْٹھایا ہے وہ بنیادی نوعیت کا ہے کہ جو شخص قابلِ ٹیکس آمدنی ہی نہیں رکھتا اس سے اس مد میں رقم کیوں وصول کی جاتی ہے؟ جب اس کیس کا حتمی فیصلہ ہو گا تو عین ممکن ہے اِس کا اطلاق اْن بہت سے ٹیکسوں پر ہو جائے جو موبائل فون کی طرح ہی بالواسطہ طور پر ہر شخص سے چاہے اس کی آمدنی قابلِ ٹیکس ہے یا نہیں،وصول کیے جاتے ہیں۔پٹرول پر ٹیکس بھی اسی ذیل میں آتے ہیں اور ممکنہ فیصلہ اس شعبے پر بھی لاگو ہو سکتا ہے یا فیصلے کے بعد نئی درخواستیں دائر کی جا سکتی ہیں، جن میں پٹرول پر ٹیکس کو چیلنج کیا گیا ہو،کیونکہ یہ ٹیکس بھی کارڈ پر ٹیکس سے مماثل ہے،اِس لیے حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی ٹیکس پالیسی نئے سرے سے مرتب کرے اور اس اصول کے تحت ٹیکس وصول کیے جائیں کہ جتنی زیادہ آمدنی، اتنے زیادہ ٹیکس، غریبوں کو اِسی صورت ریلیف مل سکتا ہے۔

Electrolux