وجود

... loading ...

وجود

عیدالفطر ۔۔انعام خداوندی کادن

جمعه 15 جون 2018 عیدالفطر ۔۔انعام خداوندی کادن

اسلام دین فطرت اور ماننے والوں کے لیے پیغام محبت واُلفت ہے ،اس کے اصول وضوابط اور قوانین واطوار ایسے پسندیدہ وہمہ جہت ہیں جو بیگانوں کویگانہ اور ناآشناؤں کوآشنا کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے کردیتا ہے جیسے دوجسم یک جان ہوں ۔احکامات اسلام پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اسلام کامنشا یہی ہے کہ بنی آدم ایک دوسرے سے لاتعلق نہ رہیں ،یہ اپنی ہی ذات میں گم نہ ہوں ۔بلکہ افراد مختلفہ ملت واحد بن کر کلمہ واحدہ پر جمع ہوجائیں تاکہ ایک خدا،ایک رسول،ایک ہی قرآن ،ایک ہی کعبہ پرایمان رکھنے والے ظاہر بین نگاہوں میں بھی ایک ہی سطح پر متحد ومتفق اور ایک دوسرے کے بہی خواں نظر آئیں اور دنیا والے اس اتحاد معنوی میں کوئی اختلاف ظاہر محسوس نہ کرسکیں ۔اسلام میں اہل محلہ میں محبت واتحادپید اکرنے اور اسے ان میں قائم دائم رکھنے کے لیے پنجگانہ نمازوں کے وقت ،اہل محلہ کی مسجد میں جمع ہوکرنماز اداکرنا واجب کیا گیا ہے ۔اہل شہر میں محبت وتعلقات بڑھانے کے لیے ہفتہ میں ایک بار ان کاجامع مسجد میں اکٹھا ہوکر نمازجمعہ اداکرنا ضروری لازم ٹھہرایا گیا ہے تو ضروری تھا کہ شہری باشندوں بلکہ قرب وجوارکے رہنے والوں میں تعارف وتعلق اور محبت وشناسائی قائم کرنے اور مستحکم رکھنے کے لیے بھی کوئی اہتمام کیا جائے ۔جبکہ عالم اسلام میں رابطہ ٔدین کو مستحکم ومضبوط کرنے کے لیے مختلف ملکوں کے اشخاص کو دین واحد کی وحدت میں شامل ہونے کے لیے عمر بھر میں ایک باران تمام مسلمانوں پرجو وہاں جانے کی استطاعت رکھتے ہیں حج کعبۃ ُاﷲفرض کیا گیا ہے۔تو اہل شہر اور دیہات قرب وجوار میں اسی شناسائی اور مودت ومحبت اور تعلق کوپید اکرنے کے لیے سال میں دوبار عیدیں نمازکوسنن ھدیٰ بلکہ لازم قراردیا ہے ۔ہر دوموقعوں پر دیہات والے شہروں کی طرف آتے ہیں اور شہر والے شہر سے باہر نکل کر ان سے ملاقات کرتے اور سب مل جل کر عبادت الٰہی اداکرتے ہیں ۔

ابوداؤدشریف میں روایت ہے حضور نبی اکرم ﷺجب مدینہ طیبہ تشریف لائے اس زمانے میں اہل مدینہ سال میں دو دن (مہرجان ۔نیروز)خوشی کرتے تھے۔آپ ﷺنے فرمایایہ کیا دن ہیں ؟لوگوں نے عرض کی ’’جاہلیت میں ہم لوگ ان دنوں میں خوشیاں منایاکرتے تھے ۔فرمایا’’اﷲتعالیٰ نے ان کے بدلے ان سے بہتر دودن تمہیں دیئے ۔عید الفطر ،عید الاضحٰی اسلام نے ان ایام میں تجمل وزیب وزینت اور رکھ رکھاؤکو تو باقی رکھا ۔البتہ جاہلیت کی رسم ورواج ۔لہوولعب اور کھیل کودمیں وقت کے ضیاع کو ختم کردیااور جشن کے ان ایام کو خدائے بزرگ وبرترکی اجتماعی عبادت کے ایام بنادیاتاکہ ان کا یہ تجمل واجتما ع یادالٰہی سے غفلت میں بسر نہ ہو۔ایک طرف اسلام نے اپنے ماننے والوں کے لیے دنیاوی فرحت وانبساط کے اہتمام کی اجازت دی تو دوسری طرف ان کے لیے بندگی کے دروازے کھول دیئے تاکہ یادالٰہی سے غافل نہ رہیں اور اسلامی برادری سے شناسائی کے مواقع بھی ہاتھ سے نہ جانے دیں ۔غرض اسلامی تہوار بھی لہوولعب اور ہنگامہ آرائی کے ذریعے نہیں بلکہ دوسری تمام اقوام سے اعتبار سے منفرد ہیں کہ وہ فرحت ونشاط کا ذریعہ بھی ہیں اور وحدت واجتماعات اور ایثارقربانی اور اجتماعی عبادتوں کا وسیلہ بھی ۔عید کی نماز مدینہ منورہ میں آکر قائم ہوئی لیکن جس سال آپ تشریف لائے اس سال نہیں بلکہ ۲ھ؁میں اس قیام عمل میں آیا ۔جس کی وجہ یہ ہے کہ عید کی نماز رمضان المبارک کے روزوں کے تابع ہے اور رمضان شریف کے روزے ہجرت کے دوسرے سال فرض ہوئے اور عید کہتے ہیں اس خوشی کوجو باربار لوٹ کر آئے ۔حضور اقدس ﷺارشاد فرماتے ہیں ’’جوعیدین کی راتوں میںقیام کرے (نمازوعبادات میں گزارے )اُس کا دل نہ مرے گاجس دن لوگوں کے دل مریں گے (ابن ماجہ )ترمذی وابن ماجہ وغیرہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺعیدالفطر کے دن کچھ کھا کر نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور عید الاضحٰی میں نہ کھاتے جب تک نمازنہ پڑھ لیتے ‘‘امام بخاری کی روایت حضرت انس ؓ سے ہے کہ’’ حضورعلیہ السلام عید الفطر کے دن تشریف نہ لے جاتے جب تک چندکھجوریں نہ تناول فرماتے اور وہ طاق ہوتیں ‘‘ترمذی ودارمی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی کہ حضور ﷺعید (کی نماز)کوایک راستہ سے تشریف لے جاتے اور دوسرے سے واپس ہوتے ‘‘بخاری ومسلم میں ابن عباس ؓ سے مروی کہ حضور ﷺنے عید کی نمازدو رکعت پڑھی ،نہ اس سے قبل نماز پڑھی نہ اُس کے بعد۔

٭عید کی نماز واجب ہے مگر سب پر نہیں بلکہ انہیں پر واجب ہے جن پر جمعہ واجب ہے اوراس کی ادا کی وہی شرطیں ہیں جو جمعہ کے لیے ہیں ،فرق صرف اتناہے کہ جمعہ میں خطبہ شرط ہے عیدین میں سنت ،جمعہ کا خطبہ قبل نمازہے اور عید ین کا بعد نماز اورعیدین میں نہ اذان ہے نہ اقامت ۔

٭بلاوجہ عید کی نمازچھوڑنا گمراہی وبدعت ہے اور گاؤں میں پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ۔٭نمازعید سے قبل نفل نمازمطلقاًمکرو ہ ہے ۔یعنی عید گاہ میں ہویا گھر میں اُس پر عید کی نمازواجب ہویانہ ہو۔یہاں تک کہ عورت اگر چاشت کی نمازگھر میں پڑھنا چاہے تو نمازہوجانے کے بعد پڑھے اور نماز عید کے بعد عید گاہ میں نفل پڑھنا مکروہ ہے ۔گھر میں پڑھ سکتا ہے اور عوام الناس اگر نفل پڑھیں اگر چہ عیدسے پہلے اگر چہ عید گاہ میں انہیں منع نہ کیاجائے ۔٭عید کے دن یہ امور مستحب ہے ۔حجامت بنوانا،ناخن ترشوانا،غسل کرنا،مسواک کرنا،اچھے کپڑے پہننانیا ہوتو نیا ورنہ دُھلاہو،انگھوٹھی پہننا، خوشبولگانا۔صبح کی نما زمسجد محلہ میں پڑھنا ،صدقہ فطر اداکرنا،عید گاہ کوپیدل جانا،ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپسی آنا، نماز کو جانے سے پیشترچندکھجوریں کھالیناجوطاق ہوں کھجوریں نہ ہوں تو کوئی میٹھی چیز کھالے ،جیسا کہ عموماًان بلاد میں شیر خرمے کارواج ہے ،خوشی ظاہر کرنا۔صدقہ دینا ،عید گاہ کواطمینان ووقار سے اور نیچی نگاہ کیے جانا،آپس میں مبارک باد دینا،معانقہ کرناکہ یہ بھی اظہا رخوشی کاایک طریقہ ہے،بعد نمازعیدمصافحہ ومعانقہ کرنا، جیسا کہ عموماًمسلمانوں میں رائج ہے کہ اس میں اظہارِمسرت ہے ۔(درمختار)

٭عید الاضحی یعنی بقرعید،تمام احکام عیدالفطر کی طرح ہے ،فرق اتناہے کہ اس میں نمازسے پہلے کچھ نہ کھائے اگرچہ قربانی نہ کرے اور کھالیاتوکراہت نہیں ۔

نمازعید پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے نیت کرے (اور کہے کہ نیت کی میں نے دو رکعت واجب( عید الفطر )مع چھ تکبیر وں کے واسطے اﷲتعالیٰ کے منہ میراکعبہ شریف کے طرف پیچھے اس امام کے )نیت کرکے کانوں تک ہاتھ اُٹھائے یوں کہ ہتھیلیاں قبلہ رُخ رہیں ۔اور اﷲاکبر کہتاہواہاتھ ناف پرباندھ لے ۔پھر ثنا یعنی سبحٰنک اللہم پڑھے ،پھرامام کے ساتھ کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور اﷲاکبر کہتا ہواچھوڑ دے اور پھر ہاتھ اُٹھائے اور اﷲاکبرکہتا ہوئے چھوڑ دے ،پھر ہاتھ اُٹھائے اور اﷲاکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لے یعنی پہلے تکبیر میں ہاتھ باندھے اور اس کے بعد دوسری تکبیروں میں ہاتھ لٹکائے پھر چوتھی تکبیر میں باندھ لے ،اس کویوں یادرکھناچاہئے کہ جہاں تکبیر کے بعد کچھ پڑھنا ہے وہاں ہاتھ باندھ لیے جائے اور جہاں پڑھنا نہیں وہاں ہاتھ چھو ڑدیئے جائے ۔پھر امام اعوذاور بسم اﷲآہستہ پڑھ کر جہرکے ساتھ بلندآوازمیں الحمداور سورۃ پڑھے گا۔ مقتدی خاموش رہیں ،خواہ اُن کو آواز آئے یانہ آئے۔ اُن کا کام دست بستہ خدمت گار بندہ کی مانندخاموش کھڑارہناہے ۔غرض امام قرأ ت سے فارغ ہوکر رکوع وسجودکرے گا ،مقتدی بھی اُس کی اقتدامیں رکوع اور پھر سجدے کریں اور پھر دوسری رکعت کے لیے امام کے ساتھ کھڑے ہوجائیں ۔اب امام الحمداور سورۃ پڑھے گا مقتدی خاموش رہیں ۔قرأ ت کے بعد امام تین تکبیریں کہے گا ۔مقتدی بھی اس کا ساتھ دیں ۔تین بار اﷲ ُاکبرکہہ کر ہربار ہاتھ چھوڑ ے رکھیں باندھیںنہیں اور چوتھی بار بغیر ہاتھ اُٹھائے اﷲاکبرکہتے ہوئے امام کے ساتھ رکوع میں جائیں ۔اس سے معلوم ہواکہ عیدین کی نمازمیں زائد چھ تکبیریں ہیں،تین پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد اور اور قرأت سے پہلے او رتین دوسری رکعت میں قرأت کے بعد اور تکبیر رکوع سے پہلے اوران چھ تکبیروں میں ہاتھ اُٹھائے جائیں گے ۔پھررکوع وسجوداور التحیات و درود شریف اور دعا پڑھ کر امام کے ساتھ سلام پھیریں اور اپنی جگہ اطمینان ووقار سے بیٹھے رہیں ۔ابھی ایک اور حکم شرعی باقی ہے یعنی نمازکے بعد امام دوخطبے پڑھے گا ،مقتدی غور سے سنیں اور مصافحہ ومعانقہ کے شوق کوحکم الٰہی پر غالب نہ آنے دیں کے خطبہ عیدین کاسنناواجب ہے اور مصافحہ ومعانقہ مستحت ،تو مستحب کی بجا آوری میں ایسے مشغول نہ ہوکہ واجب چھوٹ جائے اور ترک واجب کاوبال نامہ اعمال میں مرقوم ہو۔خطبوں کے بعداجتماعی طور پر دعاکریں اور تمام اہل اسلام کے لیے اور اپنے والدین کے لیے واساتذہ ومشائخ کے لیے خصوصاًدعائیں کریں۔ بعد ازاں معانقہ ومصافحہ کریں اور پھر گھر وں کوخوشی خوشی رخصت ہو۔


متعلقہ خبریں


بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

مضامین
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ وجود بدھ 01 جولائی 2026
مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ

بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود منگل 30 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

میرے عزیزہم وطنو!! وجود منگل 30 جون 2026
میرے عزیزہم وطنو!!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر