... loading ...
اسلام دین فطرت اور ماننے والوں کے لیے پیغام محبت واُلفت ہے ،اس کے اصول وضوابط اور قوانین واطوار ایسے پسندیدہ وہمہ جہت ہیں جو بیگانوں کویگانہ اور ناآشناؤں کوآشنا کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے کردیتا ہے جیسے دوجسم یک جان ہوں ۔احکامات اسلام پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اسلام کامنشا یہی ہے کہ بنی آدم ایک دوسرے سے لاتعلق نہ رہیں ،یہ اپنی ہی ذات میں گم نہ ہوں ۔بلکہ افراد مختلفہ ملت واحد بن کر کلمہ واحدہ پر جمع ہوجائیں تاکہ ایک خدا،ایک رسول،ایک ہی قرآن ،ایک ہی کعبہ پرایمان رکھنے والے ظاہر بین نگاہوں میں بھی ایک ہی سطح پر متحد ومتفق اور ایک دوسرے کے بہی خواں نظر آئیں اور دنیا والے اس اتحاد معنوی میں کوئی اختلاف ظاہر محسوس نہ کرسکیں ۔اسلام میں اہل محلہ میں محبت واتحادپید اکرنے اور اسے ان میں قائم دائم رکھنے کے لیے پنجگانہ نمازوں کے وقت ،اہل محلہ کی مسجد میں جمع ہوکرنماز اداکرنا واجب کیا گیا ہے ۔اہل شہر میں محبت وتعلقات بڑھانے کے لیے ہفتہ میں ایک بار ان کاجامع مسجد میں اکٹھا ہوکر نمازجمعہ اداکرنا ضروری لازم ٹھہرایا گیا ہے تو ضروری تھا کہ شہری باشندوں بلکہ قرب وجوارکے رہنے والوں میں تعارف وتعلق اور محبت وشناسائی قائم کرنے اور مستحکم رکھنے کے لیے بھی کوئی اہتمام کیا جائے ۔جبکہ عالم اسلام میں رابطہ ٔدین کو مستحکم ومضبوط کرنے کے لیے مختلف ملکوں کے اشخاص کو دین واحد کی وحدت میں شامل ہونے کے لیے عمر بھر میں ایک باران تمام مسلمانوں پرجو وہاں جانے کی استطاعت رکھتے ہیں حج کعبۃ ُاﷲفرض کیا گیا ہے۔تو اہل شہر اور دیہات قرب وجوار میں اسی شناسائی اور مودت ومحبت اور تعلق کوپید اکرنے کے لیے سال میں دوبار عیدیں نمازکوسنن ھدیٰ بلکہ لازم قراردیا ہے ۔ہر دوموقعوں پر دیہات والے شہروں کی طرف آتے ہیں اور شہر والے شہر سے باہر نکل کر ان سے ملاقات کرتے اور سب مل جل کر عبادت الٰہی اداکرتے ہیں ۔
ابوداؤدشریف میں روایت ہے حضور نبی اکرم ﷺجب مدینہ طیبہ تشریف لائے اس زمانے میں اہل مدینہ سال میں دو دن (مہرجان ۔نیروز)خوشی کرتے تھے۔آپ ﷺنے فرمایایہ کیا دن ہیں ؟لوگوں نے عرض کی ’’جاہلیت میں ہم لوگ ان دنوں میں خوشیاں منایاکرتے تھے ۔فرمایا’’اﷲتعالیٰ نے ان کے بدلے ان سے بہتر دودن تمہیں دیئے ۔عید الفطر ،عید الاضحٰی اسلام نے ان ایام میں تجمل وزیب وزینت اور رکھ رکھاؤکو تو باقی رکھا ۔البتہ جاہلیت کی رسم ورواج ۔لہوولعب اور کھیل کودمیں وقت کے ضیاع کو ختم کردیااور جشن کے ان ایام کو خدائے بزرگ وبرترکی اجتماعی عبادت کے ایام بنادیاتاکہ ان کا یہ تجمل واجتما ع یادالٰہی سے غفلت میں بسر نہ ہو۔ایک طرف اسلام نے اپنے ماننے والوں کے لیے دنیاوی فرحت وانبساط کے اہتمام کی اجازت دی تو دوسری طرف ان کے لیے بندگی کے دروازے کھول دیئے تاکہ یادالٰہی سے غافل نہ رہیں اور اسلامی برادری سے شناسائی کے مواقع بھی ہاتھ سے نہ جانے دیں ۔غرض اسلامی تہوار بھی لہوولعب اور ہنگامہ آرائی کے ذریعے نہیں بلکہ دوسری تمام اقوام سے اعتبار سے منفرد ہیں کہ وہ فرحت ونشاط کا ذریعہ بھی ہیں اور وحدت واجتماعات اور ایثارقربانی اور اجتماعی عبادتوں کا وسیلہ بھی ۔عید کی نماز مدینہ منورہ میں آکر قائم ہوئی لیکن جس سال آپ تشریف لائے اس سال نہیں بلکہ ۲ھمیں اس قیام عمل میں آیا ۔جس کی وجہ یہ ہے کہ عید کی نماز رمضان المبارک کے روزوں کے تابع ہے اور رمضان شریف کے روزے ہجرت کے دوسرے سال فرض ہوئے اور عید کہتے ہیں اس خوشی کوجو باربار لوٹ کر آئے ۔حضور اقدس ﷺارشاد فرماتے ہیں ’’جوعیدین کی راتوں میںقیام کرے (نمازوعبادات میں گزارے )اُس کا دل نہ مرے گاجس دن لوگوں کے دل مریں گے (ابن ماجہ )ترمذی وابن ماجہ وغیرہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺعیدالفطر کے دن کچھ کھا کر نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور عید الاضحٰی میں نہ کھاتے جب تک نمازنہ پڑھ لیتے ‘‘امام بخاری کی روایت حضرت انس ؓ سے ہے کہ’’ حضورعلیہ السلام عید الفطر کے دن تشریف نہ لے جاتے جب تک چندکھجوریں نہ تناول فرماتے اور وہ طاق ہوتیں ‘‘ترمذی ودارمی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی کہ حضور ﷺعید (کی نماز)کوایک راستہ سے تشریف لے جاتے اور دوسرے سے واپس ہوتے ‘‘بخاری ومسلم میں ابن عباس ؓ سے مروی کہ حضور ﷺنے عید کی نمازدو رکعت پڑھی ،نہ اس سے قبل نماز پڑھی نہ اُس کے بعد۔
٭عید کی نماز واجب ہے مگر سب پر نہیں بلکہ انہیں پر واجب ہے جن پر جمعہ واجب ہے اوراس کی ادا کی وہی شرطیں ہیں جو جمعہ کے لیے ہیں ،فرق صرف اتناہے کہ جمعہ میں خطبہ شرط ہے عیدین میں سنت ،جمعہ کا خطبہ قبل نمازہے اور عید ین کا بعد نماز اورعیدین میں نہ اذان ہے نہ اقامت ۔
٭بلاوجہ عید کی نمازچھوڑنا گمراہی وبدعت ہے اور گاؤں میں پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ۔٭نمازعید سے قبل نفل نمازمطلقاًمکرو ہ ہے ۔یعنی عید گاہ میں ہویا گھر میں اُس پر عید کی نمازواجب ہویانہ ہو۔یہاں تک کہ عورت اگر چاشت کی نمازگھر میں پڑھنا چاہے تو نمازہوجانے کے بعد پڑھے اور نماز عید کے بعد عید گاہ میں نفل پڑھنا مکروہ ہے ۔گھر میں پڑھ سکتا ہے اور عوام الناس اگر نفل پڑھیں اگر چہ عیدسے پہلے اگر چہ عید گاہ میں انہیں منع نہ کیاجائے ۔٭عید کے دن یہ امور مستحب ہے ۔حجامت بنوانا،ناخن ترشوانا،غسل کرنا،مسواک کرنا،اچھے کپڑے پہننانیا ہوتو نیا ورنہ دُھلاہو،انگھوٹھی پہننا، خوشبولگانا۔صبح کی نما زمسجد محلہ میں پڑھنا ،صدقہ فطر اداکرنا،عید گاہ کوپیدل جانا،ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپسی آنا، نماز کو جانے سے پیشترچندکھجوریں کھالیناجوطاق ہوں کھجوریں نہ ہوں تو کوئی میٹھی چیز کھالے ،جیسا کہ عموماًان بلاد میں شیر خرمے کارواج ہے ،خوشی ظاہر کرنا۔صدقہ دینا ،عید گاہ کواطمینان ووقار سے اور نیچی نگاہ کیے جانا،آپس میں مبارک باد دینا،معانقہ کرناکہ یہ بھی اظہا رخوشی کاایک طریقہ ہے،بعد نمازعیدمصافحہ ومعانقہ کرنا، جیسا کہ عموماًمسلمانوں میں رائج ہے کہ اس میں اظہارِمسرت ہے ۔(درمختار)
٭عید الاضحی یعنی بقرعید،تمام احکام عیدالفطر کی طرح ہے ،فرق اتناہے کہ اس میں نمازسے پہلے کچھ نہ کھائے اگرچہ قربانی نہ کرے اور کھالیاتوکراہت نہیں ۔
نمازعید پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے نیت کرے (اور کہے کہ نیت کی میں نے دو رکعت واجب( عید الفطر )مع چھ تکبیر وں کے واسطے اﷲتعالیٰ کے منہ میراکعبہ شریف کے طرف پیچھے اس امام کے )نیت کرکے کانوں تک ہاتھ اُٹھائے یوں کہ ہتھیلیاں قبلہ رُخ رہیں ۔اور اﷲاکبر کہتاہواہاتھ ناف پرباندھ لے ۔پھر ثنا یعنی سبحٰنک اللہم پڑھے ،پھرامام کے ساتھ کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور اﷲاکبر کہتا ہواچھوڑ دے اور پھر ہاتھ اُٹھائے اور اﷲاکبرکہتا ہوئے چھوڑ دے ،پھر ہاتھ اُٹھائے اور اﷲاکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لے یعنی پہلے تکبیر میں ہاتھ باندھے اور اس کے بعد دوسری تکبیروں میں ہاتھ لٹکائے پھر چوتھی تکبیر میں باندھ لے ،اس کویوں یادرکھناچاہئے کہ جہاں تکبیر کے بعد کچھ پڑھنا ہے وہاں ہاتھ باندھ لیے جائے اور جہاں پڑھنا نہیں وہاں ہاتھ چھو ڑدیئے جائے ۔پھر امام اعوذاور بسم اﷲآہستہ پڑھ کر جہرکے ساتھ بلندآوازمیں الحمداور سورۃ پڑھے گا۔ مقتدی خاموش رہیں ،خواہ اُن کو آواز آئے یانہ آئے۔ اُن کا کام دست بستہ خدمت گار بندہ کی مانندخاموش کھڑارہناہے ۔غرض امام قرأ ت سے فارغ ہوکر رکوع وسجودکرے گا ،مقتدی بھی اُس کی اقتدامیں رکوع اور پھر سجدے کریں اور پھر دوسری رکعت کے لیے امام کے ساتھ کھڑے ہوجائیں ۔اب امام الحمداور سورۃ پڑھے گا مقتدی خاموش رہیں ۔قرأ ت کے بعد امام تین تکبیریں کہے گا ۔مقتدی بھی اس کا ساتھ دیں ۔تین بار اﷲ ُاکبرکہہ کر ہربار ہاتھ چھوڑ ے رکھیں باندھیںنہیں اور چوتھی بار بغیر ہاتھ اُٹھائے اﷲاکبرکہتے ہوئے امام کے ساتھ رکوع میں جائیں ۔اس سے معلوم ہواکہ عیدین کی نمازمیں زائد چھ تکبیریں ہیں،تین پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد اور اور قرأت سے پہلے او رتین دوسری رکعت میں قرأت کے بعد اور تکبیر رکوع سے پہلے اوران چھ تکبیروں میں ہاتھ اُٹھائے جائیں گے ۔پھررکوع وسجوداور التحیات و درود شریف اور دعا پڑھ کر امام کے ساتھ سلام پھیریں اور اپنی جگہ اطمینان ووقار سے بیٹھے رہیں ۔ابھی ایک اور حکم شرعی باقی ہے یعنی نمازکے بعد امام دوخطبے پڑھے گا ،مقتدی غور سے سنیں اور مصافحہ ومعانقہ کے شوق کوحکم الٰہی پر غالب نہ آنے دیں کے خطبہ عیدین کاسنناواجب ہے اور مصافحہ ومعانقہ مستحت ،تو مستحب کی بجا آوری میں ایسے مشغول نہ ہوکہ واجب چھوٹ جائے اور ترک واجب کاوبال نامہ اعمال میں مرقوم ہو۔خطبوں کے بعداجتماعی طور پر دعاکریں اور تمام اہل اسلام کے لیے اور اپنے والدین کے لیے واساتذہ ومشائخ کے لیے خصوصاًدعائیں کریں۔ بعد ازاں معانقہ ومصافحہ کریں اور پھر گھر وں کوخوشی خوشی رخصت ہو۔
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...