سپناقتل کیس ،دوست محمدکھوسہ کیلئے پی ٹی آئی ٹکٹ کی را ہ میں رکاوٹ بن گیا

ایک طویل عرصہ انتظار کرنے کے بعد کھوسہ قبیلہ کے سردار اور سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار خان کھوسہ نے بالآخر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی لیکن یہ شمولیت ان کے لیے اس حوالے سے بھاری پتھر ثابت ہوئی کہ جب تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری کی طرف سے کہا گیا کہ سردار ذوالفقار خان کھوسہ کے بیٹے دوست محمد کھوسہ کو تحریک انصاف میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ وہ ڈیرہ غازی خان میں رونما ہونے والے ’’سپنا کیس‘‘ میں ملوث رہے ہیں۔ اس وجہ سے انہیں تحریک انصاف میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔

جب ایک صحافی نے جہانگیر ترین سے پوچھا کیا دوست محمد کھوسہ بھی تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں تو انہوں نے گول مول سا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہی لوگ شامل ہوئے ہیں جو اس وقت سامنے ہیں۔ یاد رہے کہ گروپ فوٹو میں دوست محمد کھوسہ موجود نہیں تھے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ دوست محمد کھوسہ ذوالفقار خان کھوسہ کے وہ بیٹے ہیں جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے ہیں جبکہ ان کے دوسرے بیٹے کبھی تحریک انصاف ، کبھی پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرتے رہے مگر دوست محمد کھوسہ کی وابستگی ہمیشہ اپنے والد کے ساتھ رہی۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایسی باتیں سامنے آئیں کہ تحریک انصاف نے دوست محمد کھوسہ کو پارٹی میں لینے سے انکار کیا ہے تو سردارذوالفقار خان کھوسہ کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ دوست محمد خان کھوسہ میرا بیٹا ہے اور میرے ساتھ تحریک انصاف میں شامل ہوا ہے۔ انہوں نے فواد چوہدری پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ میں عمران خان کی پارٹی میں شامل ہوا ہوں۔ فواد چوہدری کون ہے میں اسے نہیں جانتا۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب کھوسہ خاندان نے تحریک انصاف میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو اس سے چند روز پہلے فاروق بندیال کی تحریک انصاف میں شمولیت پر ایک طوفان برپا ہوچکا تھا کہ عمران خان نے شبنم کیس میں ملوث ایک مجرم کو پارٹی میں لے کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہر شخص کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ چاہے وہ جرم کا پس منظر ہی کیوں نہ رکھتا ہو۔ شدید ردعمل سامنے آنے کے بعد عمران خان نے فاروق بندیل کو پارٹی سے نکال دیا۔ اس لیے جب یہ خبریں آئیں کہ کھوسہ خاندان تحریک انصاف میں شامل ہو رہا ہے تو ’’سپناکیس‘‘ کا معاملہ بھی سامنے آگیا۔ عوامی ردعمل سے بچنے کے لیے تحریک انصاف نے یہ حکمت عملی اختیار کی کہ فی الوقت دوست محمد خان کھوسہ کے معاملہ کو دبا دیا جائے لیکن کھوسہ خاندان کو اس صورتحال کی وجہ سے سیاسی طور پر خاصا نقصان پہنچا ہے کیونکہ ذوالفقار خان کھوسہ یہ اْمید لگائے بیٹھے تھے کہ صوبائی اسمبلی کی ٹکٹ وہ دوست محمد کھوسہ کو لے کر دیں گے جبکہ وہ خود اور ان کے بیٹے حسام الدین کھوسہ اور سیف الدین کھوسہ تینوں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑیں گے لیکن حالیہ صورتحال کے پیش نظر شاید دوست محمد کھوسہ کو تحریک انصاف کا ٹکٹ نہ مل سکے۔ اس صورت میں یہ امکان ہے کہ دوست محمد کھوسہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیں اور پی ٹی آئی اپنا امیدوار ان کے مقابلے میں کھڑا نہ کرکے ان کی حمایت کرے۔

بہرحال تحریک انصاف کو کھوسہ خاندان کی تحریک انصاف میں شمولیت کی وجہ سے ڈیرہ غازی خان میں مضبوط امیدوار مل گئے ہیں اور جس طرح دوسرے شہروں میں سابق ارکان اسمبلی نے تحریک انصاف میں شامل ہو کر مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ اسی طرح ڈیرہ غازی خان میں بھی کھوسہ خاندان کی وجہ سے تحریک انصاف کو دوسری جماعتوں کے مقابلے میں سبقت حاصل ہوگئی ہے۔جہاں تک مشکلات کا تعلق ہے تو ٹکٹوں کی تقسیم کے سلسلے میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا تحریک انصاف کو ہے۔ اصل میں تحریک انصاف کے اندر جو بڑے اور موثر گروپ بن گئے ہیں انہوںنے چیئرمین عمران خان کے لیے بہت سی دشواری پیدا کردی ہے۔

سب سے بری حالت ضلع ملتان کی ہے جہاں اگر ٹکٹیں تقسیم کربھی دی گئیں تو انتشار کا خاتمہ ممکن نہیں ہوسکے گا۔ یہاں دو بڑے گروپ مخدوم شاہ محمود قریشی اور جہانگیر خان ترین کی سربراہی میں کام کر رہے ہیں اور ہر ایک کی یہ کوشش ہے کہ اس کے گروپ کو زیادہ سے زیادہ نشستیں ملیں۔ ایک بڑی ہلچل سابق وفاقی وزیر حاجی سکندر حیات بوسن کی تحریک انصاف میں شمولیت کے حوالے سے مچی ہوئی ہے۔ اس کی متوقع شمولیت کے خلاف مقامی عہدیداروں اور امیدواروں نے پریس کانفرنس بھی کی اور کھلے لفظوں میں کہا کہ اگر انہیں پارٹی ٹکٹ دیا گیا تو پارٹی کو شدید نقصان پہنچے گا۔ اس ضمن میں کہا یہ جاتا رہا کہ مخدوم شاہ محمود قریشی ان کی پارٹی میں شمولیت اور ٹکٹ دینے کے خلاف ہیں جبکہ جہانگیر خان ترین چاہتے ہیں کہ انہیں ٹکٹ دیا جائے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے اس حلقے میں احمد حسین ڈیہڑ اور خالد جاوید وڑائچ عوام سے بھرپور رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔ عمران خان جب گزشتہ دنوں ممبر سازی مہم کے سلسلے میں ملتان آئے تھے تو الپہ کے علاقے میں جو سکندر بوسن کا گڑھ سمجھا جاتاہے وہاں احمد حسین ڈیہڑ نے ایک بڑا جلسہ منعقد کیا تھا۔ اسی طرح خالد جاوید وڑائچ نے اس حلقہ کے عوام کی سہولت کے لیے فری بس سروس چلا رکھی ہے۔ اب ایسے میں ان لوگوں کا مزاحمتی ردعمل عین منطق کے مطابق ہے لیکن حاجی سکندر بوسن کے ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ نہیں لیناچاہتے۔ اگر انہیں تحریک انصاف کی طرف سے ٹکٹ نہ بھی ملا تو وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ خود شاہ محمود قریشی ایم این اے کے ساتھ ایم پی اے کا الیکشن بھی لڑنا چاہتے ہیں۔ ان کو اپنے لیے بھی صوبائی اسمبلی کی ٹکٹ کے حصول میں مزاحمت کا سامنا ہے۔ وہ جس صوبائی حلقہ سے انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں وہاں پہلے سے موجود تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر رانا عبدالجبار ، دوسرے سرگرم رہنما میاں جمیل اور سلمان نعیم نظریں گاڑے ہوئے ہیں۔ اسی طرح شجاع آباد کے علاقہ میں ابراہیم خان قومی اسمبلی کے ٹکٹ کے خواہش مند ہیں لیکن ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی ، نواب لیاقت علی کو ٹکٹ دلوانا چاہتے ہیں۔ اس طرح ایک عجیب سی کھچڑی پک رہی ہے اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے لیے اپنے دو بڑوں کی اس جنگ کو سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ توقع یہی ہے کہ ان حلقوں کے لیے ٹکٹوں کا اعلان عام شیڈول سے ہٹ کر کیا جائے گا اور اعلان ہونے کے بعد بھی ردعمل کی صورت میں فیصلہ تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔

Electrolux