سحری میں جگانے والے ڈھولچی اب بھی توجہ کامرکز

ملتان اور قصبہ سخی سرورکی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ مشہور مبلغ اسلام و روحانی شخصیت حضرت سخی سرورؒ کی آمد سے قبل بھی یہ قصبہ آباد تھا اور گنیش و چندر جی کی وجہ سے ہندوئوں کے لیے معتبر شہر کی حیثیت رکھتا تھا۔ بارہویں صدی عیسوی میں حضرت سخی سرورؒ کی تبلیغ کے نتیجے میں قصبہ سخی سرور اور اس کے ارد گرد کی بڑی آبادی دائرہ اسلام میں داخل ہوئی۔آج بھی اس شہر میں متعدد تاریخی عمارتیںاور رسم ورواج موجود ہیں جن میں ایک رواج مقدس ماہِ صیام میں سحری کے وقت ڈھول بجا کر لوگوں کو بیدار کرنا ہے۔ یہ رواج آج اکیسویں صدی میں بھی موجود ہے جس کو میراثی خاندان پچھلی کئی نسلوں سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ تو یہ رسم پچھلی کئی صدیوں سے جاری ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک جب آبادی اورقصبہ محدود تھا تولوگ سحری کے لیے ان ڈھول والوں کا شدت سے انتظار کرتے تھے جونہی قصبہ میں ڈھول کی آواز شروع ہوتی تو لوگوں کو وقت کا اندازہ ہو جاتا کہ سحری کا ٹائم شروع ہو گیا ہے اور خواتین سحری کے انتظام میں مشغول ہو جاتیں۔

صبح صادق کے وقت تین افراد پر مشتمل یہ قافلہ ڈھول بجاتا اور شہنائی میں قوالی یا عارفانہ کلام کہتا ہوا دربار چوک سے شروع ہوتا، صدر بازار، اڈہ چوک، جعفری بازار اور دربار روڈ سے ہوتا ہوا واپس اپنے گھر پہنچتا ہے۔ اس روٹ کے درمیان یہ قافلہ کئی چھوٹی چھوٹی گلیوں اور محلوں کو کراس کرتا۔ یہ ڈھول بجانے والے جس محلے سے بھی گزرتے تو لوگ ان کی خوب خدمت بھی کرتے۔کوئی ان کو سحری کے لیے روٹی پیش کرتا تو کوئی چائے سے ان کی تواضع کرتا۔کئی بچے ان کے لیے لسی لے کر کھڑے ہوتے تو کوئی ان کو نقدی بھی دیتا لیکن چونکہ وقت محدود ہوتا ہے اس لیے یہ کسی بھی جگہ زیادہ دیر تک نہیں ٹھہرتے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو ان کا زیادہ انتظار ہوتا ہے۔

قدیم دور میں تو اس عمل کی واقعی ایک ضرورت تھی جب نہ بجلی تھی اور نہ سحری کے وقت جگانے کے جدیدآلات تھے۔ لیکن اب اس جدید دور میں بھی لوگ ان ڈھول والوں کا شدت سے انتظار کرتے ہیں۔ جدید سہولیات اپنی جگہ لیکن سحری کے لیے جو پرانا سسٹم تھا اس کا ایک اپنا لطف ہے اور بندہ جتنی بھی نیند میں ہو ضرور بیدار ہو جاتا ہے۔آج کل یہ کام سر انجام دینے والے بتاتے ہیں کہ ہم یہ کام پچھلی کئی نسلوں سے کر رہے ہیں اور یہ کام ہم ثواب کی نیت سے کرتے ہیں اور اس کام کو جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اہلیانِ سخی سرور کی محبتیں ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہیں اور ہماری حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ اگر ان کا تعاون شامل نہ ہوتا توشاید یہ رواج بھی ختم ہو جاتا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم روزانہ تقریباً سوا ایک بجے اٹھتے ہیں اور مختلف علاقوں میں ڈھول بجا کر لوگوں کو سحری کے لیے جگانا شروع کرتے ہیں اور یہ کام صبح ساڑھے تین بجے تک ختم کرتے ہیں۔ پھر جونہی شوال کا چاند نظر آتا ہے تو عید والے دن یہی ڈھول والا گروپ صبح ہی صبح عید کے دن کا اعلان کرتا ہے اور ڈھول بجاتا ہوا مرکزی عید گاہ کے گیٹ پہ پہنچ جاتا ہے۔کچھ لوگ عید نماز سے قبل اور کچھ لوگ نمازِعید کے بعدان کو عید کی خوشی میں کافی عیدی دیتے ہیں۔

Electrolux