... loading ...
حکمت، سوجھ، بوجھ اور سمجھداری خدا کی عظیم نعمت ہے، وقت شناسی کے ساتھ زبان کو حرکت دینا اور لب کشائی کرنا قوم و ملت اور انسانی عظمت کے ساتھ ذاتی زندگی کا قوی جوہر ہے، یہ وہ آب گوہر ہے جس کے سامنے سکندر ودارا بھی ناکام ونامراد ہوجاتے ہیں، بڑی بڑی سلطنتیں بھی ہیچ اور خم ہوجاتی ہیں، اس سے نہ صرف میدان کارزار کی فتح ونصرت ملتی ہے؛ بلکہ ’’جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتح زمانہ ‘‘کے تحت دلوں کو فتح کرنے اور انسانی معاشرے کو سبزہ زار کرنے کا عمدہ ترین نسخہ ہے، انسانوں کیلئے انس کا مادہ پرکھنے اور برتنے کا یہی سب سے سلیقہ مند اور کار آمد راہ ہے، دل کو دل سے جوڑنے اور باہمی شقاق و نفرت کو محبت و انسیت میں بدلنے ؛نیز کسی دیرینہ دشمن کو بھی اپنا قائل کرلینے اور اسے صاحب ودوست بنالینے کاشاندار حربہ ہے، تاریخ میں اگر تلوار وتفنگ اور تیرو نشتر نے زمینی فتح کر کے، اور زرہ پوش فوجوں کی صفیں پلٹ کر اپنی بلندی و برتری کا علم لہرایا ہے، اور ہزاروں، لاکھوں گردنوں کو رو بہ سجدہ لا کر؛ اپنی علویت کا لوہا منوایا ہے؛ تو اس سے کہیں زیادہ دانائی وحکمت کے پروردوں نے قلب وجگر میں شادابی و زرخیزی کی ایسی ہوا چلائی؛کہ بغیر کسی ہتھیار و اسلحہ کے ہی انسانوں کے سر کے ساتھ ان کےدلوں پرقابض ہوگئے۔
یہ بھی سمجھنے کی بات ہے کہ حکومت وسیادت اور قیادت اسی کو ملتی ہے، جس کے اندر حکمت ودانائی کا وافر حصہ ہو، سمندر کا سا ٹھراو اور قوت برداشت ہو، کسی دشت کی سی وسعت اور پہاڑ کی سی استقامت وثبات ہو، مزاج میں شگفتگی وشادابی ہو، تاریخ میں مسلمانوں نے اگر ہزاروں سال حکومت کی، اور مشرق و مغرب کے ایوانوں میں ان غلغلہ گونجا، جنگلوں اور صحراؤں میں، دشت وجبل میں ان ہی کا شور رہا؛ تو اس میں سب سے بڑا دخل ان میں موجود ر حمت ودانائی اور حلم وبردباری کا تھا؛یہ ایسا جوہر ہے جو نہ صرف ہموار صورت حال میں ؛بلکہ غیر معمولی حالات میں بھی ان کی رہنمائی ورہبری کرتا تھا، دشمنوں کے حیلہ ومکر کو سمجھنے اور اس کاحل تلاش کرنے میں سب سے موثر کردار ادا کرتا تھا، اور اگر اس کار عظیم کا دامن چھوٹتا ؛تو وہ بھی پسپائی و بے یاروی کا شکار ہوجاتے تھے، ان کے اندر حداعتدال، درمیانہ روی اور حلم و بردباری نے اگر رخصت پائی؛ تو وہ زمانہ بھی دیکھا گیا جب غیر قوموں نے ان پر چرھائی کی اور انہیں تاراج کر کے رکھ دیا، اور اپنے ہی دیار میں غریب الدیار ہوکر رہ گئے۔
ہجرت نبوی کا ہر لحظہ حکمت ودانائی سے لبریز ہے، پڑھتے جائے اور سبق لیتے جائے، اپنے مقصد کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پوشیدہ رکھنا، عام معمول سے ہٹ کر راستہ اختیار کرنا، غار ثور کی پناہ لینا، اپنے ساتھ خریط وراہبر رکھ لینااور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بچوں کو کھانا اور جاسوسی پر متعین کرنا اور پھر کئی پڑاو ٔکے بعد مدینہ منورہ میں خاص وقت پر داخل ہونا وغیرہ۔ ۔ یہ بات پورے وثوق اور ایما ن و عقیدہ کے ساتھ کہی جاسکتی ہے؛کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا کوئی بھی پہلو حکمت ودانائی سے خالی نہیں ہے۔ مدینہ منورہ میں تشریف آوری کے بعدخارجی دشمنوں کا بندوبست کرتے ہوئے داخلی دشمنوں پر مسلمانوں کو متحد کرنے اور آپسی تعلقات درست کرنے اور پوری طاقت و قوت کے ساتھ اسلامی تبلیغ واشاعت کیلئے سر بکف ہوجانا بھی اسی حکمت کا ایک شعبہ ہے، یقیناً خلفائے راشدین کو علی منھاج النبوہ والرسالہ کا خطاب ملنا بھی دراصل اسی حکمت ودانائی اور جرآت مندی و بردباری کا نتیجہ ہے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جیش اسامہ کی تنفیذ بھی اسی کا حصہ تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فوجی کاروائیوں سے کے کر رومی و یونانی اور فارسی طرز حکومت کی بہت سی قسموں سے استفادہ کرنا اور فوج، بیت المال، رجسٹر، قید خانہ اور بیواوں و یتیموں کیلئے ماہانہ طی کرنا وغیرہ بھی حکمت ودانائی کا اعلی نمونہ ہے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا بلوائیوں پر فوجی یلغار نہ کروانا اور اپنے آپ کو محصور کرتے ہوئے صحیح دین کی اطاعت کی تنبیہ بھی دانائی تھی، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا پر آشوب حالات میں خلافت کی باگ ڈور سمبھالنا اور جام شہادت نوش کرنا بھی اسی کا جز ہے۔
خلافت راشدہ کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒکی حکومت کے علاوہ کوئی حکومت صحیح معنوں میں نبوی نہیج پر نہ تھی؛بلکہ بادشاہت، ووراثت کا دور چل پڑا تھا، امیر المومنین کی خلعت کیلئے وہ معیار باقی نہ رہ گیا تھا تو ان کے اولیں نے متعین کیا تھا، سالہا سال رواں حکومتوں میں اموی حکومت اور عباسی قیادت کا کلیہ بھی منھاج النبوت نہ تھا، اسی لئے ان کے اندر معاشرتی برائیوں کا عموم اور امر بالمعروف و نھی عن المنکر کا قاعدہ بھی آخری سانسیں لے رہا تھا؛بلکہ ان کے اندرایثار وقربانی کی جگہ انتقام و جذبہ کا مادہ نقطہ عروج کو پہونچا ہوا تھا، جب ابومسلم خراسانی نے بنوامیہ کی حکومت کا خاتمہ کیا اور عباسی حکومت کی دغ بیل ڈالی گئی تو اموی لوگوں کو چن، چن کر مارا گیا، اور اس کے برعکس جب عباسی حکومت کا خاتمہ ہوا تو عباسیوں کا خون پانی سے بھی زیادہ ارزاں کردیا گیاتھا، لاشوں کے منارے بنادئے گئے تھے، اور پورے شہر میں تعفن پھیل گیا تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگرچہ مسلمانوں کی حکومت قائم رہی لیکن حقیقی اسلام رفتہ رفتہ خاص دائروں میں محدودہوتا گیا، اور پھر وہ دن بھی آگیا جب رہی سہی حکومت کا بھی استیصال کردیا گیا۔
یہی صورت حال ملک عزیز میں بھی برتی گئی، جہاں مسلمانوں نے ہندوستان کے اطراف واکناف پر قبضہ کیااور باری باری مسلم حکمرانی کے ذریعہ بدعت وخرافات میں غرق اور اوہام پرستی میں مدہوش ہندوستانیوں کو ہوش کے ناخن دئے ؛تو وہیں ان کی آپسی ناچاقی اور حلم وبردباری سے دوری نے کہیں کا نہ چھوڑا، دور اندیشی، ناعاقبت اندیشی اور اپنے، پرائے کے امتیاز میں غلو کرنے نیز بات بات پر شاہی فرمان جاری کردینے اور کسی کے بھی سر کو قلم کروادینے نے ؛انہیں ظالم وجابر کی فہرست میں لا کھڑا کیا، وہ بھول گئے تھے کہ وہ صرف ایک حکمراں نہیں ؛ بلکہ اسلام کے نمائندہ بھی ہیں، ان کا تعلق محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، حالانکہ جب اس فکر نے اخیر زمانے میں بھی سانس لی تو اورنگ زیب رحمہ اللہ جیسا متقشف، متدین اور حلم وبردباری اور صبر واستقامت کے پیکر نے جنم لیا، اور عدل وگستری، ایمانداری و خیرخواہی میں تار یخی صفحات پر نہ صرف خود کا ؛بلکہ اسلام کا بھی نام آب زر سے رقم کرواتا ہوا آسودہ خاک ہوا۔
یاد رکھئے !حکمت ودانائی ہی نے پہلے بھی ہمیں ثری سے ثریا تک پہنچادیا تھا، اور ان حالات میں جب کہ ہم اچک لئے جانے سے ڈرتے تھے، اس مقام تک پہنچا دیا تھا کہ ایک ادنی مسلم وبادیہ نشیں کا آوازہ پوری حکومت کو تہہ وتیغ کر ڈالتا تھا، آج بھی اسی پتوارسے ہماری کشتی کنارہ پاسکتی ہے، ندی کے اس منجھدار پھنسی ہوئی انسانیت صرف اور صرف اسی راہ سے نجات پاسکتی ہے، اگر ایسا نہ ہوا اور آپ نے سیاسی ہوا کے دوش پر اپنےمنصوبوں کی بنیاد رکھی، اور دانش مندی وعقلمندی سے پرے ہر ’’ایرے غیرے نتھو خیرے ‘‘پر اپنی آراء کا اظہار کرتے رہے، یا حلم وبردباری سے بے نیاز ہوتے ہوئے؛ متعصبانہ ومتشددانہ فتوی داغتےہے، یا آر ایس ایس کی افطار پارٹی، راجناتھ سنگھ اور مودی جی کے مسجدوں کی سیاحت پر انگشت بدنداں ہوکر’’بے سر وپا ‘‘ کی ایس آرائیوں پر قلم کی جولانی کرتے رہے، اور رہ رہ کر طبیعت میں نفرت و بےچینی کو پروان چڑھاتے رہے تو نہ صرف آپ کی ذاتی زندگی کوفت وکلفت سے بھر جائے گی؛ بلکہ آپ یہ نادانی امت کو کسی ایسے غار میں پھینک دے گی، جس کے تاریک ترین اندھیرے سے نکل پانا ناممکن ہوجائے گا، اور عہد ماضی کی بازیابی گویا خواب ثابت ہو کر رہ جائے گی، خوب سمجھ لیجئے!حکمت ودانائی کی خاموشی، بیوقوفی کے شور وغوغہ سے ہزار گنا بہتر ہے۔
حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...
بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...
رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...
ایران پر حملے اور ٹارگٹ کلنگ فوری بند کی جائے، مستقبل میں حملے اور جارحیت کے نہ ہونے کی ٹھوس ضمانت دی جائے،جنگ سے ایران میں ہونیوالے نقصانات کا ازالہ بصورت معاوضہ کیا جائے مشرق وسطیٰ میں ایران کے اتحادی یا حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کو بند کیا جائے،آبن...
پاکستان کی آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزائوں کی مذمت فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق کے دبائو کی عکاسی کرتا ہے، ترجمان دفترخارجہ پاکستان نے کشمیری خاتون رہنماء آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزاں کی مذ...
تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...
وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...
کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...
مغازی پناہ گزیں کیمپ میں باپ کے سامنے بچیکے زخموں میں ناخن پیوست کیے گئے واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے غزہ کے علاقے مغازی پناہ گزیں کیمپ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک فلسطینی شہری ...
جنگ نے خلیج کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو متاثر کیا، ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے سے ایٔرلائن ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ ہے ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ایٔر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق...
دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...
ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...