وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

سرفرازاحمد کی اسکاٹ لینڈکے خلاف کیریئربیسٹ اننگز

جمعرات    14    جون    2018 سرفرازاحمد کی اسکاٹ لینڈکے خلاف کیریئربیسٹ اننگز

کپتان سرفراز احمد اور شعیب ملک کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان نے اسکاٹ لینڈ کو پہلے ٹی20 میچ میں 48 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔ایڈن برگ میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو اوپنرز نے ٹیم کو 33رنز کا آغاز فراہم کیا جس کے بعد احمد شہزاد 14رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔فخر زمان ڈراپ کیچ کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے اور 15 گیندوں پر 21رنز بنانے کے بعد وکٹ کیپر کو کیچ دے کر پویلین کی راہ لی۔حسین طلعت کا ساتھ دینے کپتان سرفراز احمد آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے 41رنز کی شراکت قائم کر کے ٹیم کا مجموعہ 87تک پہنچا دیا جس کے بعد 18رنز بنانے والے حسین کی اننگز تمام ہوئی۔

سرفراز کا ساتھ دینے تجربہ کار شعیب ملک آئے اور دونوں نے حریف ٹیم کی ناتجربہ کاری کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے 49گیندوں پر 96رنز کی شراکت قائم کر کے ٹیم کے بڑے مجموعے کی راہ ہموار کی۔

شعیب ملک 27گیندوں پر 5 چھکوں کی مدد سے 53رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے لیکن دوسرے اینڈ سے کپتان سرفراز احمد نے جارحانہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا جس کی بدولت پاکستان نے 200رنز کا ہندسہ عبور کیا۔سرفراز نے 49 گیندوں پر 3 چھکوں اور 10چوکوں کی مدد سے ناقابل شکست 89رن کی اننگز کھیلی اور پاکستان نے مقررہ اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 204 رنز کا ہندسہ اسکور بورڈ کی زینت بنایا۔ہدف کے تعاقب میں اسکاٹ لینڈ کے اوپنرز جیورج منسے اور کائل کوئٹزر نے ٹیم کو 5اوورز میں 53رنز کا شاندار آغاز فراہم کر کے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔تاہم اس موقع پر حسن علی نے 25رنز بنانے والے منسے کو پویلین رخصت کر کے پاکستان کو اہم کامیابی دلا کر اسکاٹ لینڈ کو پہلا نقصان پہنچایا۔اس کے بعد اسکاٹ لینڈ کی ٹیم وقفے وقفے سے وکٹیں گنواتی رہی اور کوئی بھی بلے باز پاکستانی باؤلرز کا سامنا نہ کر سکا۔107 رنز پر پانچ وکٹیں گرنے کے بعد مائیکل لیسک اور ڈائلن بج نے 43 رنز کی شراکت قائم کر کے کچھ مزاحمت دکھائی لیکن بڑھتے رن ریٹ کے سبب ان کی ہمت بھی جواب دے گئی اور ڈائلن بج 24رنز بنا کر عامر کو وکٹ دے بیٹھے۔اسکاٹ لینڈ کی ٹیم مقررہ اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 156 رنز بنا سکی، لیسک 38 اور کوئٹزر 31 رنز بنا کر نمایاں بلے باز رہے۔پاکستان نے میچ میں 48رنز سے فتح حاصل کر کے سیریز میں 1-0 کی برتری بھی حاصل کر لی۔پاکستان کی جانب سے حسن علی اور شاداب خان نے 2، 2 وکٹیں لیں جبکہ عامر اور محمد نواز نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

میچ میں پاکستانی ٹیم کی فتح کوئی انہونی بات نہیں ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں دنیا کی نمبرون ٹیم سے اسی قسم کی کارکردگی کی توقع تھی۔لیکن میچ کی سب سے خاص بات کپتان سرفرازاحمد کی کیریئربیسٹ اننگ تھی ۔اگردیکھاجائے تواسکاٹ لینڈکے خلاف کھیلے گئے میچ میں قومی ٹیم کے کپتان سرفرازاحمد پرکوئی پریشرنہیں تھا۔طویل عرصے بعد وہ ایسی دھواں دھاراننگ کھیلتے نظرآئے ۔ٹیم بڑی ہویاچھوٹی کسی بھی کھلاڑی کی کارکردگی ہی اسے قابل تعریف بناتی ہے ۔اس حوالے سے اگر دیکھا جائے توسرفرازاحمدکاشماران خوش قسمت ترین کپتانوں میں ہوتاہے جنھوں نے بطورکپتان تقرری کے ساتھ پے درپے کامیابیاں سمیٹیں۔

یونس خان جتنے بڑے بیٹسمین تھے، اتنے ہی بڑے کپتان بھی تھے۔ دباؤ میں فیلڈ اسٹریٹیجی وضع کرنا ان کا خاصہ تھا۔ 2009 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اس کی بہترین مثال ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان کی کپتانی قلیل المیعاد ہی رہی۔چند روز قبل ایک ٹی وی شو میں یونس خان یہ کہتے سنائی دیے کہ کپتانی ان کے بس کا روگ نہیں تھا، ان کا ٹیمپرامنٹ آڑے آتا تھا، اس لیے انھوں نے کپتانی چھوڑ دی تھی۔یہ اس شماریاتی الٹ پھیر کا نفسیاتی اعتراف تھا جو کپتانی ملنے کے بعد یونس خان کے کرئیر اسٹیٹس میں در آیا۔ کپتان بننے کے بعد بیٹسمین یونس خان کی فارم بگڑ گئی۔ عین ممکن ہے اگر ان کی کپتانی چلتی رہتی تو شاید دس ہزار ٹیسٹ رنز تک پہنچنا بھی دشوار ہو جاتا۔
جب حالات کسی پلیئر کو کپتانی کی طرف لے جاتے ہیں تو قیادت ملنے کے بعد سب سے بڑا نفسیاتی امتحان اس کی اپنی فارم کا ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کہ قیادت کی ذمہ داری پڑتے ہی بیٹسمین بیٹنگ کرنا بھول جاتا ہے یا بولر بولنگ کرنا، بلکہ اضافی ذمہ داری اور زیادہ ایکسپوڑر فوکس کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر دیتا ہے۔سرفراز احمد پاکستان کے خوش نصیب ترین کپتان ہیں۔ آتے ہی چیمپئینز ٹرافی جیت لی۔ ٹی ٹوئنٹی ٹیم کو نمبر ون رینکنگ پہ لے آئے۔ سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کو ایک سے زیادہ بار کلین سویپ کر چکے ہیں۔ پچھلے دنوں لارڈز میں بھی تاریخی فتح حاصل کی۔لیکن ایسی خوش نصیبی کے باوجود ان کی بیٹنگ فارم بہت مثبت نہیں رہی۔ گو ان کی تکنیک اور ا سٹائل وہی ہے جو چار سال پہلے تھا، لیکن کپتان بننے کے بعد وہ کوئی غیر معمولی اننگز نہیں کھیل پائے۔ وکٹوں کے پیچھے بھی ان کا ریکارڈ خوشگوار نہیں رہا۔

بڑے بیٹسمین جب تواتر سے پانچ دس اننگز میں ناکام ہو جائیں تو عموماً ان کے کپتان یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ وہ ’بس ایک بڑی باری‘ کی دوری پر ہے۔ فاف ڈو پلیسی نے کچھ عرصہ قبل ڈی ویلئیرز کے بارے یہی کہا تھا۔لیکن سرفراز کے گرد شور ہی اتنا رہا کہ کسی کو یہ کہنا بھی یاد نہ رہا کہ سرفراز ’بس ایک بڑی باری‘ کی دوری پر ہے۔پلئیرز کو یہ ’بڑی باری‘ یا تو بہت ہائی وولٹیج میچ میں ملتی ہے یا پھر بالکل لو پروفائل میچ میں کہ وہ ہر طرح کے پریشر سے آزاد ہو کر اپنی اصل شناخت کو کھوج سکیں۔ اسکاٹ لینڈکے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں سرفراز پہ کوئی پریشر نظر نہیں تھا۔ سرفراز کافارم میں آنانیک شگون ہے کیوں کہ پاکستانی ٹیم کااگلاامتحان ایشیاکپ ہے جہاں اسے ایشین کنڈیشنڈسے ہم آہنگ ٹیموںسے ہوگا ۔ اس لیے کپتان کواپنی فارم برقراررکھنی ہوگی ۔ دوسری جانب اگردیکھا جائے تواسکاٹ لینڈ پاکستان کے خلاف اپنی بیٹنگ سے نہیں بولنگ سے ہارا۔ابتدائی دس اوورمیں اسکاٹ لینڈنے اچھی بائولنگ کی پھرسرفرازکے آتے ہی سماںبدل گیا اور شعیب ملک نے تومخالف ٹیم کے اوسان ہی خطاکردیئے ۔بہرحال اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جس اندازکی بیٹنگ سرفرازاحمد اورشعیب ملک نے کی مخالف ناتجربہ کا رٹیم اسکاٹ لینڈکے بجائے کوئی تجربہ کارٹیم بھی ہوتی تواس کے ہاتھ پائو ںپھو ل جاتے ۔لیکن بیٹنگ میں یقیناًاسکاٹ لینڈکے بلے بازوں نے ابتدائی پانچ اوورمیں پچاس سے زائد رنزبناکرپاکستانی بولروں کے ہاتھ پائوں ضرورپھلادیئے تھے ۔