شریف خاندان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے پر غور، تین وزراء پر مشتمل کمیٹی قائم

شریف خاندان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے نیب کا خط وزارت داخلہ کو موصول ہو گیا ہے اور اس معاملے پر غور کیلئے تین وفاقی وزراء پر مشتمل کمیٹی قائم کردی گئی ہے جبکہ حتمی فیصلہ کابینہ کرے گی۔وزیر داخلہ اعظم خان نے تصدیق کی ہے کہ شریف خاندان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے نیب کا خط وزارت داخلہ کو مل گیا ہے ، لیکن اس کا فیصلہ آئندہ چند روز میں کابینہ کرے گی۔ وزیرداخلہ کا ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کے حوالے سے ایک واضح طریقہ کار موجود ہے ۔ نیب کی درخواست اب 3 وزراء پر مشتمل سب کمیٹی کو بھیجی جائے گی، جس میں وزیر داخلہ، وزیر قانون اور وزیر خزانہ شامل ہیں۔ یہ کمیٹی نیب کے خط اور دیگر شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کو بھجوائے گی، جو شریف فیملی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے یا نہ ڈالنے کا فیصلہ کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کا طریقہ کار سابق حکومت کے دور میں طے کیا گیا تھا۔ نگران حکومت اسی طریقہ کار پر کام کرے گی، اس سوال پر کہ نیب سابق دور میں بھی شریف فیملی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے خط لکھ چکی ہے ، لیکن اس وقت بھی اس پر عمل نہیں کیا گیا تھا۔ وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ سابق کابینہ کا فیصلہ ابھی ان کی نظر سے نہیں گزرا، لیکن وزراء سب کمیٹی سفارشات کی تیاری کے وقت سابق کابینہ کے فیصلے کو بھِی سامنے رکھے گی اور جو بھی فیصلہ ہوگا وہ قانون کے مطابق ہی ہوگا۔زلفی بخاری کو باہر جانے کی اجازت دینے کے سوال پر وزیرداخلہ نے کہا کہ ان کا نام ای سی ایل میں نہیں بلیک لسٹ میں تھا، جو آف شور کمپنی کی وجہ سے ڈالا گیا تھا۔ وزرات داخلہ نے ان کو 30 دن کی اجازت دینے کی سمری بھیجی تھی لیکن میں نے اسے چھ دن کیا اور اگر زلفی بخاری مقررہ مدت میں واپس نہ آئے تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

Electrolux