ریحام اور کم بارکر۔ کردار اور کہانی کا تضاد

کم بارکر بین الاقوامی سطح پر معتبر اور پر اثر صحافی کے طور پر جانی پہچانی خاتون ہیں جنہوں نے ‘‘طالبان شفل’ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اپنی کتاب میں انہوں نے پاکستان اور افغانستان میں اپنے تجربات بیان کیے ہیں۔ طالبان شفل میں پاکستان اور افغانستان میں گذارے نرالے ایاّم کے سلسلے میں نواز شریف کی تفصیل بتاتے ہوئے کم بارکر نے لکھا ہے کہ نواز شریف نے مجھے ایپل آئی فون کا تحفہ دیتے ہوئے کہا کہ تم میر ی خاص دوستوں میں شامل ہو جاؤ۔فارن پالیسی میگزین میں بتایا گیا کہ جب اس خاتون نے نواز شریف کی جنسی یلغار کو روک دیاا تونواز شریف نے کِم بارکا صدر آصف علی زرداری سے میل ملاپ کرانے کی پیشکش کی۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ شریف برادران کا نام بھی ان بدنام زمانہ نامی گرامی سیاستدانوں میں شامل ہے جن کی خواتین کے ساتھ رنگ رلیوں کی داستانیں خبروں کی زینت بنتی ہیں۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی جو شیری رحمان کے حسن سے متاثر تھے 2007ء کی ایک یو ٹیوب ویڈیو میں شیری رحمان سے دست درازی کرتے دیکھے گئے۔ صدر آصف علی زرداری نے امریکا کی صدارتی امیدوار سے نیو یارک کی ایک تقریب میں جذبات سے مغلوب ہو کر جپھی ڈالنے کا اصرار کر ڈالا۔

اب ریحام خان کی طرف آتے ہیں جس نے بی بی سی پر موسم کا حال بتانے والی خاتون کے طور پر چھوٹی سی ملازمت سے آغاز کیا۔اس نے نہ صحافت کی تعلیم حاصل کی نہ کوئی صحافتی تجربہ پایا۔ اگرہم کم بارکر کی شخصیت کا جائزہ لیں تو اس کے مقابل ریحام خان ایک واجبی سی خاتون تھی جو مردوں با لخصوص پاکستانیوں کے لیے جاذب نظر تھی۔کیرا ریڈیو سے ایک انٹر ویو میں بارکر نے بتایا کہ مقامی لوگوں سے میل جول میں وہ اپنے افسران کی ہدایات پر عمل پیرا تھی۔ تا ہم پانچ فٹ دس انچ قدوقامت کی نیلی آنکھوںوالی جواں سال سفید فام خاتون صحافی کو کام کے دوران افغانستان اور پاکستان میں ملنے والے مردوں سے غیر معمولی پذیرائی ملی۔

ریحام خان بھی اپنے مغربی ملبوسات اوربرطانوی لہجے کے ساتھ ساتھ دراز قد، خوبصورت اور جاذب نظر بھی تھی جس کی وجہ سے اسے پاکستانی میڈیا پر خوب توجہ ملی۔ اس نے کچھ ٹی وی ٹاک شوز کیے جو قابل ذکر نہ تھے ۔ مواد سے خالی ان ٹاک شوز میں جاذب نظر اینکر کے علاوہ کوئی خوبی نہ تھی۔ریحام خان کی شہرت کو عروج عمران خان سے شادی کرنے کے بعد حاصل ہوا۔اس نے اس شہرت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی مگر وہ عمران خان کو سمجھنے میں ناکام رہی اور اسے طلاق ہوگئی۔جو کچھ وہ عمران کی بیوی بن کر حاصل نہ کر سکی وہ آج عمران خان کی مطلقہ کے طور پر حاصل کرنے کے لیے کوشش کر رہی ہے۔

عمران خان پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ بکنے والا برانڈ ہیں۔ آپ ان کے ساتھ دوستی کرکے یا ان پر مخالفانہ حملے کرکے دونوں طرح سے مشہور ہو سکتے ہیں۔

ریحام خان ایک گندی کتاب لکھنے میں مصروف ہے جسے ایک بیوی کی حرم سرا کی داستانوں کا رنگ دے کرمشہور کرنے کی غرض سے مسوّدے کو جان بوجھ کر افشاء کر دیا گیا ہے۔یہ ایک بد کردار اور اخلاق باختہ عورت کا طرز عمل ہے۔ اس کا تقابل مونیکا لیونسکی سے بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ کلنٹن کی منکوحہ نہیں تھی۔عمران خان کل بھی سب سے زیادہ جاذب نظر شخصیت تھے اور آج بھی ہیں۔ان کی کرشمہ ساز شخصیت کے سحر میں جکڑی ان کی فین خواتین صرف ان کی قربت کے لیے کچھ بھی کرنے پر کمر بستہ تھیں۔یہ صورت حال ان کے لیے اس وقت بڑی مشکل کا باعث بنی جب عمران خان نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔

عمران بطور شوہر کتنے اچھے تھے یہ جمائمہ خان سے پوچھنا چاہئے کیونکہ اس نے عمران کے لیے پوری زندگی وقف کر دی تھی۔ وہ طلاق کے بعد بھی چٹان کی مانند عمران کے ساتھ کھڑی ہے۔
کیا سابقہ برطانوی بیوی اور سابقہ پاکستانی بیوی میں کوئی فرق ہے؟

طالبان شفل نامی کتاب کی معاونت کرنے اور اس کو مقبول بنانے میں پی ٹی آئی کا کوئی ہاتھ نہیں۔ البتہ ریحام خان کی کتاب میں پاکستان مسلم لیگ نواز نے سو فیصد سرمایہ کاری، تشہیر اور فروغ میں ساتھ دیا۔ عمران خان اور نواز شریف میں ایک یہ فرق بھی موجود ہے۔نواز شریف مخالف سیاسی حریفوں کی ذاتی زندگی پر کیچڑاچھال رہے ہیں اور اس مہارت میں ان کو ید طولیٰ حاصل ہے۔کِم بارکر نے زرداری کی خاطر نواز شریف کے دلال کے طور پر کام کرنے کا انکشاف بھی کیا ہے۔ریحام خان بھی خود کو فروخت کر رہی ہے کیونکہ اس کو اس کام میں مہارت حاصل ہے۔عمران خان بھی وہی کریں گے جو ان کا طرہ امتیاز ہے یعنی وقار اور پر عزم انداز میں پاکستان کے لیے جد و جہد کرنا۔

عمران خان کے لیے ریحام خان کی اہمیت جوتے پر جمی دھول سے زیادہ نہیں ہے۔ وہ جوتے کی دھول کی پرواہ کیے بغیر سر کو بلند کیے گامزن رہیں گے۔ جیسے ہی وہ منزل پر پہنچیں گے، وہ اپنا جوتا صاف کر لیں گے۔

Electrolux