وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

عید اور کھانے میں احتیاط

منگل 12 جون 2018 عید اور کھانے میں احتیاط

رمضان المبارک کے بعد جب میٹھی میٹھی عید آتی ہے تو ہر طرف کھلکھلاتے چہروں اور چمکتی مسکراہٹوں کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کا بھی اک جوش اُمڈ آتا ہے ۔اور ہو بھی کیوں نہیں۔ یوم عید اللہ تعالیٰ کا تحفہ جو ہے جو پورے مہینے ماہ رمضان کے روزے رکھنے والوں کے لئے اللہ کی طرف سے روزِ انعام ہے ۔

عیدالفطر نام تو ہے میٹھی میٹھی سویوں کا مگر عید الفطر کے پر مسرت موقع پر بھی لوگ زیا دہ تر گوشت کی بنی ہوئی مختلف ڈشز سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں ۔ عید کے دن مہمانوں کی خاطر مدارات ہمارے معاشرتی روایات کا ایک اہم حصہ تصور کئے جاتے ہیں ۔ مگر یہ خاطر مدارت اور دعوتیں اس وقت مشکل میں مبتلا کر دیتی ہیں جب لوگ کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہوتے اپنی صحت کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اور سارا سال کھانوں میں کی جانے والی احتیاط اور پرہیز کو ایک طرف رکھ کر ہر قسم کے کھانوں سے فیض یاب ہوتے نظر آتے ہیں ۔

عید پر نت نئے کھانوں سے لطف اندوز ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے مگر تیس دن روزے رکھنے کے بعد اچانک بہت زیادہ کھانا پینا جسمانی نظام کے لئے بہت مشکل ثابت ہوتا ہے جس سے معدے اور پیٹ کے افعال متا ثر ہو سکتے ہیں اور ا نسان خود کو نڈھال اور موٹاپے کا شکار بنا دیتاہے ۔

عید کے تینوں دن عا م دنوں کے مقابلے میں زیا د ہ کیلو ریز استعما ل کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے اس مبارک اور خوشی کے دن زیادہ تر افراد کا پیٹ خراب ہی رہتا ہے جس کا علاج بھی وہ کچھ نہ کچھ کھاکر ہی کرتے ہیں ۔ معدے میں جلن اور تیز ابیت ، دل میں جلن ، خوراک کا ہضم نہ ہونا اور پیٹ میں درد اور دست وغیرہ سب ہی ضرورت سے زیادہ مصالحے دار اور تیل والے کھانے کی وجہ سے ہو تے ہیں ۔ماہرین کے مطابق زیادہ مصالحہ دار، زیادہ مرچ مسالوں والے کھا نے اور پیزا ، چپس اور زیادہ نمکیات اور مرچوں والے کھا نے ذہنی تنائو اور السر کا باعث بنتے ہیں ۔یہ خون کے دبائو ، جگر کی کارکردگی اور خون کے خلیوں اور ان کی گردش پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں ذہنی تنائو اور ہائپر ٹینشن کی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں ۔ماہرین کے مطابق ایسے مواقع میں شوگر کے مریضوں کو زیا دہ احتیا ط کی ضرورت ہوتی ہے۔کیونکہ زیادہ میٹھی اور چکنا ئی والی چیزیں کھانے سے شوگر کی سطح بلند ہو نے کاخطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دل، بلڈ پریشر اور معدے کے امراض میں بھی مبتلا مر یضوں کو احتیا ط بر تنی چا ہیے۔

گوشت کا بہت زیادہ اور مسلسل استعمال کولیسٹرول ، یورک ایسڈ ، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق ایک شخص کو ایک دن میں تقریباََ 70 گرام سے زیادہ گوشت نہیں استعمال کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے مختلف پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں ۔ مگر ہمارے معاشرے میں گوشت کے روزانہ استعمال کو امارت کی نشانی اور فخریہ طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں تو گوشت کے بغیر کوئی کھانا ہی نہیں کھاتا اور پھر کسی تقریب یا تہوار وغیرہ پر تو گوشت کا استعمال لازم و ملزوم بن جاتا ہے ۔ عید کے زمانے میں ہر طرف گوشت کے ہی پکوان نظر آتے ہیں اور لوگ جس میں بچے ، جوان اور بوڑھے (جو زیادہ خطرے کے نزدیک ہوتے ہیں ) صرف گوشت کے پکوان سے ہی انصاف کرتے ہوئے اپنے ساتھ کھلم کھلا نا انصافی کے مرتکب ہورہے ہوتے ہیں اور پھر تہوار کے فوراََ بعد ان کی بہت زیادہ تعداد ہسپتالوں اور ڈاکٹرز کا رخ کرتے نظر آتے ہیں اور پھرا سہال ، دست، قے اور پیٹ کے درد کا شکار ہو کر اپنی صحت کی دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں ۔ گوشت کے زیادہ استعمال سے بدہضمی ، ا سہال ، قے وغیرہ کی شکایات عام ہیں ۔جس سے حتٰی الامکان بچنے کے لئے ہمیں ایک معتدل انداز میں گوشت کو اپنی خوراک کا جزو بنانا چاہیئے۔

اکثر افراد زیادہ کھانے کے بعد غنودگی سی محسوس کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ طبی تحقیق کے مطابق کھانے کے بعد سونا بے حد خطرناک ہوتا ہے کیونکہ دل کے دورے سے پہلے جو وارننگ سائن ملتے ہیں ان کا نیند کی وجہ سے پتہ نہیں چلتاہے جس کے نتیجے میں انسان دل کے دورے سے بچنے کی دوا ئیاں لینے سے محروم رہتا ہے ۔

یہ بات ہمیشہ دھیان میں رکھنی چاہیئے کہ ہمیں کھانے کے لئے زندہ نہیں رہنا چاہیئے بلکہ زندہ رہنے کے لئے کھانا کھانا چاہیئے۔ مرغن اور مصالحہ دار غذائیں معدے پر بوجھ ڈالتی ہیں اور یہ صورتحال گرمیوں کے موسم میں اور بھی گمھبیر ہو جاتی ہے ۔ گرمیوں کے موسم میں عیدکے روایتی پکوانوں قورمہ ، بریانی ، کڑاہی وغیرہ میں مصالحوں اور تیل کی مقدار کم رکھنی چاہیئے۔ اور ان مختلف بھاری کھانوں کے ساتھ ساتھ پانی کا استعمال بھی وافر مقدار میں رکھنا چاہیئے ۔ تہوار کے موقع پرگوشت کا زیادہ استعمال ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ گوشت میں موجود پروٹین کی زیادہ مقدار سے ہائی بلڈ پریشر ہو جاتا ہے اور اس کے علاوہ گوشت میں چربی اور کولیسٹرول کی بڑی مقدار دل کی مختلف بیماریوں ختٰی کہ دل کے دورے کا سبب بھی بن سکتی ہے ۔کیونکہ یہ چربی دل کی شریانوں میں جمع ہو کر ان کو بلاک کر دیتی ہیں اور پھر مریض دل کی مختلف بیمار یو ں سمیت دل کے ڈاکٹر کا رخ کرتے ہیں ۔ اسی طرح جن لوگوں کو یرقان اور ہیپاٹائیٹس کا مرض لاحق ہوتا ہے انہیں بھی گوشت کا زیادہ استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیئے کیونکہ گوشت کے زیادہ استعمال سے جگر پر دبائو پڑنے کی وجہ سے مریض کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے ۔دمے یا سانس کے مریضوں کو بھی سرخ گوشت کے کم استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

عید کے مو قع پر بہت سے گھرانوں میں باربی کیو کا خاص اہتما م کیا جاتا ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق باربی کیوگوشت جو کہ کوئلے کے دھوئیں سے بنا یا جاتا ہے وہ دھواں اس گوشت کو زہریلابنا دیتا ہے جس سے معدے کی تیزا بیت ا ور جلن کی شکایت ہو سکتی ہے اور جلے ہوئے گوشت سے نظام انہضام بھی متاثر ہوسکتا ہے ۔

پھلوں اور سبزیوں کے مقابلے میں گوشت دیر سے ہضم ہوتا ہے اور زیادہ گوشت کھانے سے معدے پر گرانی بھی بڑھ جاتی ہے ۔لہذا عید کے موقع پر بھی گوشت کے ایک مناسب استعمال کے ساتھ ساتھ سبزیوں اور سلاد کا استعمال بھی مناسب اور زیادہ مقدار میں کر نا چا ہیے ۔ اور جانوروں کی چربی والا تیل جو کہ بے حد مضر صحت ہے ،کے بجائے سبزیوں کا تیل استعمال کرنا چاہیئے کیونکہ جانوروں کی چربی والے تیل میں سیر شدہ چکنائیاں اور ٹر انس فیٹس کی زائد مقدارہوتی ہے جبکہ اس کے برخلاف جو لوگ Polyum Saturated Acids استعمال کرتے ہیں ان کی صحت پر مضر اثرات کا خطرہ کم ہوتا ہے ۔یہ چکنائیاں مچھلی ، سبزیوں اور سبزی جاتی تیلوں میں پائی جاتی ہیں ۔

عید کے موسم میں چونکہ روڈ پر ٹریفک جام ہونے کی شکایت عام ہوتی ہے تو اس صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لئے اور طبیعت کی خرابی سے محفوظ رہنے کے لئے پانی کی بوتل ضرور ساتھ رکھیں ۔کھانوں کے ساتھ کولڈرنک پینے سے گریز کرنا چاہیئے ۔ کیونکہ یہ ہماری صحت کے لئے بے حد نقصان دہ ہوتے ہیں اور کینسر ، ہڈیوں کے بھربھر ے پن کی بیماری، جگر کی خرابی اور معدے میں ہو ا بھرنے کے ساتھ ساتھ بچوں میں پیٹ کے مختلف امراض کا بھی باعث بنتے ہیں ۔کو لڈ ڈرنکس کے بجائے سادہ یا ٹھنڈا پانی پیئں۔ کیونکہ روزوں کے دوران ہمارے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے اور پانی چونکہ ہمارے جسم سے براستہ پیشاب، پسینہ اور سانس لینے کے عمل سے بھی مسلسل خارج ہو رہا ہوتا ہے تو ہمیں اس کی مقدار کو جسم میں برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔کیو نکہ پانی کا زیادہ استعمال ایک صحت مندجسم اور زندگی کے لئے بے حد ضروری ہے ۔ جبکہ پانی کے زیادہ استعمال سے وزن کی کمی میں بھی معاونت ہوتی ہے ۔ پانی کی کتنی مقدار ہمارے جسم کے لئے ضروری ہے اس کا انحصار ہمیں ہماری جسمانی سرگرمیوں اور ہمارے وزن پر ہوتا ہے ۔ عمومی طور پر روزانہ 8-10 گلاس پانی لازمی پینا چاہیئے ۔

کھانا کھانے کے فوراََ بعد سونا نہیں چاہیئے کیونکہ اس طرح کھانا ٹھیک سے ہضم نہیں ہوپاتا ہے اور جس کے باعث معدے کی مختلف بیماریاں اور انفیکشن ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح کھانا کھانے کے بعد اور دن کے آخر میں سونے سے قبل کھلی ہوا میںچند منٹ کی چہل قدمی نہایت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے اور ہمارے جسمانی نظام کو معمول کے مطابق رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے ۔ چہل قدمی ہمارے معدے اور دیگر جسمانی حصوں کو ٹھیک اور باقاعدہ کام کرنے میں مدد کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تہوار پر بھی کھانا کھانے کا ایک ٹائم مقرر کرلینا چاہیئے ۔ کیونکہ وقت بے وقت کھانا کھانے سے نظام ہضم بگڑ سکتا ہے اور ہم بیمار پڑسکتے ہیں لہذا دو کھانوں کے درمیان چھ گھنٹوں کا وقفہ ہونا چاہیئے۔

اس کے علاوہ عید کی ڈشز میں پھلوں سے بنی ہوئی مختلف میٹھی ڈشز بنائی جاسکتی ہیں جن میں مصنوعی چینی کا استعما ل کم ہوتاہے۔امریکہ کی یونیورسٹی کیلیفورنیا میں ایک تحقیق کے مطابق زیادہ چربی اور مٹھاس والی غذائیں جگر اور معدے کی مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔

کھا نے کے ساتھ ایسی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال ضرور کریں جس میں پانی کی مقدار زیادہ ہو جیسے تربوز، کھیرا ، سلاد یہ سب پانی کی کمی سے روکنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں ۔ سلاد کے پتے پانی سے بھر ے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کے مسلسل استعمال سے دل کی بیماریوں اور اعصابی تھکن سے بچائو حاصل کر سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ پھلوں اور سبزیوں میںموجود پانی اور فائبر پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ پیٹ بھرنے کا احساس بھی دلاتے ہیں ۔ اور پھلوں میںموجود مٹھاس ہمارے جسم میںمصنوعی مٹھاس یا چینی کے لئے موجود طلب کو اطمینان بخشتے ہیں ۔

لہذا عید سعید کے پر مسرت موقع پر کھا نے پینے میں اعتدال سے کام لیتے ہوئے میٹھے اور گوشت کے ساتھ ساتھ سبزیوں اور پھلوں کا بھی زیادہ سے زیادہ استعما ل کر تے ہوئے حتی الامکان باہر کے اور زیادہ مرچ مسالوں والے کھا نوں سے گریز کرنا چاہیے تاکہ ہم مختلف قسم کی بیماریوں سے محفو ظ رہتے ہو ئے اچھے طریقے سے عید کی خوشیوں اور رنگینیوں سے اپنے عزیزو اقارب اور دوستوں کے ساتھ لطف اندوز ہو سکیں۔


متعلقہ خبریں


طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم انہوں نے یہ بات ایک مرتبہ پھر دہرائی ہے کہ امریکی فوج تین چار دن میں افغانستان کو فتح کرسکتی ہے مگر میں ایک کروڑ افراد کو مارنا نہیں چاہتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ میں ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کررہا ہوں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی بیان دیا تھا جس پر افغان حکومت نے احت...

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت وجود - منگل 06 اگست 2019

اسرائیلی ریاست کی طرف سے سال 2018ء کے دوران فلسطینی بچوں کے وحشیانہ قتل عام کے واقعات کے باوجود اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل کو بلیک لسٹ یعنی شیم لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ تسلیم کرچکی ہے کہ اسرائیل سال 2018ء کے دوران بھی ماضی کی طرف فلسطینی بچوں کے قتل عام میں ملوث رہا ہے مگر اس کے باوجود اقوام متحدہ نے صہیونی ریاست کے جرائم پر پردہ ڈال کر قا...

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

نامور ریسلر اور ہالی ووڈ اداکار ڈوین جانسن عرف ’دی راک‘ نے فوربس کی جانب سے جاری کردہ 2019 کی سب سے زیادہ کمانے والے ہالی ووڈ اداکاروں کی فہرست میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔جانسن نے رواں برس سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں کام کیا اور 89.4 ملین ڈالرز کمائے۔47 سالہ ایکٹر اور ریسلر نے ’فاسٹ اینڈ فیورس‘ فرنچائز کی فلم ’ہوبس اینڈ شاو‘ اور ’جمانجی دی نیکسٹ لیول‘ جیسی فلموں کے ذریعے سب سے زیادہ کمائی کی۔دوسری جانب دی راک کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 151 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ام...

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا نے چین کو باضابطہ طور پر کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ روز اہم کرنسیوں کے مقابلے میں چینی یوآن کی قدر میں ریکارڈ کمی نوٹ کی گئی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی نہ روکنے کے اقدام کو امریکا اور چین کے مابین جاری تجارتی جنگ میں چینی ردِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی حکومت کے مطابق امریکا چینی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث چین کو حاصل ہونے والی غیر منصفانہ تجارتی مسابقت کے خاتمے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔ ...

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین میں رومن آرتھوڈوکس چرچ کے ایک سرکردہ پادری بشپ عطا اللہ حنا نے امریکا میں اسرائیل کے دفاع کے لیے کام کرنیوالی ایک نام نہاد عیسائی تنظیم کو مشکوک قرار دیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عطا اللہ حنا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں قائم عیسائی اتحاد برائے اسرائیل نامی تنظیم فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم اور دہشت گردی کا دفاع کررہی ہے۔ فلسطینی عیسائی برادری اس تنظیم سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان کا کہنا کہ امریکی ح...

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید وجود - منگل 06 اگست 2019

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اورکہاہے کہ ناکہ بندی، رابطوں کے ذرائع منقطع کرنے اور پر امن مظاہروں پر پابندی نے کشمیری عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے اب تک کشمیر میں انٹرنیٹ اور رابطوں کے دیگر ذرائع منقطع ہیں، بھارتی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیریو...

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین کی وزارت اطلاعات نے بتایا ہے کہ جولائی 2019ء میں اسرائیلی فوج اور دیگر صہیونی ریاستی اداروں کی طرف سے فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیواقعات میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طورپر صحافتی حقوق کی 74 بار پامالی کی گئی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت اطلاعات کے صحافتی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے شعبے کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں صحافیوں کی گرفتاریوں، ان کے گھروں پرچھاپوں، توہین آمیز طرزعمل، انہیں...

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر مزید 10 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کے جواب میں چین نے امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد امریکی اسٹاک رواں ہفتے کے پہلے روز سال کی کم ترین سطح پر بند ہوئی۔چین نے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری روکنے کافیصلہ کیاہے اور ساتھ ہی ان پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا بھی عندیہ دیاہے۔چین نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں مزید کمی کردی تھی۔تمام تر صورتحال میں امریکی اسٹاک ڈاو جونز میں سال کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہوئی، دن کے اختتا...

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ وجود - منگل 06 اگست 2019

افغانستان میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے حتمی سمجھوتے پر دستخط 13 اگست کو متوقع ہیں۔زاہد نصراللہ نے امریکی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 13 اگست کو حتمی سمجھوتہ طے پا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل افغان طالبان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے معاملے پر اختلافات دور ہو گئے ہیں۔مذاکرات کے دوران طالبان نے بھی امریکہ کو یہ یقین دہان...

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی وجود - بدھ 31 جولائی 2019

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائرروی سندرام کی چھٹی جبکہ مائیکل گف اور جوئیل ولسن کو شامل کرلیا گیا۔انگلینڈ کے مائیکل گف اور ویسٹ انڈین جوئیل ولسن کو آئی سی سی الیٹ پینل آف امپائرز میں جگہ مل گئی، فیصلہ امپائرز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد آئی سی سی کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے کیا،اس کے دیگر ارکان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سنجے منجریکر، میچ ریفریز رنجن مدوگالے اور ڈیوڈ بون شامل ہیں۔گف 9ٹیسٹ، 59ون ڈے اور 14ٹی ٹوئنٹی میں ...

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان وجود - منگل 30 جولائی 2019

سوڈان کی فوجی عبوری کونسل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے کہا ہے کہ کسی ایک سوڈانی شہری کا قتل بھی قوم کا بہت بڑا نقصان ہے۔ لڑائی کا فوری اور موثر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں فوج کی شمولیت صرف شراکت کے فارمولے کے تحت ہے۔شمالی کردفان ریاست کے الابیض شہر میں ہونے والے فسادات کا کوئی جواز نہیں۔ان فسادات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل البرھان نے کہا کہ الابیض شہر میں تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ بے گناہ شہ...

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان