وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

عید اور کھانے میں احتیاط

منگل 12 جون 2018 عید اور کھانے میں احتیاط

رمضان المبارک کے بعد جب میٹھی میٹھی عید آتی ہے تو ہر طرف کھلکھلاتے چہروں اور چمکتی مسکراہٹوں کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کا بھی اک جوش اُمڈ آتا ہے ۔اور ہو بھی کیوں نہیں۔ یوم عید اللہ تعالیٰ کا تحفہ جو ہے جو پورے مہینے ماہ رمضان کے روزے رکھنے والوں کے لئے اللہ کی طرف سے روزِ انعام ہے ۔

عیدالفطر نام تو ہے میٹھی میٹھی سویوں کا مگر عید الفطر کے پر مسرت موقع پر بھی لوگ زیا دہ تر گوشت کی بنی ہوئی مختلف ڈشز سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں ۔ عید کے دن مہمانوں کی خاطر مدارات ہمارے معاشرتی روایات کا ایک اہم حصہ تصور کئے جاتے ہیں ۔ مگر یہ خاطر مدارت اور دعوتیں اس وقت مشکل میں مبتلا کر دیتی ہیں جب لوگ کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہوتے اپنی صحت کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اور سارا سال کھانوں میں کی جانے والی احتیاط اور پرہیز کو ایک طرف رکھ کر ہر قسم کے کھانوں سے فیض یاب ہوتے نظر آتے ہیں ۔

عید پر نت نئے کھانوں سے لطف اندوز ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے مگر تیس دن روزے رکھنے کے بعد اچانک بہت زیادہ کھانا پینا جسمانی نظام کے لئے بہت مشکل ثابت ہوتا ہے جس سے معدے اور پیٹ کے افعال متا ثر ہو سکتے ہیں اور ا نسان خود کو نڈھال اور موٹاپے کا شکار بنا دیتاہے ۔

عید کے تینوں دن عا م دنوں کے مقابلے میں زیا د ہ کیلو ریز استعما ل کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے اس مبارک اور خوشی کے دن زیادہ تر افراد کا پیٹ خراب ہی رہتا ہے جس کا علاج بھی وہ کچھ نہ کچھ کھاکر ہی کرتے ہیں ۔ معدے میں جلن اور تیز ابیت ، دل میں جلن ، خوراک کا ہضم نہ ہونا اور پیٹ میں درد اور دست وغیرہ سب ہی ضرورت سے زیادہ مصالحے دار اور تیل والے کھانے کی وجہ سے ہو تے ہیں ۔ماہرین کے مطابق زیادہ مصالحہ دار، زیادہ مرچ مسالوں والے کھا نے اور پیزا ، چپس اور زیادہ نمکیات اور مرچوں والے کھا نے ذہنی تنائو اور السر کا باعث بنتے ہیں ۔یہ خون کے دبائو ، جگر کی کارکردگی اور خون کے خلیوں اور ان کی گردش پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں ذہنی تنائو اور ہائپر ٹینشن کی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں ۔ماہرین کے مطابق ایسے مواقع میں شوگر کے مریضوں کو زیا دہ احتیا ط کی ضرورت ہوتی ہے۔کیونکہ زیادہ میٹھی اور چکنا ئی والی چیزیں کھانے سے شوگر کی سطح بلند ہو نے کاخطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دل، بلڈ پریشر اور معدے کے امراض میں بھی مبتلا مر یضوں کو احتیا ط بر تنی چا ہیے۔

گوشت کا بہت زیادہ اور مسلسل استعمال کولیسٹرول ، یورک ایسڈ ، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق ایک شخص کو ایک دن میں تقریباََ 70 گرام سے زیادہ گوشت نہیں استعمال کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے مختلف پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں ۔ مگر ہمارے معاشرے میں گوشت کے روزانہ استعمال کو امارت کی نشانی اور فخریہ طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں تو گوشت کے بغیر کوئی کھانا ہی نہیں کھاتا اور پھر کسی تقریب یا تہوار وغیرہ پر تو گوشت کا استعمال لازم و ملزوم بن جاتا ہے ۔ عید کے زمانے میں ہر طرف گوشت کے ہی پکوان نظر آتے ہیں اور لوگ جس میں بچے ، جوان اور بوڑھے (جو زیادہ خطرے کے نزدیک ہوتے ہیں ) صرف گوشت کے پکوان سے ہی انصاف کرتے ہوئے اپنے ساتھ کھلم کھلا نا انصافی کے مرتکب ہورہے ہوتے ہیں اور پھر تہوار کے فوراََ بعد ان کی بہت زیادہ تعداد ہسپتالوں اور ڈاکٹرز کا رخ کرتے نظر آتے ہیں اور پھرا سہال ، دست، قے اور پیٹ کے درد کا شکار ہو کر اپنی صحت کی دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں ۔ گوشت کے زیادہ استعمال سے بدہضمی ، ا سہال ، قے وغیرہ کی شکایات عام ہیں ۔جس سے حتٰی الامکان بچنے کے لئے ہمیں ایک معتدل انداز میں گوشت کو اپنی خوراک کا جزو بنانا چاہیئے۔

اکثر افراد زیادہ کھانے کے بعد غنودگی سی محسوس کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ طبی تحقیق کے مطابق کھانے کے بعد سونا بے حد خطرناک ہوتا ہے کیونکہ دل کے دورے سے پہلے جو وارننگ سائن ملتے ہیں ان کا نیند کی وجہ سے پتہ نہیں چلتاہے جس کے نتیجے میں انسان دل کے دورے سے بچنے کی دوا ئیاں لینے سے محروم رہتا ہے ۔

یہ بات ہمیشہ دھیان میں رکھنی چاہیئے کہ ہمیں کھانے کے لئے زندہ نہیں رہنا چاہیئے بلکہ زندہ رہنے کے لئے کھانا کھانا چاہیئے۔ مرغن اور مصالحہ دار غذائیں معدے پر بوجھ ڈالتی ہیں اور یہ صورتحال گرمیوں کے موسم میں اور بھی گمھبیر ہو جاتی ہے ۔ گرمیوں کے موسم میں عیدکے روایتی پکوانوں قورمہ ، بریانی ، کڑاہی وغیرہ میں مصالحوں اور تیل کی مقدار کم رکھنی چاہیئے۔ اور ان مختلف بھاری کھانوں کے ساتھ ساتھ پانی کا استعمال بھی وافر مقدار میں رکھنا چاہیئے ۔ تہوار کے موقع پرگوشت کا زیادہ استعمال ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ گوشت میں موجود پروٹین کی زیادہ مقدار سے ہائی بلڈ پریشر ہو جاتا ہے اور اس کے علاوہ گوشت میں چربی اور کولیسٹرول کی بڑی مقدار دل کی مختلف بیماریوں ختٰی کہ دل کے دورے کا سبب بھی بن سکتی ہے ۔کیونکہ یہ چربی دل کی شریانوں میں جمع ہو کر ان کو بلاک کر دیتی ہیں اور پھر مریض دل کی مختلف بیمار یو ں سمیت دل کے ڈاکٹر کا رخ کرتے ہیں ۔ اسی طرح جن لوگوں کو یرقان اور ہیپاٹائیٹس کا مرض لاحق ہوتا ہے انہیں بھی گوشت کا زیادہ استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیئے کیونکہ گوشت کے زیادہ استعمال سے جگر پر دبائو پڑنے کی وجہ سے مریض کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے ۔دمے یا سانس کے مریضوں کو بھی سرخ گوشت کے کم استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

عید کے مو قع پر بہت سے گھرانوں میں باربی کیو کا خاص اہتما م کیا جاتا ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق باربی کیوگوشت جو کہ کوئلے کے دھوئیں سے بنا یا جاتا ہے وہ دھواں اس گوشت کو زہریلابنا دیتا ہے جس سے معدے کی تیزا بیت ا ور جلن کی شکایت ہو سکتی ہے اور جلے ہوئے گوشت سے نظام انہضام بھی متاثر ہوسکتا ہے ۔

پھلوں اور سبزیوں کے مقابلے میں گوشت دیر سے ہضم ہوتا ہے اور زیادہ گوشت کھانے سے معدے پر گرانی بھی بڑھ جاتی ہے ۔لہذا عید کے موقع پر بھی گوشت کے ایک مناسب استعمال کے ساتھ ساتھ سبزیوں اور سلاد کا استعمال بھی مناسب اور زیادہ مقدار میں کر نا چا ہیے ۔ اور جانوروں کی چربی والا تیل جو کہ بے حد مضر صحت ہے ،کے بجائے سبزیوں کا تیل استعمال کرنا چاہیئے کیونکہ جانوروں کی چربی والے تیل میں سیر شدہ چکنائیاں اور ٹر انس فیٹس کی زائد مقدارہوتی ہے جبکہ اس کے برخلاف جو لوگ Polyum Saturated Acids استعمال کرتے ہیں ان کی صحت پر مضر اثرات کا خطرہ کم ہوتا ہے ۔یہ چکنائیاں مچھلی ، سبزیوں اور سبزی جاتی تیلوں میں پائی جاتی ہیں ۔

عید کے موسم میں چونکہ روڈ پر ٹریفک جام ہونے کی شکایت عام ہوتی ہے تو اس صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لئے اور طبیعت کی خرابی سے محفوظ رہنے کے لئے پانی کی بوتل ضرور ساتھ رکھیں ۔کھانوں کے ساتھ کولڈرنک پینے سے گریز کرنا چاہیئے ۔ کیونکہ یہ ہماری صحت کے لئے بے حد نقصان دہ ہوتے ہیں اور کینسر ، ہڈیوں کے بھربھر ے پن کی بیماری، جگر کی خرابی اور معدے میں ہو ا بھرنے کے ساتھ ساتھ بچوں میں پیٹ کے مختلف امراض کا بھی باعث بنتے ہیں ۔کو لڈ ڈرنکس کے بجائے سادہ یا ٹھنڈا پانی پیئں۔ کیونکہ روزوں کے دوران ہمارے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے اور پانی چونکہ ہمارے جسم سے براستہ پیشاب، پسینہ اور سانس لینے کے عمل سے بھی مسلسل خارج ہو رہا ہوتا ہے تو ہمیں اس کی مقدار کو جسم میں برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔کیو نکہ پانی کا زیادہ استعمال ایک صحت مندجسم اور زندگی کے لئے بے حد ضروری ہے ۔ جبکہ پانی کے زیادہ استعمال سے وزن کی کمی میں بھی معاونت ہوتی ہے ۔ پانی کی کتنی مقدار ہمارے جسم کے لئے ضروری ہے اس کا انحصار ہمیں ہماری جسمانی سرگرمیوں اور ہمارے وزن پر ہوتا ہے ۔ عمومی طور پر روزانہ 8-10 گلاس پانی لازمی پینا چاہیئے ۔

کھانا کھانے کے فوراََ بعد سونا نہیں چاہیئے کیونکہ اس طرح کھانا ٹھیک سے ہضم نہیں ہوپاتا ہے اور جس کے باعث معدے کی مختلف بیماریاں اور انفیکشن ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح کھانا کھانے کے بعد اور دن کے آخر میں سونے سے قبل کھلی ہوا میںچند منٹ کی چہل قدمی نہایت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے اور ہمارے جسمانی نظام کو معمول کے مطابق رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے ۔ چہل قدمی ہمارے معدے اور دیگر جسمانی حصوں کو ٹھیک اور باقاعدہ کام کرنے میں مدد کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تہوار پر بھی کھانا کھانے کا ایک ٹائم مقرر کرلینا چاہیئے ۔ کیونکہ وقت بے وقت کھانا کھانے سے نظام ہضم بگڑ سکتا ہے اور ہم بیمار پڑسکتے ہیں لہذا دو کھانوں کے درمیان چھ گھنٹوں کا وقفہ ہونا چاہیئے۔

اس کے علاوہ عید کی ڈشز میں پھلوں سے بنی ہوئی مختلف میٹھی ڈشز بنائی جاسکتی ہیں جن میں مصنوعی چینی کا استعما ل کم ہوتاہے۔امریکہ کی یونیورسٹی کیلیفورنیا میں ایک تحقیق کے مطابق زیادہ چربی اور مٹھاس والی غذائیں جگر اور معدے کی مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔

کھا نے کے ساتھ ایسی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال ضرور کریں جس میں پانی کی مقدار زیادہ ہو جیسے تربوز، کھیرا ، سلاد یہ سب پانی کی کمی سے روکنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں ۔ سلاد کے پتے پانی سے بھر ے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کے مسلسل استعمال سے دل کی بیماریوں اور اعصابی تھکن سے بچائو حاصل کر سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ پھلوں اور سبزیوں میںموجود پانی اور فائبر پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ پیٹ بھرنے کا احساس بھی دلاتے ہیں ۔ اور پھلوں میںموجود مٹھاس ہمارے جسم میںمصنوعی مٹھاس یا چینی کے لئے موجود طلب کو اطمینان بخشتے ہیں ۔

لہذا عید سعید کے پر مسرت موقع پر کھا نے پینے میں اعتدال سے کام لیتے ہوئے میٹھے اور گوشت کے ساتھ ساتھ سبزیوں اور پھلوں کا بھی زیادہ سے زیادہ استعما ل کر تے ہوئے حتی الامکان باہر کے اور زیادہ مرچ مسالوں والے کھا نوں سے گریز کرنا چاہیے تاکہ ہم مختلف قسم کی بیماریوں سے محفو ظ رہتے ہو ئے اچھے طریقے سے عید کی خوشیوں اور رنگینیوں سے اپنے عزیزو اقارب اور دوستوں کے ساتھ لطف اندوز ہو سکیں۔


متعلقہ خبریں


ڈینیئل پرل قتل، ملزمان کی رہائی کیخلاف درخواست، سیکریٹری داخلہ3فروری کو طلب وجود - بدھ 20 جنوری 2021

سندھ ہائی کورٹ نے ڈینیئل پرل قتل کیس میں بری ملزمان کو رہا نہ کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ اور دیگر حکام کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیاہے ۔بدھ کو عدالتِ عالیہ نے سیکریٹری داخلہ اور جیل حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی ضمنی درخواست کی سماعت کی، جس کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے ستمبر میں حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک ملزمان کو رہا نہ کیا جائے ۔سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کہا کہ اگر معاملہ سپریم کورٹ م...

ڈینیئل پرل قتل، ملزمان کی رہائی کیخلاف درخواست، سیکریٹری داخلہ3فروری کو طلب

واٹس ایپ چھوڑکر ترک ایپ بپ کی جانب رغبت میں اضاف وجود - بدھ 20 جنوری 2021

ہ عوام واٹس ایپ کو ترک کر کے ترکی کے سماجی پلیٹ فارم بپ کی طرف راغب ہو رہے ہیں جبکہ دنیا بھر میں بھی اس ایپ کی ڈائون لوڈنگ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔رپورٹ کے مطابق لوگ ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق اندیشوں کے باعث فوری پیغام رسانی کی اپیلی کیشن واٹس ایپ کو ترک کر کے ترکی کے سماجی رابطہ پلیٹ فارم بِپ کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔عوام کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ سے زیادہ بہتر ویڈیو کال، ایک ہزار افراد تک کے چیٹنگ گروپ اور مختلف چینلوں کی رکنیت کی اجازت دینے جیسی خصوصیات کی وجہ سے ہم بِپ کو تر...

واٹس ایپ چھوڑکر ترک ایپ بپ کی جانب رغبت میں اضاف

ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے ،ڈونلڈ ٹرمپ کا الوداعی خطاب وجود - بدھ 20 جنوری 2021

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکیوں سے اپنا الوداعی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے ۔ فخر ہے کہ میں دہائیوں میں وہ پہلا صدر ہوں جس نے کوئی نئی جنگیں شروع نہیں کیں۔اب ملک کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہماری قومی عظمت سے اعتماد کے ضیاع کا ہے ،غیرملکی خبررساں ادراے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکیوں سے بحیثیت امریکی صدر اپنا الوداعی خطاب بذریعہ یوٹیوب کیا ۔انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ فخر ہے کہ میں دہائیوں میں وہ پہلا صدر ہوں جس نے کوئی نئی جنگیں شروع نہیں...

ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے ،ڈونلڈ ٹرمپ کا الوداعی خطاب

ٹرمپ کی بیٹی ٹفنی نے منگنی کا اعلان کردیا وجود - بدھ 20 جنوری 2021

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ٹفنی ٹرمپ نے والد کی مدتِ صدارت کے آخری روز اپنی منگنی کا باضابطہ اعلان کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ پر اپنے منگیتر مائیکل بلوس کے ہمراہ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنی منگنی کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ زندگی کا نیا باب ان کے ساتھ گزارنے کی منتظر ہیں۔اپنی پوسٹ میں ٹفنی نے لکھا کہ وائٹ ہائوس میں فیملی کے ہمراہ تاریخی مواقعوں پر سنہری یادیں سمیٹنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے ۔ٹفنی نے لکھا کہ وائٹ ہائوس میں میری سب سے بہترین یاد مائ...

ٹرمپ کی بیٹی ٹفنی نے منگنی کا اعلان کردیا

ایران کی ٹرمپ، پومپیو اور دوسرے اعلی عہدے داروں پر پابندیاں عائد وجود - بدھ 20 جنوری 2021

ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکا کے سبکدوش ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، وزیرخارجہ مائیک پومپیو اور متعدد موجودہ اور سابق اعلی امریکی عہدے داروں کے خلاف پابندیاں عاید کردیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق وزارت خارجہ کے بیان میں کہاگیاکہ امریکی صدر ٹرمپ اور پومپیو کے علاوہ قائم مقام وزیر دفاع کرسٹوفرملر، وزیرخزانہ اسٹیفن نوشین ،سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہاسپیل ،امریکا کے خصوصی ایلچی برائے ایران اور وینزویلا ایلیٹ ابرامس، دفتر برائے غیرملکی اثاثہ کنٹرول کی سربراہ آندریا گاکی،صدر ٹرمپ کے قوم...

ایران کی ٹرمپ، پومپیو اور دوسرے اعلی عہدے داروں پر پابندیاں عائد

شہری کے 44 ارب روپے کچرے کے ڈھیر میں چلے گئے وجود - بدھ 20 جنوری 2021

برطانیہ میں 44ارب کچرے کے ڈھیر میں چلے گئے اور حکام کی جانب سے تلاشی کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانیہ کے 35سالہ آئی ٹی انجینئر نے 2009میں کرپٹو کرنسی میں حصہ لیا اور2013میں آفس کی صفائی کی دوران غلطی سے بٹ کوائن والی ہارڈ ڈرائیو کوڑے میں پھینک دی۔جیمز ہویلز کا کہنا ہے کہ اس کے پاس 75 سو بٹ کوائن موجود تھے جو آج کی قیمت کے مطابق 28 کروڑ ڈالرز کے قریب بنتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 8 سال قبل پھینکے گئے کوڑے کے ڈھیر میں ہارڈ ڈرائیو تلاش کرنے کی حکام...

شہری کے 44 ارب روپے کچرے کے ڈھیر میں چلے گئے

دوماہ سے لاپتہ علی بابا کمپنی کے بانی جیک ما منظرِعام پر آگئے وجود - بدھ 20 جنوری 2021

معروف آن لائن ای کامرس کمپنی علی بابا کے بانی جیک ما 2 ماہ سے زائد عوامی منظرنامے سے پراسرار طور پر غائب رہنے کے بعد سامنے آگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جیک ما نے گزشتہ روز ویڈیو لِنک کے ذریعے دیہی اساتذہ کی زیر قیادت سماجی بہبود کے پروگرام میں شرکت کی۔انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی وبا کورونا کے بعد جلد ملاقات کریں گے ۔ خیال رہے کہ چین کے ریگولیٹری نظام پر تنقید کے بعد جیک ما کے پراسرار طور پر لاپتا ہونے کی خبروں سے متعلق سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں میں اضافہ ہو...

دوماہ سے لاپتہ علی بابا کمپنی کے بانی جیک ما منظرِعام پر آگئے

کراچی افیئرنامی رشوت کے مقدمے میں سابق فرانسیسی وزیراعظم کے ٹرائل کا آغاز وجود - منگل 19 جنوری 2021

سابق فرانسیسی وزیراعظم ایڈورڈ بیلاڈور پر مقدمے کا آغاز کردیاگیا ہے ،کراچی افیئرکے نام سے مشہور اس مقدمے میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 1990کی دہائی میں ناکام صدارتی مہم کے سلسلے میں فنڈز کی فراہمی کے لیے اسلحہ کے معاہدوں میں رشوت لی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق91سالہ بیلاڈور بدانتظامی کے الزامات کا سامنا کرنے والے فرانسیسی سیاست دانوں کی ایک طویل فہرست کا حصہ بن گئے جہاں اس فہرست میں سابق صدر نکولس سرکوزی اور ان کے پیش رو جیک چیراک بھی شامل ہیں۔قدامت پسند سابق وزیر اعظم پر کورٹ آ...

کراچی افیئرنامی رشوت کے مقدمے میں سابق فرانسیسی وزیراعظم کے ٹرائل کا آغاز

ایران میں رقص کے لفظ پر ٹی وی میزبان معطل، گانے پر لڑکیاں گرفتار وجود - منگل 19 جنوری 2021

ایران میں رقص کے لفظ پر ٹی وی میزبان معطل جبکہ گانے گانے پرمتعدد لڑکیاں گرفتارکرلی گئیں،میڈیارپورٹس کے مطابق ایران کے فارسی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینل نے اپنے ایوننگ فیملی پروگرام کی میزبان روزیتا قبادی کو معطل کر دیا۔ ایک روز جب وہ ٹی وی کے دفتر پہنچی تو اسے وہ یہ جان کر حیران رہی کہ اسے پروگرام کی میزبانی سے روک دیا گیا ہے ۔روزیتا قبادی نے بتایا گیا کہ اس کے پروگرام میں ایک ڈاکٹر نے رقص جیسے متنازع الفاظ استعمال کیے تھے مگر اس نے اپنے مہمان کو ایسی گفتگو سے من...

ایران میں رقص کے لفظ پر ٹی وی میزبان معطل، گانے پر لڑکیاں گرفتار

نومنتخب امریکی صدر کی تقریب حلف برداری،واشنگٹن کا ریڈزون فوجی چھاونی میں تبدیل وجود - منگل 19 جنوری 2021

نومنتخب امریکی صدرجو بائیڈن کی تقریب حلف برداری سے پہلے واشنگٹن ڈی سی کا ریڈ زون فوجی چھاونی میں تبدیل ہو گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی دارالحکومت میںرکاوٹیں، خاردار تاریں اور نیشنل گارڈز بڑی تعداد میں تعینات ہے جبکہ سڑکیں سنسان ہیں۔امریکا کی بعض ریاستوں میں ٹرمپ کے حامی سڑکوں پر نکلے ، تاہم سیکورٹی اہل کاروں کی تعداد مظاہرین سے کہیں زیادہ تھی۔جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری بدھ کو ہوگی۔

نومنتخب امریکی صدر کی تقریب حلف برداری،واشنگٹن کا ریڈزون فوجی چھاونی میں تبدیل

تقریب حلف برداری میں حملے کا خدشہ نہیں،امریکی وزیردفاع وجود - منگل 19 جنوری 2021

امریکی قائم مقام سیکٹری دفاع کرسٹوفر ملر نے کہاہے کہ امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری میں سیکیورٹی پرتعینات اہلکاروں کے حملے کا خدشہ نہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کرسٹوفر ملر نے کہا کہ کوئی خفیہ اطلاعات نہیں کہ بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے حملے کاخدشہ ہو.انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی پرتعینات تمام 25 ہزار نیشنل گارڈز کی اسکریننگ ہورہی ہے ، سیکیورٹی پرتعینات اہکاروں کی اسکریننگ معمول کی بات ہے ۔

تقریب حلف برداری میں حملے کا خدشہ نہیں،امریکی وزیردفاع

بھارت، پڑھائی پر توجہ نہ دینے پر باپ نے بیٹے کو آگ لگادی وجود - منگل 19 جنوری 2021

بھارتی ریاست حیدرآباد دکن میں پڑھائی پر پڑھائی پر توجہ نہ دینے والے 10 سالہ بچے کو اس کے والد نے تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔باپ نے بیٹے پر تارپین کا تیل چھڑک کا آگ لگائی، باپ کے تشدد کا نشانہ بننے والے 10سالہ بچے کا 60 فیصد جسم جل گیا ہے ۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جھلس کر زخمی ہونے والے بچے کی جان بچانے کے لیے ڈاکٹروں کی ٹیم پوری کوشش کررہی ہے ۔جھلس کر زخمی ہونے والے بچے کا باپ پیشے کے لحاظ سے مزدور ہے اور اپنے بچے کو نذر آتش کرنے کے بعد سے مفرور ہے ۔علاقہ پولیس کے مطابق یہ واق...

بھارت، پڑھائی پر توجہ نہ دینے پر باپ نے بیٹے کو آگ لگادی