وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

عید اور کھانے میں احتیاط

منگل 12 جون 2018 عید اور کھانے میں احتیاط

رمضان المبارک کے بعد جب میٹھی میٹھی عید آتی ہے تو ہر طرف کھلکھلاتے چہروں اور چمکتی مسکراہٹوں کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کا بھی اک جوش اُمڈ آتا ہے ۔اور ہو بھی کیوں نہیں۔ یوم عید اللہ تعالیٰ کا تحفہ جو ہے جو پورے مہینے ماہ رمضان کے روزے رکھنے والوں کے لئے اللہ کی طرف سے روزِ انعام ہے ۔

عیدالفطر نام تو ہے میٹھی میٹھی سویوں کا مگر عید الفطر کے پر مسرت موقع پر بھی لوگ زیا دہ تر گوشت کی بنی ہوئی مختلف ڈشز سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں ۔ عید کے دن مہمانوں کی خاطر مدارات ہمارے معاشرتی روایات کا ایک اہم حصہ تصور کئے جاتے ہیں ۔ مگر یہ خاطر مدارت اور دعوتیں اس وقت مشکل میں مبتلا کر دیتی ہیں جب لوگ کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہوتے اپنی صحت کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اور سارا سال کھانوں میں کی جانے والی احتیاط اور پرہیز کو ایک طرف رکھ کر ہر قسم کے کھانوں سے فیض یاب ہوتے نظر آتے ہیں ۔

عید پر نت نئے کھانوں سے لطف اندوز ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے مگر تیس دن روزے رکھنے کے بعد اچانک بہت زیادہ کھانا پینا جسمانی نظام کے لئے بہت مشکل ثابت ہوتا ہے جس سے معدے اور پیٹ کے افعال متا ثر ہو سکتے ہیں اور ا نسان خود کو نڈھال اور موٹاپے کا شکار بنا دیتاہے ۔

عید کے تینوں دن عا م دنوں کے مقابلے میں زیا د ہ کیلو ریز استعما ل کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے اس مبارک اور خوشی کے دن زیادہ تر افراد کا پیٹ خراب ہی رہتا ہے جس کا علاج بھی وہ کچھ نہ کچھ کھاکر ہی کرتے ہیں ۔ معدے میں جلن اور تیز ابیت ، دل میں جلن ، خوراک کا ہضم نہ ہونا اور پیٹ میں درد اور دست وغیرہ سب ہی ضرورت سے زیادہ مصالحے دار اور تیل والے کھانے کی وجہ سے ہو تے ہیں ۔ماہرین کے مطابق زیادہ مصالحہ دار، زیادہ مرچ مسالوں والے کھا نے اور پیزا ، چپس اور زیادہ نمکیات اور مرچوں والے کھا نے ذہنی تنائو اور السر کا باعث بنتے ہیں ۔یہ خون کے دبائو ، جگر کی کارکردگی اور خون کے خلیوں اور ان کی گردش پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں ذہنی تنائو اور ہائپر ٹینشن کی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں ۔ماہرین کے مطابق ایسے مواقع میں شوگر کے مریضوں کو زیا دہ احتیا ط کی ضرورت ہوتی ہے۔کیونکہ زیادہ میٹھی اور چکنا ئی والی چیزیں کھانے سے شوگر کی سطح بلند ہو نے کاخطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دل، بلڈ پریشر اور معدے کے امراض میں بھی مبتلا مر یضوں کو احتیا ط بر تنی چا ہیے۔

گوشت کا بہت زیادہ اور مسلسل استعمال کولیسٹرول ، یورک ایسڈ ، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق ایک شخص کو ایک دن میں تقریباََ 70 گرام سے زیادہ گوشت نہیں استعمال کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے مختلف پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں ۔ مگر ہمارے معاشرے میں گوشت کے روزانہ استعمال کو امارت کی نشانی اور فخریہ طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں تو گوشت کے بغیر کوئی کھانا ہی نہیں کھاتا اور پھر کسی تقریب یا تہوار وغیرہ پر تو گوشت کا استعمال لازم و ملزوم بن جاتا ہے ۔ عید کے زمانے میں ہر طرف گوشت کے ہی پکوان نظر آتے ہیں اور لوگ جس میں بچے ، جوان اور بوڑھے (جو زیادہ خطرے کے نزدیک ہوتے ہیں ) صرف گوشت کے پکوان سے ہی انصاف کرتے ہوئے اپنے ساتھ کھلم کھلا نا انصافی کے مرتکب ہورہے ہوتے ہیں اور پھر تہوار کے فوراََ بعد ان کی بہت زیادہ تعداد ہسپتالوں اور ڈاکٹرز کا رخ کرتے نظر آتے ہیں اور پھرا سہال ، دست، قے اور پیٹ کے درد کا شکار ہو کر اپنی صحت کی دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں ۔ گوشت کے زیادہ استعمال سے بدہضمی ، ا سہال ، قے وغیرہ کی شکایات عام ہیں ۔جس سے حتٰی الامکان بچنے کے لئے ہمیں ایک معتدل انداز میں گوشت کو اپنی خوراک کا جزو بنانا چاہیئے۔

اکثر افراد زیادہ کھانے کے بعد غنودگی سی محسوس کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ طبی تحقیق کے مطابق کھانے کے بعد سونا بے حد خطرناک ہوتا ہے کیونکہ دل کے دورے سے پہلے جو وارننگ سائن ملتے ہیں ان کا نیند کی وجہ سے پتہ نہیں چلتاہے جس کے نتیجے میں انسان دل کے دورے سے بچنے کی دوا ئیاں لینے سے محروم رہتا ہے ۔

یہ بات ہمیشہ دھیان میں رکھنی چاہیئے کہ ہمیں کھانے کے لئے زندہ نہیں رہنا چاہیئے بلکہ زندہ رہنے کے لئے کھانا کھانا چاہیئے۔ مرغن اور مصالحہ دار غذائیں معدے پر بوجھ ڈالتی ہیں اور یہ صورتحال گرمیوں کے موسم میں اور بھی گمھبیر ہو جاتی ہے ۔ گرمیوں کے موسم میں عیدکے روایتی پکوانوں قورمہ ، بریانی ، کڑاہی وغیرہ میں مصالحوں اور تیل کی مقدار کم رکھنی چاہیئے۔ اور ان مختلف بھاری کھانوں کے ساتھ ساتھ پانی کا استعمال بھی وافر مقدار میں رکھنا چاہیئے ۔ تہوار کے موقع پرگوشت کا زیادہ استعمال ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ گوشت میں موجود پروٹین کی زیادہ مقدار سے ہائی بلڈ پریشر ہو جاتا ہے اور اس کے علاوہ گوشت میں چربی اور کولیسٹرول کی بڑی مقدار دل کی مختلف بیماریوں ختٰی کہ دل کے دورے کا سبب بھی بن سکتی ہے ۔کیونکہ یہ چربی دل کی شریانوں میں جمع ہو کر ان کو بلاک کر دیتی ہیں اور پھر مریض دل کی مختلف بیمار یو ں سمیت دل کے ڈاکٹر کا رخ کرتے ہیں ۔ اسی طرح جن لوگوں کو یرقان اور ہیپاٹائیٹس کا مرض لاحق ہوتا ہے انہیں بھی گوشت کا زیادہ استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیئے کیونکہ گوشت کے زیادہ استعمال سے جگر پر دبائو پڑنے کی وجہ سے مریض کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے ۔دمے یا سانس کے مریضوں کو بھی سرخ گوشت کے کم استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

عید کے مو قع پر بہت سے گھرانوں میں باربی کیو کا خاص اہتما م کیا جاتا ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق باربی کیوگوشت جو کہ کوئلے کے دھوئیں سے بنا یا جاتا ہے وہ دھواں اس گوشت کو زہریلابنا دیتا ہے جس سے معدے کی تیزا بیت ا ور جلن کی شکایت ہو سکتی ہے اور جلے ہوئے گوشت سے نظام انہضام بھی متاثر ہوسکتا ہے ۔

پھلوں اور سبزیوں کے مقابلے میں گوشت دیر سے ہضم ہوتا ہے اور زیادہ گوشت کھانے سے معدے پر گرانی بھی بڑھ جاتی ہے ۔لہذا عید کے موقع پر بھی گوشت کے ایک مناسب استعمال کے ساتھ ساتھ سبزیوں اور سلاد کا استعمال بھی مناسب اور زیادہ مقدار میں کر نا چا ہیے ۔ اور جانوروں کی چربی والا تیل جو کہ بے حد مضر صحت ہے ،کے بجائے سبزیوں کا تیل استعمال کرنا چاہیئے کیونکہ جانوروں کی چربی والے تیل میں سیر شدہ چکنائیاں اور ٹر انس فیٹس کی زائد مقدارہوتی ہے جبکہ اس کے برخلاف جو لوگ Polyum Saturated Acids استعمال کرتے ہیں ان کی صحت پر مضر اثرات کا خطرہ کم ہوتا ہے ۔یہ چکنائیاں مچھلی ، سبزیوں اور سبزی جاتی تیلوں میں پائی جاتی ہیں ۔

عید کے موسم میں چونکہ روڈ پر ٹریفک جام ہونے کی شکایت عام ہوتی ہے تو اس صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لئے اور طبیعت کی خرابی سے محفوظ رہنے کے لئے پانی کی بوتل ضرور ساتھ رکھیں ۔کھانوں کے ساتھ کولڈرنک پینے سے گریز کرنا چاہیئے ۔ کیونکہ یہ ہماری صحت کے لئے بے حد نقصان دہ ہوتے ہیں اور کینسر ، ہڈیوں کے بھربھر ے پن کی بیماری، جگر کی خرابی اور معدے میں ہو ا بھرنے کے ساتھ ساتھ بچوں میں پیٹ کے مختلف امراض کا بھی باعث بنتے ہیں ۔کو لڈ ڈرنکس کے بجائے سادہ یا ٹھنڈا پانی پیئں۔ کیونکہ روزوں کے دوران ہمارے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے اور پانی چونکہ ہمارے جسم سے براستہ پیشاب، پسینہ اور سانس لینے کے عمل سے بھی مسلسل خارج ہو رہا ہوتا ہے تو ہمیں اس کی مقدار کو جسم میں برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔کیو نکہ پانی کا زیادہ استعمال ایک صحت مندجسم اور زندگی کے لئے بے حد ضروری ہے ۔ جبکہ پانی کے زیادہ استعمال سے وزن کی کمی میں بھی معاونت ہوتی ہے ۔ پانی کی کتنی مقدار ہمارے جسم کے لئے ضروری ہے اس کا انحصار ہمیں ہماری جسمانی سرگرمیوں اور ہمارے وزن پر ہوتا ہے ۔ عمومی طور پر روزانہ 8-10 گلاس پانی لازمی پینا چاہیئے ۔

کھانا کھانے کے فوراََ بعد سونا نہیں چاہیئے کیونکہ اس طرح کھانا ٹھیک سے ہضم نہیں ہوپاتا ہے اور جس کے باعث معدے کی مختلف بیماریاں اور انفیکشن ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح کھانا کھانے کے بعد اور دن کے آخر میں سونے سے قبل کھلی ہوا میںچند منٹ کی چہل قدمی نہایت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے اور ہمارے جسمانی نظام کو معمول کے مطابق رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے ۔ چہل قدمی ہمارے معدے اور دیگر جسمانی حصوں کو ٹھیک اور باقاعدہ کام کرنے میں مدد کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تہوار پر بھی کھانا کھانے کا ایک ٹائم مقرر کرلینا چاہیئے ۔ کیونکہ وقت بے وقت کھانا کھانے سے نظام ہضم بگڑ سکتا ہے اور ہم بیمار پڑسکتے ہیں لہذا دو کھانوں کے درمیان چھ گھنٹوں کا وقفہ ہونا چاہیئے۔

اس کے علاوہ عید کی ڈشز میں پھلوں سے بنی ہوئی مختلف میٹھی ڈشز بنائی جاسکتی ہیں جن میں مصنوعی چینی کا استعما ل کم ہوتاہے۔امریکہ کی یونیورسٹی کیلیفورنیا میں ایک تحقیق کے مطابق زیادہ چربی اور مٹھاس والی غذائیں جگر اور معدے کی مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔

کھا نے کے ساتھ ایسی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال ضرور کریں جس میں پانی کی مقدار زیادہ ہو جیسے تربوز، کھیرا ، سلاد یہ سب پانی کی کمی سے روکنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں ۔ سلاد کے پتے پانی سے بھر ے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کے مسلسل استعمال سے دل کی بیماریوں اور اعصابی تھکن سے بچائو حاصل کر سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ پھلوں اور سبزیوں میںموجود پانی اور فائبر پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ پیٹ بھرنے کا احساس بھی دلاتے ہیں ۔ اور پھلوں میںموجود مٹھاس ہمارے جسم میںمصنوعی مٹھاس یا چینی کے لئے موجود طلب کو اطمینان بخشتے ہیں ۔

لہذا عید سعید کے پر مسرت موقع پر کھا نے پینے میں اعتدال سے کام لیتے ہوئے میٹھے اور گوشت کے ساتھ ساتھ سبزیوں اور پھلوں کا بھی زیادہ سے زیادہ استعما ل کر تے ہوئے حتی الامکان باہر کے اور زیادہ مرچ مسالوں والے کھا نوں سے گریز کرنا چاہیے تاکہ ہم مختلف قسم کی بیماریوں سے محفو ظ رہتے ہو ئے اچھے طریقے سے عید کی خوشیوں اور رنگینیوں سے اپنے عزیزو اقارب اور دوستوں کے ساتھ لطف اندوز ہو سکیں۔


متعلقہ خبریں


بھارت کی پاکستان،چین کو گیدڑ بھبکیاں وجود - منگل 27 اکتوبر 2020

بھارت نیو انڈیا کے بیانیے کی آڑ میں پاکستان اور چین کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی دھمکیوں پر اتر آیا ہے۔ چین سے مار کھانے والے بھارتی حکمران بڑی بڑھکیں مارنے لگے، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کہتے ہیں کہ جنگ اس ملک لے کر جا سکتے ہیں جہاں سے خطرہ سر اٹھا رہا ہو گا ، انہوں نے جارحیت کی دھمکیوں کو بھارت کے نئے بیانئے سے جوڑ دیا۔ بھارتی مشیر قومی سلامتی اجیت دوول نے نئی ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ اپنی زمین کے ساتھ ساتھ غیرملکی زمین پر بھی جاکر لڑیں گے، چین سے حالیہ ہزیمت اٹھا...

بھارت کی پاکستان،چین کو گیدڑ بھبکیاں

سڈنی میں شدت پسند شخص کا مسجد پر حملہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2020

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں نامعلوم شخص نے ترک مسجد پرحملہ کر کے مسجد کی ایک لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کی املاک کو نقصان پہنچایا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نامعلوم شخص نے مسجد کے اندر داخل ہو کر اسکی کھڑکیاں اور فانوس توڑ دیئے، پولیس نے حملہ کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا جسے عدالت میں پیش کیاجائیگا۔آسٹریلوی میڈیا کے مطابق ایک شخص اوبرن گیلی پولی مسجد میں داخل ہوا اور فائرہائیڈرنٹ اور ویکیوم کلینر کے ذریعے مسجد کی املاک کو نقصان پہنچایا۔مسجد ترجمان کا کہنا تھا کہ مسجد میں اس وق...

سڈنی میں شدت پسند شخص کا مسجد پر حملہ

کورونا کیلئے جمع عطیات میں سے عوام پر ایک پیسہ بھی خرچ نہ ہونے کا انکشاف وجود - منگل 27 اکتوبر 2020

کورونا وائرس کے انسداد کے لیے اندرون اور بیرون ملک سے جمع ہونے والے 4.84 ارب کے عطیات میں سے عوام پر ایک پیسہ بھی خرچ نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔اس حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں تفصیلات پیش کی گئیں جس میں حکومت نے اعتراف کیا کہ کورونا وائرس کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 4ارب 84 کروڑ 24 لاکھ 26 ہزار 121 روپے کی عطیات جمع ہوئے۔ جس میں سے بیرون ملک سے 1 ارب 6 کروڑ 34 لاکھ 8 ہزار 414 روپے اور اندرون ملک سے 3 ارب 78 کروڑ20 لاکھ 77 ہزار 707 روپے کے عطیات موصول ہوئے۔ارک...

کورونا کیلئے جمع عطیات میں سے عوام پر ایک پیسہ بھی خرچ نہ ہونے کا انکشاف

مسلمانوں کی بائیکاٹ مہم سے فرانسیسی صدر پریشان وجود - منگل 27 اکتوبر 2020

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے گھٹنے ٹیک دئیے،فرانس نے خلیجی ممالک سے بائیکاٹ ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی حکومت کے اسلام مخالف رویئے پر مشرق وسطی کے کئی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کی بائیکاٹ کی مہم چلائی جارہی ہے۔سوشل میڈیا پر بائیکاٹ فرنچ پروڈکٹس اوربائیکاٹ فرانس کے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پر فرانسیسی اشیا کے بائیکاٹ کی مہم کے بعد کویت کی مارکیٹوں سے فرانسیسی مصنوعات ...

مسلمانوں کی بائیکاٹ مہم سے فرانسیسی صدر پریشان

سندھ میں پھر فصلوں پر ٹڈی دل کے حملے کا خدشہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2020

سندھ میں پھر فصلوں پر ٹڈی دل کے حملے کا خدشہ پیدا ہوگیاہے اور محکمہ زراعت نے ٹڈی دل کے حملے کا نیا الرٹ جاری کردیاہے۔بتایا جاتا ہے کہ زیریں سندھ,بلوچستان کیساحلی علاقوں میں ٹڈی دل دوبارہ حملہ آور ہوسکتی ہے ۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے ٹڈی دل کے حملے کے پیش نظرہنگامی سروے اور اسپرے کی تجویز دی ہے ۔آئندہ چند روز میں بھارتی گجرات اور راجھستان سے آنیوالی ہواوں کیساتھ ٹڈی دل حملہ آور ہونے کا خدشہ ہے ۔سندھ کے جنوبی علاقوں میں بھی ٹڈی دل کے اثرات ...

سندھ میں پھر فصلوں پر ٹڈی دل کے حملے کا خدشہ

122سالہ اپنی مشترکہ سرزمین پرپاسپورٹ اور ویزے لیکر آنا جانا قبول نہیں، محمود خان اچکزئی وجود - پیر 26 اکتوبر 2020

پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ 122سالہ اپنی مشترکہ سرزمین پرپاسپورٹ اور ویزے لیکر آنا جانا قبول نہیں اگر مجبور کیا گیا تو بارڈر کے دونوں طرف کے پشتون باڑ کو اکھاڑ دیں گے ہم کمزورہیں لیکن بے غیرت نہیں کہ آپ کے ڈھول پراتن کریں اگر ہمارا ڈھول بجا تو پوری دنیا کے کان پھٹ جائیں گے ،پی ڈی ایم سے گلہ کیا جاتا ہے کہ ہم غدار ہیں لیکن آج تک نہ ہمارے اکابرین اور نہ ہی کسی کارکن نے پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگایا پاکستان کانظریہ پشتون ،بلوچ ،سندھی کا مقرو...

122سالہ اپنی مشترکہ سرزمین پرپاسپورٹ اور ویزے لیکر آنا جانا قبول نہیں، محمود خان اچکزئی

کوئٹہ ،موٹرسائیکل بم دھماکے میں 3افراد شہید،ایک زخمی وجود - پیر 26 اکتوبر 2020

کوئٹہ میں موٹرسائیکل بم دھماکے میں 3افراد شہیدجبکہ ایک زخمی ہوگیادھماکے سے متعددگاڑیوںاوردکانوں کو نقصان پہنچا۔تفصیلات کے مطابق اتوا ر کو کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں نامعلوم افراد نے موٹرسائیکل میں بم نصب کرکے موٹرسائیکل سڑک کنارے کھڑی کر رکھی تھی بم زوردار دھماکے سے پھٹنے کے نتیجے میں 3افراد شاہ نواز ولد امیر بخش،خیر اللہ ولد جمال خان،حاجی آزاد خان ولد مہراب خان جاں بحق جبکہ حاجی شاہ ولد امام شاہ زخمی ہوگیانعشوں اورزخمی کو فوری طور پرسول ہسپتال پہنچادیا گیا جہاں نعشیں ضروری...

کوئٹہ ،موٹرسائیکل بم دھماکے میں 3افراد شہید،ایک زخمی

نیپرا نے بحریہ ٹاؤن کو بجلی کی ترسیل کا لائسنس منسوخ کردیا وجود - پیر 26 اکتوبر 2020

نیشنل الیکٹرک پاور اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بحریہ ٹاؤن پرائیوٹ لمیٹڈ کو بجلی کی ترسیل (ڈسٹری بیوشن) کا لائسنس منسوخ کردیا۔نیپرا کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق بحریہ ٹاؤن کو بجلی کی ترسیل کا لائسنس اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایت پر منسوخ کیا گیا۔علاوہ ازیں نوٹی فکیشن میں فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق بحریہ ٹاؤن کو 24 اکتوبر 2010 کو بجلی کی ترسیل کا لائسنس جاری کیا گیا تھا۔نجی ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں 2012 میں پٹیشن دائر کی گئی۔نوٹی فکیشن ...

نیپرا نے بحریہ ٹاؤن کو بجلی کی ترسیل کا لائسنس منسوخ کردیا

بلوچستان کے غاصبوں کیلئے طنزیہ اور سوالیہ جملے کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیاگیا، اویس نورانی وجود - پیر 26 اکتوبر 2020

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم) کے رہنما اویس نورانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے غاصبوں کے لیے ان کے طنزیہ اور سوالیہ جملے کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیاگیا۔اپنے ایک وضاحتی بیان میں پی ڈی ایم رہنما اور سیکرٹری جنرل جمعیت علمائے پاکستان اویس نورانی نے کہا کہ بلوچستان سے متعلق طنزیہ اور سوالیہ جملے کو میرے مطالبے کے طورپرپھیلایا جارہاہے ۔اویس نورانی نے کہاکہ بلوچستان پاکستان کا لازم جْز ہے ، کسی کا باپ بھی اسے پاکستان سے الگ نہیں کرسکتا۔

بلوچستان کے غاصبوں کیلئے طنزیہ اور سوالیہ جملے کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیاگیا، اویس نورانی

بھارت ، مرنے والے بھکاری کی جھونپڑی سے رقم برآمد،گننے میں آٹھ گھنٹے لگ گئے وجود - پیر 26 اکتوبر 2020

ممبئی کے ایک ریلوے اسٹیشن پر دو روز قبل ٹرین کی ٹکر سے ہلاک ہونے والے بھکاری کی موت کے بعد پولیس کو اس بھکاری برآمد کی گئی کی جھونپڑی سے ملنے والے بوری اور بیگ میں سکے اور نوٹوں پر مشتمل 2 لاکھ مالیت کی رقم موجود تھی جس کی گنتی کے لیے پولیس کو آٹھ گھنٹے کا وقت لگا۔بھارتی ٹی وی کے مطابق دو روز قبل ممبئی کے گووندی ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کی ٹکر سے ایک فقیر ہلاک ہوگیا تھا، جب ریلوے پولیس مرنے والے فقیر کے لواحقین کی تلاش میں اس کی جھونپڑی تک پہنچی تو اندر کا ماحول دیکھ کر پولیس کے ...

بھارت ، مرنے والے بھکاری کی جھونپڑی سے رقم برآمد،گننے میں آٹھ گھنٹے لگ گئے

جیسنڈا آرڈرن کی جیت ،اسلاموفوبیا کی شکست ہے؟ وجود - پیر 26 اکتوبر 2020

شاید ہی اس دنیا میں بسنے والے کوئی مسلمان ایسا ہوگا جو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈاآرڈرن سے واقفیت نہ رکھتا ہو ۔ بلکہ ہمارا تو گمان ہے کہ اگر کسی مسلمان کو جیسنڈاآرڈرن کا نام بھی معلوم نہیں ہوگا تو وہ بھی یقینا جیسنڈاآرڈرن کی تصویر دیکھ کر ضرور پہچان لے گا کہ یہ ہی وہ نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم ہے۔ جس نے ایک غیر مسلم ملک کی غیر مسلم وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں کے خلاف روا رکھے جانے والے امتیازی رویے ’’اسلامو فوبیا ‘‘ کے خلاف بھرپور انداز میں نہ صرف دنیا بھر میں آوا...

جیسنڈا آرڈرن کی جیت ،اسلاموفوبیا کی شکست ہے؟

بابری مسجد،سی بی آئی اور لبراہن کمیشن وجود - پیر 26 اکتوبر 2020

سی بی آئی نے بابری مسجد انہدام کے تمام ملزمان کو بری کئے جانے کے خلاف ابھی تک اونچی عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا ہے۔ گذشتہ 30 ستمبر کو خصوصی عدالت نے ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر ملزمان کو سزا دینے اور اس معاملے میں سازش کی تھیوری کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ہم آپ کو یاد دلادیں کہ بابری مسجد انہدام کے دس روز بعد اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہاراو نے جسٹس منموہن سنگھ لبراہن کی قیادت میں جو کمیشن تشکیل دیا تھا اس نے اپنی ایک ہزار صفحات سے زیادہ کی رپورٹ میں بابری مسجد انہدام ...

بابری مسجد،سی بی آئی اور لبراہن کمیشن