وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

عید اور کھانے میں احتیاط

منگل 12 جون 2018 عید اور کھانے میں احتیاط

رمضان المبارک کے بعد جب میٹھی میٹھی عید آتی ہے تو ہر طرف کھلکھلاتے چہروں اور چمکتی مسکراہٹوں کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کا بھی اک جوش اُمڈ آتا ہے ۔اور ہو بھی کیوں نہیں۔ یوم عید اللہ تعالیٰ کا تحفہ جو ہے جو پورے مہینے ماہ رمضان کے روزے رکھنے والوں کے لئے اللہ کی طرف سے روزِ انعام ہے ۔

عیدالفطر نام تو ہے میٹھی میٹھی سویوں کا مگر عید الفطر کے پر مسرت موقع پر بھی لوگ زیا دہ تر گوشت کی بنی ہوئی مختلف ڈشز سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں ۔ عید کے دن مہمانوں کی خاطر مدارات ہمارے معاشرتی روایات کا ایک اہم حصہ تصور کئے جاتے ہیں ۔ مگر یہ خاطر مدارت اور دعوتیں اس وقت مشکل میں مبتلا کر دیتی ہیں جب لوگ کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہوتے اپنی صحت کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اور سارا سال کھانوں میں کی جانے والی احتیاط اور پرہیز کو ایک طرف رکھ کر ہر قسم کے کھانوں سے فیض یاب ہوتے نظر آتے ہیں ۔

عید پر نت نئے کھانوں سے لطف اندوز ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے مگر تیس دن روزے رکھنے کے بعد اچانک بہت زیادہ کھانا پینا جسمانی نظام کے لئے بہت مشکل ثابت ہوتا ہے جس سے معدے اور پیٹ کے افعال متا ثر ہو سکتے ہیں اور ا نسان خود کو نڈھال اور موٹاپے کا شکار بنا دیتاہے ۔

عید کے تینوں دن عا م دنوں کے مقابلے میں زیا د ہ کیلو ریز استعما ل کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے اس مبارک اور خوشی کے دن زیادہ تر افراد کا پیٹ خراب ہی رہتا ہے جس کا علاج بھی وہ کچھ نہ کچھ کھاکر ہی کرتے ہیں ۔ معدے میں جلن اور تیز ابیت ، دل میں جلن ، خوراک کا ہضم نہ ہونا اور پیٹ میں درد اور دست وغیرہ سب ہی ضرورت سے زیادہ مصالحے دار اور تیل والے کھانے کی وجہ سے ہو تے ہیں ۔ماہرین کے مطابق زیادہ مصالحہ دار، زیادہ مرچ مسالوں والے کھا نے اور پیزا ، چپس اور زیادہ نمکیات اور مرچوں والے کھا نے ذہنی تنائو اور السر کا باعث بنتے ہیں ۔یہ خون کے دبائو ، جگر کی کارکردگی اور خون کے خلیوں اور ان کی گردش پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں ذہنی تنائو اور ہائپر ٹینشن کی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں ۔ماہرین کے مطابق ایسے مواقع میں شوگر کے مریضوں کو زیا دہ احتیا ط کی ضرورت ہوتی ہے۔کیونکہ زیادہ میٹھی اور چکنا ئی والی چیزیں کھانے سے شوگر کی سطح بلند ہو نے کاخطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دل، بلڈ پریشر اور معدے کے امراض میں بھی مبتلا مر یضوں کو احتیا ط بر تنی چا ہیے۔

گوشت کا بہت زیادہ اور مسلسل استعمال کولیسٹرول ، یورک ایسڈ ، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق ایک شخص کو ایک دن میں تقریباََ 70 گرام سے زیادہ گوشت نہیں استعمال کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے مختلف پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں ۔ مگر ہمارے معاشرے میں گوشت کے روزانہ استعمال کو امارت کی نشانی اور فخریہ طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں تو گوشت کے بغیر کوئی کھانا ہی نہیں کھاتا اور پھر کسی تقریب یا تہوار وغیرہ پر تو گوشت کا استعمال لازم و ملزوم بن جاتا ہے ۔ عید کے زمانے میں ہر طرف گوشت کے ہی پکوان نظر آتے ہیں اور لوگ جس میں بچے ، جوان اور بوڑھے (جو زیادہ خطرے کے نزدیک ہوتے ہیں ) صرف گوشت کے پکوان سے ہی انصاف کرتے ہوئے اپنے ساتھ کھلم کھلا نا انصافی کے مرتکب ہورہے ہوتے ہیں اور پھر تہوار کے فوراََ بعد ان کی بہت زیادہ تعداد ہسپتالوں اور ڈاکٹرز کا رخ کرتے نظر آتے ہیں اور پھرا سہال ، دست، قے اور پیٹ کے درد کا شکار ہو کر اپنی صحت کی دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں ۔ گوشت کے زیادہ استعمال سے بدہضمی ، ا سہال ، قے وغیرہ کی شکایات عام ہیں ۔جس سے حتٰی الامکان بچنے کے لئے ہمیں ایک معتدل انداز میں گوشت کو اپنی خوراک کا جزو بنانا چاہیئے۔

اکثر افراد زیادہ کھانے کے بعد غنودگی سی محسوس کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ طبی تحقیق کے مطابق کھانے کے بعد سونا بے حد خطرناک ہوتا ہے کیونکہ دل کے دورے سے پہلے جو وارننگ سائن ملتے ہیں ان کا نیند کی وجہ سے پتہ نہیں چلتاہے جس کے نتیجے میں انسان دل کے دورے سے بچنے کی دوا ئیاں لینے سے محروم رہتا ہے ۔

یہ بات ہمیشہ دھیان میں رکھنی چاہیئے کہ ہمیں کھانے کے لئے زندہ نہیں رہنا چاہیئے بلکہ زندہ رہنے کے لئے کھانا کھانا چاہیئے۔ مرغن اور مصالحہ دار غذائیں معدے پر بوجھ ڈالتی ہیں اور یہ صورتحال گرمیوں کے موسم میں اور بھی گمھبیر ہو جاتی ہے ۔ گرمیوں کے موسم میں عیدکے روایتی پکوانوں قورمہ ، بریانی ، کڑاہی وغیرہ میں مصالحوں اور تیل کی مقدار کم رکھنی چاہیئے۔ اور ان مختلف بھاری کھانوں کے ساتھ ساتھ پانی کا استعمال بھی وافر مقدار میں رکھنا چاہیئے ۔ تہوار کے موقع پرگوشت کا زیادہ استعمال ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ گوشت میں موجود پروٹین کی زیادہ مقدار سے ہائی بلڈ پریشر ہو جاتا ہے اور اس کے علاوہ گوشت میں چربی اور کولیسٹرول کی بڑی مقدار دل کی مختلف بیماریوں ختٰی کہ دل کے دورے کا سبب بھی بن سکتی ہے ۔کیونکہ یہ چربی دل کی شریانوں میں جمع ہو کر ان کو بلاک کر دیتی ہیں اور پھر مریض دل کی مختلف بیمار یو ں سمیت دل کے ڈاکٹر کا رخ کرتے ہیں ۔ اسی طرح جن لوگوں کو یرقان اور ہیپاٹائیٹس کا مرض لاحق ہوتا ہے انہیں بھی گوشت کا زیادہ استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیئے کیونکہ گوشت کے زیادہ استعمال سے جگر پر دبائو پڑنے کی وجہ سے مریض کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے ۔دمے یا سانس کے مریضوں کو بھی سرخ گوشت کے کم استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

عید کے مو قع پر بہت سے گھرانوں میں باربی کیو کا خاص اہتما م کیا جاتا ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق باربی کیوگوشت جو کہ کوئلے کے دھوئیں سے بنا یا جاتا ہے وہ دھواں اس گوشت کو زہریلابنا دیتا ہے جس سے معدے کی تیزا بیت ا ور جلن کی شکایت ہو سکتی ہے اور جلے ہوئے گوشت سے نظام انہضام بھی متاثر ہوسکتا ہے ۔

پھلوں اور سبزیوں کے مقابلے میں گوشت دیر سے ہضم ہوتا ہے اور زیادہ گوشت کھانے سے معدے پر گرانی بھی بڑھ جاتی ہے ۔لہذا عید کے موقع پر بھی گوشت کے ایک مناسب استعمال کے ساتھ ساتھ سبزیوں اور سلاد کا استعمال بھی مناسب اور زیادہ مقدار میں کر نا چا ہیے ۔ اور جانوروں کی چربی والا تیل جو کہ بے حد مضر صحت ہے ،کے بجائے سبزیوں کا تیل استعمال کرنا چاہیئے کیونکہ جانوروں کی چربی والے تیل میں سیر شدہ چکنائیاں اور ٹر انس فیٹس کی زائد مقدارہوتی ہے جبکہ اس کے برخلاف جو لوگ Polyum Saturated Acids استعمال کرتے ہیں ان کی صحت پر مضر اثرات کا خطرہ کم ہوتا ہے ۔یہ چکنائیاں مچھلی ، سبزیوں اور سبزی جاتی تیلوں میں پائی جاتی ہیں ۔

عید کے موسم میں چونکہ روڈ پر ٹریفک جام ہونے کی شکایت عام ہوتی ہے تو اس صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لئے اور طبیعت کی خرابی سے محفوظ رہنے کے لئے پانی کی بوتل ضرور ساتھ رکھیں ۔کھانوں کے ساتھ کولڈرنک پینے سے گریز کرنا چاہیئے ۔ کیونکہ یہ ہماری صحت کے لئے بے حد نقصان دہ ہوتے ہیں اور کینسر ، ہڈیوں کے بھربھر ے پن کی بیماری، جگر کی خرابی اور معدے میں ہو ا بھرنے کے ساتھ ساتھ بچوں میں پیٹ کے مختلف امراض کا بھی باعث بنتے ہیں ۔کو لڈ ڈرنکس کے بجائے سادہ یا ٹھنڈا پانی پیئں۔ کیونکہ روزوں کے دوران ہمارے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے اور پانی چونکہ ہمارے جسم سے براستہ پیشاب، پسینہ اور سانس لینے کے عمل سے بھی مسلسل خارج ہو رہا ہوتا ہے تو ہمیں اس کی مقدار کو جسم میں برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔کیو نکہ پانی کا زیادہ استعمال ایک صحت مندجسم اور زندگی کے لئے بے حد ضروری ہے ۔ جبکہ پانی کے زیادہ استعمال سے وزن کی کمی میں بھی معاونت ہوتی ہے ۔ پانی کی کتنی مقدار ہمارے جسم کے لئے ضروری ہے اس کا انحصار ہمیں ہماری جسمانی سرگرمیوں اور ہمارے وزن پر ہوتا ہے ۔ عمومی طور پر روزانہ 8-10 گلاس پانی لازمی پینا چاہیئے ۔

کھانا کھانے کے فوراََ بعد سونا نہیں چاہیئے کیونکہ اس طرح کھانا ٹھیک سے ہضم نہیں ہوپاتا ہے اور جس کے باعث معدے کی مختلف بیماریاں اور انفیکشن ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح کھانا کھانے کے بعد اور دن کے آخر میں سونے سے قبل کھلی ہوا میںچند منٹ کی چہل قدمی نہایت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے اور ہمارے جسمانی نظام کو معمول کے مطابق رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے ۔ چہل قدمی ہمارے معدے اور دیگر جسمانی حصوں کو ٹھیک اور باقاعدہ کام کرنے میں مدد کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تہوار پر بھی کھانا کھانے کا ایک ٹائم مقرر کرلینا چاہیئے ۔ کیونکہ وقت بے وقت کھانا کھانے سے نظام ہضم بگڑ سکتا ہے اور ہم بیمار پڑسکتے ہیں لہذا دو کھانوں کے درمیان چھ گھنٹوں کا وقفہ ہونا چاہیئے۔

اس کے علاوہ عید کی ڈشز میں پھلوں سے بنی ہوئی مختلف میٹھی ڈشز بنائی جاسکتی ہیں جن میں مصنوعی چینی کا استعما ل کم ہوتاہے۔امریکہ کی یونیورسٹی کیلیفورنیا میں ایک تحقیق کے مطابق زیادہ چربی اور مٹھاس والی غذائیں جگر اور معدے کی مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔

کھا نے کے ساتھ ایسی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال ضرور کریں جس میں پانی کی مقدار زیادہ ہو جیسے تربوز، کھیرا ، سلاد یہ سب پانی کی کمی سے روکنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں ۔ سلاد کے پتے پانی سے بھر ے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کے مسلسل استعمال سے دل کی بیماریوں اور اعصابی تھکن سے بچائو حاصل کر سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ پھلوں اور سبزیوں میںموجود پانی اور فائبر پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ پیٹ بھرنے کا احساس بھی دلاتے ہیں ۔ اور پھلوں میںموجود مٹھاس ہمارے جسم میںمصنوعی مٹھاس یا چینی کے لئے موجود طلب کو اطمینان بخشتے ہیں ۔

لہذا عید سعید کے پر مسرت موقع پر کھا نے پینے میں اعتدال سے کام لیتے ہوئے میٹھے اور گوشت کے ساتھ ساتھ سبزیوں اور پھلوں کا بھی زیادہ سے زیادہ استعما ل کر تے ہوئے حتی الامکان باہر کے اور زیادہ مرچ مسالوں والے کھا نوں سے گریز کرنا چاہیے تاکہ ہم مختلف قسم کی بیماریوں سے محفو ظ رہتے ہو ئے اچھے طریقے سے عید کی خوشیوں اور رنگینیوں سے اپنے عزیزو اقارب اور دوستوں کے ساتھ لطف اندوز ہو سکیں۔


متعلقہ خبریں


طالبان کا تاجکستان جانے والی مرکزی سرحدی گزرگاہ پر قبضہ وجود - بدھ 23 جون 2021

طالبان نے افغانستان کی تاجکستان کے ساتھ مرکزی سرحدی گزرگاہ پر قبضہ کرلیا اور حفاظت پر مامور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار وہاں سے سرحد پار کر کے فرار ہو گئے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق قندوز شہر سے 50 کلو میٹر کے فاصلے پر افغانستان کے شمال میں شیر خان بندر پر قبضہ امریکی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد سے طالبان کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔قندوز کی صوبائی کونسل کے رکن خالدین حکیمی نے بتایا کہ بدقسمتی سے صبح ڈیڑھ گھنٹہ لڑائی کے بعد طالبان نے شیر خان بندرگاہ اور تاجکستان کے ساتھ واقع قصبے ...

طالبان کا تاجکستان جانے والی مرکزی سرحدی گزرگاہ پر قبضہ

سندھ میں گرمی میں بھی گیس کا بحران ، صنعتوں کو گیس فراہمی بند وجود - بدھ 23 جون 2021

سندھ میں گرمی میں بھی گیس کا بحران ہے جس کے باعث صنعتوں کو گیس فراہمی بند کردی گئی ہے ۔ترجمان سوئی سدرن گیس کمپنی کے مطابق نان ایکسپورٹ صنعتوں کو گیس کی فراہمی آج سے غیر معینہ مدت کے لیے بند کردی گئی ہے ، جنرل انڈسٹریز کی کیپٹو پاور 50 فیصد بند کی گئی ہے ، کنڑ گیس فیلڈ میں مرمت کا کام جاری ہے ۔ دوسری جانب کراچی کے علاقے ڈیفنس میں 20 انچ گیس پائپ لائن پرترقیاتی کام جاری ہے جس سے ڈیفنس اور کلفٹن کے مختلف علاقوں میں رات 8 بجے سے اگلے 14 گھنٹے کیلیے گیس کی فراہمی متاثرہوسکتی ہے ۔...

سندھ میں گرمی میں بھی گیس کا بحران ، صنعتوں کو گیس فراہمی بند

وزیراعظم کے انٹرویو کا بھارت سے متعلق حصہ سنسر، امریکی ٹی وی سے وضاحت طلب وجود - بدھ 23 جون 2021

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو کو سنسر کرنے کا معاملہ سامنے آنے پر پاکستان نے امریکی ٹی وی سے وضاحت مانگ لی ۔حکومتی ذرائع کے مطابق امریکی ٹی وی چینل نے وزیراعظم عمران خان کا انٹرویو سنسر کیا، انٹرویو میں بھارتی ہندوتوا سوچ کے بارے میں وزیراعظم کے تاثرات سنسر کیے گئے ۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے وزیراعظم کا انٹرویو سنسر کرنے پر امریکی ٹی وی سے وضاحت مانگ لی۔حکومتی ذرائع کے مطابق امریکی ٹی وی نے وزیراعظم کا انٹرویو سنسر کرکے آزادی اظہ...

وزیراعظم کے انٹرویو کا بھارت سے متعلق حصہ سنسر، امریکی ٹی وی سے وضاحت طلب

طالبان کی کارروائیاں، پینٹاگون نے انخلا کی رفتار سست کرنیکا عندیہ دیدیا وجود - بدھ 23 جون 2021

پینٹاگون نے انتباہ کیا ہے کہ طالبان کی کارروائیوں اور انہیں حاصل ہونے والے فوائد کے باعث افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا عمل سست کیا جا سکتا ہے ۔ میڈیا سے گفتگو میں پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے دی جانے والی ڈیڈ لائن برقرار رہے گی لیکن انخلا کے عمل کو صورتحال کی مناسبت سے ایڈجسٹ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے مختلف اضلاع پر حملوں اور پر تشدد کارروائیوں کے بعد صورتحال تبدیل ہو رہی ہے ۔جان کربی نے کہا کہ...

طالبان کی کارروائیاں، پینٹاگون نے انخلا کی رفتار سست کرنیکا عندیہ دیدیا

سینیٹر محسن عزیر کا نام ا سمگلروں کی لسٹ میں موجود ہے ، قائمہ کمیٹی میں انکشاف وجود - بدھ 23 جون 2021

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں انکشاف ہواہے کہ سینیٹر محسن عزیر کا نام سمگلروں کی لسٹ میں موجود ہے کسٹم نے ان کے گودام سے سمگلنگ کا سامان برآمد کیا تھا۔ منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر طلحہ محمود کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔ذرائع کے مطابق کمیٹی میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے سینیٹر محسن عزیز کے کولڈ اسٹوریج/ گودام پر ریڈ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کسٹم کے 100 گن مین نے چھاپہ مارا، سامان ضبط کیا اور گودام کے مالک سینیٹر محسن عزیز کو سمگلر...

سینیٹر محسن عزیر کا نام ا سمگلروں کی لسٹ میں موجود ہے ، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

ٹرمپ کورونا میں مبتلا امریکی شہریوں کو گوانتاناموبے بھیجنا چاہتے تھے ، امریکی صحافیوں کا انکشاف وجود - بدھ 23 جون 2021

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ وہ کورونا میں مبتلا امریکی شہریوں کو گوانتاناموبے بھیجنا چاہتے تھے ۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دو صحافیوں کی جانب سے لکھی گئی کتاب میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق امریکی صدر کا خیال تھا کہ امریکا میں کورونا وائرس کا شکار ہونے والے شہریوں کو گوانتاناموبے کی جیل میں رکھا جائے ۔رپورٹ کے مطابق کتاب میں بتایا گیاہے کہ امریکا میں کورونا وائرس کی صورتحال خراب ہونے کے بعد ٹرمپ نے فروری 2020 میں ہونے والی ایک میٹنگ میں اپنے سٹ...

ٹرمپ کورونا میں مبتلا امریکی شہریوں کو گوانتاناموبے بھیجنا چاہتے تھے ، امریکی صحافیوں کا انکشاف

برطانوی وزیر برائے جنوبی ایشیا لارڈ احمد کی پاکستان آمد وجود - بدھ 23 جون 2021

برطانوی وزیرِ مملکت برائے جنوبی ایشیا اور کامن ویلتھ اور تنازعات میں جنسی تشدد کی روک تھام کے لیے برطانوی وزیرِ اعظم کے نمائندہ خصوصی لارڈ )طارق( احمد آف ومبلڈن اپنے دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ۔ ان کے دو شہروں پر محیط اس دورے سے برطانیہ اور پاکستان کے مابین دوستی کو مزید تقویت ملے گی۔اس دورے کے دوران لارڈ احمد کی وفاقی وزیرِ انسانی حقوق شیریں مزاری، وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی و دیگرسے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ان ملاقاتوں کے دوران لارڈ احمد موسمیاتی تغیر سمیت عالمی طور پر درپ...

برطانوی وزیر برائے جنوبی ایشیا لارڈ احمد کی پاکستان آمد

بلی آئلش نے نامناسب زبان کے استعمال پر ایشیائی افراد سے معافی مانگ لی وجود - بدھ 23 جون 2021

کم عمری میں ہی متعدد ریکارڈز اپنے نام کرنیوالی پاپ گلوکارہ 19سالہ بلی آئلش نے لاعلمی میں ایشیائی اور سیاہ فام افراد کے حوالے سے نامناسب زبان استعمال کرنے پر معافی مانگی لی۔میڈیا رپورٹکے مطابق بلی آئلش نے انسٹاگرام اسٹوری پر ایشیائی نژاد اور سیاہ فام افراد سے معافی مانگتے ہوئے دعوی کیا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے گانے کی ایک ویڈیو میں وہ جس زبان کا استعمال کر رہی ہیں، انہیں اس وقت مذکورہ زبان کے مفہوم کا علم نہیں تھا۔گلوکارہ نے اپنے معافی نامے میں لکھا کہ وائرل ہونے والی ...

بلی آئلش نے نامناسب زبان کے استعمال پر ایشیائی افراد سے معافی مانگ لی

اپوزیشن نے عثمان کاکڑ کے انتقال پر سوال اٹھا دیے ، تحقیقات کا مطالبہ وجود - منگل 22 جون 2021

سینیٹ میں اپوزیشن اراکین نے نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کے گھر میں زخمی ہونے کے بعد انتقال پر سوال اٹھاتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔پیر کو سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضٰی نے کہا کہ عثمان کاکڑ کا خاندان ان کے پوسٹ مارٹم کا مطالبہ کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کہا جا رہا ہے عثمان کاکڑ واش روم میں گرے تھے لیکن عثمان کاکڑ واش روم میں نہیں گرے بلکہ گھر میں جب وہ ...

اپوزیشن نے عثمان کاکڑ کے انتقال پر سوال اٹھا دیے ، تحقیقات کا مطالبہ

طالبان کا افغان حکومت کے خلاف عسکری دبا ئومیں مزید اضافہ ،چھ اضلاع پر قبضہ وجود - منگل 22 جون 2021

طالبان نے کابل حکومت کے خلاف عسکری دبا ئومیں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران انہوں نے مزید چھ اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے ۔ متعدد حکومتی اہلکاروں نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ۔ دوسری جانب طالبان جنگجو ملک کے شمال میں تخار اور فاریاب کی صوبائی دارالحکومتوں کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔ یکم مئی کو افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کا آغاز ہوا تھا اور اس کے بعد سے مجموعی طور پر طالبان اکتالیس اضلاع پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔ افغانستان کے ...

طالبان کا افغان حکومت کے خلاف عسکری دبا ئومیں مزید اضافہ ،چھ اضلاع پر قبضہ

اسرائیلی زندانوں میں 20 سال سے قید فلسطینیوں کی تعداد 78ہوگئی وجود - منگل 22 جون 2021

فلسطینی اسیران اسٹڈی سینٹر کی طرف سے گذشتہ روز جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی زندانوں میں 20 سال سے زاید عرصے سے قید فلسطینیوں کی تعداد 78 ہوگئی ہے ۔ااس گروپ میں مزید 3 فلسطینی قیدی شامل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کی تعداد اٹھہتر ہوگئی ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسیران اسٹڈی سینٹر کے ترجمان ریاض الاشقر نے بتایا کہ بیت لحم سے تعلق رکھنے والے اسماعیل دائود حسین ردایدہ، رام اللہ کے محمد ھاشم احمد نوارہ اور القدس کے یاسر محمد عبید ربایعہ عمد الاسری میں شامل ہوگئے ۔ خیال رہے...

اسرائیلی زندانوں میں 20 سال سے قید فلسطینیوں کی تعداد 78ہوگئی

بھارت تخریب کاری کیلئے افغان سرزمین استعمال کررہا ہے ، دفتر خارجہ وجود - منگل 22 جون 2021

پاکستان نے امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کرنے سے دوٹوک الفاظ میں انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں تخریب کاری کیلئے افغان سرزمین استعمال کررہا ہے امن کے حصول میں افغان فریقین کی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان نہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور ترکی نے خطے میں امن کیلئے باہمی مشاورت پر اتفاق کیا ہے ۔

بھارت تخریب کاری کیلئے افغان سرزمین استعمال کررہا ہے ، دفتر خارجہ