وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

عید اور کھانے میں احتیاط

منگل 12 جون 2018 عید اور کھانے میں احتیاط

رمضان المبارک کے بعد جب میٹھی میٹھی عید آتی ہے تو ہر طرف کھلکھلاتے چہروں اور چمکتی مسکراہٹوں کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کا بھی اک جوش اُمڈ آتا ہے ۔اور ہو بھی کیوں نہیں۔ یوم عید اللہ تعالیٰ کا تحفہ جو ہے جو پورے مہینے ماہ رمضان کے روزے رکھنے والوں کے لئے اللہ کی طرف سے روزِ انعام ہے ۔

عیدالفطر نام تو ہے میٹھی میٹھی سویوں کا مگر عید الفطر کے پر مسرت موقع پر بھی لوگ زیا دہ تر گوشت کی بنی ہوئی مختلف ڈشز سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں ۔ عید کے دن مہمانوں کی خاطر مدارات ہمارے معاشرتی روایات کا ایک اہم حصہ تصور کئے جاتے ہیں ۔ مگر یہ خاطر مدارت اور دعوتیں اس وقت مشکل میں مبتلا کر دیتی ہیں جب لوگ کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہوتے اپنی صحت کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اور سارا سال کھانوں میں کی جانے والی احتیاط اور پرہیز کو ایک طرف رکھ کر ہر قسم کے کھانوں سے فیض یاب ہوتے نظر آتے ہیں ۔

عید پر نت نئے کھانوں سے لطف اندوز ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے مگر تیس دن روزے رکھنے کے بعد اچانک بہت زیادہ کھانا پینا جسمانی نظام کے لئے بہت مشکل ثابت ہوتا ہے جس سے معدے اور پیٹ کے افعال متا ثر ہو سکتے ہیں اور ا نسان خود کو نڈھال اور موٹاپے کا شکار بنا دیتاہے ۔

عید کے تینوں دن عا م دنوں کے مقابلے میں زیا د ہ کیلو ریز استعما ل کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے اس مبارک اور خوشی کے دن زیادہ تر افراد کا پیٹ خراب ہی رہتا ہے جس کا علاج بھی وہ کچھ نہ کچھ کھاکر ہی کرتے ہیں ۔ معدے میں جلن اور تیز ابیت ، دل میں جلن ، خوراک کا ہضم نہ ہونا اور پیٹ میں درد اور دست وغیرہ سب ہی ضرورت سے زیادہ مصالحے دار اور تیل والے کھانے کی وجہ سے ہو تے ہیں ۔ماہرین کے مطابق زیادہ مصالحہ دار، زیادہ مرچ مسالوں والے کھا نے اور پیزا ، چپس اور زیادہ نمکیات اور مرچوں والے کھا نے ذہنی تنائو اور السر کا باعث بنتے ہیں ۔یہ خون کے دبائو ، جگر کی کارکردگی اور خون کے خلیوں اور ان کی گردش پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں ذہنی تنائو اور ہائپر ٹینشن کی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں ۔ماہرین کے مطابق ایسے مواقع میں شوگر کے مریضوں کو زیا دہ احتیا ط کی ضرورت ہوتی ہے۔کیونکہ زیادہ میٹھی اور چکنا ئی والی چیزیں کھانے سے شوگر کی سطح بلند ہو نے کاخطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دل، بلڈ پریشر اور معدے کے امراض میں بھی مبتلا مر یضوں کو احتیا ط بر تنی چا ہیے۔

گوشت کا بہت زیادہ اور مسلسل استعمال کولیسٹرول ، یورک ایسڈ ، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق ایک شخص کو ایک دن میں تقریباََ 70 گرام سے زیادہ گوشت نہیں استعمال کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے مختلف پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں ۔ مگر ہمارے معاشرے میں گوشت کے روزانہ استعمال کو امارت کی نشانی اور فخریہ طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں تو گوشت کے بغیر کوئی کھانا ہی نہیں کھاتا اور پھر کسی تقریب یا تہوار وغیرہ پر تو گوشت کا استعمال لازم و ملزوم بن جاتا ہے ۔ عید کے زمانے میں ہر طرف گوشت کے ہی پکوان نظر آتے ہیں اور لوگ جس میں بچے ، جوان اور بوڑھے (جو زیادہ خطرے کے نزدیک ہوتے ہیں ) صرف گوشت کے پکوان سے ہی انصاف کرتے ہوئے اپنے ساتھ کھلم کھلا نا انصافی کے مرتکب ہورہے ہوتے ہیں اور پھر تہوار کے فوراََ بعد ان کی بہت زیادہ تعداد ہسپتالوں اور ڈاکٹرز کا رخ کرتے نظر آتے ہیں اور پھرا سہال ، دست، قے اور پیٹ کے درد کا شکار ہو کر اپنی صحت کی دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں ۔ گوشت کے زیادہ استعمال سے بدہضمی ، ا سہال ، قے وغیرہ کی شکایات عام ہیں ۔جس سے حتٰی الامکان بچنے کے لئے ہمیں ایک معتدل انداز میں گوشت کو اپنی خوراک کا جزو بنانا چاہیئے۔

اکثر افراد زیادہ کھانے کے بعد غنودگی سی محسوس کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ طبی تحقیق کے مطابق کھانے کے بعد سونا بے حد خطرناک ہوتا ہے کیونکہ دل کے دورے سے پہلے جو وارننگ سائن ملتے ہیں ان کا نیند کی وجہ سے پتہ نہیں چلتاہے جس کے نتیجے میں انسان دل کے دورے سے بچنے کی دوا ئیاں لینے سے محروم رہتا ہے ۔

یہ بات ہمیشہ دھیان میں رکھنی چاہیئے کہ ہمیں کھانے کے لئے زندہ نہیں رہنا چاہیئے بلکہ زندہ رہنے کے لئے کھانا کھانا چاہیئے۔ مرغن اور مصالحہ دار غذائیں معدے پر بوجھ ڈالتی ہیں اور یہ صورتحال گرمیوں کے موسم میں اور بھی گمھبیر ہو جاتی ہے ۔ گرمیوں کے موسم میں عیدکے روایتی پکوانوں قورمہ ، بریانی ، کڑاہی وغیرہ میں مصالحوں اور تیل کی مقدار کم رکھنی چاہیئے۔ اور ان مختلف بھاری کھانوں کے ساتھ ساتھ پانی کا استعمال بھی وافر مقدار میں رکھنا چاہیئے ۔ تہوار کے موقع پرگوشت کا زیادہ استعمال ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ گوشت میں موجود پروٹین کی زیادہ مقدار سے ہائی بلڈ پریشر ہو جاتا ہے اور اس کے علاوہ گوشت میں چربی اور کولیسٹرول کی بڑی مقدار دل کی مختلف بیماریوں ختٰی کہ دل کے دورے کا سبب بھی بن سکتی ہے ۔کیونکہ یہ چربی دل کی شریانوں میں جمع ہو کر ان کو بلاک کر دیتی ہیں اور پھر مریض دل کی مختلف بیمار یو ں سمیت دل کے ڈاکٹر کا رخ کرتے ہیں ۔ اسی طرح جن لوگوں کو یرقان اور ہیپاٹائیٹس کا مرض لاحق ہوتا ہے انہیں بھی گوشت کا زیادہ استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیئے کیونکہ گوشت کے زیادہ استعمال سے جگر پر دبائو پڑنے کی وجہ سے مریض کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے ۔دمے یا سانس کے مریضوں کو بھی سرخ گوشت کے کم استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

عید کے مو قع پر بہت سے گھرانوں میں باربی کیو کا خاص اہتما م کیا جاتا ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق باربی کیوگوشت جو کہ کوئلے کے دھوئیں سے بنا یا جاتا ہے وہ دھواں اس گوشت کو زہریلابنا دیتا ہے جس سے معدے کی تیزا بیت ا ور جلن کی شکایت ہو سکتی ہے اور جلے ہوئے گوشت سے نظام انہضام بھی متاثر ہوسکتا ہے ۔

پھلوں اور سبزیوں کے مقابلے میں گوشت دیر سے ہضم ہوتا ہے اور زیادہ گوشت کھانے سے معدے پر گرانی بھی بڑھ جاتی ہے ۔لہذا عید کے موقع پر بھی گوشت کے ایک مناسب استعمال کے ساتھ ساتھ سبزیوں اور سلاد کا استعمال بھی مناسب اور زیادہ مقدار میں کر نا چا ہیے ۔ اور جانوروں کی چربی والا تیل جو کہ بے حد مضر صحت ہے ،کے بجائے سبزیوں کا تیل استعمال کرنا چاہیئے کیونکہ جانوروں کی چربی والے تیل میں سیر شدہ چکنائیاں اور ٹر انس فیٹس کی زائد مقدارہوتی ہے جبکہ اس کے برخلاف جو لوگ Polyum Saturated Acids استعمال کرتے ہیں ان کی صحت پر مضر اثرات کا خطرہ کم ہوتا ہے ۔یہ چکنائیاں مچھلی ، سبزیوں اور سبزی جاتی تیلوں میں پائی جاتی ہیں ۔

عید کے موسم میں چونکہ روڈ پر ٹریفک جام ہونے کی شکایت عام ہوتی ہے تو اس صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لئے اور طبیعت کی خرابی سے محفوظ رہنے کے لئے پانی کی بوتل ضرور ساتھ رکھیں ۔کھانوں کے ساتھ کولڈرنک پینے سے گریز کرنا چاہیئے ۔ کیونکہ یہ ہماری صحت کے لئے بے حد نقصان دہ ہوتے ہیں اور کینسر ، ہڈیوں کے بھربھر ے پن کی بیماری، جگر کی خرابی اور معدے میں ہو ا بھرنے کے ساتھ ساتھ بچوں میں پیٹ کے مختلف امراض کا بھی باعث بنتے ہیں ۔کو لڈ ڈرنکس کے بجائے سادہ یا ٹھنڈا پانی پیئں۔ کیونکہ روزوں کے دوران ہمارے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے اور پانی چونکہ ہمارے جسم سے براستہ پیشاب، پسینہ اور سانس لینے کے عمل سے بھی مسلسل خارج ہو رہا ہوتا ہے تو ہمیں اس کی مقدار کو جسم میں برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔کیو نکہ پانی کا زیادہ استعمال ایک صحت مندجسم اور زندگی کے لئے بے حد ضروری ہے ۔ جبکہ پانی کے زیادہ استعمال سے وزن کی کمی میں بھی معاونت ہوتی ہے ۔ پانی کی کتنی مقدار ہمارے جسم کے لئے ضروری ہے اس کا انحصار ہمیں ہماری جسمانی سرگرمیوں اور ہمارے وزن پر ہوتا ہے ۔ عمومی طور پر روزانہ 8-10 گلاس پانی لازمی پینا چاہیئے ۔

کھانا کھانے کے فوراََ بعد سونا نہیں چاہیئے کیونکہ اس طرح کھانا ٹھیک سے ہضم نہیں ہوپاتا ہے اور جس کے باعث معدے کی مختلف بیماریاں اور انفیکشن ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح کھانا کھانے کے بعد اور دن کے آخر میں سونے سے قبل کھلی ہوا میںچند منٹ کی چہل قدمی نہایت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے اور ہمارے جسمانی نظام کو معمول کے مطابق رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے ۔ چہل قدمی ہمارے معدے اور دیگر جسمانی حصوں کو ٹھیک اور باقاعدہ کام کرنے میں مدد کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تہوار پر بھی کھانا کھانے کا ایک ٹائم مقرر کرلینا چاہیئے ۔ کیونکہ وقت بے وقت کھانا کھانے سے نظام ہضم بگڑ سکتا ہے اور ہم بیمار پڑسکتے ہیں لہذا دو کھانوں کے درمیان چھ گھنٹوں کا وقفہ ہونا چاہیئے۔

اس کے علاوہ عید کی ڈشز میں پھلوں سے بنی ہوئی مختلف میٹھی ڈشز بنائی جاسکتی ہیں جن میں مصنوعی چینی کا استعما ل کم ہوتاہے۔امریکہ کی یونیورسٹی کیلیفورنیا میں ایک تحقیق کے مطابق زیادہ چربی اور مٹھاس والی غذائیں جگر اور معدے کی مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔

کھا نے کے ساتھ ایسی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال ضرور کریں جس میں پانی کی مقدار زیادہ ہو جیسے تربوز، کھیرا ، سلاد یہ سب پانی کی کمی سے روکنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں ۔ سلاد کے پتے پانی سے بھر ے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کے مسلسل استعمال سے دل کی بیماریوں اور اعصابی تھکن سے بچائو حاصل کر سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ پھلوں اور سبزیوں میںموجود پانی اور فائبر پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ پیٹ بھرنے کا احساس بھی دلاتے ہیں ۔ اور پھلوں میںموجود مٹھاس ہمارے جسم میںمصنوعی مٹھاس یا چینی کے لئے موجود طلب کو اطمینان بخشتے ہیں ۔

لہذا عید سعید کے پر مسرت موقع پر کھا نے پینے میں اعتدال سے کام لیتے ہوئے میٹھے اور گوشت کے ساتھ ساتھ سبزیوں اور پھلوں کا بھی زیادہ سے زیادہ استعما ل کر تے ہوئے حتی الامکان باہر کے اور زیادہ مرچ مسالوں والے کھا نوں سے گریز کرنا چاہیے تاکہ ہم مختلف قسم کی بیماریوں سے محفو ظ رہتے ہو ئے اچھے طریقے سے عید کی خوشیوں اور رنگینیوں سے اپنے عزیزو اقارب اور دوستوں کے ساتھ لطف اندوز ہو سکیں۔


متعلقہ خبریں


پاکستان میں آج عیدالفطر منائی جارہی ہے وجود - اتوار 24 مئی 2020

پاکستان میں شوال کا چاند نظر آگیا جس کے بعد ملک بھر میں آج24مئی بروز اتوار کو عیدالفطر منائی جارہی ہے۔ ہفتہ کو شوال کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کراچی میں مفتی منیب الرحمان کی سربراہی میں ہوا جس کے بعد پریس کانفرنس میں مفتی منیب الرحمان نے چاند نظر آنے کا اعلان کیا۔اجلاس میں محکمہ موسمیات کے ماہرین بھی شریک تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر صوبوں میں بھی زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس ہوئے ہیں جہاں سے شہادتیں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو بھیجی گئیں۔مفتی منیب الرح...

پاکستان میں آج عیدالفطر منائی جارہی ہے

ٹرمپ انتظامیہ نے جوہری تجربہ کرنے سے متعلق تبادلہ خیال کیا، واشنگٹن پوسٹ کا انکشاف وجود - اتوار 24 مئی 2020

امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے چین اور روس کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے جوہری تجربہ کرنے سے متعلق تبادلہ خیال کیا ہے ۔واضح رہے کہ امریکا نے 1992 میں آخری جوہری تجربہ کیا تھا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن پوسٹ نے اپنے دعویٰ کے حق میں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار اور دو سابق عہدیداروں کا حوالہ دیا۔رپورٹ میں سینئر حکام کا حوالہ دے کر کہا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے 15 مئی کو ہونے والے ایک اجلاس میں جوہری تجربے سے متعلق گفتگو ک...

ٹرمپ انتظامیہ نے جوہری تجربہ کرنے سے متعلق تبادلہ خیال کیا، واشنگٹن پوسٹ کا انکشاف

پلازما حاصل کرنے والے کووِڈ مریضوں میں موت کی شرح کم ہے ، امریکی تحقیق وجود - اتوار 24 مئی 2020

امریکا میں ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے کسی شخص سے پلازمہ حاصل کر کے کووِڈـ19 سے شدید بیمار پڑنے والے افراد کو لگایا جائے تو ان کی حالت سنبھلنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جبکہ انھیں ہسپتال میں داخل دیگر مریضوں کی بہ نسبت کم آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے ۔تحقیق کے مطابق جو لوگ کووِڈ 19 جیسے کسی انفیکشن سے بچ جاتے ہیں، ان کے خون میں ایسی اینٹی باڈیز یعنی پروٹین پیدا ہوجاتے ہیں جو جسم کے مدافعتی نظام کو وائرس سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔خون کا وہ جزو ...

پلازما حاصل کرنے والے کووِڈ مریضوں میں موت کی شرح کم ہے ، امریکی تحقیق

چین، وبا کے بعد پہلی مرتبہ یومیہ نئے متاثرین کی تعداد صفرہوگئی وجود - اتوار 24 مئی 2020

چین کے شہر ووہان میں گذشتہ سال کے اواخر میں کورونا وائرس کی وبا کے شروع ہونے سے اب تک پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کوئی نئے متاثرین سامنے نہیں آئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق حکام نے بتایا کہ گزشتہ روز کسی نئے مریض میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے ۔حکام کے مطابق چین میں اب تک 84 ہزار 81 افراد اس وائرس سے متاثر جبکہ 4638 افراد اس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔نیشنل ہیلتھ کمیشن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ دو نئے مشتبہ مریض ضرور ہیں جن میں سے ایک شنگھائی میں بیرونِ ملک سے آنے والا مسافر ...

چین، وبا کے بعد پہلی مرتبہ یومیہ نئے متاثرین کی تعداد صفرہوگئی

افغان لڑکیوں نے گاڑیوں کے پرزوں سے سستے وینٹی لیٹر بنا نا شروع کر دیے وجود - اتوار 24 مئی 2020

افغانستان میں لڑکیوں کی ایک روبوٹکس ٹیم نے اپنی توجہ کورونا وائرس کے مریضوں کی مدد پر مرکوز کر لی ہے اور انھوں نے گاڑیوں کے پْرزوں سے سستے وینٹیلیٹر بنانا شروع کر دیے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ان نوجوان لڑکیوں کو 2017 میں امریکہ میں ہونے والے ایک مقابلے میں روبوٹ بنانے پر خصوصی انعام سے نوازا گیا تھا۔

افغان لڑکیوں نے گاڑیوں کے پرزوں سے سستے وینٹی لیٹر بنا نا شروع کر دیے

جون کے بعد برطانیامیں داخل ہو نے والے کو 14 دن کیلئے سیلف آئسولیٹ ہونا ہو گا، وزیر داخلہ وجود - اتوار 24 مئی 2020

8 برطانیا کی وزیرِ داخلہ پریتی پٹیل نے کہا ہے کہ برطانیہ کی سرحد پر نئے اقدامات لیے جا رہے ہیں تاکہ انفیکشن کی دوسری لہرکو روکا جاسکے ۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 8 جون کے بعد جو بھی برطانیہ میں داخل ہو گا اسے 14 دن کے لیے سیلف آئسولیٹ ہونا ہو گا۔وزیرِ داخلہ نے کہا کہ خطرہ ہے کہ گرمیوں میں برطانیہ آنے والے اور بیرون ملک چھٹیاں گزار کر واپس آنے والے اپنے ساتھ وائرس کو بھی لے آئیں۔انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں انفیکشن ریٹ کم ہو رہا ہے اور یہ امپورٹڈ کیسز ایک بڑا ...

جون کے بعد برطانیامیں داخل ہو نے والے کو 14 دن کیلئے سیلف آئسولیٹ ہونا ہو گا، وزیر داخلہ

ڈنمارک میں سنیما، تھیئٹر اور میوزیم کھل گئے وجود - اتوار 24 مئی 2020

ڈنمارک میںمیوزیمز، آرٹ گیلیریز، چڑیا گھروں، سنیماؤں اور تھیٹروں کو اپنے دروازے کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے ۔ ڈنمارک میڈیا کے مطابق یہ خبر اس وقت آئی ہے جب حکومت کے کسی ریسکیو پیکج پر رضامندی کے بغیر برطانیا کی تھیٹر کی صنعت کے متعلق بہت خراب پیشن گوئیاں کی جا رہی ہیں۔ ویسٹ اینڈ کی اعلیٰ پروڈیوسر سونیا فریئڈمین نے کہا ہے کہ برطانوی تھیٹر کی صنعت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے ۔ڈنمارک کی صنعت کے متعلق ہدایات جاری کر دی گئیں ۔ہدایت نامے کے مطابق ہر سیٹ کے بعد دوسری سیٹ خالی ہو گی یا...

ڈنمارک میں سنیما، تھیئٹر اور میوزیم کھل گئے

صدر ٹرمپ کا عبادت گاہوں کو فوراً کھولنے کا حکم وجود - اتوار 24 مئی 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عبادت گاہوں کو فوراً کھولنے کا حکم دیدیا ۔وائٹ ہاؤس میں ایک بریفنگ کے دوران انہوںنے عبادت گاہوں کے بارے میں کہا کہ یہ فوراً کھول دی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ امریکہ میں زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے نہ کہ کم'انھوں نے یہ بات ان ریاستوں کے ان گورنروں پر تنقید کرتے ہوئے کہی جہاں شراب کی دکانیں اور اسقاط حمل کے کلنک کھلے ہوئے ہیں۔دریں اثنا بیماریوں کے کنٹرول اور بچاؤ کے ادارے نے گرجا گھروں کو کھولنے کے بارے میں ہدایات جاری کی ہیں۔رواں مہینے ...

صدر ٹرمپ کا عبادت گاہوں کو فوراً کھولنے کا حکم

تاریخ میں پہلی بار کراچی میں بڑا فضائی حادثہ، 90 مسافر ، عملے کے 8 ارکان سوار تھے وجود - هفته 23 مئی 2020

صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں 22 مئی کی سہ پہر کو پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے آنے والا پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے ) کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا جو کراچی میں اپنی نوعیت کا پہلا بڑا حادثہ تھا۔لاہور سے کراچی آنے والا طیارہ پی کے 8303 کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اترنے سے کچھ منٹ قبل ہی تکنیکی خرابی کے باعث قریبی آبادی میں گر گر تباہ ہوا۔ابتدائی رپوٹس کے مطابق طیارے میں 90 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے جن میں کم عمر بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔طیارے م...

تاریخ میں پہلی بار کراچی میں بڑا فضائی حادثہ، 90 مسافر ، عملے کے 8 ارکان سوار تھے

طیارہ حادثہ، نریندرا مودی، اشرف غنی سمیت عالمی رہنماؤں کا اظہار افسوس وجود - هفته 23 مئی 2020

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے ) کا لاہور سے کراچی آنے والا مسافر طیارہ اے 320 ایئربس جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ کراچی کے قریب رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا، حادثے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ، افغان اشرف غنی سمیت عالمی رہنمائوں نے اظہار افسوس کیا ہے ۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے دکھ میں شریک ہیں، غم کے اس موقع پر افغان قوم پاکستان کے ساتھ ہے ۔اسلام آباد میں امریکی چ...

طیارہ حادثہ، نریندرا مودی، اشرف غنی سمیت عالمی رہنماؤں کا اظہار افسوس

بھارت میں ایک دن میں ریکارڈ 6 ہزارسے زائد کیسز کا اضافہ وجود - هفته 23 مئی 2020

بھارت میں ایک دن میں کورونا وائرس کے ریکارڈ 6 ہزار 88 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 18 ہزار 447 ہوگئی۔بھارتی میڈیارپورٹ کے مطابق بھارت کی 11 ریاستوں میں ایک ہی دن میں 6 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ۔رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ 2 ہزار 187 کیسز مہاراشٹرا میں درج ہوئے ۔علاوہ ازیں مہاراشٹرا میں اموات کی تعداد دیگر ریاستوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے جہاں اب تک ایک ہزار 454 افراد وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔دوسری جانب بھارت میں وبائی امراض کے باعث ہلاکتوں ...

بھارت میں ایک دن میں ریکارڈ 6 ہزارسے زائد کیسز کا اضافہ

پی آئی اے نے امریکا کی پانچویں پرواز کا اعلان کردیا وجود - هفته 23 مئی 2020

پی آئی اے نے امریکا کی پانچویں پرواز کا اعلان کردیا،خصوصی پرواز 31 مئی کو اسلام آباد سے امریکہ کے شہر نیو جرسی جائے گی ۔ ترجمان کے مطابق نیو جرسی کے نیو آرک ائیرپورٹ سے اسلام آباد کیلئے پرواز یکم جون کو روانہ ہوگی۔ جاری اعلامیہ کے مطابق واشنگٹن میں قائم پاکستانی سفارت خانہ اور دیگر چار شہروں میں پاکستانی قونصل خانے پاکستانیوں کی رجسٹریشن کررہے ہیں ۔ اعلامیہ کے مطابق جن کی رجسٹریشن ہو گئی ہے ان کو ان پروازوں پر ترجیح دی جائے گی ـخصوصی پرواز پر امریکہ جانیوالے افراد کو فوری طور...

پی آئی اے نے امریکا کی پانچویں پرواز کا اعلان کردیا