کراچی میں پانی کاشدید بحران، سندھ میں فصلیں سوکھنے لگیں

حب ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک پہنچنے کے بعد کراچی اور حب کو پانی کی فراہمی بند کیے جانے کا امکان ہے۔واپڈا ذرائع کے مطابق کراچی کے مختلف حصوں اور حب کو پانی فراہم کرنے والے حب ڈیم میں پانی کی سطح ایک روز میں ڈیڈ لیول تک پہنچ جائے گی، جس کے بعد پانی کی فراہمی بند ہوسکتی ہے۔ذرائع کے مطابق حب ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک پہنچنے کے بعد پمپنگ کے ذریعے پانی فراہم کیا جاسکتا ہے، تاہم اب تک کراچی واٹر بورڈ کی جانب سے پمپنگ کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ڈیم میں پانی کی سطح کم ہونے کے باعث ماہ رمضان کے آخری عشرے میں کراچی کے ضلع غربی میں پانی کا بحران مزید شدت اختیار کرے گا۔دوسری جانب بلوچستان کے محکمہ آبپاشی کو پمپنگ کے لیے فنڈز جاری نہ ہونے کی وجہ حب کو بھی پپمنگ کے ذریعے پانی کی سپلائی شروع نہیں ہوسکی ہے، جس کے باعث بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پانی کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔

یاد رہے کہ شہر قائد میں کچھ دنوں سے پانی کا بحران شدت اختیار کرچکا ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ادھر ملک بھر میں پانی کی قلت سنگین مسئلہ اختیار کرچکی ہے اور چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی جانب سے قلت آب کے مسئلے پر ازخود نوٹس بھی لیا گیا ہے۔اس کے علاوہ گزشتہ روز واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( واپڈا ) کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا تھا کہ اگر پاکستان مستقبل کے تباہ کن خطرات سے بچنا چاہتا ہے تو اسے اپنے کھیتی کے طریقہ کار، پانی کے استعمال کی عادت اور منصوبہ بندی میں تبدیلی کرنا ہوگی اور پانی کی متعدد اسٹوریج بنانے کے ساتھ ساتھ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو جارحانہ خارجہ پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔انہوں نے بتایا تھا کہ پاکستان پانی کی قلت کا خطرناک حد تک سامنا کرنے والے 15 ممالک میں شامل ہوچکا ہے اور ملک کو بڑھتی ہوئی آبادی کے درمیان فرق کو ختم کرنے اور بڑی تعداد میں پانی کے ذخائر کے لیے گنجائش کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا تھا کہ بھارت کے 5 ہزار 102 ڈیمز کے مقابلے میں پاکستان میں کل 155 ڈیمز ہے جبکہ بھارت کی 170 دن تک پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے مقابلے میں پاکستان صرف 30 دن تک پانی ذخیرہ کرسکتا ہے۔

ایک اور خبر میں بتایا گیا ہے کہ پانی کی شدید کمی کی وجہ سے فصلوں کے لیے پانی دستیاب نہیں اور کاشت کی گئی فصلیں سوکھنے لگی ہیں، نہروں میں صرف پینے کے لیے پانی چھوڑا جارہا ہے، پانی کی قلت کے خلاف مختلف علاقوں میں لوگ احتجاج کررہے ہیں، بتایا گیا ہے کہ سکھر، گدو اور کوٹری بیراج سے زرعی مقاصد کے لیے پانی نہیں چھوڑا جارہا ، بدین، نواب شاہ، میر پور خاص اور دیگر علاقوں میں صورت حال زیادہ خراب ہے، سیکرٹری آبپاشی سندھ کا کہنا ہے کہ 15 جون کے بعد پانی کے مسئلہ میں بہتری آئے گی، یہ صورت حال صرف سندھ کی نہیں، بلوچستان کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی پانی کی کمی پر کاشتکاروں اور زمینداروں میں تشویش پائی جاتی ہے، دریائے ستلج کئی سال پہلے خشک ہوچکا ہے، چناب اور راوی کے بارے میں گزشتہ پانچ چھ برسوں سے یہ رپورٹ آچکی ہے، ان دریاؤں میں پانی بہت کم رہ گیا ہے، اور بیشتر اوقات یہ دریا نہیں نالے کی شکل میں بہتے ہیں، دریاؤں میں پانی کی کمی کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ پچھلے کئی سال سے بارشیں بہت کم ہورہی ہیں، ہر سال منگلا اور تربیلا ڈیم کے ساتھ ساتھ دیگر چھوٹے ڈیموں میں پانی قبل از وقت ہی ڈیڈ لیول تک پہنچ جاتا ہے، جس سے ایک طرف تو بجلی کی پیداوار متاثر ہوتی ہے، دوسری جانب شہریوں کو پینے کے پانی کی قلت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہمارے ہاں کئی عشروں سے نئے ڈیم نہیں بنائے گئے، پانی جمع کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی اور جب پانی زیادہ مقدار میں دستیاب ہوتا ہے تو دریائے سندھ کے راستے سمندر میں پہنچ کر ضائع ہوجاتا ہے۔ حالت یہ ہے کہ زرعی مقاصد کے لیے 70 فیصدپانی دوران ترسیل ضائع ہوجاتا ہے، جدید ٹیکنالوجی کے حصول اور استعمال میں ہم بہت پیچھے ہیں، ہمارے ماہرین روائتی طریقوں سے پانی استعمال کرکے مطمئن بیٹھے رہتے ہیں، ملک میں تین ماہ کی بجائے صرف ایک ماہ کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ اس وقت پانی کی قلت کا شکار ملکوں میں پاکستان کا تیسرا نمبر ہے، اس خوفناک صورت حال کی دوسری بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت نے پاکستان کے لیے دریائی پانی کے بہاؤ کو اپنی حکمت عملی کے تحت بہت کم کردیا ہے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کئی بار پاکستان کو آبی جارحیت کی دھمکیاں دے چکے ہیں، پاکستان کی طرف سے بگلیہار ڈیم بنانے پر اعتراضات کیے جاتے رہے ہیں،مگر بات نہیں بن سکی۔

اس کے علاوہ عالمی بنک کے صدر جم بونگ کم نے پاکستانی حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ کشن گنگا ڈیم کے تنازع پر عالمی ثالثی عدالت میں جانے کے اپنے موقف سے دست بردار ہو جائے اور بھارت کی غیر جانبدار ماہر کی تقرری کی پیشکش قبول کر لے۔ جب بھارت نے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر سے آبی ڈکیتی کا آغاز کیا تو اسے روکنے کے لیے کوئی موثر کارروائی نہ کی جا سکی۔ جب اس پراجیکٹ کا انفراسٹرکچر بن گیا تو ہم نے بھاگ دوڑ شروع کی لیکن تب تک بہت تاخیر ہو چکی تھی۔ ایک مرحلہ پر عالمی عدالت نے مقدمہ کے ضمن میں ضروری کوائف‘ شواہد اور ڈیٹا طلب کیا تو ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ چنانچہ عالمی عدالت انصاف نے 20 دسمبر 2013ء کو بھارت کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ ماضی کی حکومتوں (جن میں پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ ن اور صدر مشرف کی حکومتیں بھی شامل ہیں) کی نااہلی کے باعث‘ ہم اپنے جائز حق سے بھی محروم کر دیئے گئے۔ اب اس مرحلے پر عالمی بنک کا مشورہ اس کی جانبداری کا مظہر ہے، وہ انڈس واٹر ٹریٹی پر پوری طرح عمل درآمد کا ضامن ہے۔ اصولاً وہ ہمیں غیر جانبدار ماہر سے رجوع کرنے کی تجویز دینے کی بجائے بھارتی اقدامات کا سندھ طاس معاہدے کی روشنی میں خود جائزہ لے۔ کشمیر اور آبی تنازعات پر عالمی اداروں اور نام نہاد غیر جانبدار ماہرین کی روش ہمارے سامنے ہے۔ اب ان تلخ تجربوں کے بعد عالمی بنک کا مشورہ ماضی کی غلطی کے اعادے اور وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔

دوسری طرف قوم کے مستقبل کے حوالے سے ہماری بے حسی کا یہ عالم ہے کہ عام انتخابات ہو رہے ہیں لیکن کسی سیاسی جماعت نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو اپنے منشور کا حصہ ہی نہیں بنایا۔ گزشتہ روز سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے کالا باغ ڈیم کی تعمیرکے حوالے سے گریز کی پالیسی پرتاسف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ بھاشا ڈیم بنے گا نہیں اور کالا باغ ڈیم بننے نہیں دیں گے۔ اس کمیٹی میں چیئرمین واپڈا مزمل حسین نے کالا ڈیم کی افادیت سے بھی آگاہ کیا جبکہ چیئرمین کمیٹی سنیٹر شمیم آفریدی نے گوادر میں پانی کی کمی کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فاٹا کا مسئلہ 3 دن میں حل ہو سکتا ہے تو گوادر میں پانی کا مسئلہ کیوں حل نہیںہو سکتا۔ پاکستان میں پانی کی کمی ہے جو مزید شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اس کا حل بھارت کو پاکستان کے پانیوں پر قبضے سے روکنا اور کالا باغ ڈیم سمیت پانی کے زیادہ سے زیادہ ڈیم اور آبی خائر تعمیر کرنا ہے۔

Electrolux