سکھرکے عوا م پیپلزپارٹی امیدواروں سے ناخوش،پی ٹی آئی کی مقبولیت میں اضافہ

ملک کی بڑی جماعتوں نے عام انتخابات سے قبل شہری سطح پر ووٹرز کی متوجہ کرنے کے لیے پانی، معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات سمیت دیگر محکموں میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے اعلانات اور وعدوں کاسلسلہ شروع کردیا ہے، پیپلز پارٹی ،تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) جبکہ حال ہی میں اتحاد کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں تمام مذہبی جماعتیں متحد ہوگئی ہیں، سکھر شہر جسے پیپلز پارٹی کا گڑھ کہا جاتا ہے لیکن اب جو صورتحال وہاں نظر آرہی ہے، وہ بالکل برعکس ہے، کیونکہ تمام پارٹیاںاپنااپناووٹ بینک مستحکم دیکھ رہی ہیں۔اورکامیابی کے دعوے بھی کررہی ہیں ۔لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سکھر شہر میں صرف دو پارٹیوں کا ٹکرائو ہوگا، ایک پیپلز پارٹی اور دوسری پاکستان تحریک انصاف، بقایا جو پارٹیاں ہیں مسلم لیگ(ف)، اتحاد کمیٹی، مسلم لیگ(ن) ، تبدیلی پسند پارٹی ،جمعیت علماء اسلام ان کا شمار نہ ہونے کے برابر ہوگا۔

حال ہی میں تبدیلی پسند پارٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم عوامی طاقت کا مظاہرہ کریں گے اورہزاروں لوگوں کا مجموعہ اکھٹے کریں گے لیکن جلسہ گا ہ کی سینکڑوں خالی کرسیاںان کامنہ چڑاتی نظرآئیں اورا س پارٹی کے تمام دعوے ہواہوگئے۔اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ کسی بھی جلسے میں شرکت کے لیے عوا م کوگھروں سے نکالنابڑی بات ہے ۔سکھرشہرکی حدتک تویہ ہی دیکھاگیاہے کہ پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف کے جلسوں میں لوگ بڑی تعدادمیں شریک ہوتے ہیں جبکہ دیگرجماعتیں اس میں ناکام رہتی ہیں۔ ضلع سکھر میں پیپلز پارٹی کی جانب سے کافی عرصے سے کوئی بڑا جلسہ نہیںکیا۔

پیپلزپارٹی کی جانب سے ایم این اے نعمان اسلام شیخ کنفرم ہوگئے ہیں لیکن سکھرکی عوام کی اکثریت نعمان اسلام شیخ کو پسند نہیں کرتی کیونکہ جب سے نعمان اسلام شیخ ایم این اے ہوئے ہیں تب سے آج تک نہ ہی کوئی کھلی کچہری انعقاد کی ہے اور نہ ہی کسی علاقے میں نظر آئے ہیں، حال ہی میں نعمان اسلام شیخ صرف ایک مرتبہ سکھر شہر میں نظر آئے ہیں اور وہ بھی افطار پارٹی میں، اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نعمان اسلام شیخ کو ایم این اے کا ٹکٹ دے کر اپنے ہی پائوں پر خود کلہاڑی ماری ہے کیونکہ ان کے مدمقابل پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے مبین جتوئی ہیں جو انتہائی تیزی سے سکھر شہر میں مقبولیت حاصل کرچکے ہیں، خاص طور پر سکھر شہر کے پسماندہ اور دیہی علاقوں کے نوجوانوں نے مبین جتوئی کا ساتھ دینے کا اعادہ کیا ہے، دوسری جانب سکھر شہر کے تعلقہ پنو عاقل سے ایم این اے کی سیٹ پرقائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ کنفرم ہوگئے ہیں، اس بار سائیں خورشید احمد شاہ جیتیں گے یا نہیں اس کا فیصلہ تو الیکشن میں ہوگا ۔

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی پنو عاقل سے مسلم لیگ(ف) کے فقیر عنایت برڑو ایک مضبوط امیدوار اورپرعزم دکھائی دیتے ہیں، گذشتہ الیکشن میں انہوں نے 58 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے، اس بار شاید پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ف) کا کانٹے دار مقابلہ ہوگا، کیونکہ دونوں سیاسی پارٹیاں پر امید نظر آتی ہیں، 4صوبائی نشستوں پر پیپلز پارٹی سکھر سے سائیں ناصر شاہ اور جام اکرام اللہ دھاریجو کنفرم ہوگئے ہیں اور باقی دو کا ابھی فیصلہ نہیں آیا، بقیہ 2 صوبائی نشستوں کی بھاگ دوڑ میں جاوید شاہ، فرخ شاہ، سید اویس قادر شاہ، محمد علی شیخ اور چوہدری اظہر حسنین کے نام شامل ہیں ،صوبائی نشست کے لیے ان پانچوں میں تین مضبوط امیدوار ہیں ایک جاوید شاہ ،سید اویس قادر شاہ اور تیسرا فرخ شاہ، سائیں جاوید شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے قریبی دوست ہیں، فرخ شاہ سائیں خورشید احمد شاہ کے بڑے صاحبزادہ ہیں اور تیسرے سید اویس قادر شاہ بھی سائیں خورشید احمد شاہ کے داماد ہیں، اس بار الیکشن میں صوبائی نشستوں پر سائیں ناصر شاہ اور سائیں جاوید شاہ اور اویس شاہ کا پلڑا بھاری ہے ، گـذشتہ الیکشن میں ایم پی اے کی سیٹ سے سید ناصر شاہ اور سید اویس شاہ جیتے تھے، لیکن اس دفعہ عوام کی سوچ میں تبدیلی نظر آئی ہے، صوبائی نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کو عوام میں کچھ زیادہ پذیرائی حاصل ہے لیکن گذشتہ الیکشن کی طرح نہیں، اس بار شاید پاکستان تحریک انصاف، ایم کیو ایم، جمعیت علماء اسلام، متحدہ مجلس عمل، اتحاد کمیٹی اور آزاد امیدواروں کی جانب عوام کاجھکائوکچھ زیادہ دکھائی دے رہا ہے،جسے دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ اس بار سکھرشہرسے پیپلز پارٹی کلین سوئپ نہ کر پائے گی۔

تحریک انصاف کے رہنما مبین جتوئی نے گذشتہ ماہ سکھر کے نواحی علاقے بچل شاہ میانی جو پیپلز پارٹی کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا ہے ، جہاں سے پیپلز پارٹی ہمیشہ سے ہی فتح کرتی آئی ہے، بچل شاہ میں تحریک انصاف کا جلسے نے ایک نیا موڑ لے لیا، جلسے میں ہزاروں افراد نے شرکت کرکے یہ ثابت کردیا کہ بچل شاہ میانی اب پیپلز پارٹی کا نہیں بلکہ تحریک انصاف کا گڑھ بن گیا ہے، اس جلسے میں لوگوں کا جوش وخروش دیکھ کر اندازہ لگایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے سیاسی لوگوں سے اب وہ بیزار ہوچکے ہیں ، بچل شاہ میانی کے مکین اب تبدیلی لانا چاہتے ہیں، وہ تبدیلی تحریک انصاف کے رہنما مبین جتوئی ہی لاسکتے ہیں۔ مبین جتوئی کے والد دیدار جتوئی نے جب تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد دن رات پارٹی کے ممبران اور ورکروں کے لیے محنت کرتے دکھائی دیئے ،سکھر شہر کا شاید ہی کوئی علاقہ ہوگا جو رہ گیا ہوگا، چھوٹے موٹے جلسے جلوس، دفاتر کا افتتاح،افطار پارٹیاں کرتے دکھائی دے رہے ہیں، 24 گھنٹے کارکنوں کی آواز کو لبیک کہنا اور ان کے مسائل کو حل کرنا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ تحریک انصاف کی پارٹی سے کتنے سچے ہیں۔ مبین جتوئی کے مطابق کہ ہم انشاء اللہ اپنی جیت سے پرعزم ہیں کیونکہ ہم ان غریب عوام کی وجہ سے سیاست میں آئے ہیں اور ان غریب عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے میدان میں اترے ہیں اور انشاء اللہ ہمیشہ ہی غریب عوام کا ساتھ دیں گے اور ان کی زندگیوں سے جڑے ہوئے ہیں ان کے مسئلے مسائل کو حل کرنااپنی عبادت سمجھتے ہیں ہم عوام کے حقوق کیلیے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ہمیشہ کھڑے رہیں گے، مبین جتوئی نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے میرے والد اور کارکنان پر جھوٹے مقدمات درج کرائے ہیںاس سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے بلکہ اور زیادہ بلند ہوئے ہیں، پیپلز پارٹی جتنے بھی ہتھکنڈے استعمال کرلیے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے ہم عوام کے مسئلے اور مسائل ان کے دہلیز پر حل کریں گے اور انشاء اللہ کرتے رہیں گے ۔

Electrolux