وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اکیسویں صدی میںاردو نعت آخری قسط

اتوار 10 جون 2018 اکیسویں صدی میںاردو نعت آخری قسط

ڈاکٹر ریاض مجید موجودہ دور کے ممتازنعت گو ہیں ،انہوں نے اردو اور پنجابی نعت گوئی کے ساتھ ساتھ’’ اردو میں نعت گوئی کی تاریخ ‘‘کے عنوان سے پی ایچ ڈی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی تحریر کیا جو اپنی نوعیت کا ایک اہم کام ہے۔انہوں نے اپنی نعت کی بنیاد تخلیقیت ، تازگی ، روایت سے گریز اور نئے نئے مضامین کی تلاش وجستجوپر رکھی ہے،عقیدت و مودت کے اظہار کے ساتھ ریاض مجید نے حسن ِادا کا خیال بھی رکھا ہے اورحرف و صوت وجذب و کیف کی ہم آہنگی کا اہتمام بھی کیا ہے، وہ چونکہ جدید تر لب ولہجہ کے غزل گو بھی ہیں اس لیے ان کے ہاںلفظیات،تشبہیات، استعارے، تراکیب اور فکر کی تازہ کاری بھی شعر در شعر سفر میں رہتی ہے۔ سیدنا محمدؐ،سیدنا احمدؐ،اللھم ٰصلی علی،اللھم ٰصلی علی محمدؐاور دیگر نعتیہ کتب کے علاوہ ان کی تنقید اور غزلیہ شاعری کی کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں:

صدیاں طلوع ہوتی ہیں اس رخ کو دیکھ کر
کہتے ہیں جس کو وقت ہے صدقہ حضورؐ کا
٭
ساحل آشنا ہوگی کشتیِ ریاض اک دن
انؐ کا نام لکھا ہے بادبان کے اوپر

ماجد خلیل
ماجد خلیل بھی ایک اہم نعت گو شاعر ہیں،فنی مہارت کے ساتھ عقیدت و محبت،سیرت ِرسولؐ کے اہم گوشوں کا تذکرہ،اسوہ ِرسول ؐ سے رہنمائی لینے اور اسے مشعل راہ بنانے کی خواہش کا اظہار بھی ان کی نعت کے اہم موضوعات ہیں، عہد موجود کے مجموعی نعتیہ مزاج سے جڑی ان کی نعت کا سفر قابل رشک بھی ہے اور قابل داد بھی ، وہ ماہانہ نعتیہ مشاعروں کا اہتمام کرکے نعت کی تشہیر اور فروغ کے لیے گراں قدر کا م کر رہے ہیں،روشنی ہی روشنی ،نور ہی نور اور فرحت ِحرف ان کی اہم کتابیں ہیں:
ایک دن وہ تھا کہ ہونا پڑا دہلیز بدر
ایک دن یہ ہے کہ دنیا تریؐ دہلیز پہ ہے
٭
اہلِ ہنرنے نعتِ نبیؐ سے کیا کیا فیض اٹھائے ہیں
کسبِ ہنر سے عرضِ ہنر تک، عرضِ ہنر سے آگے بھی
عاصی کرنالی
عاصی کرنالی جدید طرزِ اظہار کے حامل ایک منفرد شاعر ہیں، ان کی نعت کا نمایاںوصف حضورﷺ کی آمد کے مقاصد کی شرح اور اس کی تبلیغ ہے،انہوں نے فنی نزاکتوں کے احترام کے ساتھ ذوق و شوق ،وارفتگی اور شیفتگی کا اظہار بھی حد درجہ احتیاط کے ساتھ کیا ہے،ڈاکٹر غفور شاہ قاسم لکھتے ہیں’’نعت ان کے نزدیک ایک مقدس عبادت ہے جس کے وسیلے سے وہ زندگی کے اعلی و ارفع مقاصد اور دنیا و عقبیٰ کی سرخ روئی کے طلب گا ر ہیں‘‘۔
(نعت رنگ ،شمارہ 20ص250)
مدحت ،نعتوں کے گلاب اور حرف ِشیریں ان کے نعتیہ مجموعہ ہائے کلام ہیں:
میرے پہلے سانس سے نغمہ سرا ہے سازِ دل
آتی ہے صلِ علی، صلِ علی، آوازِ دل
میں اس کو سرِ نامہِ اعمال سجا لوں
وہ لمحہ جو سرکارؐ کی چوکھٹ پہ بسر ہو
خالد احمد(2013-1943)
خالد احمد اپنے جداگانہ لب ولہجہ کے باعث ہجوم میںدورسے پہچانے جانے والے شاعر تھے،ان کی ہر تخلیق ان کے گہرے مطالعے کی گواہی دیتی ہے،ان کے نعتیہ قصیدے ’’تشبیب‘‘ کو ادبی حلقوں میں بہت پذیرائی ملی،وہ تواتر سے نعت اور غزل کہتے رہے،انہوں نے نوجوان شعراکی حوصلہ افزائی میں بھی کبھی بخل سے کام نہیں لیا،ان کی نعت جدید تر رنگ شعر کے ساتھ مضمون آفرینی، نئی تراکیب،استعارے ، تشبہیات، قلبی واردات،اخلاص، شائستہ لفظی اور درد مندی سے مزین ہے:
ابھی مٹی نہ کھنکی تھی، ابھی پانی نہ برسا تھا
مگر بزمِ عناصر میں ترے ہونے کا چرچا تھا
وہ کیسی خاک تھی، کس نور کا اعجاز تھی آقاؐ!
جسے اک روز تیرا نقشِ پا ہو کر چمکنا تھا
ڈاکٹرخورشیدرضوی
ڈاکٹر خورشید رضوی کا شمار عہد موجود کے اہم غزل اور نعت گو شعرا میں ہوتا ہے،ان کی غزل کے تو کئی مجموعہ ہائے کلام شائع ہو ئے ہیں لیکن تواتر سے نعت کہنے کے باوجود تاحال نعت کا باقاعدہ کوئی مجموعہ سامنے نہیں آیا،ڈاکٹرخورشید رضوی کی نعت اسوہ ِرسولؐ کے ذکرکے ساتھ ساتھ محبت ِسرکارؐکے اظہار میں شائستگی اور شیفتگی کا رنگ لیے ہوئے ہے،ان کی نعت منفردطرزِاظہار اور موثر لب و لہجہ کے باعث الگ شناخت رکھتی ہے:
شان انؐ کی سوچئے اور سوچ میں کھو جایئے
نعت کا دل میں خیال آئے تو چپ ہو جایئے
٭
اے بادِ سازگار مجھے چھوڑ کر نہ جا
میں بھی ہوں مشتِ خاک مدینے کی راہ کی
افتخار عارف
افتخار عارف جدید غزل کا ایسا نمائندہ ہے جس کے جداگانہ لب و لہجہ ،زبان وبیان اور بے ساختہ پن نے انہیں دوسرے شعرا سے ممتازمقام عطا کیا ہے،ان کی غزل کی طرح نعت بھی فکر اور جذبہ کے حوالے سے انفرادیت کی حامل ہے،ان کے اشعار آراستہ اور مرصع ہونے کے ساتھ جذب و کیف اورمحبت ِرسولؐ سے لبریز تاثیر ،روانی اور دل کشی میں بے مثال ہیں :
سبیل ہے اور صراط ہے اور روشنی ہے
اک عبدِ مولیٰ صفات ہے اور روشنی ہے
٭
قیامتیں گذر رہی ہیں کوئی شہ سوار بھیج
وہ شہ سوار جو لہو میں روشنی اتار دے
پیرسید نصیرالدین نصیرؒ ((2009-1949
پیرسید نصیرالدین نصیر حضرت پیر سید مہر علی شاہ ؒگولڑہ شریف کے خانوادہ کے چشم و چراغ تھے ،وہ نامور دانش ور ،بے بدل مقرر،خطیب اور عالم دین ہونے کے ساتھ باکمال شاعر بھی تھے ،شعر گوئی میں انہوں نے داغ کی روایت کو آ گے بڑھایا،ان کے نعتیہ کلام میں روایت ِشعرسے کامل آگاہی،زبان وبیان کی چاشنی، اسوہِ سرکارؐ اور ایک خاص طرح کی جذباتی وابستگی کے ساتھ محبت ِرسولؐ کا والہانہ اظہار پایا جا تا ہے، انہوں نے حمد و نعت اور مناقب پر مشتمل مجموعہ ہائے کلام سمیت درجن بھر کتب یادگار چھوڑی ہیں:
پھر اس نے کوئی اور تصور نہیں باندھا
ہم نے جسے تصویر دکھائی ترے در کی
٭
ہمارا دھیان بھی طیبہ کے قافلے والو!
رواں دواں پسِ گردو غبار ہم بھی ہیں
گستاخ بخاری
گستاخ بخاری کی نعت عقیدت و محبت کے اظہار کے علاوہ حضورؐ کے اوصاف،الطاف و کرم،تعلیمات ِرسولؐ اور اسوۂ رسول ؐ کے ذکر سے لبریز ہے،وہ مدحِ ممدوحِ ؐخدا(نعتیہ دیوان) اور ؐمحمد محورِعالمؐ(نعتیہ مجموعہ) کے علاوہ درجن بھر کتب کے خالق ہیں،ان کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے غالباً اردو ادب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صلو علی الحسین ؓ کے نام سے سلام کا دیوان بھی تخلیق کیا ہے،محمد شفیع بلوچ لکھتے ہیں ’’وارفتگی اور عشق نے بخاری صاحب کی شاعری کو فنی اور معنوی محاسن سے آراستہ کیا ہے،ان کی نعتیں عشق و تفکر کا حسین امتزاج ہیں جن میں موضوعات اور اسالیب کی رنگا رنگی پائی جاتی ہے۔‘‘
(پیش لفظ۔محمد محور عالمؐ)
حدِ امکان میں ہے جو بھی صفت
وہ مدینے کے تاجدارؐ میں ہے
٭
روشنی کی خدا نے کی تجسیم
پھر اسے کہہ دیا ’’محمدؐ‘‘ ہیں
صبیح رحمانی
معروف نعت گو اور نعت خواںصبیح رحمانی کی عصر ِ ِموجود میں نعت کے حوالے سے خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں،وہ عہدحاضر کے حمد ونعت کے حوالے سے صف اول کے شاعر ہیں اور معروف رسالے ’’نعت رنگ‘‘کراچی کے مدیربھی، نعت رنگ کے ذریعے وہ نعت کے فروغ اور ترویج کے لیے جس طرح سرگرمی سے کام کررہے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے،نعت رنگ کا آغاز1995میں ہوا اور اب تک تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے،ان کی نعتیہ شاعری کی بھی پانچ کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں ماہ ِ طیبہ،جادہ ِرحمت، ایوان ِنعت، ہیں مواجہ پہ ہم اور خوابوں میں سنہری جالی ہے شامل ہیں، نعت کے سلسلہ میں خدمات پرانہیں قومی اور عالمی سطح پر ایوارڈ زسے بھی نوازا گیا،ان کی نعت میںعشق ِ رسولؐ کے والہانہ اظہار کے ساتھ ساتھ سیرت رسولؐ کے مختلف پہلووں کو فنی کمال اور جدید اسلوب میںرقم کیاگیا ہے ،ان کی نعت کا نمایاں وصف تازہ کاری اورنئی نئی اور مترنم زمینیں ہیں،وہ تکرار لفظی سے جو فضا بناتے ہیں وہ دل تسخیر کرتی چلی جاتی ہے:
کوئی مثل مصطفٰےؐ کا کبھی تھا نہ ہے نہ ہو گا
کسی اور کا یہ رتبہ کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
٭
لب پر نعتِ پاک کا نغمہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
میرے نبیؐ سے میرا رشتہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
شاعر علی شاعر
شاعر علی شاعر کی نعت عقیدت و محبت کی آئینہ دار ہونے کے ساتھ سادگی سے سیرت رسولؐ کا پرچار کرتی نظر آتی ہے۔انہوں غزل بھی کہی ہے مگر جس قدرانہوں نے نعت لکھی ہے وہ ان کی پہچان بن چکی ہے ۔ان کے کئی نعتیہ مجموعے منظر عام پر آئے ہیں جن میں ان کا کلیات’’نور سے نور تک اہمیت رکھتا ہے کہ اس میں ان کے نو مجموعہ ہائے کلام شامل ہیں۔دیگر کتب میں صاحب خیر کثیرؐ الہام کی بارش اور ارماغان حمدشامل ہیں:
کوئی رتبہ نیَ فضیلت چاہیے
انؐ کی مدحت کو عقیدت چاہیے
دین و دنیا کی بھلائی کے لیے
پیروی کو انؐ کی سیرت چاہیے
نورین طلعت عروبہ
نورین طلعت عروبہ نئی نسل کی ایسی نمائندہ نعت نگار ہیں جن کا کلام تلاش و اظہارِجمال، محبت ِ رسول ؐ ، وارفتگی ،تازگی اور ندرت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ تاثیر کی دولت سے بھی مالامال ہے،ان کے دو نعتیہ مجموعے ’’حاضری‘‘ اور ’’زہے مقدر‘‘کے نام سے شائع ہو چکے ہیںجنہیں اہلِ علم وادب میںتحسین کی نگاہ سے دیکھا گیا:
آنکھ کی ساری بصارت جستجوئے مصطفٰےؐ
دل کو رکھتی ہے منور آرزوئے مصطفٰےؐ
دف بجاتی لڑکیوں میں کاش میں ہوتی کہیں
اور بس تکتی چلی جاتی میں روئے مصطفٰےؐ
ریاض ندیم نیازی
ریاض ندیم نیازی بھی عہد موجود کے ایک اہم نعت گو ہیں،ان کی اب تک تین نعتیہ کتب شائع ہو چکی ہیں جن میں’’ خوشبو تری جوئے کرم ‘‘،’’ہوئے جو حاضر در ِ نبی ؐ پر‘‘ اور’’بحرِتجلیات‘‘شامل ہیں ،ان کا غزلیہ مجموعہ بھی منظر عام پر آکر داد و تحسین سمیٹ چکا ہے،ریاض ندیم نیازی عشق ِ مصطفےؐ سے سرشار ہیںاور یہی بات ان کی نعت کا مرکزی نقطہ ہے۔ریاض ندیم نے تعلیماتِ نبوی کے مختلف گوشوں کو بھی اپنے شعرکا حصہ بنایا ہے:
زباں ملی ہے مجھے مدحتِ نبی ؐ کے لیے
ہر ایک لفظ ہے میرا بس آپ ؐ ہی کے لیے
٭
اترتی ہے جو نعت نوکِ قلم پر
اسے پہلے دل میں رقم دیکھتے ہیں
مذکورہ بالا نعت نگاروں کے علاوہ ابوالا امتیاز ع س مسلم، احمد ندیم قاسمی ،ہلال جعفری، ابو الخیر کشفی، قمر رعینی،آفتاب کریمی ، محمد فیروز شاہ ،طاہر سلطانی،اقبال نجمی ، مہر وجدانی، ریاض حسین زیدی ،رفیع الدین ذکی قریشی ،عزیزالدین خاکی ،عزیز احسن ،حکیم سرو سہارنپوری،وقار صدیقی اجمیری،علیم ناصری، گوہر ملیسانی،خالد شفیق، قیصر نجفی ،خالد علیم ،عرش ہاشمی ،شیخ صدیق ظفر،آصف بشیر چشتی،شہزاد مجددی،قمر یزدانی،انور مسعود،توصیف تبسم،رشید امین،حافظ نو ر احمد قادری،طاہر صدیقی،سبطین شاہ جہانی،قمر وارثی ،علی احمد قمر اورنسرین گل سمیت متعدد شعرا نے نعت کے فروغ اور ترویج کے لیے مثالی کام کیا ہے۔ نئی نسل میں سرور حسین نقشبندی ، علی رضا، احمد محمود الزماں،اخترعثمان ، شہاب صفدر، توقیر تقی، سیدضیا ثاقب بخاری،وسیم ممتاز،نعیم انصاری اور ان جیسے دیگر شعراکا جدید تر لب ولہجے ، تخلیقیت و شعریت ،عقیدت و محبت اور عشقِ رسول ؐ سے لبریز کلام اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید نعت عصری تقاضوں پر پورا اتر رہی ہے اور تعمیر وترقی کی نئی منزلیں بھی سر کر رہی ہے۔
اکیسویں صدی کے پہلے پندرہ سالوں میں نعتیہ مجموعوں کی بھی ایک بڑی تعداد منظر عام پر آئی ہے جن میں کلیات ِنعت ،کوثریہ ، لبیب ،طاق ِ حرم ( حفیظ تائب )،کشکول ِآرزو،تمنائے حضوری،سلام علیک(ریاض حسین چودھری)، جواہرِ نعت،توشہ (رفیع الدین ذکی قریشی)،نقشِ جمال،مرحبا، ہا لہ ِنور(مسرور کیفی)، اللھم بارک علی محمدؐ(ڈاکٹر ریاض مجید)،آسمان ِ رحمت(اعجاز رحمانی)قوسین(آفتاب کریمی)،دیں ہمہ اوست، (سید نصیرالدین نصیر)،خلد ِ نظر، نجات، زیارت، رسائی، عافیت،ودیعت،آبنائے گداز،انوار خاطر (عابد سعید عابد)،قندیل حرا،زبورِ سخن(تنویر پھول)،ولائے رسول( قمر رعینی)، مثال ( منیر سیفی)،رب آشنا( قیصر نجفی)،حاضری( نورین طلعت عروبہ)،حرا کے مکین ،کوئی سورج ترے جیسا نہیں ہے(انجم نیازی)،با وضو آرزو (محمد فیروز شاہ)،محامدؐ محمد (خالد علیم)،رحمت مآب( ظفراکبر آبادی)،لب پر نعت ِ پاک کا نغمہ(مدثر سرور چاند)، کرم ونجات کا سلسلہ(عزیز احسن)،مہر عالم تاب(محمد اکرم رضا)،جمال ِ سید لولاک(سید ریاض حسین زیدی)، قلزمِ انوار( شاہ محمد سبطین شاہجہانی)،ہے روشنی جہانوں کی( خاور نقوی)، اطاعت(حامد یزدانی)، ہرسانس پکارے صلی علی( طاہر سلطانی)،آقا ؐکملی والے( محمد یعقوب تصور)،محمد ؐ محمد ؐ( زاہد فخری)،ثنا کا موسم ،تحیّت(شہزاد مجددی) نویدِبخشش(افضل خاکسار)،حضوری چاہتی ہوں (پروین جاوید)،مدینہ یاد آتا ہے (رضااللہ حیدر)، ہر لفظ کے لب پر صل علی(شوذب کاظمی)،باب ِ فضیلت(خرم خلیق)،،نورِ مبیں(ریاض تصور)،مہر ِحرا(زہیر کنجاہی)، نچھاور جاں مدینے پر(احمد جلیل)،فانوسِ حرم(حسین سحر)،روشنی کے خدو خال (رفیع الدین راز) روح زائر ہے شہرِ طیبہ کی (احمد شہبازخاور)،،سوئے حرم(ارشد صابری)، جمال مصطفےؐ(حسن عسکری کاظمی)،دل آئینہ ہوا(رفیع الدین راز)،ذکر شہ والاؐ(ریاض حسین زیدی)،روح ایمان(منظر عارفی)،ارمغان شوق (گوہر ملیسانی )،روح الہام (شاعر لکھنوی)متاع نور( نور احمد قادری )باریاب (انور مسعود)،بحر تجلیات،جو آقا کا نقش قدم دیکھتے ہیں (ریاض ندیم نیازی )،نور سے نور تک (شاعر علی شاعر)،توفیق ثناء(محمد اکرم رضا)،امید طیبہ رسی ( عزیز احسن)،مدح ممدوح خدا(گستاخ بخاری)، مرے اندر مدینہ بولتا ہے ( بسمل شمسی )، زیارت ( بشیر رحمانی)،کلیات مظہر( حافظ مظہر الدین۔مرتب ارسلان احمد ارسل))،غزل کاس بکف (ریاض حسین چودھری)،لی مع اللہ( محبوب الہی عطا)،ہالہ ء رحمت( شاہد کوثری)،خلعت توقیر( شاکر کنڈان)،کلیات بیچین( بیچین رجپوریبدایونی)،کلیات اعظم( اعظم چشتی)،کلیات قادری ( مولانا غلام رسول قادری )، کلیات نعت ( اعجاز رحمانی)،کلیات ریاض شہروردی( حضرت ریاض الدین سہروردی )،کلیات بیدم ( بیدن وارثی )،زبور حرم (اقبال عظیم )، کلیات منور( منور بدایونی)،کلیات نیازی ( مولانا عبد الستار نیازی)،نعت نگینے ( نسیم سحر)،نعت دریچہ (ارشاد شاکر اعوان)فروغ نعت ( طارق سلطان پوری )اور دیگرکئی نعتیہ مجموعہ ہائے کلام منظر عام پر آئے ہیں،علاوہ ازیں نعت رنگ کراچی(صبیح رحمانی)، ماہ نامہ نعت لاہور (راجا رشید محمود)،سفیر نعت کراچی(آفتاب کریمی)،عقیدت سرگودھا(شاکر کنڈان)،شہر نعت فیصل آباد (شبیر احمد قادری)،دنیائے نعت کراچی (عزیزالدین خاکی) اوردیگرنعتیہ رسائل سمیت متعدد ادبی جرائد کے ذریعے بھی نعت کے فروغ کاکام ایک تحریک کے طور پر انجام دیا جا رہا ہے۔
اسی طرح تحقیق و تنقید نعت کے حوالے سے بھی کا ہو رہا ہے ۔اس ضمن میں ڈاکٹر عزیز احسن کی خدمات لائق تحسین ہیں۔وہ اب تک پاکستان میں اردو نعت کا ادبی سفر،اردو نعتیہ ادب کے انتقادی سرمائے کا تحقیقی مطالعہ،تعلق بالرسولؐ کے تقاضے اور ہم جیسی اہم کتب تصنیف کر چکے ہیں۔اسی طرح کچھ ادارے بھی نعت کے خصوص میں قائم ہیں اور مختلف سطحوں پر کام کر رہے ہیں۔ان میں نعت ریسرچ سنٹراور دبستان وارثیہ کی خدمات اپنی انفرادیت کے سبب نمایاں ہیں۔نعت ریسرچ سنٹر کے تحت ایک لائبریرٰ بھی قائم ہے ۔اس ادارے کے اب تک نعت نگر کا باسی۔ڈاکٹر ابو لخیر کشفی،اردو نعت میں تجلیات سیرت،(صبیح رحمانی)،وفیات نعت گویان پاکستان(ڈاکٹر منیر سلیچ)،مقالات نعت( اسد ثنائی) اور دیگر کئی کتب شائع ہو چکی ہیں۔دبستان وارثیہ کراچی اپنے قیام کے بعد سے اب تک کئی کتب شائع کر چکا ہے۔اس کا اختصاص یہ ہے کہ ادارہ کے تحت ردیف پر طرحی مشاعرے ماہانہ بنیادوں پر منعقد ہوتے ہیں اور پھر سال بھر میں کہی گئی نعتیں کتاب کی صورت پیش کر دی جاتی ہیں۔اکیسویں صدی کے آغازسے اب تک اس ادارے نے کرم عطا شرف نصیب ، وابستگی، فیض، منزل آگہی،تجلیاں،آپؐ سراپا نور،کیف آفریں تابانیاں،شگفتہ ہی شگفتہ،سرمایہ،روحانیت،مقدس نکہتں،شعور بے کراں،خزینہ الہام،گلشن جود وکرم اور نورانی حقیقت کے نام کتابیں قارئین کی خدمت میں پیش کی ہیں۔اسی طرح مختلف جامعات میں تحقیق کا کام بھی جاری ہے اور تدوین بھی۔کئی ادبی رسائی نے نعت نمبر بھی شائع کیے جن سہ ماہی ’’ادبیات‘‘ اسلام آباد کے نعت نمبر کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔گزشتہ سال شائو ہونے والے اس نعت نمبر کی اشاعت کا سہرا جہاں اس کے مدیر اختر رضا سلیمی اور دیگر معاونین کے سر بندھتا ہے وہیں اس قت کے چیئرمین اکادمی عبدالحمید بھی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس طرف توجہ کی۔ اس نمبر کی خاص بات علاقائی زبانوں کے نعتیہ ادب کے سفر سے متعلق مضامین اور نعتوںکے تراجم ہیں تاہم اس اہم نمبر میں مظفر وارثی صاحب کا نام شامل نہیں۔(شاید سہواً ایسا ہو گیا ہے)۔
میں اپنی یہ کاوش قارئین کی خدمت اس اعتراف کے ساتھ پیش کر رہا ہوں کہ میں اپنی کم علمی کے باعث موضوع سے انصاف نہیںکرپایا،مجھے یہ اعتراف بھی ہے کہ میں مذکورہ بالا عرصہ میں شائع ہونے والی تمام کتب تک رسائی حاصل کر سکا ہوں نہ ہی اس مدت کے رسائل کا کما حقہ مطالعہ ۔ پھر بھی جس قدر کتب اور رسائل دیکھ سکا ہوں ان میں سے کچھ منتخب اشعار اس مضمون میں شامل کیے ہیں، مجھے اپنی بے بضاعتی کا بھی اعتراف ہے لیکن بقول رحمان حفیظ:
بے بضاعت ہوں مگر نعتِ نبیؐ لکھی ہے
عشق کے زیر ِاثر نعتِ نبیؐ لکھی ہے
کسی بھی حوالے سے پہلا اور نیا کام خام ہوسکتاہے مگر اسے پہلی اینٹ کے مترادف ضرورسمجھا جاتا ہے،میری یہ کوشش اگر اکیسویں صدی کی نعت پر گفتگو کا حرف ِ آغاز بن سکے تو میرے لیے یہی بڑااعزاز ہوگا۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کو نشانا بنانے کے لیے مجھے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جمائما وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

وزیراعظم عمران خان کی سابق اور پہلی اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ان کے سابق شوہر کو سیاسی طور پر نشانا بنانے کے لیے 'آلے' کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ برطانوی اخبار 'ایوننگ اسٹینڈر' کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں 47 سالہ برطانوی نژاد جمائما گولڈ اسمتھ نے کہا کہ خود سے دگنی عمر کے شخص سے شادی کرنے کا فیصلہ آسان نہ تھا اور جن سے انہوں نے شادی کی وہ کوئی عام شخص نہیں تھے۔ جمائما گولڈ اسمتھ کے مطابق انہوں نے 21 سال کی عمر میں خود سے دُگنی عمر کے ایسے شخص سے ...

عمران خان کو نشانا بنانے کے لیے مجھے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جمائما

برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیس چاقو کے حملے میں ہلاک وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

وزیراعظم بورس جانسن کی کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیس چرچ میں چاقو سے کیے گئے قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایسکس پولیس نے بتایا کہ اپنے انتخابی حلقے میں ووٹرز سے ملاقات کرنے والے برطانوی 69سالہ رکن پارلیمنٹ کو ایک شخص نے چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا۔ان پر ایکسکس کے مغربی علاقے میں واقع بیلفیئرز میتھوڈسٹ چرچ میں حملہ کیا گیا اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔پولیس نے فوری طور پر چرچ میں آ کر ایک شخص ...

برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیس چاقو کے حملے میں ہلاک

افغانستان، مسجد میں بم دھماکا، 37فراد جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں جمعے کے روز ایک شیعہ مسجد میں ہوئے بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے جبکہ ستر سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بم دھماکا ٹھیک اس وقت ہوا جب مسجد میں نماز جمعہ ادا کی جا رہی تھی۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس بم دھماکے کا ہدف صوبے کی سب سے بڑی شیعہ مسجد بنی۔ طبی ذرائع کے مطابق اس دھماکے کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے معاون مشن برائے افغانستان UNAMA نے امام باڑہ فاطمیہ مسجد پر ہوئے اس بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ...

افغانستان، مسجد میں بم دھماکا،  37فراد جاں بحق، 70سے زائد زخمی

بعض باتوں کا جواب عمران خان ہی دے سکتے ہیں ، وزیر داخلہ وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اگلے جمعہ تک سب ٹھیک ہوجائے گا، معاملات طے ہوچکے ہیں، طریقہ کار کا اعلان 7 دن میں ہوجائے گا۔ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران شیخ رشید نے حکومت اور فوج میں کسی بھی نوعیت کے اختلاف کی تردید کی۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ مجھے اندازہ ہے، لیکن اس کے باوجود بعض باتوں کا جواب وزیراعظم عمران خان ہی دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگ بہت جلدی گھبرا جاتے ہیں، اس معاملے پر عمران خان نے پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لے لیا ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ میرے پاس ج...

بعض باتوں کا جواب عمران خان ہی دے سکتے ہیں ، وزیر داخلہ

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کی اوسط قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا ، نیپرا ذرائع وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

نیشنل الیکٹرک پاؤر ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا)ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کی اوسط قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ذرائع نیپرا کے مطابق پی ٹی آئی حکومت آنے سے پہلے بجلی کی اوسط قیمت11 روپے 72 پیسے فی یونٹ تھی، پی ٹی آئی حکومت کے دوران فی یونٹ بجلی کی قیمت میں اوسطا 6 روپے11 پیسے اضافہ ہوا۔ نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نیپرا کا کہنا ہے کہ حالیہ 1روپیہ 39 پیسے اضافے سے فی یونٹ اوسط قیمت 17 روپے 83 پیسے ہو جائے گی، اوسط قیمت فی یونٹ میں بنیادی ٹیرف اور سہ ماہی ٹیر...

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کی اوسط قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا ، نیپرا ذرائع

ملک میں مہنگائی کی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ بدستور جاری ہے، مہنگائی کی مجموعی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار مہنگائی کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے میں مہنگائی میں 0.20 فیصد کا اضافہ ہوگیا اور مہنگائی کی مجموعی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی۔ادارہ شماریات کے مطابق کم آمدنی والوں کے لیے مہنگائی کی شرح 14.12 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ ایک ہفتے میں 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 11 روپے تک ...

ملک میں مہنگائی کی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی

برطانیہ بینک فراڈ کی دنیا کا دارالحکومت بن گیا وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

برطانیہ بینک فراڈ کا گڑھ بن گیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے نے برطانیہ کو بینک فراڈ کی دنیا کا دارالحکومت قرار دے دیا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں لوگوں کے ایک ارب ڈالر اڑا لیے گئے۔ بیرون ملک سے دھوکے بازی میں بھارت اور مغربی افریقہ کے شہری ملوث نکلے۔خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ برطانوی ریکارڈ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں 754 ملین پونڈز چرائے گئے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہیں۔

برطانیہ بینک فراڈ کی دنیا کا دارالحکومت بن گیا

کورونا سے صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہوگئے ہیں، ڈبلیو ایچ او وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے کہاہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث فعال اور صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہوگئے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اپنے ایک بیان میں ڈبلیو ایچ او نے صحت، کھیل، تعلیم اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کے فیصلہ سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر جامع پروگرام اور خدمات کے لیے اقدامات اٹھائیں اور محفوظ ماحول پیدا کریں جس سے تمام برادریوں میں جسمانی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ ڈبلیو ایچ او کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سوزانہ جیکب کا اپنے بیان میں کہنا تھا...

کورونا سے صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہوگئے ہیں، ڈبلیو ایچ او

حیدرآباد، مختار کار کے گھر لاش ملنے پر ہنگامہ آرائی وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد کے علاقے قاسم آباد میں حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مختارِ کار ماجد خاصخیلی کے گھر سے ایک لاش ملنے کے بعد ہنگامہ آرائی کی نوبت آگئی ہے۔ ڈی آئی جی شرجیل کھرل کے مطابق مشتعل افراد نے مختارِ کار ماجد خاصخیلی کے گھر کا گھیراؤ کر لیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اسی دوران فائرنگ بھی کی گئی ۔فائرنگ کے نتیجے میں مختارِ کار ماجد خاصخیلی اور ان کے 2 بھائی زخمی ہو گئے۔کمشنرعباس بلوچ کے مطابق مختارِ کار ماجد خاصخیلی کی حالت تشویش ناک ہے۔ ...

حیدرآباد، مختار کار کے گھر لاش ملنے پر ہنگامہ آرائی

گھی اور آئل سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

یوٹیلیٹی اسٹورز نے گھی اور آئل سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف برانڈز کے گھی کی قیمتوں میں 40 سے 1090 روپے تک کا اضافہ کیا گیا، یوٹیلیٹی اسٹورز پر ڈالڈ گھی کی فی کلو قیمت میں 109 روپے تک اضافہ کر دیا گیا ،قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا اطلاق فوری ہوگا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یوٹیلیٹی اسٹورز پر ڈالڈا گھی کا 10 لٹر کین 1090 روپے مہنگا ہوگیا ،10 لٹر ڈالڈا گھی کا کین 2500 روپے بڑھ کر 3590 روپے کا ہوگیا۔ نوٹیفکیشن ...

گھی اور آئل سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ

بجلی کی قیمت میں 1.68 پیسے فی یونٹ اضافہ کی منظوری وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

حکومت نے بجلی کی قیمت میں مزید 1 روپے 68 پیسے فی یونٹ منظوری دیدی۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے عوام پر ایک بار پھر بجلی بم گرا دیا، اور بجلی کی قیمتوں میں 1 روپے 68 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی گئی ۔ وفاقی کابینہ نے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی سمری وزارت توانائی کی جانب سے بھجوائی گئی تھی۔بجلی کی قیمت میں اضافہ سہہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا، کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دی ، نیپرا نے سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ ...

بجلی کی قیمت میں  1.68 پیسے فی یونٹ اضافہ کی منظوری

نسلہ ٹاور خالی کروانے کا اشتہار شائع وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

کراچی میں نسلہ ٹاور کے رہائشیوں سے عمارت خالی کروانے کے اشتہار اخبارات میں شائع کردیے گئے ہیں۔کراچی میں اسسٹنٹ کمشنر فیروزآباد نے نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو عمارت 15 دن میں خالی کرنے کے اشتہار اخبارات میں شائع کرادئیے ہیں۔ نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ اگر نسلہ ٹاور خالی نہ کیا گیا تو رہائشیوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔ اشتہار میں سپریم کورٹ کے 16 جون اور 22 ستمبر والے فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عمارت خالی نہ کرنے کی صورت میں فیروزآباد پولیس کی مدد لی جا...

نسلہ ٹاور خالی کروانے کا اشتہار شائع

مضامین
روشن مثالیں وجود هفته 16 اکتوبر 2021
روشن مثالیں

تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش وجود هفته 16 اکتوبر 2021
تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش

سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے وجود هفته 16 اکتوبر 2021
سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے

پنڈورا پیپرز کے انکشافات وجود هفته 16 اکتوبر 2021
پنڈورا پیپرز کے انکشافات

بارودکاڈھیر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
بارودکاڈھیر

نخریلی بیویاں،خودکش شوہر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
نخریلی بیویاں،خودکش شوہر

آسام میں پولیس کی درندگی وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
آسام میں پولیس کی درندگی

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مضمرات؟ وجود جمعرات 14 اکتوبر 2021
کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مضمرات؟

میں بھول گیا تھا، وہ چیف آف آرمی اسٹاف ہے!! وجود جمعرات 14 اکتوبر 2021
میں بھول گیا تھا، وہ چیف آف آرمی اسٹاف ہے!!

امریکا کی آخری جنگ کی خواہش وجود منگل 12 اکتوبر 2021
امریکا کی آخری جنگ کی خواہش

مسلم قیادت کا بحران اوراسد الدین اویسی وجود منگل 12 اکتوبر 2021
مسلم قیادت کا بحران اوراسد الدین اویسی

کسانوں کے قتل پر نریندر مودی اور امیت شاہ کی مجرمانہ خاموشی وجود منگل 12 اکتوبر 2021
کسانوں کے قتل پر نریندر مودی اور امیت شاہ کی مجرمانہ خاموشی

اشتہار

افغانستان
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود جمعرات 30 ستمبر 2021
طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق وجود بدھ 15 ستمبر 2021
طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق

اشتہار

بھارت
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام وجود منگل 12 اکتوبر 2021
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام

مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں تیزی لانے کا منصوبہ وجود هفته 09 اکتوبر 2021
مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں  تیزی لانے کا منصوبہ

مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا

بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا

شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے
ادبیات
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!

طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ وجود منگل 24 اگست 2021
طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ
شخصیات
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی

ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین تحریر کیے وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین تحریر کیے

ڈاکٹرعبد القدیر خان نے8 سال کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ نصب کیا،ساری دنیا حیرت زدہ رہی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبد القدیر خان نے8 سال کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ نصب کیا،ساری دنیا حیرت زدہ رہی

آزاد کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی کوٹلی میں نماز جنازہ ادا وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
آزاد کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی کوٹلی میں نماز جنازہ ادا