وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

زیر زمین آسٹریلوی شہر’’کوبرپیٹی‘‘

اتوار    10    جون    2018 زیر زمین آسٹریلوی شہر’’کوبرپیٹی‘‘

کوبر پیڈی ایک ایسا آسٹریلوی ٹائون ہے جو کہ آسٹریلیا کے علاقے ایڈیلیڈ کے شمال میں 850 کلومیٹر کے فاصلے پر اسٹیورٹ ہائی وے کے ساتھ واقع ہے۔ یہ مقام دیکھنے میں کسی صحرا کی مانند لگتا ہے جہاں کوئی درخت موجود نہیں اور صرف ہموار زمین ہے۔آپ کو یہاں ایک دوسرے سے فاصلے پر واقع چند گھر،ریسٹورنٹس، ایک پولیس اسٹیشن ،ایک اسکول اور ایک ہسپتال دکھائی دے گا۔ لیکن آپ کو یہ جو دکھائی دے رہا ہے یہ صرف آدھا ٹائون ہے۔ اور باقی نصف ٹائون زیرِ زمین آباد ہے۔یہاں کے زیادہ تر رہائشیوں نے زیرِ زمین سرنگوں اور غاروں میں گھر، ہوٹل، ریسٹورنٹس، چرچ اور بہت کچھ تعمیر کر رکھا ہے۔ ان غاروں کو ’’dugouts‘‘کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ 1915 میں اس وقت آباد کیا گیا جب یہاں سے ایک 14 سالہ لڑکے نے ایک دودھیا پتھر (Opal )دریافت کیا۔ یہ لڑکا اس وقت یہاں اپنے والد اور ان کے ساتھیوں کے ساتھا آیا تھا جو اس مقام سے سونا تلاش کر رہے تھے۔تاہم سونا تلاش کرنے والے اس گروپ کے ارکان کو جلد ہی اس بات کا احساس ہوگیا کہ اس زمین کے اوپر زندگی گزارنا انتہائی مشکل کام ہے۔موسمِ گرما میں یہاں کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کرجاتا ہے جبکہ ہوا میںنمی 20 فیصد بھی نہیں ہوتی۔اس کے علاوہ آسمان پر بادلوں کے آثار بھی نہیں پائے جاتے۔

اس چلچلاتی دھوپ اور تپتے موسم سے محفوظ رہنے کے لیے ان لوگوں نے زیرِ زمین رہائش اختیار کرلی۔ابتدا میں ان گڑھوں میں ہی گھر تعمیر کرلیے گئے جنہیں دودھیا پتھروں کی تلاش کے لیے کھودا گیا تھالیکن رفتہ رفتہ اس میں جدت آتی گئی اور لوگوں نے پہاڑیوں کے اطراف میں گھر تعمیر کرنا شروع کردیے۔یہ گھر جدید سہولیات سے اآراستہ ہوتے جن میں کمرے، کچن، دیواروں میں بنائی جانے والی الماریاں، بار اور تہہ خانے تک شامل تھے اور گزرتے وقت کے ساتھ ان گھروں میں اب جدت اآتی جارہی ہے۔عام طور پر ان گھروں کا داخلی راستہ سڑک سے ہی ہوتا ہے لیکن کمروں کی وسعت پہاڑیوں کے اندرکی جانب ہوتی ہے۔یہ کمرے عمودی شافٹ کے ساتھ کچھ اس انداز سے تعمیر کیے جاتے ہیں کہ تمام کمرے ہوادار ہوتے ہیں۔یہ طرزِ زندگی پہلی جنگِ عظیم سے واپس آنے والے فوجیوں نے متعارف کروایا تھا۔ درحقیقت کوبر پیڈی کو Stuart Range Opal Field کے حوالے سے جانا جاتا ہے اور اس علاقے کو یہ نام John McDouall Stuart نے دیا تھا جنہوں نے 1858 میں اس علاقے کو پہلی مرتبہ دریافت کیا تھا۔1920 میں اس جگہ کو ،کوبر پیڈی کا نام دے گیا جس کے معنی ’’White Man’s hole‘‘ ہے۔

آج کوبرپیڈی دنیا کو سب سے زیادہ دودھیا پتھر یا اوپل فراہم کرنے والا علاقہ بن چکا ہے۔ اس ٹائون کے 70 سے زائد مقامات سے یہ پتھر نکالے جاتے ہیں۔اب اگر ہم بات کریں یہاں موجود زیرِ زمین آسائشوں کی تو یہاںآپ کو زیرِ زمین بک اسٹور بھی دکھائیدے گا جہاں ہر طرح کی کتب موجود ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں ایک زیرِ زمین چرچ بھی موجود ہے جس کا داخلی راستہ زمین کی سطح کے ساتھ ہی ہے اور اوپر سے دیکھنے میں قطعی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ اس عمارت کا اندرونی حصہ زیرِ زمین ہے بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ یہاں ایک زیرِ زمین گالف کورس بھی موجود ہے جہاں رات کے اوقات میں گالف کھیلی جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس گالف کورس میں کسی قسم کی گھاس موجود نہیں۔یہاں موجود زیرِ زمین ہوٹل بھی سیاحوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہوتے ہیں جو ہر طرح کی سہولیات سے آراستہ ہوتے ہیں۔اور ان ہوٹلوں کی خوبصورتی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔