وجود

... loading ...

وجود

ہوش کے ناخن نہ لیے تو بدترین قحط کا شکار ہونا ہمارے لیے نوشتہ دیوار ہے

هفته 09 جون 2018 ہوش کے ناخن نہ لیے تو بدترین قحط کا شکار ہونا ہمارے لیے نوشتہ دیوار ہے

سپریم کورٹ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کالاباغ ڈیم کی تعمیر سمیت ڈیمز سے متعلق دیگر مقدمات آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کردیئے۔ پاکستان میں نئے ڈیمز کی تعمیر اور پانی کی قلت پر قابو پانے کی مہم عروج پر پہنچ گئی ہے اور اسی تناظر میں سپریم کورٹ نے پانی سے متعلق مقدمات کی سماعت کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ روز دوران سماعت چیف جسٹس سپریم کورٹ مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ یہ واٹر بم کا معاملہ ہے‘ ہم پانی کے معاملہ کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں‘ پانی ہمارے بچوں کا بنیادی حق ہے‘ ہماری ترجیحات میں سب سے اہم پانی ہے۔ فاضل عدالت نے باور کرایا کہ بھارت کے کشن گنگا ڈیم کے باعث نیلم جہلم خشک ہوگیا‘ ہم نے اپنے بچوں کو پانی نہ دیا تو کیا دیا۔ فاضل عدالت نے اس سلسلہ میں وفاقی حکومت سے تحریری جواب بھی طلب کرلیا۔ گزشتہ روز چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم عدالت عظمیٰ کے سہ رکنی بنچ نے پانی کی قلت اور نئے ڈیم کی تعمیر سے متعلق بیرسٹر ظفراللہ خان کی دائر کردہ درخواست کی سماعت کی جس میں مو¿قف اختیار کیا گیا ہے کہ ہم پانی کی اسی صورتحال کو دیکھتے رہیں گے تو مر جائینگے۔ پاکستان کی 30 فیصد شرح ترقی پانی پر منحصر ہے مگر گزشتہ 48 سال سے ملک میں کوئی نیا ڈیم تعمیر نہیں ہو سکا۔ دوران سماعت فاضل عدالت نے بھارت کی جانب سے نئے ڈیم کی تعمیر پر تشویش کا اظہار کیا اور ریمارکس دیئے کہ آج سے ہماری ترجیحات میں اولین ترجیح پانی ہے۔ عدالت ہفتہ 9 جون کو کراچی‘ اتوار کو لاہور اور پھر اسلام آباد پشاور اور کوئٹہ میں پانی سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت کریگی اور پانی کی قلت اور ڈیم کی تعمیر سے متعلق تمام مقدمات کو خصوصی طور پر سنا جائیگا۔ فاضل چیف نے باور کرایا کہ پانی کے مسئلہ کا حل کسی بھی سیاسی جماعت نے اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کیا۔ کسی پارٹی کے منشور میں بھی پانی کا ذکر نہیں جبکہ پانی کے ایشو سے زیادہ کوئی ایشو اہم نہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس وقت سوشل میڈیا پر پینے کے صاف پانی کی قلت‘ کالاباغ ڈیم اور نئے ڈیمز کی تعمیر کے لیے زورشور سے مہم جاری ہے جس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے پانی کی فراہمی کی کمی کا ازخود نوٹس لیا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ انسانی و جنگلی حیات سمیت ہر ذی روح کی زندگی کا پانی پر ہی دارومدار ہے جبکہ پانی کی دستیابی ہی کسی ملک اور معاشرے کی خوشحالی اور استحکام کی ضمانت بنتی ہے جس سے فصلیں اور دوسری اجناس لہلہاتی ہیں‘ باغات نشوونما پاتے ہیں اور گل بوٹے اپنی خوشبو بکھیر کر ماحول کو معطر بناتے ہیں۔ پانی ربِ کائنات کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بے مثال نعمت ہے جس کے ذرائع بھی اس کرہ¿ ارض پر خالقِ کائنات نے خود ہی پیدا کیے ہیں جبکہ ان ذرائع سے استفادہ کرنا‘ بروئے کار لانا اور انہیں محفوظ کرنا انسانی ذہن رسا میں ڈالا گیا ہے۔ زندہ قومیں اپنی خوشحالی اور زندگی کی علامت پر مبنی ذرائع کو بے دریغ ضائع کرنے اور ان سے استفادہ کی کوئی تدبیر بروئے کار نہ لانے کی متحمل ہی نہیں ہو سکتیں۔ اس تناظر میں پانی کی حفاظت اور اسکے استعمال کی منصوبہ بندی ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے مگر بدقسمتی سے قیام پاکستان سے اب تک ہمارے کسی حکمران اور کسی سیاسی قائد نے پانی کی اہمیت کو پیش نظر کر اپنی پالیسیاں اور منشور مرتب ہی نہیں کیا حالانکہ یہ کھلی حقیقت ہے کہ ہمیں ایک آزاد اور خودمختار مملکت کی حیثیت سے بادل نخواستہ قبول کرنیوالے ہمارے مکار دشمن بھارت نے ہماری سالمیت کمزور کرنے کے لیے شروع دن سے ہی ہمارے خلاف پانی کا ہتھیار بروئے کار لانے کی ٹھان لی تھی کیونکہ اسے پورا ادراک تھا کہ پاکستان کی زرخیز دھرتی کو پانی دستیاب نہ ہوا تو یہ جلد ہی ریگستان میں تبدیل ہو کر فاقہ کش معاشرے میں تبدیل ہو جائیگا اور پھر ایڑیاں رگڑتا واپس ہماری جھولی میں آگرے گا۔ اس جنونی سوچ کے تحت ہی اس نے خودمختار ریاست کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہ ہونے دینے کی ٹھانی اور اس مقصد کے لیے تقسیم ہند کے فارمولے کو بھی درخوراعتناء￿ نہ سمجھا۔ اس نے قیام پاکستان کے ساتھ ہی اپنی فوجیں وادی کشمیر میں داخل کرکے اسکے غالب حصے پر اپنا تسلط جمالیا‘ نتیجتاً اس نے کشمیر کے راستے سے پاکستان آنیوالے دریا?ں کے پانی کو بھی اپنے قابو میں کرلیا۔ یہی کشمیر کو متنازعہ بنانے کی اسکی حکمت عملی تھی جس پر وہ گزشتہ سات دہائیوں سے کاربند ہے اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے اقوام متحدہ کی درجن بھر قراردادوں اور دوسرے عالمی فورموں پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اٹھائی جانیوالی آوازوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے بھارت کشمیر پر اٹوٹ انگ والی اپنی ڈھٹائی پر قائم ہے۔ اسی پس منظر میں بھارت ہم پر تین جنگیں مسلط کرچکا ہے‘ ہمیں سانحہ¿ سقوط ڈھاکہ سے دوچار کرچکا ہے اور باقیماندہ پاکستان کی سلامتی کو بھی زک پہنچانے کے لیے وہ کشمیر سے آنیوالے دریا?ں پر اپنی اولین ترجیح کے طور پر تسلط جماچکا ہے جن پر سندھ طاس معاہدے کے برعکس اب تک ڈیڑھ سو سے زائد چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کرکے وہ پاکستان کو ان دریا?ں کے پانی سے ایک ایک قطرے سے محروم کرنے کی مکمل منصوبہ بندی کیے بیٹھا ہے۔

بھارت کی ان سازشوں کے پیش نظر تو ہماری قومی سیاسی حکومتی قیادتوں کو قومی جذبے سے سرشار ہو کر اپنے حصے کے پانی کے حصول اور مختلف ڈیمز کے ذریعے اس پانی کو بروئے کار لاکر جامع‘ ٹھوس اور قابل عمل پالیسی طے کرنا چاہیے تھی جسے ایک دوسرے پر پوائنٹ سکورنگ اور بلیم گیم والی سیاست کی زد میں آنے سے مکمل محفوظ رکھا جاتا اور کوئی سیاسی جماعت اور اس کا لیڈر پانی پر کسی قسم کی مفاہمت کا سوچ بھی نہ سکتا۔ مگر بدقسمتی سے مفاد پرستی کی سیاست قومی سلامتی کی سیاست پر حاوی ہوگئی اور سیاست دانوں کے ایک طبقے نے جس کی ڈوریاں ہماری سلامتی کے درپے بھارت کی جانب سے ہی ہلائی جارہی تھیں‘ کالاباغ ڈیم کو متنازعہ بنایا اور اسکے علاوہ بھی کوئی نیا ڈیم تعمیر ہونے دیا نہ اسکی جانب کسی قسم کی پیش رفت کی۔

بھارت نے تو پوری چالبازی کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کو بھی اپنے مفاد میں استعمال کیا جس میں پاکستان کیخلاف ڈنڈی مارتے ہوئے پہلے ہی تین دریا ستلج‘ بیاس اور راوی مکمل طور پر بھارت کی تحویل میں دے دیئے گئے تھے جبکہ باقی ماندہ تین دریائوں جہلم‘ چناب اور سندھ پر بھی پاکستان کے بعد بھارت کو ڈیمز تعمیر کرنے کا حق دے دیا گیا۔ یہ ہمارے حکمرانوں اور آبی ماہرین کی خودغرضیوں کا ہی شاخسانہ ہے کہ ہم تین دریائوں پر پہلے ڈیم تعمیر کرنے کے حق سے بھی استفادہ نہ کرسکے اور بھارت کو ان دریائوں پر بھی ڈیم بنانے کا جواز فراہم کردیا۔ جب بھارت نے مقبوضہ وادی میں پہلی بار دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم کی تعمیر شروع کی تو ہمارے حکمران اور آبی ماہرین نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے رکھیں اور اس پر عالمی بنک میں کسی قسم کا اعتراض نہ اٹھایا اور جب اس ڈیم کی تعمیر مکمل ہوگئی تو ہمارے منصوبہ سازوں کو ہوش آئی اور انہوں نے اس ڈیم کیخلاف عالمی بنک سے رجوع کیا مگر وہاں اس لیے شنوائی نہ ہو سکی کہ اب تو ڈیم تعمیر بھی ہوچکا ہے جسے گرانے کا حکم دینا مناسب نہیں۔

دریائے سندھ پر ڈیم کی تعمیر ہمارا اولین حق تھا جسے بروئے کار لانے کے لیے ایوب خان کے دور میں کالاباغ ڈیم کے مقام پر ڈیم کی تعمیر تجویز ہوئی جسے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اپنے دور میں عملی جامہ پہنایا مگر بھارت کے پروردہ ہمارے مفاد پرست سیاست دانوں نے علاقائیت اور قوم پرستی کے ہوائی نعرے لگا کر اس ڈیم کی مخالفت کے لیے پر تولنا شروع کر دیئے۔ درحقیقت صوبہ سرحد اور سندھ کے یہ عناصر بھارت کے زرخرید تھے جنہیں ہمارے اس دشمن ملک نے اپنی طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت ہی رقوم اور ایجنڈا فراہم کرکے کالاباغ ڈیم کی مخالفت پر کمربستہ کیا چنانچہ اسی ایجنڈے کے تحت اے این پی کے سرخپوش رہنما?ں نے اس ڈیم کو ڈائنامائٹ مار کر اڑانے کی دھمکیاں دینا شروع کردیں جبکہ سندھ کے نام نہاد قوم پرست سیاست دانوں نے یہ اعلان کردیا کہ کالاباغ ڈیم انکی لاشوں پر سے گزر کر ہی بنایا جائیگا۔

بدقسمتی سے ہماری پاور پالیٹکس میں مفاد پرستی اتنی حاوی ہوگئی کہ قومی سلامتی اور مفادات کے منافی سوچ رکھنے والے سیاست دانوں کو اپنے اقتدار کی مجبوری بنا کر انکی بلیک میلنگ کے آگے سر تسلیم خم کرنا شروع کر دیا گیا۔ بھٹو کے بعد جرنیلی آمر ضیاء الحق نے کالاباغ ڈیم پر قوم پرستی کی سیاست کرنیوالوں کو خود ڈیم کی مخالفت کا موقع فراہم کیا جبکہ دوسرے جرنیلی آمر مشرف نے بھی اپنے اقتدار کے آخری دور میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا اعلان کرنے کے باوجود اسکی جانب کوئی پیش رفت نہ کی اور پھر پیپلزپارٹی کی قیادت نے اپنے عہد حکمرانی میں 18ویں آئینی ترمیم کی متفقہ منظوری کی خاطر اے این پی کے ساتھ کالاباغ ڈیم کی فائل دریائے سندھ کی نذر کرنے کا عہد کرلیا اور شومئی قسمت کہ اس وقت کی اپوزیشن مسلم لیگ (ن) نے بھی مفاداتی سیاست کے تابع اے این پی کی اس سیاست کو قبول کیا چنانچہ اسے اپنے دور اقتدار میں بھی اس ڈیم کی تعمیر کے لیے کسی قسم کی پیش رفت کی جرأت نہ ہوئی۔ حد تو یہ ہے کہ اس ڈیم کے علاوہ دوسرے کسی بڑے ڈیم کی تعمیر کے لیے بھی کوئی منصوبہ بندی نہ کی گئی حالانکہ توانائی کا بحران ملک کی بنیادیں ہلاتا نظر آرہا تھا۔ نوائے وقت گروپ نے کالاباغ ڈیم کو مفاد پرستی کی اس سیاست کی نذر ہوتا دیکھ کر اپنے پلیٹ فارم پر کالاباغ ڈیم پر قومی ریفرنڈم کے انعقاد کا بیڑہ اٹھایا۔ اس ریفرنڈم میں کے پی کے سمیت ملک کے تمام صوبوں کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ کالاباغ ڈیم کے حق میں ووٹ دیا مگر مفاد پرستی کے بوجھ تلے دبے ہمارے حکمران طبقات ٹس سے مس نہ ہوئے۔ اسکے برعکس بھارت نے بگلیہار کے بعد کشن گنگا اور راتلے ڈیم بھی تعمیر کرلیے اور ہمارے حصے کے دریائوں پر چھوٹے بڑے ڈیمز کے ڈھیر لگا دیئے۔ اسی کی بنیاد پر بھارتی وزیراعظم مودی بڑ مار چکے ہیں کہ پاکستان کو پانی کے ایک ایک قطرے سے محروم کر دیا جائیگا۔

یہ تلخ حقیقت اپنی جگہ پر موجود ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجہ میں ہماری دھرتی پر موجود پانی کے ذخائر میں حیرت ناک حد تک کمی واقع ہورہی ہے اور زیرزمین پانی کی سطح بہت تیزی سے نیچے گررہی ہے۔ آبی ماہرین اسی تناظر میں خطرے کی گھنٹی بجاچکے ہیں کہ 2025ء تک زیرزمین پانی تک ہماری دسترس ختم ہو جائیگی۔ اس وقت بھی ملک کے بیشتر حصوں بالخصوص سندھ میں پانی کی اس حد تک قلت ہوچکی ہے کہ لوگ پانی کے حصول کے لیے ٹکریں مارتے نظر آتے ہیں۔ اس کا واحد حل پانی ذخیرہ کرنے کے ذرائع پیدا کرنا ہے مگر ہمارے حکمران طبقات اس بصیرت سے محروم ہیں جو بھارتی آبی دہشت گردی کیخلاف اپنا مضبوط کیس تیار کرنے کے بھی اہل نہیں۔ عالمی سروے رپورٹوں میں بھی پاکستان شدید آبی قلت والے دس ممالک کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے اس لیے پانی کے تحفظ سے بڑی ترجیح ہمارے لیے اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ اس تناظر میں عدالت عظمیٰ نے تحفظ آب اور ڈیم کی تعمیر کو اولین ترجیح بنا کر ان معاملات پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کا آغاز کیا ہے تو اب اسے بہرصورت منطقی انجام تک پہنچایا جانا چاہیے۔ اس وقت پانی کے مسئلہ سے عہدہ برا¿ ہونے کے لیے جامع قومی پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے اور معاملہ اب یا کبھی نہیں والا ہے اس لیے ریاست کو آبی ذخائر محفوظ کرنے کی ہر کوشش کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں معاون بننا چاہیے بصورت دیگر ہمارا صومالیہ اور ایتھوپیا جیسے حالات سے دوچار ہونا نوشتہ دیوار ہے۔


متعلقہ خبریں


اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

مضامین
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال وجود پیر 23 مارچ 2026
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال

آئی ہے عید ہر سال کی طرح وجود پیر 23 مارچ 2026
آئی ہے عید ہر سال کی طرح

بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی وجود پیر 23 مارچ 2026
بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی

ایرانی ایٹم بم وجود پیر 23 مارچ 2026
ایرانی ایٹم بم

ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی ! وجود پیر 23 مارچ 2026
ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر