وجود

... loading ...

وجود

ریحام کی کتاب کے نام پراٹھاطوفان شدیدترہونے لگا

جمعه 08 جون 2018 ریحام کی کتاب کے نام پراٹھاطوفان شدیدترہونے لگا

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی دوسری سابقہ اہلیہ ریحام خان اور ان کی کتاب لانچنگ سے قبل ہی میڈیا میں موضوع بحث بن گئی ہے۔ ریحام خان کی کتاب سے متعلق اس وقت طوفان برپا ہوا جب پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ انہوں نے ریحام خان کی کتاب پڑھی ہے جس میں انہوں نے عمران خان کو بد ترین شخص اور خود کو نیک، پارسا اور تہجد گزار خاتون کے طور پر بیان کیا ہے۔اس کے بعد ریحام خان کی کتاب سے متعلق ایک بحث شروع ہو گئی جس کی زد میں ریحام خان خود بھی آئیں اور انہیں اچھی خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف کالم نگار جاوید چوہدری نے حمزہ علی عباسی سے سوال کیا کہ اس کتاب میں آپ کو اچھی چیز کیا لگی ؟ جس پر حمزہ علی عباسی نے کہا اس کتاب میں اچھی چیز مجھے یہی لگی جس طرح ریحام خان نے خود کو بیان کیا، اور کہا کہ میں پانچ وقت کی نمازی اور تہجد گزار ہوں، اپنی کتاب میں ریحام خان نے لکھا کہ جب میں ٹی وی پر شو کرتی تھی تو میں نے اسٹیبلشڈ اینکرز کی ریٹنگز تباہ کر دیں،میں نے نئے قوانین متعارف کروائے،اینکرز کی الماریوں میں شراب کی بوتلیں ہوتی تھیں، میں نے کہا ہٹاؤ ان کو۔
ایک اورنجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی نے کہا کہ ریحام خان نے اپنی کتاب میں کئی بڑے ٹی وی اینکرز پر ایجنسیوں کے ایجنڈے پر کام کرنے اور ان سے پیسے لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

حمزہ علی عباسی نے کہا کہ اپنی کتاب میں ریحام خان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایک کرنل رینک کے افسر نے ان کو بْلایا ، لفافے کی پیشکش کی، اور مجھے کہا کہ ہم چاہتے ہیں آپ ہمارے لیے یہ کام کریں۔اور آہستہ آہستہ ان سے بات کی کہ ذرا آپ بھی ہمارے ساتھ شریک ہوں۔ لیکن چونکہ ریحام خان بہت دیانتدار ہیں لہٰذا انہوں نے لکھا کہ میں نے کرنل کو منع کر دیا اور کہا کہ مجھے کوئی خرید نہیں سکتا۔

ریحام خان نے پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان پر شادی سے قبل جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے ۔ اس حوالے سے ٹی وی چینل کے اینکر شہزاد اقبال نے اپنے پروگرام میں ریحام خان کی کتاب سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریحام خان نے اپنی کتاب میں عمران خان سے ایک ملاقات کا تذکرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ شادی سے پہلے میری عمران خان سے دوسری ملاقات تھی۔

مران خان نے مجھے شادی سے پہلے اپنے گھر بلایا۔چونکہ یہ ہماری دوسری ملاقات تھی اس لیے میں بہت گھبرائی ہوئی تھی۔اور میں پریشان تھی کہ آخر مجھے عمران خان نے اپنے گھر کیوں بلایا ہے۔اس لیے میں نے احتیاطا اپنی ایک دوست کو بنی گالا کے باہر رکنے کے لیے کہا۔اور کہا کہ اگر میرے ساتھ کوئی الٹی سیدھی حرکت ہوتی ہے تو میں تمھیں کال کروں گی اورپھر ہم یہاں سے چلیں جائیں گے۔

ریحام خان کا کہنا تھا کہ جب میں بنی گالا پہنچی تو عمران خان نے مجھے واک پر چلنے کے لیے کہا اور میری ہیلز دیکھ کر کیا کہ تمہاری ہیلز بہت اونچی ہیں۔تم ان میں کیسے چلو گی؟۔پھر میں اپنی ہیلز بیگ میں رکھیں اور بیگ سے دوسرے جوتے نکال کر ڈالے۔اس واک کے دوران عمران خان کبھی اپنی سیاست پر باتیں کرتے تھے۔کبھی بچوں کا ذکر کرتے تھے اور کبھی میری تعریفیں کرتے تھے۔

پھر ہم نے کھانا کھایا اور کھانے کے بعد عمران خان نے مجھے جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی۔میں ڈر گئی اور سوچنے لگ گئی کہ میں یہاں کیوں آئی۔اور میں نے دھکا دے کر عمران خان کو دور کیا۔تو عمران خان نے مجھے کہا میں جانتا ہوں تم اس طرح کی لڑکی نہیں ہوں اس لیے میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔تو میں نے کہا کہ آپ پاگل ہو گئے ہیں میں آپ کو جانتی تک نہیں اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم شادی کر لیں۔

ایک انٹرویوکے دورا ن ریحام خان نے کہا کہ میری کتاب میں ایک بلیک بیری کا ذکر ہے اور تحریک انصاف اسی سے خوفزدہ ہے ۔ میری پوری کوشش ہے کہ کتاب انتخابات سے پہلے شائع ہو، کتاب پر رائیونڈ کنکشن کا الزام لگایا ہے تو ثبوت بھی لائیں۔ ریحام خان نے کہا کہ پارٹی ترجمان فواد چوہدری کی پریس کانفرنس پر توجہ نہیں دینی چاہیے، کسی کو حق نہیں کہ مجھے وارننگ دے، میں کسی کی عزت نہیں اچھال رہی، یہ خود باتیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں کسی کے کندھے پر بندوق رکھ کر کتاب نہیں لکھ رہی، میرے پاس ای میلز بھی ہیں اور شواہد بھی موجود ہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف کی سابق اہلیہ نے کہا کہ تردید میں تب کروں جب میں نے کوئی بیان دیا ہو، تردید تو پی ٹی آئی کو کرنی چاہیے، یہ کتاب حمزہ عباسی کی سوشل میڈیا پر ہے وہ تردید کریں۔۔ریحام خان نے واضح کیا کہ میرے پیچھے کوئی مغربی قوت اور سیاسی جماعت نہیں ہے، میں کسی کی عزت نہیں اچھال رہی یہ خود باتیں کر رہے ہیں، میں جوابدہ نہیں ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ وہ بڑی جماعت ہے لیکن میں نہیں سمجھتی۔۔عمران خان کی سابق اہلیہ نے کہا کہ میری کتاب جب شائع ہو جائے پھر جس کو جو کہنا ہے کہے۔انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے کافی لوگ میرے ساتھ رابطے میں ہیں ،بہت لڑکیاں جو پارٹی میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتیں رابطہ کرتی ہیں۔ ریحام خان نے کہا کہ لیگل نوٹس میں احسن اقبال کا کوئی تذکرہ نہیں، ان سے ملاقات کا اتفاق نہیں ہوا تو مریم نواز سے کیسے ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کس بات سے ڈر رہے ہیں،مجھے چپ کیوں کرا رہے ہیں جہاں تک ہو سکا میں ان مافیا کیخلاف لڑوں گی۔یاد رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی دوسری سابقہ اہلیہ ریحام خان کی کتاب گذشتہ ہفتے سے ہی سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے پروگرامز میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ریحام خان کی کتاب کے گردش کرتے اقتباسات اور کتاب میں عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں پر عائد کیے جانے والے ان کے گھناؤنے الزامات پر سوشل میڈیا صارفین بھی آگ بگولہ ہوئے۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سے شادی کے بعد پی ٹی آئی کے حامیوں سمیت پوری قوم نے ریحام خان کو ”نیشنل بھابھی” کا خطاب دیا تھا لیکن اب عمران خان اور ان کے ساتھیوں پر کیچڑ اْچھالنا ریحام خان کو مہنگا پڑ گیا ، ریحام خان کی کتاب پر سوشل میڈیا صارفین شدید غم و غصے کا شکار ہیں اور انہوں نے ریحام خان کو آڑے ہاتھوں لینے کے ساتھ ساتھ ان کو سخت تنقید کا بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر RehamOnPMLNAgenda# کا ٹرینڈ بھی بن گیا ، سوشل میڈیا صارفین نے ریحام خان کو مسلم لیگ ن کے ایجنڈے پر کام کرنے والی خاتون قرار دیا۔


متعلقہ خبریں


پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

مضامین
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو! وجود جمعه 20 مارچ 2026
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو!

''را''کے خلاف امریکی پابندی وجود جمعه 20 مارچ 2026
''را''کے خلاف امریکی پابندی

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی وجود جمعه 20 مارچ 2026
امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود جمعرات 19 مارچ 2026
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود جمعرات 19 مارچ 2026
خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر