مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارخانے کی منتقلی آخری قسط

محمد انیس الرحمٰن
صحرا بہ صحرا

اسی مقصد کی خاطر مصر میں اخوان المسلمون کی حکومت ایک سال کے لیے بننے دی گئی اگر صدر مرسی کی قیادت میں اخوانی مصر میں حکومت نہ بناتے تو اس وقت بے شک کوئی اور لیبرل حکومت قاہرہ میں ہوتی لیکن اخوان کے نام پر ایک طاقتور اپوزیشن بھی موجود ہوتی لیکن اخوانیوں نے اقتدار کی جلدی میں اپنی تاریخ کی بھیانک ترین غلطی کر ڈالی، نتائج سب کے سامنے ہیں۔اخوانیوں کی مصر میں حکومت بننے دینے کے دو بڑے مقاصد تھے سب سے پہلے دیگر عرب ملکوں کو خبردار کرنا کہ اگر اسی قسم کا جمہوری عمل عالم عرب کے اس اہم ترین ملک میں جاری رہا تو پھر باقی عرب ملکوں میں بھی اسلامی تحریکیں ووٹ کے ذریعے حکومتیں بنانے میں کامیاب ہوجائیں گی اس کے علاوہ ایسے تیل پیدا کرنے والے امیر خلیجی ملک جہاں پر بادشاہتیں ہیں ان کے عوام بھی جمہوریت کے قیام کا مطالبہ کرکے اس کے لیے جدوجہد کر سکتے ہیں جس کا مطلب ہوگا کہ ان بادشاہتوں کی چھٹی۔ دوسری جانب اس اس حکومت کے قیام کے بعد ہی مصری فوج کو اس کے خلاف کریک ڈاؤن کا موقع میسر آتا جیسا کہ بعد میں ہوا ۔ اس لیے اخوانیوں کی حکومت اور لیبرل اپوزیشن کے درمیان اختلافات کی خلیج پیدا کی جانے لگی۔ امریکہ اور یورپ اس بات سے اچھی طرح واقف تھے کہ اخوان حکومت کسی طور بھی اپنے منشور کے مطابق لیبرل اپوزیشن کے مطالبات تسلیم نہیں کرے گی اس لیے ان میں فاصلے بڑھتے جائیں گے اور آخر فوج کو مداخلت کرکے اخوانیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا جواز میسر آجائے گا دوسری جانب اخوان حکومت کے خلاف وہ عرب ملک بھی مصری آمر کی مدد کریں گے جو اخوان کے مصر میں اقتدار میں آجانے کے بعد سے خائف ہیں کہ یہ سیلاب کہیں ان کی جانب نہ رخ کرلے اور ایسا ہی ہوا اس کے بعد مصر میں جو خونریزی ہوئی وہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ وہ دن اسرائیل میں بڑے جشن کا دن تھا۔عالمی صہیونیت کا مغرب کی سمت سے ایک بڑا مقصد پورا ہورہا تھامصر میں اقتدار کی تبدیلی اورحسنی مبارک کی رخصتی کی شکل میں جو کھیل شروع کیا گیا تھا وہ اب رنگ لا رہا تھا۔

مندرجہ بالا تمام حقائق کو ذہن میں رکھ کر یاد رکھیں کہ قرآن کریم میں جس مصر کا ذکر کیا گیا ہے وہ اتنا بڑا نہیں تھا جتنا کہ آج دنیا کے نقشے پر ہے موجودہ مصر فرانسیسی اور برطانوی استعمار کے زمانے میں گھڑا گیا تھا قرآن کریم اور یہودیوں کی تاریخ کے مطابق مصر کی حدود دریائے نیل کے مشرقی ڈیلٹا سے بحیرہ احمر تک ہے جس میں صحرائے سینا کا علاقہ بھی آتا ہے۔ اس تمام علاقے کو اسرائیلی درحقیقت ’’عظیم تر اسرائیل ‘‘ میں تصور کرتے ہیں کیونکہ ان کے جھنڈے میں دو نیلی پٹیاں ایک طرف دریائے نیل اور دوسری جانب دریائے فرات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اس وقت جدید قاہرہ دریائے نیل کے مغربی حصے پر واقع ہے جبکہ قدیم قاہرہ نیل کی مشرقی جانب ہے دنیا بھر کے تمام سفارتخانے مغربی کنارے پر واقع جدید قاہرہ میں ہیں جبکہ صرف اسرائیلی سفارتخانہ دریائے نیل کے مشرقی جانب ہے۔۔۔!! اب اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا کیا مقصد ہے۔ عراق ، شام ، یمن اور لبنان میں شیعہ سنی جنگ کروائی گئی، تو اب صحرائے سینا کے وسیع علاقے کو داعش کے خلاف جنگ کے نام پر خالی کرایا جارہا ہے، وہاں کے مکینوں کو جبری طور پر اپنی زمین چھوڑنے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے، کیوں؟ ان صہیونی ایجنٹوں نے داعش کے روپ میں پہلے مصری فوج پر حملے شروع کیے تاکہ یہاں جنگ کی فضا پیدا کی جائے بالکل ایسے جس طرح پاکستان کے شمالی علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کو پاک فوج اور عوام کے خلاف سرگرم کیا گیا شہروں میں خودکش حملے کروائے گئے ہزاروں پاکستانی مسلمانوں اور فوجیوں کو شہید کیا گیا بالکل یہی کھیل صحرائے سینا میں شروع کیا گیا۔ جس وقت مصری فوج کے قافلوں پر حملے بڑھ گئے اور جانی نقصان میں اضافہ ہونا شروع ہوا تو باقاعدہ اس علاقے میں ایک جنگ کی کیفیت پیدا ہوئی جو تاحال جاری ہے لیکن اب اس جنگ کی آڑ میں اس علاقے کو کیوں خالی کرایا جارہا ہے ؟ صاحب بصیرت افراد اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ اس کے پیچھے ایک بڑی صہیونی دجالی سازش کارفرما ہے۔جس وقت مصر میں اخوانیوں کا قلع قمع کیا جارہا تھا اس وقت تیل پیدا کرنے والے عرب ملکوں کو بھی یہ پیغام دیا جارہا تھا کہ اگر انہوں نے اب اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا کھل کر اظہار نہ کیا تو اس ’’جن‘‘ کو دوبارہ بوتل سے باہر نکالا جاسکتا ہے یوں ان ریاستوں کے حکمرانوں نے مکمل طور پر اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور اسرائیل سے دوستانہ تعلقات کے اظہار میں ایک دوسرے سے سبقت لیجانے لگے۔ ایک عرب ریاست میں تو باقاعدہ ایسی یورپین اور امریکن کمپنیوں کے دفاتر کھل گئے جو مقبوضہ بیت القدس میں فلسطینی مسلمانوں کی جائدادیں کئی گنا زیادہ قیمت پر عرب دلالوں کے ذریعے خرید رہی ہیں تاکہ عربوں کو مکمل طور پر اس شہر سے بے دخل کردیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ غزہ اور دیگر مقبوضہ علاقوں کے فلسطینی مسلمانوں نے اس رمضان میں اس عرب ریاست کی جانب سے بھجوائی جانے والی خوراک کی امداد ٹھکرا کر واپس کردی ہے۔

اب جبکہ ستر فیصد مشرق وسطی میں آگ لگ چکی ہے اسرائیل کے مغربی جانب یعنی مصر میں اور اسرائیل کے مشرقی جانب یعنی باقی مشرق وسطی میں پلیٹ فارم پوری طرح سے تیار ہوچکا ہے تو مقبوضہ بیت المقدس کی جانب پیش قدمی کا وقت آن پہنچا ہے جس مقصد کے لیے یہ سارا کھیل شروع کیا گیا تھا۔ لیکن اس سارے کھیل کے ڈراپ سین سے پہلے ایک بڑی عالمی ’’قوت‘‘ کا مقبوضہ بیت المقدس میں اپنا سفارتخانہ منتقل کرنے کا اعلان اس بات کی گارنٹی ہوتا کہ اسے یہودیوں کے رسمی دارالحکومت کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے بعد میں دیگر ملک بھی اس صف میں شامل ہوتے جائیں گے۔ یوں اب امریکی صہیونی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ٹرمپ کو اشارہ دیا گیا کہ وہ اس کا اعلان کرے جو اس نے کردیا۔یہ اب مقبوضہ بیت المقدس کو دجالی صہیونی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی جانب پہلا قدم ہے۔ اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کی مدد سے سوڈان کے سوی مشرقی افریقہ کی ساحلی پٹی پر واقع تمام افریقی ملکوں پر اپنا اثرورسوخ جما چکاہے امریکہ ، برطانیہ اور فرانس نے صومالیہ اور آریٹریا میں اسی مقصد کے لیے مستحکم حکومتیں نہیں بننے دی تاکہ اسرائیل کے آئندہ مقاصد کے سامنے یہاں کوئی بڑی رکاوٹ نہ کھڑی ہوسکے اورعالمی جنگ کی صورت میں یہاں سے چین کی معاشی پیش قدمی روکی جاسکے۔ ہم پہلے بھی اس جانب اشارہ دے چکے ہیں کہ شمالی شام تک جنگ کا دائرہ پھیلانے کا بڑا مقصد روس کا کرائمیا تک اثر رسوخ کمزور کیا جائے۔

اب چونکہ ’’ملحمہ الکبری‘‘ یا تیسری عالمی جنگ کا بگل بج رہا ہے اس کے آغاز کے لیے ایران سے جوہری معاہدہ ختم کرکے انقلاب ایران کی چار دہائیوں کے بعد پہلی مرتبہ ’’لفظی جنگ‘‘ کو حقیقی جنگ میں بدلنے کی تیاری ہے۔ اس سارے معاملے میں 44مسلم ممالک کے عسکری اتحاد کی کوئی جگہ بنتی نظر نہیں آتی۔ شام کے محاذ پر شیعہ اور سنی تنظیموں نے ایک دوسرے کو مار مار کر اسرائیل کا کام پہلے ہی آسان کردیا ہے ۔ روسی صدر پوٹن نے گذشتہ دنوں بشار الاسد کا ماسکو میں تذلیل آمیز استقبال کرکے اشارہ دے دیا ہے کہ وہ بشار سے تنگ آچکا ہے، دوسری جانب بشار الاسد کی جانب سے ایران اور اس کی حلیف ملیشیاؤں سے بیزاری کا اظہار کیا جارہا ہے۔ عراق میں مقتدی الصدر جس کی جماعت نے عراقی انتخابات میں اکثریت حاصل کرلی ہے نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو 24گھنٹے کے اندر عراق کی سرزمین چھوڑ دینے کا الٹی میٹم دے دیا تھا۔لبنان میں ایران نواز حزب اللہ نے سعد الحریری کی حکومت نہیں چلنے دی اب دوبارہ اپنی شرائط پر انتخابات کرائے ہیں تواسکے نمائندے بڑی تعداد میں کامیاب ہوگئے ہیں۔آگے جاکر ایران نواز اور عرب نواز گروپوں میں مزید کھینچا تانی کی کیفیت پیدا ہونے کے آثار ہیںیعنی اسرائیل کے لیے پوری طرح اسٹیج تیار ہوچکا ہے۔ اس ساری صورتحال میں چین کی بھرپور کوشش ہے کہ اس کی دکان یعنی اس کا معاشی سفر دنیا میں جاری رہے دوسری جانب روس امریکی اور اسرائیلی رسوخ کو کرائمیا سے دور رکھنے کی تگ ودو میں ہے۔ اسرائیل کی دجالی پیش قدمی کو جس وقت ان دونوں ملکوں کی جانب سے ’’اقوام متحدہ‘‘ میں چیلنج کیا جائے گاتو امریکہ کی جانب سے حکم آجائے گا کہ یہاں سے اپنا بوریا بستر گول کرو۔ یوں بڑی جنگ کا آغاز ہوگا جس میں سب سے زیادہ خون عربوں کا بہے گا ،حضرت اسماعیلؒ علیہ اسلام کی گردن پر رکھی جانے والی چھری اب عربوں کی گردن پر چلے گی ۔۔۔جیسے ہم نے عراق اور شام میں دیکھا۔ ایران میں عوامی بے چینی کا پہلے ہی آغاز کیا جاچکا ہے یہاں پر بھی بڑا خون خرابہ کرانے کی سازش ہے اس لیے ایرانی ملاؤں کی حکومت کو فارغ کرکے تہران پر کسی ’’اشرف غنی‘‘ کو بٹھایا جائے گا۔لبنان میں حزب اللہ کو امریکہ اور اسرائیل مل کر دبوچنے کی منصوبہ بندی میں ہیں باقی عرب ریاستیں ویسے ہی فارغ ہیں اگر مصر کی جانب سے صحرائے سینا میں اسرائیلی فوج کی پیشقدمی روکنے کی کوشش کی گئی تو لیبیا میں موجود نیٹو کی جنگی قوت پشت پر سے مصری فوج کا دماغ ٹھکانے لگا دے گی۔اب رہ جائے گا ایٹمی پاکستان تو بھارت خطے میں اس وقت اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی ہے وہ اس صورتحال کو یہاں کاؤنٹر کرنے کی کوشش کرے گا۔لیکن صورتحال اس وقت پلٹا کھائے گی جس وقت روس باقاعدہ اس جنگ میں شریک ہوگا اور اس خوفناک اور جوہری ٹکراؤ کے نتیجے میں جب عسکری ٹیکنالوجی collapse یعنی منہدم ہوگی تو پھر روایتی جنگ کا مرحلہ آجائے گالیکن اس کے لیے جو بچے گا کیونکہ عالم انسانیت کی بڑی تعداد اس جنگ کی نذر ہوجائے گی۔اس گذشتہ چالیس برسوں کی روداد کو پڑھ لیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ مسلمانوں سے بڑھ کر چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی کوئی قوم شاہد ہی اتنی نادان ہو۔

Electrolux
محمد انیس الرحمان گزشتہ دو دہائیوں سے کوچۂ صحافت میں ہیں۔ وہ ایک ہفت روزہ کے مدیر ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ اُن کی تحقیق و تصنیف کا خصوصی موضوع ہے ۔ وہ چھ کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔