... loading ...
پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی رواں برس گرمی کی یکے بعد دیگرے آنے والی لہروں کی لپیٹ میں ہے۔شہر والے ایک لہر کے اثرات سے نکلنے نہیں پاتے کہ گرم موسم کی دوسری لہر سر پر کھڑی ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں گرمی کی شدت بڑھنے کی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے، جس کا ایک عنصر درختوں کی کٹائی اور نئے درخت نہ لگائے جانا ہے۔
اس صورتحال میں شہر بھر میں ‘درخت لگاؤ مہم کا آغاز ہوا ہے اور سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر بھی شہریوں کو ہر گھر کے سامنے ایک درخت یا پودا لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔
تاہم ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ شہر میں گرمی میں اضافے کی وجہ غلط اقسام کے درخت لگائے جانا بھی بنی ہے۔
یاد رہے کہ کراچی میں میئر مصطفیٰ کمال جو اب پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ ہیں، کے دور میں ’کونو کورپس‘ نامی درخت لگوائے گئے تھے۔
ماحولیاتی امور پر نظر رکھنے والی صحافی عافیہ سلام نے اس بارے میں بتایا کہ ’یہ درخت دراصل تمر کی ایک قسم ہے، جس کے بارے میں عموماً مثبت رائے صرف اس لیے نہیں رکھی جاتی کیونکہ اس کی نگہداشت کے لیے بہت سارا پانی درکار ہوتا ہے جس کی ویسے ہی شہر میں کمی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ جہاں حکومت اربوں روپے خرچ کر رہی ہے، وہیں اگر کراچی کے ماسٹر پلان کی پرانی دستاویزات دیکھ لی جائیں تو کافی مدد ہو سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ماسٹر پلان کے مطابق کراچی کے سات زون بنائے گئے تھے۔ اس پلان میں ساتوں علاقوں کی مٹی کے مطابق ان علاقوں کے لیے مختلف جھاڑیاں کون سی ہونی چاہییں، پھول کون سے ہونے چاہییں، بیل کون سی ہونی چاہیے اور درخت کون سے ہونے چاہییں، یہ تمام باتیں پلان میں موجود ہیں۔ اگر حکومت خود اس پر عمل نہیں کر سکتی تو مقامی سطح پر کام کرنے والے اداروں کے ذریعے ان پر عملدرآمد کرواسکتی ہے۔‘
اس حوالے سے ایک عنصر یہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ بہت سے لوگ ماحولیاتی عناصر اور موسمیاتی تبدیلی میں تفریق نہیں کر پا رہے۔
عافیہ نے کہا کہ کراچی میں گرمی کی شدت میں اضافے کے پیچھے صرف موسمی نہیں تعمیراتی وجوہات بھی ہیں۔
اس کی مثال دیتے ہوئے صحافی عافیہ سلام نے کہا کہ ’ہمیں صرف درخت نہیں چاہییں، ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ پرانے گھر کیوں ٹھنڈے ہوتے تھے؟ کیوں آج کی نسبت پہلے گرمی میں شرح اموات کم ہوتی تھیں؟‘
اس میں ایک قابل ذکر بات یہ بھی بار بار سامنے آتی ہے کہ سنہ 1960 کی دہائی میں کراچی میں درخت آج کے مقابلے میں کم تھے، لیکن چونکہ اس وقت آبادی کا تناسب کم تھا اور افقی ترقی ہو رہی تھی تو اس کمی کے غیر مثبت نتائج سامنے نہیں آئے جتنے آج دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
گرمی کی شدت سے ہونے والی اموات میں ایک پہلو اکثر بحث و مباحثے میں کھو جاتا ہے، وہ ہے زیادہ تر خواتین کا گھر کے اندر یا فیکٹریوں میں کام کرنا۔
عافیہ نے کہا کہ ’مردوں کو تو پھر بھی یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ گھر سے باہر جاکر بیٹھ سکتے ہیں لیکن اب بھی بہت سے علاقوں میں خواتین یہ نہیں کرسکتیں جس کے بارے میں گھروں میں گفتگو ہونا ضروری ہے۔‘
انھوں نے فی الحال چلنے والی مہم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسی طرح کی ایک مہم کا آغاز سنہ 2015 میں گرمی کی شدت کے باعث ہونے والی اموات کے بعد بھی ہوا تھا لیکن سال اور گرمی گزرنے کے بعد مہم تھم گئی۔
’ہم نے چند ماحولیاتی دن یکجا کر لیے ہیں جن میں لوگ اہم شخصیات کو بلا کر ان سے پودا لگوا لیتے ہیں، تصویریں بنوالیتے ہیں، لیکن اس کے بعد اس پودے کا کیا ہوتا ہے کسی کو نہیں پتا چلتا۔‘
انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر سے منسلک رفیع الحق کا کہنا ہے کہ کراچی میں درختوں کی تعداد کس حد تک کم ہوئی ہے اس بارے میں صرف تخمینہ لگایا جارہا ہےـ
’مجھے ڈائریکٹر پارکس کی طرف سے ایک اخبار کو دیا گیا انٹرویو یاد ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ پہلے کراچی کے رقبے کے مطابق کوئی چھ فیصد پودوں کا لینڈ کور تھا، جو سنہ 2012 اور سنہ 2013 کے بیچ میں تین فیصد رہ گیا۔ ترقیاتی کاموں کی وجہ سے حال ہی میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید اب یہ تین فیصد بھی نہ رہا ہوـ‘
رفیع الحق کے بقول گرمی اور درختوں کا براہ راست تعلق اس لیے نہیں ہے کیونکہ گرمی کی شدت موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہو رہی ہے، لیکن بالواسطہ طور پر درخت گرمی کی شدت کو کم کرنے میں کارگر ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ اس سے درخت کے سائے میں کھڑے ہوکر درجہ حرارت میں خاصی کمی محسوس ہوتی ہے۔
ان سب باتوں سے دور، تقریباً دو سال پہلے شہزاد قریشی نے کراچی اور پاکستان میں شہری جنگل کی بنیاد رکھی۔
انہوں نے کہا کہ اس میں ایک چھوٹے سے چھوٹے ٹکڑے کے اندر ایک جنگل اگایا جاسکتا ہے جس کو تین سال کے اندر کسی قسم کی دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ جنگل مقامی اور آبائی درختوں کے ساتھ بنتا ہے جن کے اندر اس دائرے میں رہتے ہوئے اس سسٹم کو ٹھیک کرنے کی صلاحیت اور طاقت ہوتی ہے۔
’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ لوگوں تک یہ حل پہنچا دیں تاکہ لوگ اپنے طور پر اپنے گھروں کے اندر یا باہر، سکولوں، مساجد، فیکٹریوں میں خود یہ جنگل لگا سکیں۔ ساتھ ہی شہری حکومتوں کو بھی آمادہ کیا جاسکے کہ ان تمام کھلے بڑے علاقوں میں ان جنگلوں کو آباد کیا جائے۔‘
شہزاد نے کہا کہ نہ صرف یہ تین سال کے اندر ایک گھنے جنگل کی شکل اختیار کر لے گا بلکہ اس جنگل کے 30 گنا زیادہ فوائد ہمیں مل سکیں گے۔
دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...
ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...
حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...
تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...
سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...
پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...
رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...
پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...
بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...
امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...
ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...