وجود

... loading ...

وجود

کیا پروٹین سے وزن کم کیا جا سکتا ہے؟

پیر 04 جون 2018 کیا پروٹین سے وزن کم کیا جا سکتا ہے؟

بیسویں صدی کے آغاز میں آرکٹک میں ایک کھوج کے لیے نکلنے والے محقق الجامر سٹیفنسن نے پانچ سال صرف گوشت کھا کر گزارے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کے کھانے میں 80 فیصد چربی اور 20 فیصد پروٹین تھا۔

20 سال کے بعد سنہ 1928 میں سٹیفنسن نے تقریباً ایک سال تک یہی تجربہ دوبارہ نیویارک کے بیلویو ہسپتال میں کیا۔ سٹیفنسن نے یہ تجربہ اس لیے کیا کیونکہ وہ ان لوگوں کو غلط ثابت کرنا چاہتے تھے، جو کہتے تھے کہ انسان صرف گوشت کھا کر زندہ نہیں رہ سکتا۔لیکن بدقسمتی سے دونوں ہی تجربوں کے دوران وہ بہت جلد بیمار پڑ گئے۔ وجہ صاف تھی۔ سٹیفنسن چربی کے بغیر والی پروٹین کھا رہے تھے۔ اس لیے انھیں ’پروٹین پوائزننگ‘ ہوگئی۔ یعنی زیادہ پروٹین لینے کی وجہ سے مشکل ہوگئی۔سٹیفنسن نے جب اپنی خوراک میں تبدیلی کی اور اپنے کھانے پینے میں پروٹین کے ساتھ چربی کو بھی شامل کر لیا، ان کی یہ بیماری فوراً کم ہوگئی۔83 سال کی عمر میں موت سے پہلے سٹیفنسن نے کم کاربوہائیڈرئٹ اور کم چربی والی خوراک لینا جاری رکھی تھی۔

سیفنسن کا معاملہ ان شروعاتی مثالوں میں سے ہے، جن کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ زیادہ پروٹین لینے سے انسان کی صحت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔پر یہ بات ایک صدی پرانی ہو گئی ہے۔ آج زمانہ یہ ہے کہ لوگ پروٹین کی بار، پروٹین شیک، پروٹین بولز کھاتے ہیں۔ اور ایسا تب ہو رہا ہے، جب زیادہ تر لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ انھیں کتنی پروٹین چاہیے، کس طریقے سے پروٹین لینی چاہیے، کتنی کم یا کتنی زیادہ پروٹین ہمارے لیے نقصان دہ ہے۔پچھلی دو دہائیوں میں دنیا بھر میں لوگوں میں موٹاپے کے شکار ہونے کی رفتار دگنی ہو گئی ہے۔ لیکن آج ہم اپنے کھانے پینے کے حوالے سے زیادہ باشعور بھی ہو گئے ہیں۔پچھلے کچھ سالوں میں ہم سفید بریڈ کی جگہ براؤن بریڈ، آٹے کی بریڈ اور موٹے اناج سے بنی بریڈ استعمال کرنے لگے ہیں۔ ہم فل کریم دودھ کی جگہ سکمڈ دودھ لینے لگے ہیں۔ صحت کے حوالے ہمارے شعور کا مرکز ہے پروٹین۔لوگ پروٹین بار، پروٹین بولز اور پروٹین شیک لینے کے لیے بیتاب ہیں۔ بازار میں پروٹین سوپ سے لے کر پروٹین سیریئل والے پیکٹ سجے ہوئے ہیں۔آج سپرمارکیٹ جائیں تو قرینے سے سجی پروٹین مصنوعات آپ کو اپنی جانب مائل کرتی ہیں۔ دنیا بھر میں ایسے پروٹین سپلیمینٹس کی منڈی اندازاً 12.4ارب ڈالر کی ہے۔ یعنی صحت کے حوالے باشعور افراد یہ مانتے ہیں کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ پروٹین استعمال کرنی چاہیے۔لیکن اب تمام ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ زیادہ پروٹین والی یہ پروڈکٹس ہمارے لیے غیرضروری اور جیب پر بوجھ ہیں۔

پروٹین ہمارے جسم کے نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ زیادہ پروٹین والی چیزیں جسے دودھ، گوشت، انڈے، مچھلی اور دالیں ہمارا جسم بنانے کے لیے ضروری ہیں۔جب ہم ایسی چیزیں کھاتے ہیں، تو ہمارا معدہ انھیں توڑ کر امینو ایسڈز میں تبدیل کرتا ہے جسے ہماری چھوٹی آنت جذب کرتی ہے۔ یہاں سے یہ امینو ایسڈز ہمارے جگر تک پہنچتے ہیں۔ جگر یہ طے کرتا ہے کہ ہمارے جسم کے لیے ضروری امینو ایسڈز کون سے ہیں۔ انھیں الگ کر کے باقی ایسڈ پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج کر دیتا ہے۔جو بالغ افراد زیادہ بھاگ دور یا محنت کا کام نہیں کرتے، انھیں اپنے جسم کے مطابق فی کلو وزن کے حساب سے 0.75 گرام پروٹین چاہیے ہوتی ہے۔ اوسطاً یہ اعداد مردوں کے لیے 55 گرام اور خواتین کے لیے 45 گرام روزانہ ٹھیک ہے۔ یعنی دو مٹھی گوشت، مچھلی، خشک میوہ جات یا دالیں کھانے سے روزانہ پروٹین کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔پوری مقدار میں ضروری پروٹین نہ لینے سے بال جھڑنا، جلد پھٹنا، وزن گھٹنا اور پٹھے کھچنے کی شکایتیں ہو سکتی ہیں۔ لیکن کم پروٹین کھانے سے ہونے والی یہ پریشانیاں بہت کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ عام طور پر یہ انہی لوگوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں، جن کے کھانے پینے میں بڑی گڑبڑ ہو اور کھانے میں باقاعدگی نہ ہو۔

اس کے باوجود ہم اکثر یہی سمجھتے ہیں کہ باڈی بلڈنگ اور پٹھوں کی نشو و نما کے لیے پروٹین بے حد ضروری ہے۔ یہ کافی حد تک صحیح بھی ہے۔طاقت بڑھانے والی ورزش کرنے سے پٹھوں میں موجود پروٹین ٹوٹنے لگتی ہے۔ ایسے میں پٹھوں کو طاقتور بنانے کے لیے پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ پٹھوں کی مرمت ہو سکے۔ اس میں پروٹین میں پایا جانے والا لیوسن نامی امینو ایسڈ بہت مددگار ہوتا ہے۔

کچھ محقق تو یہ بھی کہتے ہیں کہ بہت مشکل ورزشیں کرنے کے بعد اگر ہم پروٹین سے بھرپور خوراک نہیں لیتے ہیں تو اس سے ہمارے پٹھے اور بھی زیادہ ٹوٹتے ہیں۔ یعنی ورزش سے تب فائدہ نہیں ہوتا، جب آپ پروٹین وغیرہ نہ لیں۔اس لیے سپلیمینٹس بیچنے والی کپمنیاں آپ کو بار بار پروٹین شیک جیسی چیزیں ورزش کے فوراً بعد لینے کے لیے اکساتی ہیں۔ یہ سمجھاتی ہیں کہ یہ آپ کے پٹھے مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ پروٹین شیک میں وہی پروٹین پائی جاتی ہے جو پنیر بنانے کا بائی پراکٹ ہے۔تحقیق کرنے والی کمپنی منٹیل کی سنہ 2017 کی تحقیقی رپورٹ کہتی ہے کہ برطانیہ کے 27 فیصد لوگ پروٹین بار یا پروٹین شیک استعمال کرتے ہیں۔جو لوگ ہفتے میں دو بار سے زیادہ ورزش کرتے ہیں، ان کو بھی ملا لیں تو یہ تعداد 39 فیصد بنتی ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے 63 فیصد کو یہ نہیں معلوم کہ انھیں یہ پوسٹ ورک آؤٹ پروٹین شیک کتنا فائدہ دے رہا ہے۔ وہ یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ اس کا کوئی اثر انھیں پتا چل رہا ہے یا نہیں۔سنہ 2014 میں 36 تحقیقات کا نچوڑ نکال کر یہ کہا گیا کہ ورزش کے شروعاتی دنوں میں تو پروٹین کی خوراک لینے کا فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن اس کے بعد اس کے فائدے کے بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

جیسے جیسے آپ کو ورزش کی عادت پڑتی جاتی ہے، پروٹین شیک یا پروٹین بار لینے کے فائدے کم ہوتے جاتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ایسی پروٹین کی خوراک کا فائدا تب ہے جب اسے کاربوہائیڈیٹ کے ساتھ لیا جائے۔ یاں، یہ بات طے ہے کہ پروٹین کی یہ خوراک آپ کے بدن کو ہلکا اور فٹ رکھنے میں مددگار ہوتی ہے۔ آپ زیادہ جسمانی محنت کرتے پاتے ہیں۔

لیکن اگر ایتھلیٹس اور جم جانے والوں کو پروٹین کی اضافی خوراک سے فائدہ ہوتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بھی پروٹین سپلیمنٹس لینا شروع کر دیں۔برطانیہ کی سٹرلنگ یونیورسٹی میں کھیلوں کے پروفیسر کیون کپٹن کہتے ہیں کہ ’زیادہ تر لوگوں کو ان کی ضرورت بھر سے زیادہ ہی پروٹین ان کے کھانے سے مل جاتی ہے۔ کسی کو سپلیمینٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ آسانی سے اپنی روزمرہ کے کھانے پینے کی چیزوں کے کے ذریعے مناسب مقدار میں پروٹین حاصل کر سکتے ہیں۔‘کیون ٹپٹن کہتے ہیں کہ پروٹین بار کینڈی کی طرح ہی ہوتی ہیں۔ بس ان میں تھوڑی سی پروٹین ہوتی ہے۔ پروفیسر ٹپٹن یہ بھی کہتے ہیں کہ باڈی بلڈنگ کو بھی پروٹین بار وغیرہ کی اتنی ضرورت نہیں ہے، جتنا شور مچایا جاتا ہے۔ پروفیسر ٹپٹن کے مطابق آج سپلیمینٹ لینے پر بہت زور ہے، اس کا بڑی کی بڑی منڈی ہے۔

کیون ٹپٹن کے مطابق آج آپ کی اچھی صحت میں صرف پروٹین کا کردار نہیں ہے۔ بلکہ آپ کو اس کے لیے اچھی نیند آنی چاہیے۔ ذہنی زباؤ سے آزاد اور اپنے کھانے پہنے پر دھیان دینا چاہیے۔دیگر ماہرین بھی مانتے ہیں کہ پروٹین کی ضروری خوراک ہمیں اپنے کھانے کے ذریعے ہی ملنی چاہیے۔ سپلیمینٹ اس کا اچھا ذریعہ نہیں ہیں۔ لیورپول کی جان مور یونیورسٹی کے گریم کلوز کہتے ہیں کہ صرف ایتھلیٹس کو ہی الگ سے پروٹین لینے کی ضرورت ہے۔ لیکن وہ بھی اگر ایک پروٹین شیک ورزش کے بعد لے لیں تو اتنا کافی ہے۔اس کے علاوہ بزرگوں کو بھی کھانے پینے کے علاوہ بھی سپلیمینٹ کے طور پر پروٹین لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔برطانیہ کی نیوکیسل یونیورسٹی سے منسلک ایما سٹیونسن غذائیت کا سامان فروخت کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ وہ سنیکس میں پروٹین ملانے کا راستہ نکال رہی ہیں، خاص طور پر ان سنیکس میں جنھیں بزرگ زیادہ استعمال کرتے ہیں۔گریم کلوز کہتے ہیں کہ جہاں انسانوں کو اپنے وزن کے مطابق فی کلو کے حساب سے 0.75 گرام پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے وہیں بزرگوں کو فی کلو کے حساب سے 1.2 گرام پروٹین چاہیے۔اچھی بات یہ ہے کہ آپ کا زیادہ پروٹین کھانا اتنا آسان نہیں ہے۔ ڈائیٹ کرنے والےکچھ افراد اس بات کے حوالے فکرمند رہتے ہیں کہ کہیں زیادہ پروٹین کھانے سے گردوں پر اثر نہ پڑ جائے۔ لیکن تمام ثبوت بتاتے ہیں کہ ایسا بہت کم ہوتا ہے۔اکثر پروٹین کا تعلق وزن کم کرنے سے بتایا جاتا ہے۔ کم کاربوہائیڈریٹ والی خوراک سے آپ کا وزن کم ہوتا ہے۔ کچھ پروٹین ڈائیٹ بھی ایسا کرنے میں آپ کی مددگار ہو سکتی ہے۔

اگر آپ صبح پروٹین سے بھرپور ناشتہ کرتے ہیں، تو دن میں آپ کو بھوک کم محسوس ہوتی ہے۔ اس بات کو ثبوت ہیں کہ پروٹین آپ کی بھوک کو بہتر انداز میں مٹاتی ہے۔ایمبرڈین یونیورسٹی سے وابستہ ایلکس جانسٹن کہتی ہیں کہ اپنے کھانے میں کاربوہائیڈریٹ کم کر کے اور پروٹین سے بھرپور خوراک سے آپ آسانی سے وزن کم کر سکتے ہیں۔

ان کا مشورہ ہے کہ آپ کو ایسا کھانا کھانا چاہیے جس میں 30 فیصد پروٹین، 40 فیصد کاربوہائیڈریٹ اور 30 فیصد چکنائی ہو۔ اس سے آپ کو وزن گھٹانے میں کافی مدد ملے گی۔اوسط خوراک میں 15 فیصد پروٹین، 55 فیصد کاربوہائیڈریٹ اور 35 فیصد چکنائی ہوتی ہے، اگر آپ یہ سوچیں کہ صرف زیادہ پروٹین لینے سے وزن گھٹ جائے گا تو آپ مغالطے میں ہیں۔

مرغی یا مچھلی کھانا آپ کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ وہیں سرخ گوشت اور مٹن آپ کے وزن گھٹانے کی کوشش پر پانی پھر سکتے ہیں۔ ان سے کینسر اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔مائیکروپروٹین نام کا ایک پروٹین ایسا ہے، جو گوشت کھائے بغیر بھی آپ کو مل سکتا ہے۔ یہ پھپھوند کی کچھ قسموں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ابھی اس کے سارے فائدے سمجھنے کے لیے تحقیق جاری ہے۔

مجموعی طور پر زیادہ پروٹین کھانے سے خطرہ کم ہے۔ اندیشہ اس بات کا زیادہ ہے کہ ہم مہنگے پروٹین سپلیمینٹ خریدنے لگتے ہیں۔ یہ مہنگے تو ہیں ہی، ان کا صحت پر برا اثر پڑنے کا ڈر ہے۔ کیونکہ کافی مقدار میں شوگر یعنی کاربوہائیڈریٹ ہوتا ہے، جو آپ کی اچھی صحت پانے کی کوشش پر پانی پھرنے کے لیے کافی ہے۔


متعلقہ خبریں


پشتون علاقوں میںعلیحدگی کے نعرے کا خطرہ ، محموداچکزئی نے خبردار کردیا وجود - جمعرات 14 مئی 2026

حکومتی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا،نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر نہیں آئے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے، اپوزیشن لیڈر ملک خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر7 پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، اسرائیلی جیلوں س...

پشتون علاقوں میںعلیحدگی کے نعرے کا خطرہ ، محموداچکزئی نے خبردار کردیا

نیب کراچی کی بڑی کارروائی ،بحریہ ٹاؤن کراچی کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد وجود - جمعرات 14 مئی 2026

بحریہ ٹاؤن ہلز میں واقع 67ایکڑ پر مشتمل علی ولا کو منجمد کر دیا ، جو مبینہ طور پر علی ریاض ملک کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، رہائش گاہ میں جدید سہولیات جیسے ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز شامل ہیں،ذرائع حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کی ملکیت1338ایکڑ اراضی بھی منجمد،مبینہ طو...

نیب کراچی کی بڑی کارروائی ،بحریہ ٹاؤن کراچی کی اربوں روپے مالیت کی جائیدادیں منجمد

ایران امریکا کشیدگی،یتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار، پاکستان پر الزام لگا دیا وجود - جمعرات 14 مئی 2026

پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم متحرک ہوگئی ثالثی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیس پر جگہ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی موثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم مت...

ایران امریکا کشیدگی،یتن یاہو بوکھلاہٹ کا شکار، پاکستان پر الزام لگا دیا

قومی اسمبلی ،پی ٹی آئی اراکین گتھم گتھا، ایک دوسرے کو گالیاں وجود - جمعرات 14 مئی 2026

اجلاس ختم ہونے کے بعداقبال آفریدی اور جنید اکبر میں تلخ کلامی ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش ، جنید اکبر کے روکنے پر سیخ پا ہوگئے،ذرائع قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جب کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹ...

قومی اسمبلی ،پی ٹی آئی اراکین گتھم گتھا، ایک دوسرے کو گالیاں

آئی ایم ایف کی شرط پوری،حکومت کا گیس ، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ وجود - جمعرات 14 مئی 2026

یکم جنوری 2027 سے ماہانہ 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بلوں میں اضافے کا خدشہ گیس اور بجلی پر دی جانے والی رعایتیں صارف کے استعمال کے بجائے اس کی آمدنی کی بنیاد پر دی جائیں گی حکومت نے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ ی...

آئی ایم ایف کی شرط پوری،حکومت کا گیس ، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ نے پھر پاکستان پر اعتماد کی مہر لگا دی،امریکی سینیٹر کی تنقید مسترد وجود - جمعرات 14 مئی 2026

فیلڈ مارشل اورشہباز شریف نے ایران جنگ بندی پر بہترین کردار ادا کیا، امریکی صدر پاکستان غیر جانبدار ثالث نہیں رہ سکتا، مجھے پاکستان پر بالکل اعتماد نہیں، لنڈسے گراہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کرتے ہو...

ٹرمپ نے پھر پاکستان پر اعتماد کی مہر لگا دی،امریکی سینیٹر کی تنقید مسترد

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ وجود - بدھ 13 مئی 2026

عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی وجود - بدھ 13 مئی 2026

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری وجود - بدھ 13 مئی 2026

7 اکتوبر کے قیدیوں کیلئے سرعام ٹرائل اور سزائے موت کے متنازع قانون کی منظوری اسرائیلی پارلیمنٹ کے نئے قانون کی منظوری سے عالمی سطح پر تنازع مزید بڑھنے کا خدشہ اسرائیلی پارلیمنٹ (نیسٹ) نے ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیرِ...

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی وجود - منگل 12 مئی 2026

ایک ہفتے میں عمران خان کا درست علاج نہ ہوا اور ملاقاتیں نہ کرائی گئیں تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا،8 فروری کو نوجوان طبقے نے آپ کے سارے پلان الٹ دئیے، اپوزیشن لیڈر بلوچستان سے لے کر کے پی تک بغاوت کی فضا ہے، ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری ہورہی ہے، پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار ...

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ وجود - منگل 12 مئی 2026

امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ،قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم ، سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے،معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ...

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم وجود - منگل 12 مئی 2026

پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جانا چاہئے، شہباز شریف کی اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،آئی ٹی کے شعبے میں شہری اور دیہی علا...

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم

مضامین
کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب وجود جمعرات 14 مئی 2026
کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب

ایان اور پنکی وجود جمعرات 14 مئی 2026
ایان اور پنکی

وہ کہانیاں جو کبھی کہی نہیں جاتیں! وجود جمعرات 14 مئی 2026
وہ کہانیاں جو کبھی کہی نہیں جاتیں!

مہنگے پیٹرول کا چکر وجود جمعرات 14 مئی 2026
مہنگے پیٹرول کا چکر

دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے! وجود بدھ 13 مئی 2026
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر