وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 03 جون 2018 استقبال کتب

لِقا (شعری مجموعہ)
نام کتاب:لِقا(شعری مجموعہ)
نامِ شاعر:حسنین بخاری
موضوع:شاعری
ضخامت:186 صفحات
قیمت: 300 روپے
ناشر:الحمد پبلی کیشنز، لاہور
مبصر: مجید فکری

حسنین بخاری کی شاعری کے باب میں محترم گلزار بخاری نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ شاعری شعور کے ساتھ ساتھ لاشعوری جذبات پر مشتمل ہوتی ہے اور کسی معاشرے کی ترجمان بھی، اور اب تک جو شاعری ہوچکی ہے اس میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ مزید کچھ لکھا جائے لیکن امکانات کا شعور کبھی نہیں رکتا۔اسی لئے شاعری کا سفر ہنوز جاری ہے۔ انگریزی ادب کے ساتھ ساتھ اردو ادب نے اپنے پیچھے وہ نام چھوڑے ہیں کہ جن کے بغیر شاعری پر کچھ لکھتے ہوئے ان شعراء کا تذکرہ لازمی ہوجاتا ہے۔
پیش نظر کتاب ’’لِقا‘‘ کے نام سے ہماری نظروں کے سامنے ہے اور ہم اسے پڑھنے اور اس سے محظوظ ہونے کا شرف حاصل کررہے ہیں۔ اس سے قبل حسنین بخاری یہ بھی انکشاف کرتے ہیں کہ ان کے نو شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔ ظاہر ہے ان مجموعہ ہائے کلام میں انہوں نے اپنی فکر کی جولانیاں بھی دکھائی ہوں گی اور اب اس مجموعہ شعری کا نام ’’لِقا‘‘ رکھ کر بھی ایک عام قاری کو چونکا سادیا ہے۔

’’لِقا‘‘ یہ لفظ قرآن کی سورۃ القدر میں جو شب قدر کو ہزار راتوں سے بہتر اور افضل بتانے کے لئے اللہ نے ’’لیلۃ القدر خیر من الف شھر‘‘ کہا ہے اس لفظ سے یعنی ’’اَلف‘‘ سے اخذ کیا گیا ہے جس کے معنی ہزار کے ہیں اور چونکہ ان کی یہ غزل ہزار اشعار پر مشتمل ہے لہٰذا انہوں نے اس مجموعہ کا نام بھی ’’لِقا‘‘ تجویز کرلیا۔

آپ نے ہزار اشعار کا مجموعہ شعری عشقِ الٰہی میں رقم کیا ہے یہ آپ کی دنیا و آخرت کے لئے ایک تحفۂ خاص اور توشۂ آخرت بھی ہے۔ بقول گلزار بخاری کے وہ اس شعری سفر میں ناصر کاظمی کی پہلی بارش میں بھی بھیگے ہیں اور صابر ظفر کی طویل غزل ’’سرِ بازار می رقصم ‘‘ سے بھی فیضیاب ہوئے ہیں اور خود گلزار بخاری نے ہر ہر قدم پر ان کا ساتھ دیا ہے جبکہ جس خانوادۂ علم و تصوف سے ان کا تعلق ہے وہ بھی ان کی معاون و مددگار رہی ہے دعا ہے کہ ان کا شاہکار نامہ مقبول ہو۔
۰۰۰
ہمارے دُکھ کتنے مشترک ہیں
نام کتاب:ہمارے دکھ کتنے مشترک ہیں
موضوع:شاعری
شاعر:سرورارمان
سرورق:عمران شناور
ضخامت:160 صفحات
قیمت:400 روپے
ناشر:زربفت پبلی کیشنز، لاہور
مبصر: مجید فکری
میں سرور ارمان کو نہیں جانتا مگر شاعری حوالہ بن جاتی ہے کسی بھی شاعر کے تعارف کا …! سو ان کی شاعری کا مجموعہ میری نظروں کے سامنے ہے۔ کسی بھی کتاب کو کھولنے سے پہلے جو چیزنظر نواز ہوتی ہے وہ کتاب کا سرورق ہوتا ہے جسے دیکھ کر لا محالہ اسی محاورہ کے مصداق کہ ’’خط کا مضمون بھانپ جاتے ہیں لفافہ دیکھ کر‘‘ میں نے جو کچھ سمجھا، یہی کچھ میرے پیش نظر بھی ہے اور میں نے بخوبی یہ اندازہ لگالیا ہے کہ سرور امان ایک ترقی پسندانہ ذہن کے مالک ہیں اور وہ مارکس کے نظریے سے بھی متاثر ہیں۔ چونکہ وہ اشتراکی ذہن رکھتے ہیں اس لئے ان کے اشعار میں وہی فکر کارفرماہوگی جو اشتراکیت کے پیروکار حضرات کے پیش نظر ہوتی ہے۔

میں نے سرورق دیکھنے کے بعد کتاب کھولی تو کتاب کے اندرونی دونوں فلیپ پر ان کی ایک ایک غزل نمایاںنظر آئی اور میں لازماً ان کی غزل کے آخری شعر پر رک گیا جو میرے بیان کردہ اوپر والے اظہار کے عین مطابق نکلا۔ وہ شعر یہ تھا:
اس ملک سے غربت کبھی مِٹ ہی نہیں سکتی
اس ملک کا دستور وڈیروں کی طرف ہے

یہ شعر خالصتاً ان کے انقلابی منشور اور موجودہ ظلم و ستم کے خلاف جو تحریک آج سے کئی صدیوں پہلے پَلی بڑھی اور پھر عوام کے ذہن و خیال کا حصہ بن گئی وہ تھی مارکسیت یا مارکس کے نظریات پر مشتمل تحریک ، مارکس نے اپنے گردو پیش جو ظلم و ستم دیکھا، حکمرانوں ، بادشاہوں اور ملوکیت کا جو بازار گرم دیکھا تو اس سے وہ اتنا بدظن اور مخالف ہوگیا کہ وہ اس دور میں ایک معروف نظریاتی مفکر بن کر اُبھر اور اس نے ان حالات کے خلاف بغاوت کردی بالآخر ایک وقت ایسا آیا کہ اس کے بے شمار پیروکار (Followers) پیدا ہوگئے۔ یہی نہیں آج بھی دنیا میں اس کے نظریے کے پرچار کرنے والے موجود ہیں۔
انہوںنے غزل کے پیرائے میں گفتگو ضرور کی ہے اور وہ غزل کے مفہوم و مطلب سے پیچھے بھی نہیں ہٹے چونکہ وہ جانتے ہیں کہ حسن و عشق کے معاملات ہمیشہ سے چلتے چلے آئے ہیں اس لئے اس کے اشارے بھی ان کے کلام میں موجود ہیں کیونکہ یہی تو غزل کا مرکز بنے رہے ہیں یہی حسن ہے جس کا ہر عاشق مزاج شاعر متوالا رہا ہے۔حقیقت بھی یہی ہے کہ غزل میںیہی کچھ دیکھا جاتا رہا ہے مگر قطع نظر اس کے جدید طرز شاعری میں صرف لب و رخسار کی باتیں نہیں ہوتیں بلکہ غزل اپنی اصطلاحی معنوں میں دیکھی جانے لگی ہے۔ قدیم و جدید غزل میں یہی ایک امتیاز تو ہے کہ جو کسی شاعر کو جدید شاعراور قدیم شاعر کے ناموں سے پہچان کراتا ہے وگرنہ غزل کے لغوی معنوں کے بطور ہمیشہ سے اس کا موضوع صرف عورت سے باتیں کرنا رہ گیا ہے۔
آئیے سرورارمان کے کچھ اشعار سے استفادہ کریں مگر اس سے پہلے شاعری سے متعلق خود ان کا اپنا مطمح نظر سن لیں جو انہوں نے اپنے پیش لفظ میں کہا ہے:

’’جہاں تک میری شاعری کا تعلق ہے اس کے حوالے سے خامہ فرسائی کی مجھے قطعی ضرورت نہیں کیونکہ اس کے معیار کی بلندی اور پیمائش کے لئے وقت اور تاریخ سے بڑھ کر کوئی پیمانہ نہیں۔ میرا کام تو اپنے حصے کا چراغ جلانا ے سو میں تادم آخر جلاتا رہوں گا۔‘‘

کتاب کے اندرونی فلیپ پر پیش کردہ اک اور غزل کا آخری شعر جو آج کل ہماری بے بسی کا منہ بولتا ثبوت بھی بن سکتا ہے کہ گرمی کی شدت حبس کا عالم اس پر بجلی کا چلے جانا اک عذاب میں مبتلا کردیتا ہے او رناچار لوگ اپنے گھروں کی چھت پر چلے جاتے ہیں کہ کم سے کم وہاں قدرتی ہوا کا گزر تو ہوسکے گا۔ مگر جس کا پکا گھر ہی نہ ہو یا اسے چھت ہی میسر نہ ہو تو وہ بھلا کہاں بسیرا کرے گا۔ہوسکتا ہے یہ مضمون بھی ان کی شاعری میںکہیں نہ کہیں موجود ہو یا اس مجموعہ ہائے کلام میں نہیں تو دیگر کسی مجموعے میں شامل ہو۔ المختصر وہ شعر کچھ یوں ہے:

کھلی چھتوں پہ رہے لوگ رات بھر بے چین
بلا کا حبس مِرے شہر کی فضا میں رہا
آئیے ان کے کچھ اوراشعار سے بھی استفادہ کرتے ہیں:
تری تلاش میں جب بھی اٹھے قدم میرے
کبھی خرد کبھی دیوانگی نے روک لیا
زندگی بن کے کبھی دل میں اُترتا ہوا شخص
زندگی بھر کے لئے دل سے اُتر جاتا ہے
یہ دوستی بھی عجب ہے کہ ایک بار ملے
پھر اس کے بعد کہیںعمر بھر دکھائی نہ دے

یہ اشعار خالصتاً غزل کے اشعار ہیں اس میں وفا،بے وفائی، قربت او رپھرجدائی کے شکوے نمایاں ہیں مگر یہاں موضوع پھر بھی شاعر کی اس خصوصی شاعری کا ہے جو جا بجا ان کے اشعار میں موجود ہے۔ خاص کر یہ شعر دیکھیں:
مل جائے نجات ان کو کہیں ظلمتِ شب سے
لوگوں کی نظر سُرخ سویروں کی طر ف ہے
کچھ اور انقلابی شعر:
چند اشیائے ضرورت کو ترستے ہیں لوگ
آخری جنگ کا اعلان تو کرسکتے تھے
ہم اہلِ زر کے جشن شب و روز کے لئے
مصروف کارِزارِ مشقت ہیں اور بس
انہیں تو قتل پر بھی شہرتیں انعام ملتی ہیں
مؤثر ضابطے قانون کے کب ہیں وڈیروںپر
ان اشعار کے علاوہ متعدد کلام عنوانات کے تحت پیش کیا گیا ہے مثلاً ’’خواب پہروں ہمیں جگاتے ہیں‘‘، ’’غبارے بیچنے والا‘‘،’’ قید بامشقت‘‘ اور ’’ہم اپنے دُکھ کہاں رکھیں‘‘ وہ پڑھنے والی نظمیں ہیں جن سے لہو گرمایا جاسکتا ہے اور ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ سرور امان عوام کے دکھ درد ان کے مصائب و آلام ان پر روزوشب بیتنے والے مظالم اور اس سے نبرد آزما عوام ان کے موضوعاتِ شاعری کا حصہ ہیں تو انہوں نے خود کو ’’ہمارے دکھ درد کتنے مشترک ہیں‘‘ کہہ کر یہ دیوان مرتب کیا ہے۔
ڈاکٹر خیال امروہوی
(شخصیت اور شاعر)
نام کتاب:ڈاکٹر خیال امروہوی …شخصیت اور شاعری
موضوع:شخصیت اور شاعری
مصنف:ریاض راہی
ضخامت:168 صفحات
قیمت:500 روپے
ناشر:مثال پبلشرز، فیصل آباد
مبصر: مجید فکری

پیش نظر کتاب ڈاکٹر خیال ؔ امروہوی کی شخصیت اور شاعری پر ایک مکمل اور مستند دستاویز کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ اتنی گہرائی اور گیرائی کے ساتھ ایسی اعلیٰ کتاب مرتب کرنا یقینا ایک خوش آئند اقدام ہے۔ وگرنہ ڈاکٹر صاحب کی پُر وقار شخصیت کا احاطہ کرنا بڑا امرِ مشکل نظر آتا تھا کیونکہ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کا ہم جیسے رائٹرز پر ایسا رُعب طاری ہے کہ ان کی شخصیت نگاری پر کچھ لکھتے ہوئے بڑی احتیاط لازم ہے۔

ڈاکٹر صاحب کئی دہائیوں سے شعر و ادب پر چھائے رہے اگر انہیں اردو ادب و شاعری کا بابا آدم کہا جائے تو غیر مناسب نہ ہوگا۔آپ کے لاتعدا د شاگرد اب بھی مطلع ٔ ادب پر اپنی جولانیاں دکھاتے نظر آتے ہیں۔

پیش نظر کتاب ایک طرح سے پروفیسر ریاض راہی کے ناقدانہ شعور کی غماز ہے اور انہوں نے بڑی تفصیل اور وضاحت کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت، افکار و نظریات اور ان کا اسلوب نگارش بڑی خوبی اور اس کے زمانۂ عصرپر ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ چونکہ ڈاکٹر صاحب ایک ترقی پسند مارکسٹ تھے ان کے لہجہ میں گداز کم اور احتجاج و کرختگی زیادہ ہے۔ یہ ضرورہے کہ ان کی تخلیقات پڑھنے والے کو اپنا گرویدہ ضرور بنالیتی ہیں۔اسی لئے ریاض راہی کی کوشش رہی ہے کہ وہ ڈاکٹر صاحب کے بنیادی تصورات اور افکار کو سمجھانے کے لئے مؤثر ذریعۂ نگارش اختیار کریں جو خود ڈاکٹر صاحب کا اپنا طرزِ خاص تھا چونکہ وہ فارسی اور عربی سے بھی واقف کار تھے اس لئے ڈاکٹر صاحب کے الفاظ کبھی مانوس اور کبھی غیر مانوس بھی تھے۔ پروفیسر ریاض نے یہ تمام خصوصیات بیان کرتے ہوئے اپنا اندازِ نگارش بڑا سادہ اور عام فہم رکھا۔ وہ خود فرماتے ہیں کہ ’’ڈاکٹر خیال ایسے انقلابی شاعر، ادیب ، محقق، مترجم، سماجی مصلح اور دانشور تھے جنہوں نے سینکڑوں افراد کی ذہنی اور فکری آبیاری کی۔ انہیں سماجی اور طبقاتی شعور سے آشنا کیا اور فکری محاذ پر سماجی ہی نہیںرجعت پسندانہ قوتوں سے محاذ آرائی کا حوصلہ بھی بخشا۔‘‘
یہ بات میں نے یوں محسوس کی ہے کہ ان کا ذوقِ شاعری غزل اور نظم دونوں میں یکساں تھا۔

اسی لیے ڈاکٹر صاحب نے زندگی کے متنوع پہلو اور عصری آشوب کا برملا اظہار کیا ہے اور طبقاتی معاشرہ اور اس سے جنم لینے والی نفسیاتی الجھنوں کو بھی اپنی نظم کے اندر توجہ طلب مسائل کے طو رپر خوبصورت انداز میں پیش کرتے ہوئے اپنے انقلابی پروگرام کا پرچار بھی کردیا ہے۔چونکہ وہ جوش ؔسے بہت متاثر ہیں اسی لئے ان کا ذہن بھی انقلابی آواز اٹھانے والی شخصیت کے طور پر کیا جاتا ہے۔

گویا ڈاکٹر صاحب کی شاعری اپنے عصری آشوب کی ترجمان ہے اور سماج کے انقلاب و ارتقاء کی نمائندہ بھی…!
یہی نہیں بلکہ وہ حبِ رسولؐ سے بھی سرشار نظر آتے ہیں او ران کی بیشتر نعتیں، منقتب وغیرہ بھی منظر عا م پر آچکی ہیں جس سے یہ اندازہ لگانا بھی آسان ہے کہ ان کے نزدیک جذبہ و وجدان، تفہیمِ رسالت میں کامیابی سے ہمکنار نہیں کرسکتا کیونکہ یہ حضور پاکؐ کی ذاتِ والا صفات ہی ہے جس نے تمام انسانوں کو وہم و گمان کی شبِ یلدا سے نکال کر ایمان و عقل کی اس سرحد ِ ادراک میں شامل کیا جو خدائی جلووں سے متغیر ہے۔
صرف جذبے سے تِرے وصف کا امکان نہیں
محورِ عقل ہے تو مرکزِ وجدان نہیں
ڈاکٹر خیال کی نظم نگاری بھی منفرد اور اچھوتے اندازِ دلکشی کے مناظر پیش کرتی ہے او راپنے پڑھنے والوں کو اپنی طرف کھینچتی بھی ہے وگرنہ پھر ایک مارکسیت پرست شاعر عوام کے دلوں میں کیسے گھر کرسکتا ہے۔
اب ذرا ان کی نظم و غزل میں جو انوکھا اندازِ بیان تھا ا س کا ہلکاسا عکس ان اشعار کے ذریعے ملاحظہ فرمائیے:
غزل کا شعر
بہت ہی خاص ہیں اوقات اس کے ملنے کے
وہ خوش جمال جو اکثر دکھائی دیتا ہے
نظم کے اشعار
گھر میں بہنوں کی وہ غم آلود آنکھیں الاماں
باپ بوڑھا ، چھوٹے بھائی مدرسوں کے درمیاں
سب کی امیدوں کا سورج اک جواں بے روزگار
آہ اے مجبور انساں آہ اے پروردگار


متعلقہ خبریں


ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید افراد کی تعدادا 787 ہوگئی،176 بچے شامل،آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، پاسداران انقلاب نے خبردار کردیا ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے اب بہت دیر ہو چکی، فوجی مہم چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے(ٹرمپ)ایران کی وزارت...

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ہمیں کہا گیا یہ بات آپ وزیراعظم کے سامنے کر دیں تو میں نے کہا ہے کہ ساتھیوں سے مشورہ کریں گے،خطے کے حالات خطرناک ہیں لہٰذا پارلیمنٹ کواعتماد میں لیا جائے،قائد حزب اختلاف آج صبح تک حکومت کو فیصلے سے آگاہ کر دیں گے(محمود خان اچکزئی)خطے کی صورت حال اور ایران پر حملے پر بریفنگ کی...

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی وجود - بدھ 04 مارچ 2026

واضح نہیں میرینزکی فائرکی گئی گولیاں لگیں یا ہلاکت کاسبب بنیں، سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی یا نہیں،امریکی حکام امریکی فوج نے معاملہ محکمہ خارجہ کے سپرد کر دیا ،گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں، پولیس حکام (رپورٹ:افتخار چوہدری)امریکی حکام کے مطابق کراچی قونصل...

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان وجود - پیر 02 مارچ 2026

سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی وجود - پیر 02 مارچ 2026

مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرہ ،مرکزی دروازے کی توڑ پھوڑ،نمائش چورنگی، عباس ٹائون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ،سڑکوں پر نعرے بازی پولیس نے امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اب حالات قابو میں ہیں، کسی کو بھی ...

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم وجود - پیر 02 مارچ 2026

پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے،شہباز شریف کی مذمت غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کیساتھ ہیں،خامنہ ای کی شہادت پر غم کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسو...

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ وجود - پیر 02 مارچ 2026

خشکی اور سمندر تیزی سے دہشت گرد جارحین کا قبرستان بن جائیں گے، امریکا کا خلیج عمان میں ایرانی جہاز ڈبونے کا دعویٰ ابراہم لنکن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،دشمن فوج پرایران کے طاقتور حملے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے، پاسداران انقلاب ایران نے بڑا وار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے می...

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے وجود - اتوار 01 مارچ 2026

  ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا وجود - اتوار 01 مارچ 2026

ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب) وجود - اتوار 01 مارچ 2026

فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب)

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم وجود - اتوار 01 مارچ 2026

خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

مضامین
تیسری جنگ عظیم کی بنیاد وجود بدھ 04 مارچ 2026
تیسری جنگ عظیم کی بنیاد

بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید وجود بدھ 04 مارچ 2026
بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید

امریکہ واسرائیل کے خلاف مسلم امہ متحد ہو! وجود منگل 03 مارچ 2026
امریکہ واسرائیل کے خلاف مسلم امہ متحد ہو!

مودی سرکار کی اسرائیل نوازی وجود منگل 03 مارچ 2026
مودی سرکار کی اسرائیل نوازی

ہمارے بچے مت مارو !! وجود پیر 02 مارچ 2026
ہمارے بچے مت مارو !!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر