سکھرکی تفریح گاہ بچل شاہ میانی عسکری پارک

سکھر کے سیاسی لوگوں نے بلند وبانگ دعوے جو کیے تھے ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کاوشوں کے ساتھ اپنے وعدے مکمل کیے جارہے ہیں، دن دگنی اور رات چگنی میں سکھر شہر کو پیرس تو نہیں بنایا جاسکتا البتہ کچھ ایسے منصوبے ہیں جو رفتہ رفتہ بنائے جارہے ہیں، سکھر شہر میں جتنے بھی منصوبے ہیں ان میں سے تقریباً مکمل ہوچکے ہیں اور چند منصوبے زیر تعمیر ہیں، جن میں سے ایک منصوبہ ایسا بھی ہے جو تقریباً تاحال مکمل ہوتے ہوتے نامکمل ہوگیا ہے،وہ ہے سکھر کی گنجان آبادی والے علاقے بچل شاہ میانی اور بائی پاس سے متصل عسکری پارک ریسٹورنٹ اینڈ بار بی کیو انتہائی خوبصورت انداز میں بنایا گیا ہے، عسکری پارک بنانے پر تقریباًکروڑوں روپے کی لاگت آچکی ہے، ایم پی اے اور وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے پارک کی سنگ بنیادرکھی ۔

کھنڈر جیسی زمین جہاں ہر وقت گندے پانی کے جوہڑ اور بھینسوں کا باڑہ نظر آتا تھا،میدان میں کوڑا کرکٹ اور بنجر زمین تھی کو ایک خوبصورت پارک کی شکل دی ،سید ناصر حسین شاہ کی انتھک کاوشوں سے پارک تو بن گیا لیکن اس پارک کی صحت کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں، اس پارک کو روزانہ کی مد میں کم سے کم ایک مالی اور ایک چوکیدار موجود ہونا ضروری ہے ،لیکن مالی بھی ہے اور چوکیدار بھی ہے، پر وہ ہیں کہاں، کچھ معلوم نہیں، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وہ گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کررہے ہیں،یوں لگتا ہے کہ پارک کا کوئی والی وارث نہیں ہے ،پارک کو بالکل ہی یتیم کردیا گیا ہو، تزئین وآرائش اورتعمیر نو کے حوالے سے کوئی بھی ایسااقدام نہیں کیا گیا ہے، جس کی تعمیر نو ہوسکے، پارک میں موجود جھولے،بینچیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہیں، بیٹھنے کے لیے چھتری ٹائپ لکڑیوں کی بنی ہوئی بینچیں رکھی ہوئی تھیں ،وہ بینچیں ٹوٹنے کے بعد غائب کردی گئی، ایسالگ رہا ہے کہ یہاں لکڑی کے صرف چھ ستون بنے ہوئے ہیں بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں ہے، بچوں کے لیے کھیلنے کھودنے کے لیے کئی طرح کے اچھل کود کے کھلونے بنائے گئے تھے جو کچھ چوری ہوگئے اور کچھ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئے، اس پارک میں آنے والوں کے لیے ایک ٹھنڈے پانی کی مشین بھی رکھی گئی تھیں جو 24 گھنٹے ٹھنڈا پانی میسر کرتی تھی ،وہ مشین بھی غائب کردی ہے یا پھر چوری ہوگئی ہے، پارک میں موجود گھاس کو پانی نہ دیئے جانے کے باعث گھاس خشک سالی کا شکار ہوگئی ہے، ہرے بھرے گھاس سے بھرا ہوا گراؤنڈ اب خشک سالی کا منظر دکھا رہا ہے، گھاس خشک ہوگئی ہے ،پودوں کو پانی نہ ملنے کی وجہ سے پودوں کی جگہ صرف خشک شاخیں نظر آرہی ہیں، گراؤنڈ میں گھاس کے بجائے جگہ جگہ سے بڑے بڑے گڑھے کھدے ہوئے نظر آرہے ہیں، پارک چاروں ا طراف سے کھلاہوا ہے، جس کے باعث پارک آواروں کتوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے، آوارہ کتے دن رات وہاں دندناتے پھر رہے ہیں، ان آوارہ کتوں نے کئی معصوم بچوں کو بھی کاٹا ہے، ان کتوں کی وجہ سے وہاں بچے کھیلنے سے کتراتے ہیں، درحقیقت اس پارک کی خوبصورتی کومسخ کرنے کا مین کردار ضلعی انتظامیہ کا ہے،ایک چوکیدار اور 2 مالی ہونے کے باوجود پارک کی صفائی ستھرائی اور پودوں کو پانی نہ دیئے جانے کے باعث دن بدن پارک کی حالت غیر ہوتی جارہی ہے اور پارک میں موجود سامان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہے ہیں، اس پارک میں موجود ایک بار بی کیو ہوٹل بھی ہے، جو رات کے اوقات میں کھلتا ہے، ہوٹل کے کھلنے کے باعث وہاں پر اچھی خاصی چہل پہل اور لوگوں کا آنا جانا رہتا ہے۔

اس پارک کے حوالے سے ’’نمائندہ جرات‘‘ نے معلومات حاصل کیں تو انہوں نے کہا کہ یہاں اکثر وبیشتر اوباش اورجرائم پیشہ افرادرات بھر چرس اور شراب نوشی کرتے ہیں، جونشے میں دھت پارک کے پودوں کو پاؤں تلے روندتے اور نشے کی حالت میں بینچوں کو توڑ دیتے ہیں ،انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پہلے یہ پارک رینجرز کے حوالے تھا لیکن اب گذشتہ ایک سال ہوگیا ہے جس کی دیکھ بھال ضلع سکھر کی انتظامیہ کرتی ہے، ہوٹل مالک نے یہ بھی بتایا کہ میں اپنی جیب سے ایک چوکیدار اور 2 مالی رکھے ہیں جن کو میں ماہوار 27 ہزار روپے ادا کرتا ہوں، گورنمنٹ کی جانب سے پارک کی نگرانی اور اس کی صفائی ستھرائی کے حوالے سے چوکیدار اور مالی رکھے گئے ہیں یا نہیں اس بارے میں مجھے معلوم نہیں ہے، ہوٹل مالک نے بتایا کہ ہوٹل میں خطیر رقم کی آمدنی ہوتی ہے ،جو مجھ سے ہوسکتا ہے وہ میں اس کی دیکھ بھال کے لیے کرتا ہوں ، میں اپنی جیب سے پانی کی موٹر ،گھاس کی کٹائی کے لیے مشین سمیت چھوٹے موٹے اخراجات ہوتے ہیں وہ میں اپنی جیب سے کرتا ہوں، اس حوالے سے جب ہم نے ڈپٹی کمشنر سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا تو انہوں نے فون اٹھانے کی زحمت نہیں کی، متعدد بار ٹیلیفون پر ایس ایم ایس کیے ملنے کے لیے وقت مانگا لیکن انہوں نے کوئی رابطہ اور جواب نہیں دیا۔

Electrolux