وجود

... loading ...

وجود

سکھرکی تفریح گاہ بچل شاہ میانی عسکری پارک

اتوار 03 جون 2018 سکھرکی تفریح گاہ بچل شاہ میانی عسکری پارک

سکھر کے سیاسی لوگوں نے بلند وبانگ دعوے جو کیے تھے ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کاوشوں کے ساتھ اپنے وعدے مکمل کیے جارہے ہیں، دن دگنی اور رات چگنی میں سکھر شہر کو پیرس تو نہیں بنایا جاسکتا البتہ کچھ ایسے منصوبے ہیں جو رفتہ رفتہ بنائے جارہے ہیں، سکھر شہر میں جتنے بھی منصوبے ہیں ان میں سے تقریباً مکمل ہوچکے ہیں اور چند منصوبے زیر تعمیر ہیں، جن میں سے ایک منصوبہ ایسا بھی ہے جو تقریباً تاحال مکمل ہوتے ہوتے نامکمل ہوگیا ہے،وہ ہے سکھر کی گنجان آبادی والے علاقے بچل شاہ میانی اور بائی پاس سے متصل عسکری پارک ریسٹورنٹ اینڈ بار بی کیو انتہائی خوبصورت انداز میں بنایا گیا ہے، عسکری پارک بنانے پر تقریباًکروڑوں روپے کی لاگت آچکی ہے، ایم پی اے اور وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے پارک کی سنگ بنیادرکھی ۔

کھنڈر جیسی زمین جہاں ہر وقت گندے پانی کے جوہڑ اور بھینسوں کا باڑہ نظر آتا تھا،میدان میں کوڑا کرکٹ اور بنجر زمین تھی کو ایک خوبصورت پارک کی شکل دی ،سید ناصر حسین شاہ کی انتھک کاوشوں سے پارک تو بن گیا لیکن اس پارک کی صحت کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں، اس پارک کو روزانہ کی مد میں کم سے کم ایک مالی اور ایک چوکیدار موجود ہونا ضروری ہے ،لیکن مالی بھی ہے اور چوکیدار بھی ہے، پر وہ ہیں کہاں، کچھ معلوم نہیں، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وہ گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کررہے ہیں،یوں لگتا ہے کہ پارک کا کوئی والی وارث نہیں ہے ،پارک کو بالکل ہی یتیم کردیا گیا ہو، تزئین وآرائش اورتعمیر نو کے حوالے سے کوئی بھی ایسااقدام نہیں کیا گیا ہے، جس کی تعمیر نو ہوسکے، پارک میں موجود جھولے،بینچیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہیں، بیٹھنے کے لیے چھتری ٹائپ لکڑیوں کی بنی ہوئی بینچیں رکھی ہوئی تھیں ،وہ بینچیں ٹوٹنے کے بعد غائب کردی گئی، ایسالگ رہا ہے کہ یہاں لکڑی کے صرف چھ ستون بنے ہوئے ہیں بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں ہے، بچوں کے لیے کھیلنے کھودنے کے لیے کئی طرح کے اچھل کود کے کھلونے بنائے گئے تھے جو کچھ چوری ہوگئے اور کچھ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئے، اس پارک میں آنے والوں کے لیے ایک ٹھنڈے پانی کی مشین بھی رکھی گئی تھیں جو 24 گھنٹے ٹھنڈا پانی میسر کرتی تھی ،وہ مشین بھی غائب کردی ہے یا پھر چوری ہوگئی ہے، پارک میں موجود گھاس کو پانی نہ دیئے جانے کے باعث گھاس خشک سالی کا شکار ہوگئی ہے، ہرے بھرے گھاس سے بھرا ہوا گراؤنڈ اب خشک سالی کا منظر دکھا رہا ہے، گھاس خشک ہوگئی ہے ،پودوں کو پانی نہ ملنے کی وجہ سے پودوں کی جگہ صرف خشک شاخیں نظر آرہی ہیں، گراؤنڈ میں گھاس کے بجائے جگہ جگہ سے بڑے بڑے گڑھے کھدے ہوئے نظر آرہے ہیں، پارک چاروں ا طراف سے کھلاہوا ہے، جس کے باعث پارک آواروں کتوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے، آوارہ کتے دن رات وہاں دندناتے پھر رہے ہیں، ان آوارہ کتوں نے کئی معصوم بچوں کو بھی کاٹا ہے، ان کتوں کی وجہ سے وہاں بچے کھیلنے سے کتراتے ہیں، درحقیقت اس پارک کی خوبصورتی کومسخ کرنے کا مین کردار ضلعی انتظامیہ کا ہے،ایک چوکیدار اور 2 مالی ہونے کے باوجود پارک کی صفائی ستھرائی اور پودوں کو پانی نہ دیئے جانے کے باعث دن بدن پارک کی حالت غیر ہوتی جارہی ہے اور پارک میں موجود سامان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہے ہیں، اس پارک میں موجود ایک بار بی کیو ہوٹل بھی ہے، جو رات کے اوقات میں کھلتا ہے، ہوٹل کے کھلنے کے باعث وہاں پر اچھی خاصی چہل پہل اور لوگوں کا آنا جانا رہتا ہے۔

اس پارک کے حوالے سے ’’نمائندہ جرات‘‘ نے معلومات حاصل کیں تو انہوں نے کہا کہ یہاں اکثر وبیشتر اوباش اورجرائم پیشہ افرادرات بھر چرس اور شراب نوشی کرتے ہیں، جونشے میں دھت پارک کے پودوں کو پاؤں تلے روندتے اور نشے کی حالت میں بینچوں کو توڑ دیتے ہیں ،انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پہلے یہ پارک رینجرز کے حوالے تھا لیکن اب گذشتہ ایک سال ہوگیا ہے جس کی دیکھ بھال ضلع سکھر کی انتظامیہ کرتی ہے، ہوٹل مالک نے یہ بھی بتایا کہ میں اپنی جیب سے ایک چوکیدار اور 2 مالی رکھے ہیں جن کو میں ماہوار 27 ہزار روپے ادا کرتا ہوں، گورنمنٹ کی جانب سے پارک کی نگرانی اور اس کی صفائی ستھرائی کے حوالے سے چوکیدار اور مالی رکھے گئے ہیں یا نہیں اس بارے میں مجھے معلوم نہیں ہے، ہوٹل مالک نے بتایا کہ ہوٹل میں خطیر رقم کی آمدنی ہوتی ہے ،جو مجھ سے ہوسکتا ہے وہ میں اس کی دیکھ بھال کے لیے کرتا ہوں ، میں اپنی جیب سے پانی کی موٹر ،گھاس کی کٹائی کے لیے مشین سمیت چھوٹے موٹے اخراجات ہوتے ہیں وہ میں اپنی جیب سے کرتا ہوں، اس حوالے سے جب ہم نے ڈپٹی کمشنر سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا تو انہوں نے فون اٹھانے کی زحمت نہیں کی، متعدد بار ٹیلیفون پر ایس ایم ایس کیے ملنے کے لیے وقت مانگا لیکن انہوں نے کوئی رابطہ اور جواب نہیں دیا۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر