... loading ...
لاہور شہر کا شمار دنیا کے مشہور، قدیم اور خوبصورت تاریخی شہروں میں ہوتا ہے۔ روایات کے مطابق تو یہ شہر قبل از مسیح دور کا ہے۔ ہندوئوں کی مقدس کتاب میں لکھا ہے کہ لاہور شہر رام کے بیٹے لوہ نے آباد کیا تھا لیکن تاریخ لاہور کا ذکر پہلی مرتبہ 982ء میں شائع ہونے والی کتاب ’’حدودالعالم‘‘ میں ملتا ہے۔ شاہ حسین میراں زنجانی اپنے دو بھائیوں کے ہمراہ اسی دور میں لاہور تشریف لائے۔ ان کی آمد کے کچھ عرصہ بعد محمود غزنوی نے ہندو راجہ جے پال کو شکست دے کر لاہور پر قبضہ کیا اور محمود غزنوی کے غلام ایاز نے پہلی مرتبہ لاہور میں پختہ قلعہ تعمیر کیا۔ اس کے بعد لاہور کی تاریخ کا اہم سنگ میل شیر شاہ سوری کا لاہور جی ٹی روڈ کو تعمیر کرنا تھا۔ اس سڑک کی تعمیر سے لاہور شہر نہ صرف برصغیر کے اہم شہروں سے منسلک ہو گیا بلکہ اس کی تکمیل کے بعد لاہور شہر کی اہمیت، شہرت اور وسعت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ ہم لاہور شہر کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو بڑی عجیب و غریب صورت حال سامنے آتی ہے۔ کسی دور میں تو لاہور کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں ہوا اور کسی دور میں یہ شہر لوٹ مار کا شکار اور تباہی و بربادی کی تصویر نظر آیا۔ جب تاتاریوں نے لاہور شہر کو لوٹ کر تباہ و برباد کر دیا تو مغلوں نے یہ شہر دوبارہ تعمیر کر کے اسے دنیا کے خوبصورت اور ترقی یافتہ شہروں میں شامل کر دیا۔ شہر کے گرد فصیل تعمیر کر دی گئی اور اس میں داخلے کے لیے 12 دروازے تعمیر کیے گئے۔ فصیل کے باہر دریا بہتا تھا اور دریا کے ساتھ خوبصورت باغ بنایا گیا۔ مغلیہ دور میں تعمیر کی گئی بادشاہی مسجد، قلعہ لاہور، شالامار باغ، جہانگیر کا مقبرہ اور مسجد وزیر خان جیسی لازوال عمارتیں آج بھی لاہور شہر کے لیے سرمایہ افتخار ہیں۔
سکھوں کے دور میں پھر اس شہر پر قیامت ٹوٹی۔ صدیوں سے مقیم خاص طور پر مسلمان امرا اور شرفا ء کی ایک بڑی تعداد شہر چھوڑ کر بھاگ جانے پر مجبور ہوئی اور شہر کی بہت سی خوبصورت تاریخی عمارتیں، مزارات اور مساجد لوٹ مار سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ 1750 سے 1850 تک کی طویل سیاہ صدی کے خاتمہ پر جب انگریز نے پنجاب کی حکمرانی سنبھالی تو لاہور کی ترقی کا ایک نیا باب کھلا۔ انگریز نے لاہور میں بے شمار جدید عمارتوں کی تعمیر شروع کر دی۔ ریلوے ا سٹیشن، پنجاب یونیورسٹی، ٹائون ہال، ضلع کچہری، گورنمنٹ کالج، عجائب گھر، ہائیکورٹ، جی پی او، منٹگمری ہال، ایچیسن کالج، کنیرڈ کالج، میو ہسپتال، میو سکول آف آرٹس، (بعد ازاں نیشنل کالج آف آرٹس) ٹولنٹن مارکیٹ، اسمبلی ہال اور دوسری بے شمار عمارتیں تعمیر کیں۔ ان تمام عمارتوں میں برطانوی، مغلیہ اور اسلامی کلچر کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ 1860 سے 1915 تک 55 سال کا عرصہ اہل لاہور کے لیے امن، ترقی اور خوش حالی کا دور ثابت ہوا۔
انگریز کے اس دور میں فصیل کے باہر ایک جدید، حسین اور نیا لاہور ابھر کے سامنے آیا۔ بلاشبہ یہ دور لاہور کی ترقی و عروج کا تھا۔ لاہور میں ریلوے کا نظام 1861 میں شروع ہوا۔ 1912 میں لاہور شہر میں بجلی مہیا کی گئی۔ ٹیلی فون کا نظام شروع ہوا۔ کشادہ پختہ سڑکیں، سیوریج کا نظام، پینے کے لیے صاف پانی کی فراہمی، صفائی کے لیے میونسپل کمیٹی کا قیام، شہری حدود میں پلاننگ کے تحت آبادیوں کی تعمیر کے لیے لاہور امپرومنٹ ٹرسٹ کا قیام، انصاف کی فراہمی کے لیے عدالتی نظام اور عام آدمی کو تعلیم مہیا کرنے کے لیے ا سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹی کا وسیع سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس تعلیمی دور کا اعجاز ہے کہ سرسید احمد خاں، قائداعظمؒ علامہ اقبالؒ، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی اور مولانا مودودی وغیرہ جیسی قدآور شخصیات پیدا ہوئیں۔ اس دور میں پنجاب یونیورسٹی اور لاہور سے تعلق رکھنے والے افراد کو نوبل پرائز سے نوازا گیا۔ لیکن آزادی کے بعد قحط الرجال ہے۔ پاکستان بننے کے بعد لاہور شہر ترقی کی دوڑ میں دنیا کے کئی قدیم اور جدید شہروں سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ دبئی، بنکاک اور کوالالمپور جو 1947 میں لاہور کی نسبت بہت پسماندہ تھے آج انتہائی ترقی یافتہ شہر ہیں۔
شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...
ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...
اب منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، عمران خان رہائی فورس مکمل طور پر پرامن جدوجہد کرے گی جس میں باقاعدہ چین آف کمانڈ ہو گی، یہ نہیں ہو گا کہ ذمہ داری کسی کو دیں اور اعلان کوئی کرتا پھرے مجھے بانی پی ٹی آئی کی طرف سے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے، عدالتی احکامات ردی کی...
یہ بات سب یاد رکھیں، عدم اعتماد صرف میں لاسکتا ہوں، میںنے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہ دی تھی، مجھے بہت سوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبرو تحمل سے کام لیا،پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، وزارتیں اس لئے نہیں لیں پارٹی کو...
قاسم اور سلیمان نے دو سال سے زائد عرصے کے بعد ویزے کیلئے درخواست دے دی انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے، دونوں بھائیوں کا مطالبہ،مگر ابھی تک جواب نہیں ملا سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی جیل میں قید اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے...
مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ،دنیا کو موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں،پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،شہباز شریف پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا ا...
اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہو گا،ہمیں صبح کال آئی آپ کہیں تو قاسم زمان کو ملاقات کیلئے بھیج دیں ، ہم نے کہا ڈاکٹر کو بھیجنا چاہتے ہیں، کسی سرکاری بندے پر یقین نہیں کرینگے، ڈاکٹر برکی کو بھیجنے سے منع کردیا بانی پی ٹی آئی کا پیغام ملا میری بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، میر...
(رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہواجس کے نتیجے میں 4 دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے،کلاشنکوف اور ہینڈ گرینڈ برآمد کرلیا گیا، ہلاک دہشتگردوں میں جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان شامل...
سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا پراپیگنڈا کیا گیا،وفاقی وزیر داخلہ بانی کی آنکھ میں انجکشن لگنا تھا سب کا مشورہ تھا کہ ہسپتال لے جائیں، نیوز کانفرنس وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا بھی پراپیگنڈا ...
فلسطینی زمینوں پر قبضہ مضبوط کرنا اور اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنا ہے، دفترخارجہ عالمی برادری ان خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے فوری اقدامات کرے،مشترکہ بیان پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں ک...
ہمارا مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان سے ملنے دیا جائے،پارٹی رہنماؤں اور فیملی کی سے ملاقات کروائی جائے،اراکین کی پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر نعرے بازی جنید اکبر اور شہریار آفریدی سمیت دیگر اراکین کا سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی جان...
، لوگ روپڑے 23 متاثرین نے بیانات قلمبندکروادیے، امدادی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، سراسرغفلت کا مظاہرہ کیا گیا، فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا، بلڈنگ کے اندر کوئی داخل نہیں ہوا، عینی شاہدین آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائے، ہمیں شہادتوں ...