... loading ...
پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جنہیں قدرت نے بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے، وطن عزیز میں جہاں عظیم ترین چوٹیاں، دیو قامت گلیشیئر، قدرتی چشمے، خوب صورت جھیلیں، دریا، ریگستان، معدنیات، جنگلات اور ہر طرح کے موسم شامل ہیں، وہاں ملک کے مختلف علاقوں میں زمانہ قدیم میں مختلف حکمرانوں کے ادوار میں تعمیر کیے جانے والے بلند و بالا تاریخی قلعے بھی موجود ہیں، جو نہ صرف ہماری تاریخ بلکہ ثقافت کا بھی ایک اہم حصہ ہیں۔ مغل دور میں قائم ہونے والا تاریخی قلعہ ’’عمر کوٹ ‘‘بھی اپنی پہچان آپ ہے۔
جس کے مناظر آج بھی دیکھنے والوں کو مبہوت کردیتے ہیں، یہ قلعہ اپنی بناوٹ، خوب صورتی اور کشش کی وجہ سے نہ صرف بر صغیر بلکہ دنیا بھر میں مقبول ہے۔
اسے دورِ اکبری کی یادگار بھی کہا جاتا ہے ، تاریخ کے اوراق پلٹنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عمر کوٹ کا چھوٹا سا قصبہ، جو ریت کے ٹیلوں کے کنارے پر سندھ کے مشرقی صحرا کو الگ کرتا ہے، یہاں شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کی جائے پیدائش ہے۔ یہ جگہ ایک چھت دار احاطہ سا ہے جو1898 میں مقامی زمیندار سید میر شاہ نے تعمیر کیا اس کے مشرقی جانب پتھر کاگنبد موجود ہے۔ یہ جگہ بادشاہ اکبر کے اعزاز میں بنائی گئی، یہ تعمیر جدید اینٹوں سے کی گئی ہے۔ عمر کوٹ کے قلعے میں قائم میوزیم میں ہتھیار، زیورات، سکے، شاہی فرمان اور خطاطی کے علاوہ ، کئی مجسمے مغلیہ دور کی داستان سناتے ہیں۔ بعض تاریخ نویسوں کے نزدیک یہ قلعہ اصل میں امر کوٹ (امیر کوٹ) تھا، چوں کہ یہ امیر سرداروں اور حاکموں کی سکونت گاہ رہا ہے ،اس لیے اسے امیر کوٹ کہا گیا۔ کچھ محققین کا خیال ہے کہ امر کوٹ اور عمر کوٹ دو الگ الگ شہر تھے، جب کہ کچھ کے نزدیک یہ ایک ہی قلعہ ہے جس کو پہلے امر کوٹ اور بعد میں عمر کوٹ کا نام دیا گیا۔
تاریخی حوالوں سے عمر کوٹ کے قلعے، تعلقہ اور ضلع عمر کوٹ کے بارے میں بات کی جائے تو پتاچلتا ہے کہ یہاںمیاں نور محمد کلہوڑو نے پناہ لی تھی۔ یہاں عبدالنبی کلہوڑو نے راجہ جودھپور کی مدد سے میر بجار کو قتل کیا اور اس کے حملے میں یہ قلعہ اسے دے دیا، راجپوتوں سے یہ قلعہ میر غلام علی خان تالپور سیواپس لیا۔
1843ء میں اس قلعہ پر برطانوی افواج کا قبضہ ہوگیا۔ آج یہ قلعہ جس حالت میں موجود ہے، اسے کلہوڑوں نے دوبارہ تعمیر کروایا تھا۔ عمر کوٹ قلعہ مستطیل شکل میں ہے، جو پکی اینٹوں اور کھدائی سے نکالے گئے پتھروں سے بنایا گیا ہے۔
اس کی اندرونی اور بیرونی دیواریں مخروطی ہیں، اس میں چار برج بھی تعمیر ہیں، جو گولائی میںہیں، اس کی بیرونی چار دیوار17فیٹ وسیع ہے، جو کہ 45 فیٹ تک اونچی ہیں۔ قلعے میں دشمنوں پر نظر رکھنے کے لیے ایک بلند جگہ بھی بنائی گئی تھی، جہاں کبھی سات توپیں رکھی جاتی تھیں۔ قلعے میں محکمہ آثار قدیمہ پاکستان نے 1968ء میں ایک عجائب گھر قائم کیا تھا، بعد میں یہاں گورنمنٹ کی طرف سے سرکٹ ہائوس بھی قائم کیا گیا۔
بعض تاریخ نویس قلعہ عمر کوٹ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس کی بنیاد کو عمر سومرو کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے، جب کہ کچھ مورخین اسے امر کوٹ کا نام دے کر، دلیل پیش کرتے ہیں کہ یہ چودہویں صدی عیسوی سے بھی پہلے کا ہے، ان کے مطابق جب امر کوٹ کے راجہ سوڈھا کی بیٹی سے پدونشی راجہ مانڈم رائے کی شادی ہوئی ،اس وقت راجہ مانڈم رائے کی حکومت تھی۔
فی الحال عمر کوٹ صوبہ سندھ کا ایک ضلع ہے، جو حیدرآباد سے مشرق کی طرف 140 کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے، عمر کوٹ کا بانی عمر سومرہ دوم قبائل کا سردار تھا، جس نے سندھ پر حکومت کی۔ مورخین کے مطابق عمر سومرہ کا دارالخلافہ تھرڑی تعلقہ مٹلی میں تھا، جو اس وقت عمر کوٹ کے نام سے جانا جاتا تھا اور یہ تعلقہ اس وقت راجہ میواڑ کے زیر نگرانی تھا ، عمومی طور پر قیاس کیا جاتا ہے کہ عمر کوٹ راجہ امر سنگھ نے گیارہویں صدی عیسوی میں بسایا۔
عمر کوٹ قلعہ زیادہ تر سوڈھو قبائل (راجپوت) کے زیر تصرف رہا۔ عمر کوٹ یا امر کوٹ کو پامار سوڈھا راجہ عمر سومرہ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ قلعہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ عمر کوٹ ،مگر قلعے کے ا?ثار بتاتے ہیں کہ یہ اتنا پرانا نہیں، بعض مورخین کہتے ہیں کہ یہ قلعہ نور محمد کلہوڑوپرانا قلعہ مسمار کر واکے نیا قلعہ بنوایا تھا،اس میں چار گول برج ہیں، جن میں سے ایک برج تو مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے اور دوسرا بھی گرنے والا ہے۔
ان برجوں کی سامنے کی دیواریں سورج کی تپش سے پکی ہوئی اینٹوں کی ہیں۔ اس کا داخلی دروازہ شاہی دروازہ کہلاتا ہے، جو قلعہ کی مشرقی دیوار میں ہے۔ نقشے کے مطابق یہ خفیہ راستہ ہے اوپر محراب سے یہ حصہ جو بعد کی تعمیر ہے داخلی دروازیکے دونوں برج گھوڑے کے سموں سے مشابہ ہیں، جو رائے رتن سنگھ کے گھوڑے کے سموں سے منسوب ہیں۔
عمر کوٹ کے صدیوں پرانے اس تاریخی قلعہ کو وقت کے بے رحم لمحے اجاڑتے جارہے ہیں، متعلقہ محکموں کی غفلت و لاپرواہی کے سبب صدیوں پرانی تاریخ کے نقوش مٹنے کے قریب ہیں ، یہ قلعہ وقت کے ساتھ ساتھ اپنی شناخت کھورہا ہے۔ اگر حکومت نے اس تاریخی ورثے پر جلد توجہ نہ دی، تو یہ تاریخ کی گرد میں کہیں کھوجائے گا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مقتدر حلقیاس جانب خصوصی توجہ دے کراس تاریخی قلعے کے آثار کو محفوظ بنانے اور تزئین و آرائش و مرمت کا کام ہنگامی بنیادوں پر کرائیں، تاکہ اس عظیم تاریخی یادگار کو ایک بار پھر اس کا کھویا ہوا مقام واپس مل سکے۔ مرمت اور دیکھ بھال سینہ صرف قلعے کی تاریخی حیثیت کو بحال کیا جا سکتا ہے بلکہ اسے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بھی بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...
ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...
فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...
خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...
400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...
افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...