وجود

... loading ...

وجود

بھارتی وزیر اعظم کا دنیا بھر میں قاتل مودی کے نعروں سے استقبال

جمعه 01 جون 2018 بھارتی وزیر اعظم کا دنیا بھر میں قاتل مودی کے نعروں سے استقبال

بھارت کے ہندو جنونیوں کی مسلم دشمنی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب خود ان کے مذہبی مقامات یعنی مندر بھی ان کی بر بریت اور وحشیانہ جرائم سے پاک نہیں رہے۔ کشمیر کے حوالے سے تو خاص طور پر بھارت میں آزادی کا حق مانگنے والوں کے ساتھ بھارتی سرکار نے جو ظلم روا رکھا ہوا ہے۔اس کی گونج اقوام متحدہ میں بھی سنائی دیتی ہے۔ پیلٹ گنز سے معصوم بچوں تک کو اندھا کرنے والی کوئی اور نہیں بھارتی فوج اور ریاستی ادارے ہی ہیں جنہیں ریاست کی مکمل آشیرباد حاصل ہے۔

معصوم کشمیریوں پر ظلم صرف بھارتی ریاستی میں ڈھا رہی بلکہ ہندو جنونیوں کے نزدیک بھی شائد کشمیری مسلمان انسان نہیں ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں مودی حکومت کے خلاف احتجاج ہورہا ہے کیونکہ اب ہندوجنونیوں کاظلم اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اس کے بعد مٹ جانے کی نوبت آیاچاہتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے ہندو اکثریتی علاقے جموں میں کٹھوعہ کے علاقے میں اڑھائی ماہ قبل7 سالہ مسلمان بچی آصفہ کو اغوا کیا گیا اور اس معصوم کلی کو اجتماعی زیادتی کے بور وحشیانہ انداز میں قتل کر دیا گیا۔

اب یہ حقیقت سامنے آچکی ہے کہ یہ انتہاء￿ پسند ہندوو?ں کا طے شدہ منصوبہ تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ جموں سے 90 کلومیٹر دور راسانہ کے علاقے میں خانہ بدوش مسلمان بھیڑ بکریاں پال کر گزارہ کرتے اور جنگلوں اور پہاڑوں پر گھومتے پھرتے رہائش بدلتے رہے ہیں انہیں کشمیری ’’بکروال” کہتے ہیں۔ ان بنجارے بکروالوں نے ’’راسانہ‘‘ میں زمین خرید کر اپنے پکے گھر بنانا شروع کئے تو وہاں آباد ہندووئں خاص کر ڈوگرہ کمیونٹی برا مان گئی۔

اس گروہ کے سرکردہ شخص اوردیوی استھان مندر کے مہانت سنجی رام نے بکروال مسلمانوں کو یہاں سے نکالنے کے لیے شیطانی منصوبے کا جال بنا۔ اس گھناؤنے منصوبے پر عمل شروع ہوا تو گیارہ جنوری کو بکروال غریب خاندان کی 7 سالہ آصفہ لاپتہ ہوگئی۔ اس کے والدین اور رشتہ دار اسے ہر جگہ تلاش کرتے رہے لیکن وہ کہیں نہ ملی۔ اس معصوم بچی کو 17 جنوری کو قتل کر دیا گیا اور 23 جنوری کو اس کی تشددزدہ نعش ملی۔

اس کا پوسٹ مارٹم ہوا ہرشخص لرزاٹھا جس کے سینے میں دل دھڑکتا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشافات ہوئے کہ اس بچی کے ساتھ مسلسل 6 روز تک کئی افراد نے زیادتی کی حتیٰ کہ قتل کرنے سے پہلے بھی اس کے ساتھ درندگی ہوئی جس کے بعد اس کے سر پر پتھر مار کر اور گلا دبا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ بکروال برادری کے رہنماو?ں کے مطابق آصفہ کواغواء￿ کے بعد دیوی استھان مندر میں رکھا گیا اوربچی سے زیادتی کرانے کے لیے سنجی رام نے فون کر کے اپنے طالب علم بھتیجے وشال کو مفرت شہریعنی بھارت سے جموں بلایا تھا جبکہ قتل کے بعدبچی کی نعش کچرے کے ڈھیر پرپھینک دی گئی اس ظلم میں صرف مندر کا مہانت اور اس کا ٹولہ ہی شامل نہیں تھا بلکہ بھارتی سرکاربھی مجرم ثابت ہوئی۔

بھارتی چینل انڈیا ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس افسروں نے سنجی رام سے 4 لاکھ روپے لے کرقتل کیس کے اہم شواہد ضائع کر دیئے جس کی وجہ سے 2 ماہ تک اس کیس کی تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی جس پر احتجاج کا دائرہ بڑھتا گیا اور لوگوں کی آوازبلند سے بلند ہوتی گئی۔ حالات، اس نہج پر پہنچ گئے کہ محبوبہ مفتی حکومت کو حرکت میں آنا پڑا۔ ملزمان سنجی رام اس کے بھتیجے و شال گرجنگرو ٹا سپیشل پولیس آفیسروں دیپک کھجوریا ، سریندر ورما اور پرویش کمار کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ کیس کے شوہد رشوت لے کر ضائع کرنے پر تفتیشی اہلکاروں ہیڈ کانسٹیبل تلک راج، سب انسپکٹر آنند د تہ کو چارج شیٹ میں نامزد کیا گیا۔

دوسری جانب ملزموں کی گرفتاری پر محبوبہ مفتی کی اتحادی بی جے پی کے 2 وزرا لال سنگھ اور چندر پرکاش گنگا نے اس معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کو شروع کی تاکہ آصفہ کو انصاف نہ مل سکے اورکشمیری مسلمانوں کے خلاف ایک گھناو?نی حرکت کرنے والوں کوبچایا جاسکے۔ انہوں نے اسے ہندو ڈوگر کمیونٹی کو پھسانے کی سازش قرار دیا اورمختلف ہندو تنظیموں کے رہنما بھی ملزمان کے حق می بولنے لگے ایسے لگتا ہے جیسے ملزمان کو ہندو جنونی اپنا ہیرو بنا چکے ہیں کیونکہ انہوں نے مسلمان کشمیری بچی کو طے شدہ منصوبے کے تحت درندگی کا نشانہ بنایا ہے۔

بھارتی سرکار تو اس وقت جنونی ہندونریندرا مودی کی ہے جس کی شہرت ہی مسلم دشنمی کے حوالے سے ہے لہذا یہ بات تو ان کے اقتدار سنبھالتے ہی کہہ دی گئی تھی کہ مودی حکومت میں ہندو جنونیوں کوکھل کر اپنی گھناؤ نی سازشوں اور مسلم دشمنی پر عمل درآمد ہونے کا موقع ملے گا۔ اب ہر گزرتے دن کے ساتھ مودی حکومت کے حوالے سے ہونے والی یہ پیشگو ئیاں پوری ہورہی ہیں لیکن دوسری جانب یہ بربریت اور اس پر ہونے والا احتجاج صرف کشمیر تک محددود نہیں رہا بلکہ ننھی آصفہ پوری دنیا میں بھارتی جبر کے خلاف ایک توانا آواز بن چکی ہے۔

اس ظلم کے خلاف اب تک 17 لاکھ سے زائدلوگ آن لائن پٹیشن دائر کر چکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر اس وقت میدان جنگ بنا ہوا ہے جہاں تمام تعلیمی سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں اور طلباوطالبات سرینگر، بڈگام،شوپیاں، کولگام اور کپواڑہ سمیت متعددعلاقوں میں سڑکوں نکل چکے ہیں۔ بھار تی قابض فوج ان پر فائرنگ اور شیلنگ کر رہی ہے جس کی وجہ سے درجنوں طلبا و طالبات زخمی ہو چکی ہیں لیکن احتجاج کا سلسلہ کسی صورت رکتا نظر نہیں آتا۔

کشمیریوں کی مشترکہ قیادت سید علی گیلانی ، یاسین ملک ، میر واعظ عمر فاروق اور دیگرکی جانب سے بیان سامنے آ چکاہے کہ جیلوں میں بند نظر بند را ہنماؤں کو بھی ذہنی اور جسمانی تشددا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پورے کشمیرمیں اوری انٹرنیٹ سروس بند کی جا چکی ہے اور کاروباری مرا کز ویران ہو چکے ہیں۔دنیا بھر میں صورت حال یہ ہے کہ نریندرا مودی کو کہیں منہ چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی مودی کی برطانیا آمد پر کشمیر یوں ، دلت اورسکھ کمیونٹی نے بھر پور احتجاج کیا۔

احتجاج کرنے وا لے’’ واپس جاؤ قتل عام بند کرو‘‘ بند کر و کے نعرے لگاتے رہے اور سڑک پر کشمیر میں ہونے والے مظالم کے خلاف گول میز کانفرنس ہوئی۔ لارڈ نذیر کی سربراہی میں بھی احتجاج کیا گیا اور کشمیری کی ساری قیادت تمام تر سیاسی اختلافات، بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک ساتھ نظر آرہی ہے۔ یہ بھارتی علم کی انتہاء￿ ہی ہے جس نے نہ صرف کشمیری قیادت کو یکجا کر دیا ہے بلکہ دنیا بھر میں بھارتی وزیر اعظم کا استقبال ’’قاتل مودی ‘‘کے نعروں سے ہو رہا ہے۔

کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنا ابھر چکا ہے اوربھارتی سرکار کی جانب سے کشمیرمیں انٹرنیٹ سروس بند کر دینے اور کشمیر کودنیا کاٹ دینے کے باوجود یہ آوازاتنی مضبوط ہے کہ اب پوری دنیا میں گونج رہی ہے۔ بھارتی جنونی حکومت اسے ہندو مسلم مذہبی رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے لیکن ننھی آصفہ کی لاش دنیا کو حقیقت سے آگاہ کر چکی ہے۔ ایسالگتا ہے کہ اب اس معصوم کی چیخیں مودی سرکار کاپیچھا کرتی رہیں گی اور مودی حکومت جہاں بھی جائے گی اس سے آصفہ کے ساتھ والے ظلم پر سوالوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر