وجود

... loading ...

وجود

بھارتی وزیر اعظم کا دنیا بھر میں قاتل مودی کے نعروں سے استقبال

جمعه 01 جون 2018 بھارتی وزیر اعظم کا دنیا بھر میں قاتل مودی کے نعروں سے استقبال

بھارت کے ہندو جنونیوں کی مسلم دشمنی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب خود ان کے مذہبی مقامات یعنی مندر بھی ان کی بر بریت اور وحشیانہ جرائم سے پاک نہیں رہے۔ کشمیر کے حوالے سے تو خاص طور پر بھارت میں آزادی کا حق مانگنے والوں کے ساتھ بھارتی سرکار نے جو ظلم روا رکھا ہوا ہے۔اس کی گونج اقوام متحدہ میں بھی سنائی دیتی ہے۔ پیلٹ گنز سے معصوم بچوں تک کو اندھا کرنے والی کوئی اور نہیں بھارتی فوج اور ریاستی ادارے ہی ہیں جنہیں ریاست کی مکمل آشیرباد حاصل ہے۔

معصوم کشمیریوں پر ظلم صرف بھارتی ریاستی میں ڈھا رہی بلکہ ہندو جنونیوں کے نزدیک بھی شائد کشمیری مسلمان انسان نہیں ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں مودی حکومت کے خلاف احتجاج ہورہا ہے کیونکہ اب ہندوجنونیوں کاظلم اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اس کے بعد مٹ جانے کی نوبت آیاچاہتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے ہندو اکثریتی علاقے جموں میں کٹھوعہ کے علاقے میں اڑھائی ماہ قبل7 سالہ مسلمان بچی آصفہ کو اغوا کیا گیا اور اس معصوم کلی کو اجتماعی زیادتی کے بور وحشیانہ انداز میں قتل کر دیا گیا۔

اب یہ حقیقت سامنے آچکی ہے کہ یہ انتہاء￿ پسند ہندوو?ں کا طے شدہ منصوبہ تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ جموں سے 90 کلومیٹر دور راسانہ کے علاقے میں خانہ بدوش مسلمان بھیڑ بکریاں پال کر گزارہ کرتے اور جنگلوں اور پہاڑوں پر گھومتے پھرتے رہائش بدلتے رہے ہیں انہیں کشمیری ’’بکروال” کہتے ہیں۔ ان بنجارے بکروالوں نے ’’راسانہ‘‘ میں زمین خرید کر اپنے پکے گھر بنانا شروع کئے تو وہاں آباد ہندووئں خاص کر ڈوگرہ کمیونٹی برا مان گئی۔

اس گروہ کے سرکردہ شخص اوردیوی استھان مندر کے مہانت سنجی رام نے بکروال مسلمانوں کو یہاں سے نکالنے کے لیے شیطانی منصوبے کا جال بنا۔ اس گھناؤنے منصوبے پر عمل شروع ہوا تو گیارہ جنوری کو بکروال غریب خاندان کی 7 سالہ آصفہ لاپتہ ہوگئی۔ اس کے والدین اور رشتہ دار اسے ہر جگہ تلاش کرتے رہے لیکن وہ کہیں نہ ملی۔ اس معصوم بچی کو 17 جنوری کو قتل کر دیا گیا اور 23 جنوری کو اس کی تشددزدہ نعش ملی۔

اس کا پوسٹ مارٹم ہوا ہرشخص لرزاٹھا جس کے سینے میں دل دھڑکتا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشافات ہوئے کہ اس بچی کے ساتھ مسلسل 6 روز تک کئی افراد نے زیادتی کی حتیٰ کہ قتل کرنے سے پہلے بھی اس کے ساتھ درندگی ہوئی جس کے بعد اس کے سر پر پتھر مار کر اور گلا دبا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ بکروال برادری کے رہنماو?ں کے مطابق آصفہ کواغواء￿ کے بعد دیوی استھان مندر میں رکھا گیا اوربچی سے زیادتی کرانے کے لیے سنجی رام نے فون کر کے اپنے طالب علم بھتیجے وشال کو مفرت شہریعنی بھارت سے جموں بلایا تھا جبکہ قتل کے بعدبچی کی نعش کچرے کے ڈھیر پرپھینک دی گئی اس ظلم میں صرف مندر کا مہانت اور اس کا ٹولہ ہی شامل نہیں تھا بلکہ بھارتی سرکاربھی مجرم ثابت ہوئی۔

بھارتی چینل انڈیا ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس افسروں نے سنجی رام سے 4 لاکھ روپے لے کرقتل کیس کے اہم شواہد ضائع کر دیئے جس کی وجہ سے 2 ماہ تک اس کیس کی تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی جس پر احتجاج کا دائرہ بڑھتا گیا اور لوگوں کی آوازبلند سے بلند ہوتی گئی۔ حالات، اس نہج پر پہنچ گئے کہ محبوبہ مفتی حکومت کو حرکت میں آنا پڑا۔ ملزمان سنجی رام اس کے بھتیجے و شال گرجنگرو ٹا سپیشل پولیس آفیسروں دیپک کھجوریا ، سریندر ورما اور پرویش کمار کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ کیس کے شوہد رشوت لے کر ضائع کرنے پر تفتیشی اہلکاروں ہیڈ کانسٹیبل تلک راج، سب انسپکٹر آنند د تہ کو چارج شیٹ میں نامزد کیا گیا۔

دوسری جانب ملزموں کی گرفتاری پر محبوبہ مفتی کی اتحادی بی جے پی کے 2 وزرا لال سنگھ اور چندر پرکاش گنگا نے اس معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کو شروع کی تاکہ آصفہ کو انصاف نہ مل سکے اورکشمیری مسلمانوں کے خلاف ایک گھناو?نی حرکت کرنے والوں کوبچایا جاسکے۔ انہوں نے اسے ہندو ڈوگر کمیونٹی کو پھسانے کی سازش قرار دیا اورمختلف ہندو تنظیموں کے رہنما بھی ملزمان کے حق می بولنے لگے ایسے لگتا ہے جیسے ملزمان کو ہندو جنونی اپنا ہیرو بنا چکے ہیں کیونکہ انہوں نے مسلمان کشمیری بچی کو طے شدہ منصوبے کے تحت درندگی کا نشانہ بنایا ہے۔

بھارتی سرکار تو اس وقت جنونی ہندونریندرا مودی کی ہے جس کی شہرت ہی مسلم دشنمی کے حوالے سے ہے لہذا یہ بات تو ان کے اقتدار سنبھالتے ہی کہہ دی گئی تھی کہ مودی حکومت میں ہندو جنونیوں کوکھل کر اپنی گھناؤ نی سازشوں اور مسلم دشمنی پر عمل درآمد ہونے کا موقع ملے گا۔ اب ہر گزرتے دن کے ساتھ مودی حکومت کے حوالے سے ہونے والی یہ پیشگو ئیاں پوری ہورہی ہیں لیکن دوسری جانب یہ بربریت اور اس پر ہونے والا احتجاج صرف کشمیر تک محددود نہیں رہا بلکہ ننھی آصفہ پوری دنیا میں بھارتی جبر کے خلاف ایک توانا آواز بن چکی ہے۔

اس ظلم کے خلاف اب تک 17 لاکھ سے زائدلوگ آن لائن پٹیشن دائر کر چکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر اس وقت میدان جنگ بنا ہوا ہے جہاں تمام تعلیمی سرگرمیاں معطل ہو چکی ہیں اور طلباوطالبات سرینگر، بڈگام،شوپیاں، کولگام اور کپواڑہ سمیت متعددعلاقوں میں سڑکوں نکل چکے ہیں۔ بھار تی قابض فوج ان پر فائرنگ اور شیلنگ کر رہی ہے جس کی وجہ سے درجنوں طلبا و طالبات زخمی ہو چکی ہیں لیکن احتجاج کا سلسلہ کسی صورت رکتا نظر نہیں آتا۔

کشمیریوں کی مشترکہ قیادت سید علی گیلانی ، یاسین ملک ، میر واعظ عمر فاروق اور دیگرکی جانب سے بیان سامنے آ چکاہے کہ جیلوں میں بند نظر بند را ہنماؤں کو بھی ذہنی اور جسمانی تشددا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پورے کشمیرمیں اوری انٹرنیٹ سروس بند کی جا چکی ہے اور کاروباری مرا کز ویران ہو چکے ہیں۔دنیا بھر میں صورت حال یہ ہے کہ نریندرا مودی کو کہیں منہ چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی مودی کی برطانیا آمد پر کشمیر یوں ، دلت اورسکھ کمیونٹی نے بھر پور احتجاج کیا۔

احتجاج کرنے وا لے’’ واپس جاؤ قتل عام بند کرو‘‘ بند کر و کے نعرے لگاتے رہے اور سڑک پر کشمیر میں ہونے والے مظالم کے خلاف گول میز کانفرنس ہوئی۔ لارڈ نذیر کی سربراہی میں بھی احتجاج کیا گیا اور کشمیری کی ساری قیادت تمام تر سیاسی اختلافات، بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک ساتھ نظر آرہی ہے۔ یہ بھارتی علم کی انتہاء￿ ہی ہے جس نے نہ صرف کشمیری قیادت کو یکجا کر دیا ہے بلکہ دنیا بھر میں بھارتی وزیر اعظم کا استقبال ’’قاتل مودی ‘‘کے نعروں سے ہو رہا ہے۔

کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنا ابھر چکا ہے اوربھارتی سرکار کی جانب سے کشمیرمیں انٹرنیٹ سروس بند کر دینے اور کشمیر کودنیا کاٹ دینے کے باوجود یہ آوازاتنی مضبوط ہے کہ اب پوری دنیا میں گونج رہی ہے۔ بھارتی جنونی حکومت اسے ہندو مسلم مذہبی رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے لیکن ننھی آصفہ کی لاش دنیا کو حقیقت سے آگاہ کر چکی ہے۔ ایسالگتا ہے کہ اب اس معصوم کی چیخیں مودی سرکار کاپیچھا کرتی رہیں گی اور مودی حکومت جہاں بھی جائے گی اس سے آصفہ کے ساتھ والے ظلم پر سوالوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔


متعلقہ خبریں


بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

مضامین
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ وجود بدھ 01 جولائی 2026
مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ

بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود منگل 30 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

میرے عزیزہم وطنو!! وجود منگل 30 جون 2026
میرے عزیزہم وطنو!!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر