وجود

... loading ...

وجود

زکوٰۃ کے فضائل و مسائل

جمعه 01 جون 2018 زکوٰۃ کے فضائل و مسائل

دین اسلام میں زکوٰۃ ہر مالدار صاحبِ نصاب پر فرض ہے۔زکوٰۃ کی معاشرتی حیثیت ایک مکمل اور جامع نظام کی ہے۔ اگر ہر صاحبِ نصاب زکوٰۃدینا شروع کر دے تو مسلمان معاشی طور پر خوشحال ہو سکتے ہیں اور اس قابل ہو سکتے ہیں کہ کسی غیر سے قرض کی بھیک نہ مانگیں اورزکوٰۃ ادا کرنے کی وجہ سے بحیثیت مجموعی مسلمان سود کی لعنت سے بچ سکتے ہیں۔

زکوٰۃکی فضیلت: قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے تقریباً 32 مقامات پر نماز کے ساتھ زکوٰۃکو ذکر فرمایا ہے۔ جس سے اس کی اہمیت معلوم ہو سکتی ہے۔ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی بے شمار احادیث میں زکوٰۃکی فضیلت ، ترغیب اور افادیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ زکوٰۃکو دین میں بہت اہمیت دی گئی ہے۔اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے کو سخت عذاب کی وعید بتلائی گئی ہے۔ ایک حدیث ملاحظہ ہو ! حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آپ علیہ السلام کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں اس کی گردن میں ڈال دیا جائے گا۔ (راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پاک کی آیت کا مصداق ہمیں سمجھایا اور یہ آیت تلاوت کی جس کا ترجمہ یہ ہے)اور ہرگز خیال نہ کریں ایسے لوگ جو ایسی چیز میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دی ہے کہ یہ بات کچھ ان کے لیے اچھی ہوگی بلکہ یہ بات ان کی بہت بری ہے وہ لوگ قیامت کے روز طوق پہنادیے جائیں گے اس کا جس میں انہوں نے بخل کیا تھا۔

صاحب نصاب کون ہے : جس مرد یا عورت کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونایا ساڑھے باون تولہ چاندی یا نقدی مال یا تجارت کا سامان یا ضرورت سے زائد سامان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچوں چیزوں یا بعض کامجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو ایسے مردو عورت کو صاحب نصاب کہا جاتا ہے۔

واجب ہونے کی شرائط: 1: مسلمان ہونا 2: نصاب کا پورا ہونا3: عاقل بالغ ہو 4: اس پر سال گزر جائے۔

زکوٰۃکے چند اہم مسائل:
مسئلہ1: اگر کسی کی آمدنی کافی ہے لیکن وہ مقروض ہے اور خرچہ زیادہ ہونے کی وجہ سے قرض ادا کرنے پر قادر نہیں تو ایسے آدمی پر زکوٰۃ واجب نہیں۔

مسئلہ2: جس شخص کی ماہانہ آمدنی معقول ہے لیکن سال بھر تک اس کے پاس نصاب کی مقدار جمع نہیں رہتی اور اس پر زکوٰۃ واجب نہیں۔

مسئلہ3: اگر ادھار کی رقم نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو وصول ہونے کے بعد زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا اگر ادھار کی رقم وصول ہونے میں چند سال کا عرصہ گزر گیا تو گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ دینا لازم ہوگا۔

مسئلہ4: اگر استاد غریب ہے نصاب کا مالک نہیں تو شاگرد کے لیے استاد کو زکوٰۃ دینا جائز بلکہ مستحق استاد کو زکوٰۃدینے کا ثواب زیادہ ملے گا۔

مسئلہ5: مردہ کے ایصال ثواب کے لیے زکوٰۃکی رقم دینا جائز نہیں بلکہ دوسری حلال رقم صدقات زکوٰۃ کے علاوہ سے ایصال ثواب کرنا ہوگا ورنہ میت کو ثواب نہیں ہوگا۔

مسئلہ6: باپ اور بیٹا مل کر پیسہ کماتے ہیں اور پیسہ والد کے قبضہ میں ہے اور باپ ہی اس میں سے تصرف کرتا ہے اور وہ رقم نصاب کے برابر ہے تو سال گزرنے کے بعد باپ کے لیے زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا بیٹے کے لیے نہیں کیونکہ ان پیسوں کا مالک باپ ہے ہاں اگر وہ اپنا اپنا پیسہ تقسیم کردیں تو الگ الگ زکوٰۃ واجب ہوگی۔

مسئلہ7: اپنے باپ کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔

مسئلہ8: بچہ اگر صاحب نصاب ہے تو نابالغ ہونے کی وجہ سے اس کے مال وغیرہ پرزکوٰۃ واجب نہیں اور ولی کے لیے نابالغ کے مال سے زکوٰۃ ادا کرنا لازم نہیں ہوگا دوسری عبادات کی طرح بچہ پرزکوٰۃ بھی واجب نہیں۔

مسئلہ9: زکوٰۃکی رقم سے مکانات بناکر مستحق لوگوں میں تقسیم کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی البتہ مستحق لوگوں کو مکمل طور پر مالک بنا دینا ضروری ہے مکان کا قبضہ بھی دیدیں رجسٹرڈ کراکر کاغذات بھی ان کے حوالے کر دے تاکہ وہ اپنے اختیار سے جس قسم کا جائز تصرف کرنا چاہے کرسکیں۔

مسئلہ 10:جو رقم زکوٰۃ کی نیت کے بغیر اد اکی جائے اور جس کو دی جائے وہ خرچ بھی کرلے اب اگر اس مال کو زکوٰۃ میں شمار کیا جائے تو وہ درست نہیں اور زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔

مسئلہ11: بھابھی، بھائی، بھتیجا، بہن اگر وہ نصاب کے مالک نہیں اور مستحق بھی ہیں اور ان کا کھانا پینا الگ ہو تو ان سب کوزکوٰۃ دینا جائز ہے۔

مسئلہ12:اگر حکومت یا بینک والے کھاتے داروں سے ان کی اجازت سے اصل رقم سے زکوٰۃ کاٹ کر مستحقین زکوٰۃ کو مالکانہ طور پر دیتے ہیں توزکوٰۃ ادا ہوگی اور اگر اصل رقم سے ادا تو کریں لیکن مالک کے اجازت کے بغیر تو پھرزکوٰۃ ادا نہیں ہوگی مالک کو زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے اور اگر وہ حکومت یا بینک والے اصل رقم سے نہیں بلکہ نفع کے نام پر جمع ہونے والی سود کی رقم سے زکوٰۃ ادا کریں توزکوٰۃ بالکل ادا نہیں ہوگی کیونکہ حرام رقم سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔

مسئلہ13:بیوی کو اگر شوہر زکوٰۃ دے تو یہ جائز نہیں۔

مسئلہ 14:اگر بیوی صاحب نصاب ہے تو خود بیوی کوزکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے شوہر پر ضرور ی نہیں۔

مسئلہ15: پرائز بانڈ کی اصل قیمت یعنی جس رقم سے پرائز بانڈ خریدا ہے وہ نصاب کے برابر ہو تو اس اصلی رقم پر زکوٰۃ واجب ہے اور ہر قرعہ اندازی میں نام نکلنے کی صورت میں جو رقم زائد ملتی ہے وہ نہ تو لینا جائز ہے اور نہ ہی اس پرزکوٰۃہے جہاں سے لیتا ہے واپس کرے ورنہ بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کردینا ضروری ہے۔

مسئلہ 16:اگر کوئی تجارت کی نیت سے پلاٹ خریدے یا زمین خریدے (یعنی فروخت کرنے کی نیت سے) تو اس صورت میں اس کی قیمت سے ہر سال زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے اور ہر سال مارکیٹ میں جو فروخت کی قیمت ہوگی اس کا اعتبار ہوگا۔

مثلاً ایک پلاٹ ایک لاکھ میں خریدا تھا سال مکمل ہونے پر اس کی قیمت 5لاکھ ہوگی تو زکوٰۃ 5لاکھ سے دینی ہوگی اور اگر پلاٹ ذاتی ضروریات کے لیے خریدا تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں، اور اگر پلاٹ خریدا رقم کو محفوظ کرنے کے لیے تو اس صورت میں بھی زکوٰۃ ہر سال واجب ہوگی۔

مسئلہ 17:اگر پلاٹ خریدتے وقت فروخت کرنے کی نیت نہیں تھی بعد میں فروخت کرنے کا ارادہ ہوگیا تو جب تک اس کو فروخت نہیں کیا جائے اس پر زکوٰۃ واجب نہیں۔

مسئلہ 18:اگر کوئی شخص سال کے پورے ہونے سے پہلے یا سال مکمل ہونے کے بعد تھوڑی تھوڑی کر کے زکوٰۃ ادا کرے تب بھی جائز ہے۔

مسئلہ 19:اگر کسی آدمی نے کمیٹی کے طور پر پیسے جمع کروائے ہوں اور وہ نصاب کے برابر بھی ہوں اور پھر اس آدمی پر کسی قسم کاقرض وغیرہ بھی نہ ہو تو اس محفوظ شدہ پیسوں کی زکوٰۃ ادا کرنی ضروری ہوگی اور زکوٰۃ ادا کرتے وقت کمیٹی کی جمع شدہ رقم کو اصل مال اور نقدی کے ساتھ ملایا جائے گا۔

مسئلہ 20:اگر کوئی شخص یوں کرتا ہے کہ وہ انکم ٹیکس ادا کرتا ہے اور پھر یہ سمجھتا ہے کہ انکم ٹیکس کے ساتھ ساتھ زکوٰہ بھی ادا ہو گئی۔ تو اس کی یہ سوچ غلط ہے کیونکہ انکم ٹیکس ملکی ضروریات کے لئے گورنمنٹ کی طرف سے مقرّر ہے، جبکہ زکوٰۃ ایک مسلمان کے لئے فریضہ خداوندی اور عبادت ہے، انکم ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، بلکہ زکوٰۃ کا الگ ادا کرنا فرض ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم) وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم)

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

ایران میں دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی ،میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا ،آج بلیک میلنگ، کرپشن اور خونریزی کے 47 سالہ دور کا خاتمہ ہوجائے گا ٹرمپ کی دھمکی کا بیان پاگل پن اور نسل کشی کا انتباہ قرار(عرب میڈیا ) ہم نے ایران میں رجیم چینج کردی، موجودہ قیادت م...

آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس وجود - بدھ 08 اپریل 2026

سعودی عرب میں پیٹروکیمیکل اور صنعتی کمپلیکس حملوں پر اظہار تشویش،حملے غیر ضروری،کشیدگی میں اضافہ قرار، مشرق وسطی تنازع حل کرنے کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، فیلڈ مارشل آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسزکاپاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کی صلاحیت پ...

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

مقدمات میں تاخیر اور عدالتی عمل میں رکاوٹیں نفرتوں کو بڑھا رہی ہیں، جس کا نقصان ملک کو ہوگا بانی پی ٹی آئی کی پر امن رہائی تحریک کیلئے عملی ممبرشپ شروع ہو چکی ہے ،وزیراعلیٰ کی صحافی سے گفتگو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل افریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کے کیسز میں تاخیر ...

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

سندھ حکومت مشاورت کے بعد جواب دے گی، توانائی بچت کیلئے شادی ہالز، ریسٹورنٹس، بیکریاں رات 10 بجے کے بعد کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی، اطلاق آج سے ہوگا میڈیکل اسٹورزکے اوقات کار ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے،وزیراعظم کی زیر صدارت توانائی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کے حوالے ...

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل وجود - منگل 07 اپریل 2026

آج کی ڈیڈ لائن حتمی ، ہماری فوج دنیا کی عظیم فوج ، ضرورت پڑی تو ایران کے تیل پر قبضہ کریں گے، ویسے ان کے پاس کچھ میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں،ٹرمپ کاتقریب سے خطاب ایران نے امریکی تجاویز پر جنگ بندی کو مستردکردیا ، جنگ کا مستقل اور مکمل خاتمہ ضروری ہے ، ایران نے اپنا ردعمل پا...

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

ملک بھر میںحکومت کی تیاری مکمل، موبائل ایپ کے ذریعے فیول خریداری کی مانیٹرنگ شہریوں کیلئے کوٹہ مقرر ، کسی شخص کو مقررہ حد سے زیادہ پیٹرول خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی حکومت نے ملک بھر کے پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے اور شہریوں کیلئے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کا...

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد وجود - منگل 07 اپریل 2026

ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو جنگ بندی کیلئے اپنے مطالبات پہنچا دیے ہیں، ایران ایران کے واضح موقف کو کسی صورت پسپائی یا پیچھے ہٹنے کی علامت نہ سمجھا جائے،ترجمان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری براہِ راست جنگ کے دوران پیر، کو تہران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن...

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد

مضامین
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان وجود جمعه 10 اپریل 2026
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں عالمی سیاست وجود جمعه 10 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں عالمی سیاست

کشمیریوں کو منشیات کا عادی بنانے کا بھارتی حربہ وجود جمعه 10 اپریل 2026
کشمیریوں کو منشیات کا عادی بنانے کا بھارتی حربہ

اصل فاتح کون ۔۔۔ ؟ وجود جمعه 10 اپریل 2026
اصل فاتح کون ۔۔۔ ؟

عالمی طاقت کا چوتھا مرکز کون؟ وجود جمعه 10 اپریل 2026
عالمی طاقت کا چوتھا مرکز کون؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر