وجود

... loading ...

وجود

تمباکو نوشی سے انکار کاعالمی دن

منگل 29 مئی 2018 تمباکو نوشی سے انکار کاعالمی دن

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ تقریباََ ساٹھ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہو کر وفات پا جاتے ہیں ۔ جن میں سے تقریباََ چھ لاکھ سے زیادہ افراد خود تمباکو نوشی نہیں کرتے ہیں بلکہ تمباکو نوشی کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس کے زہریلے دھوئیں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ تیس مئی کے دن پاکستان سمیت دنیا بھر میں سگریٹ نوشی سے انکار کے عالمی دن ” نو ٹو بیکو ڈے ” کے طور پر منانے کا اصل مقصد عوام الناس میں سگریٹ نوشی سے انکار کا شعور بیدار کرنا اور سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والے مختلف مہلک بیماریوں سے آگاہی فراہم کرنا ہے ۔

ایک تحقیق کے مطابق کثرت سے تمباکو نوشی کرنے والے افراد صرف پھیپھڑوں کے کینسر کے ہی نہیں بلکہ آنکھوں کے ا ندھے پن، ذیابطیس ، جگر اور بڑی آنت کے کینسر جیسی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوسکتے ہیں ۔ وہ افراد جو سگریٹ نوشی نہیں کرتے ہیں لیکن اس کے دھوئیں میں سانس لیتے ہیں ان افراد میں دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔

خواتین میں سگریٹ نوشی کے اثرات نوزائیدہ بچوں میں پیدا ئشی کٹے ہوئے ہونٹ، حمل کے دوران مختلف پیچیدگیوں ،جوڑوں میں درد اور جسم کے دفاعی نظام کی کمزوری کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں ۔

وہ خواتین جو بچے میں پیدائش کے وقفے کے لئے گولیاں استعمال کر نے کے ساتھ ساتھ سگریٹ نوشی بھی کرتی ہیں ان کو امراض قلب ، خون کا جمنا ، ہارٹ اٹیک اور اسٹروک جیسی بیماریوں کا باعث ہو سکتا ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق ان بیماریوں کا رسک35 سال کی عمر کی خواتین کو زیادہ ہوتا ہے کیونکہ بڑی عمر میں وقفے کی گولیاں استعمال کرنے سے اکثر خواتین کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اس لئے خواتین کو اپنا بلڈ پریشر متواتر چیک کروانا ضروری ہوتا ہے ۔

حاملہ خواتین اگر تمباکو نوشی کرتی ہیں تو یہ ان کے لئے اور ان کے بچے کے لئے زہر قاتل ہوتا ہے ۔ تمباکو میں موجودکیمیائی اجزاء خون کی نالی کے ذریعے بچے تک پہنچتے ہیں ۔ جو بچے اور ماں دونوں کی زندگی کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بچے کا وزن بھی کم ہو سکتا ہے اور وقت سے پہلے بچوں کی پیدائش یا حمل ضائع بھی ہوسکتا ہے ۔ ایسے نوزائیدہ بچے جن کی ماں دوران حمل سگریٹ نوشی کرتی ہیں ۔ پیدائش کے بعد بچے کی بھی نکوٹین کا لیول ایک بڑے انسان کے جسم میں موجود نکوٹین کے لیول جیسا ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ بچے کو سانس لینے میں بھی دشواری ہوجاتی ہیں اس کے علاوہ کم عمر ی میں جو لڑکیاں تمباکو نوشی کا شکار ہو جاتی ہیں ان میںمینو پاز کے ڈسٹرب ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔

تمبا کو میں موجود نکوٹین دماغ میں موجود کیمیکل مثلاََ ڈوپامائن اور اینڈرو فائن کی سطح کو بڑھا دیتا ہے جس کی وجہ سے نشے کی عادت پـڑجاتی ہے یہ کیمیکل جسم میں خوشی کی کیفیات کو بیدار کرتے ہیں ۔ جس سے جسم میں تمباکو کی طلب ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ تمباکو نوشی بہت آہستہ آہستہ جسم کے مختلف اعضاء کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتی ہے اور پھر یہ نقصانات واضح ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور تب تک انسانی جسم تمباکو کے نشے کا مکمل طور پر عادی ہو چکا ہوتا ہے ۔

تمباکو اور اس کے دھوئیں میں تقریباََ چار ہزار مختلف کیمیکلز موجود ہو تے ہیں جن میں سے تقریباََ پچاس سے زائد ایسے کیمیکلز ہوتے ہیں جو سرطان کا باعث بنتے ہیں ۔ اس کے علاوہ سگریٹ میں تار، نکوٹین ، کاربن مونو آکسائیڈ ، امونیا، فارملڈی ہائیڈ، آر سینک اور ڈی ڈی ٹی شامل ہوتے ہیں ۔ تمباکو نوشی کے دھوئیں سے خون کی نالیاں سخت ہو جاتی ہیں اور پھر دل کے دورے اور اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ سگریٹ کے دھوئیں میں کاربن مونو آکسائیڈ گیس موجود ہوتی ہے جو خون میں آکسیجن کی کمی کا باعث بنتا ہے ۔

سگریٹ نوشی کرنے والے افراد سانس کی بیماریوں کا شکار بھی ہو جاتے ہیں جس میں برونکائٹس (COPD) اور ایفی زیما (Emphysema) شامل ہیں ۔ ایفی زیما میں پھیپھٹروں میں ہوا کی جگہیں بڑھ جاتی ہیں اس سے سانس لینے میں دشواری اور نمونیہ ہونے کا خطرہ رہتا ہے ۔ اس حالت میں مریض کو شدید کھانسی ، سانس لینے میں دشواری اور دمہ کی علامات پیدا ہو جاتی ہیں ۔

تمباکو نوشی کی وجہ سے دل کے دورہ ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ تمباکو نوشی کرنے والے لوگوںمیں تمبا کو کا دھواں خون کی شریانوں کو سخت کرنے کا باعث بنتا ہے جس سے دل کے پٹھوں کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے اور دل کے دورے کا باعث بنتا ہے ۔ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی سے دماغ کے اسٹروک کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے جس میں دماغ کو خون کی فراہمی کم ہو جاتی ہے اور ہمیرج میں دماغ میں موجود خون کی شریانیں پھٹ جاتی ہیں ۔ جبکہ سگریٹ نوشی میں ہڈیاں بھی کمزور ہو جاتی ہیں جبکہ معدہ کا السر، چہرے اور جسم کی جلد پر جھریاں پڑ جاتی ہیں ۔

تمبا کو نوشی کا سب سے زیادہ نقصان پھیپھٹروں کو ہوتا ہے ۔ پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلاََ ، تقریباََ نوے فیصد لوگ زندگی میں کبھی نہ کبھی تمباکو نوش رہے ہوتے ہیں ۔ سگریٹ پینے والی خواتین میں بھی چھاتی کا کینسر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی ، گلا ، خوراک کی نالی کا کینسر ، معدہ کا کینسر ، جگر کا کینسر ، مثانے کا کینسر ، لبلبہ اور گردے کے کینسر کا باعث بھی بنتا ہے ۔

تمباکونوشی ترک کرتے ہوئے شروع کے کچھ ہفتوں میں انسان بہت چڑچڑا سا ہو جاتا ہے جس کی وجہ تمباکو میں موجود نکوٹین ہوتا ہے جو وقتی طور پر جسم اور دماغ کو سکون بہم پہنچاتی ہیں اور جب انسان سگریٹ نوشی ترک کردیتا ہے توا س کی کمی کی وجہ سے غصہ آنے لگتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سرمیں درد ، نیند کی کمی ، بے چینی ، کھانسی میں اضافہ ، ڈپریشن ، قبض ، پیٹ کی خرابی وغیرہ شروع ہو جاتی ہے ۔ مریض ا ن سب چیزوں سے گھبرانے کے بجائے جوان مردی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اس موذی سے جان چھڑ ا سکتا ہے ۔ اس کے لئے مختلف ادویات اور کو کسلنگ سے نکوٹین کی عادت سے آہستہ آہستہ آزادی مل سکتی ہے اس کے لئے دوسرے لوگوں کومتاثرہ فرد کی اخلاقی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہیئے ۔

عالمی ادارہ صحت کے تحت دنیا بھر میں تمباکو نوشی کی روک تھام کے لئے اقدامات اور اس کے خلاف قوانیں واضح کرنے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان میں بھی تمباکو نوشی کے عنصریت سے نمٹنے کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں ۔تمباکو نوشی سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے ہمیں اپنی عادت اور رویوں میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید وجود - اتوار 21 جون 2026

حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

مضامین
موت زندگی کی دشمن نہیں! وجود پیر 22 جون 2026
موت زندگی کی دشمن نہیں!

سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب وجود پیر 22 جون 2026
سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب

کشمیریوں کو مذہبی استحصال وجود پیر 22 جون 2026
کشمیریوں کو مذہبی استحصال

92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر