... loading ...
قدرت کا انمول تحفہ ’درخت‘ ہیں۔ زمین کی یہ خوب صورتی، فضا کی فرحت، تازگی اور صفائی، گنگناتی آبشاریں، ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے، دریا، بہتی ندیاں، چاندی اوڑھے ہوئے سفید برف سے ڈھکے پہاڑ، رنگ رنگ کے خوبصورت پھول، میٹھے، لذیذ مختلف النوع پھل، جڑی بوٹیاں اور ان سے بنی ہوئی دوائیاں جو انسانوں کو صحت اور آرام دیتی ہیں۔ کیا کسی نے غور کیا ہے کہ ان تمام نعمتوں کا منبع اور سر چشمہ کیا ہے؟ تو یقینا ًیہ ’’درخت‘‘ ہی ہیں۔
درخت نہ صرف ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں، بلکہ ماحولیاتی آلودگی کوکم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ زلزلے اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچاؤ اور زمین کے کٹاؤ کو روکنے کا اہم ذریعہ بھی ’درخت‘ ہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ سے مجموعی طور پر زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کو بری طرح متاثر کررہا ہے۔ درجہ حرارت بڑھنے کے باعث پینے کا پانی کمیاب ہوتا جارہا ہے اور زراعت کے لیے پانی نہ ہونے کے سبب قحط و خشک سالی کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے جس کی ایک مثال پاکستان کی بھی ہے، جہاں موسم گرما کا وقت اور دورانیہ بڑھ گیا ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ 642 ارب درخت روس میں ہیں۔ اس کے بعد کینیڈا میں 318 ارب، برازیل میں 302 ارب اور امریکا میں 228 ارب ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق 2015-2011 کے درمیان پاکستان کے کل خشکی کے رقبے کا صرف اور صرف 1.9 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے جو کسی بھی طرح کسی ترقی پذیر ملک کے شایان شان نہیں۔
جہاں پہلے جابجا گھنے درخت سایہ کیے رہتے تھے۔۔۔ اطراف میں نرسریاں بنی تھیں۔۔۔ اب وہاں کنکریٹ، لوہا، پتھر اور دھول ہے۔ اوور ہیڈ برج اور گرین لائن بنائی جارہی ہے لیکن شہر کی خوبصورتی میں اضافے کرنے والی گرینری کو تباہ و برباد کرکے۔ بوڑھے، پرانے تناور اور جاندار درختوں کا نام و نشان تک ختم کردیا گیا ہے۔برس ہا برس سے ان درختوں کے باسی مختلف اقسام کے پرندے اب وہاں نہیں شاید کہیں نہیں۔درخت کاٹنے والوں نیایک نہیں تہرا قتل کیا ہے۔۔۔ درختوں کا، پرندوں کا اور انسانوں کا۔ درختوں کی کمی سے ماحولیاتی تبدیلی آئی اوراب سردی بہار کے مہینوں میں بھی کڑاکے کی دھوپ پڑتی ہے۔ چلچلاتی دھوپ سے بچنے کیلئے کہیں سایہ نہیں ملتا سو جانور اور انسان دھوپ گرمی حبس سے مر رہیہیں۔گزشتہ 5 دن کراچی میں پڑنے والی قیامت خیز گرمی کی وجہ اور نتیجہ یہی رہے۔ہماری زمین پر اس وقت لگ بھگ 30 کھرب سیزائد درخت موجود ہیں۔ منفرد ساخت، قد و قامت اور رنگت کے حامل یہ درخت اپنے اندر بے شمار خصوصیات رکھتے ہیں۔ ان میں سے کوئی درخت کئی صدیوں سے موجود ہے اور وقت کی اونچ نیچ کا گواہ بھی، کچھ درختوں نے بڑی بڑی آفتیں، سیلاب، زلزلے، طوفان، ایٹمی دھماکے سہے لیکن پھر بھی اپنی جگہ پر مضبوطی سے کھڑے رہے۔
دراصل درختوں کی جڑیں جو زیر زمین دور دور تک پھیل جاتی ہیں، ان درختوں کے لیے ایک نیٹ ورک کا کام کرتی ہیں جس کے ذریعے یہ ایک دوسرے سے نمکیات اور کیمیائی اجزا کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے پھل دار اور جاندار درخت، ٹنڈ منڈ اور سوکھے ہوئے درختوں کو نمکیات اور کاربن بھی فراہم کرتے ہیں۔ اگر جنگل میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کردی جائے، یا موسمیاتی تغیر یا کسی قدرتی آفت کے باعث کسی مقام کا ماحولیاتی نظام متاثر ہوجائے تو زیر زمین قائم درختوں کا یہ پورا نیٹ ورک بھی متاثر ہوتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی ایک تار کے کٹ جانے سے پورا مواصلاتی نظام منقطع ہوجائے۔ماحول کو صاف رکھنے اور آلودگی سے بچانے کے لیے درخت لگانا بے حد ضروری ہیں لیکن اس سے قبل یہ علم ہونا ضروری ہے کہ کس علاقے کی آب و ہوا اور محل وقوع کے لحاظ سے کون سے درخت موزوں رہیں گے؟
درخت اپنی افزائش اور ساخت کے اعتبار سے مختلف زمینوں اور مختلف موسمی حالات میں مخصوص اقسام پر مشتمل ہوتے ہیں۔ مختلف درخت مخصوص آب و ہوا، زمین، درجہ حرارت اور بارش میں پروان چڑھ سکتے ہیں۔دنیا میں تقریباً 60 ہزار قسم کے درخت ہیں۔ ایک درخت اوسطاً 260 پونڈآکسیجن ہر سال پید ا کرتا ہے۔ دو قدآوردرختوں کی پیدا کردہ آکسیجن 4 افراد کے ایک خاندان کیلئے کافی ہے۔ شاہ بلوط اور چنار کے گھنے درخت سب سے زیادہ آکسیجن پیدا کرنے والے درخت سمجھے جاتے ہیں۔ نیم، پیپل، ایلو ویرا، اورتْلسی سمیت تقریبا 9 ایسے درخت ہیں جو 24 گھنٹے آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ دنیا میں ہر گزرنے والے منٹ میں تقریباً 55 ہزار6 سو درخت کاٹ دئیے جاتے ہیں۔سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان اور مصطفیٰ کمال کے دور میں کراچی کا نقشہ تیزی سے بدلا ایک نے درخت لگوائے اور دوسرے نے جم کر سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی۔کراچی کو سرسبز بنانے کے لیے غیر ملکی نسل کے کونو کارپس درخت کثیر تعداد میں لگائے گئے۔ صرف شاہراہ فیصل پر 300 کونو کارپس درخت ہیں۔ تاہم یہ کراچی کے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اور پولن الرجی کا باعث بن رہے ہیں۔ پرندے بھی ان درختوں کو اپنی رہائش اور افزائش نسل کے لیے استعمال نہیں کرتے۔ماہرین کے مطابق کونو کارپس بادلوں اور بارش کے سسٹم پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں جس کے باعث کراچی میں مون سون کے موسم پر منفی اثر پڑ رہا ہے اور درجہ حرارت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ عوام میں اس بات کا شعور اجاگر کرنا ضروری ہے کہ کراچی کے لیے کونو کارپس ماحول دشمن درخت ہے۔ کراچی کے مقامی درختوں میں نیم، ببول، گل مہر، سائرس، لنگرا اور دیگر ماحول دوست درخت شامل ہیں۔اور اب موجودہ حکومت سب کچھ اْلٹ پْلٹ کرکے پھر ترقی کے منفرد مشن پر کارفرما ہے۔ کراچی میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے نام پرگرین بیلٹ پر برسوں سے موجود ہزاروں پودوں اور بڑے گھنے سایہ دار درختوں کو ختم کر دیا گیا۔ جس کے بعد کراچی کے صرف 1.87 فیصد رقبے پر درخت باقی رہ گئے ہیں۔درخت انسان اور دوسری جنگلی حیات کی بقا کا ضامن ہے۔ خود تو تیز دھوپ میں جھلستیاور دکھ جھیلتے ہیں۔ لیکن دوسروں کو ٹھنڈی چھاؤں اور آرام کے علاوہ میٹھے پھل اور پْرسکون ماحول مہیا کرتیہیں۔ کراچی سمیت سندھ بلکہ پورے ملک کا حسن درختوں کی کٹائی سے گہنا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے حْسن کو بچانے اور اسے آباد رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پرشجرکاری کی جائے تاکہ آئندہ نسلوں کو بہتر اور صاف ماحول فراہم کیا جاسکے۔
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...