وجود

... loading ...

وجود

کراچی میں درجہ حرارت میں اضافے کاسبب کونوکارپس درخت

پیر 28 مئی 2018 کراچی میں درجہ حرارت میں اضافے کاسبب کونوکارپس درخت

قدرت کا انمول تحفہ ’درخت‘ ہیں۔ زمین کی یہ خوب صورتی، فضا کی فرحت، تازگی اور صفائی، گنگناتی آبشاریں، ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے، دریا، بہتی ندیاں، چاندی اوڑھے ہوئے سفید برف سے ڈھکے پہاڑ، رنگ رنگ کے خوبصورت پھول، میٹھے، لذیذ مختلف النوع پھل، جڑی بوٹیاں اور ان سے بنی ہوئی دوائیاں جو انسانوں کو صحت اور آرام دیتی ہیں۔ کیا کسی نے غور کیا ہے کہ ان تمام نعمتوں کا منبع اور سر چشمہ کیا ہے؟ تو یقینا ًیہ ’’درخت‘‘ ہی ہیں۔

درخت نہ صرف ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں، بلکہ ماحولیاتی آلودگی کوکم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ زلزلے اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچاؤ اور زمین کے کٹاؤ کو روکنے کا اہم ذریعہ بھی ’درخت‘ ہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ سے مجموعی طور پر زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کو بری طرح متاثر کررہا ہے۔ درجہ حرارت بڑھنے کے باعث پینے کا پانی کمیاب ہوتا جارہا ہے اور زراعت کے لیے پانی نہ ہونے کے سبب قحط و خشک سالی کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے جس کی ایک مثال پاکستان کی بھی ہے، جہاں موسم گرما کا وقت اور دورانیہ بڑھ گیا ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ 642 ارب درخت روس میں ہیں۔ اس کے بعد کینیڈا میں 318 ارب، برازیل میں 302 ارب اور امریکا میں 228 ارب ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق 2015-2011 کے درمیان پاکستان کے کل خشکی کے رقبے کا صرف اور صرف 1.9 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے جو کسی بھی طرح کسی ترقی پذیر ملک کے شایان شان نہیں۔

جہاں پہلے جابجا گھنے درخت سایہ کیے رہتے تھے۔۔۔ اطراف میں نرسریاں بنی تھیں۔۔۔ اب وہاں کنکریٹ، لوہا، پتھر اور دھول ہے۔ اوور ہیڈ برج اور گرین لائن بنائی جارہی ہے لیکن شہر کی خوبصورتی میں اضافے کرنے والی گرینری کو تباہ و برباد کرکے۔ بوڑھے، پرانے تناور اور جاندار درختوں کا نام و نشان تک ختم کردیا گیا ہے۔برس ہا برس سے ان درختوں کے باسی مختلف اقسام کے پرندے اب وہاں نہیں شاید کہیں نہیں۔درخت کاٹنے والوں نیایک نہیں تہرا قتل کیا ہے۔۔۔ درختوں کا، پرندوں کا اور انسانوں کا۔ درختوں کی کمی سے ماحولیاتی تبدیلی آئی اوراب سردی بہار کے مہینوں میں بھی کڑاکے کی دھوپ پڑتی ہے۔ چلچلاتی دھوپ سے بچنے کیلئے کہیں سایہ نہیں ملتا سو جانور اور انسان دھوپ گرمی حبس سے مر رہیہیں۔گزشتہ 5 دن کراچی میں پڑنے والی قیامت خیز گرمی کی وجہ اور نتیجہ یہی رہے۔ہماری زمین پر اس وقت لگ بھگ 30 کھرب سیزائد درخت موجود ہیں۔ منفرد ساخت، قد و قامت اور رنگت کے حامل یہ درخت اپنے اندر بے شمار خصوصیات رکھتے ہیں۔ ان میں سے کوئی درخت کئی صدیوں سے موجود ہے اور وقت کی اونچ نیچ کا گواہ بھی، کچھ درختوں نے بڑی بڑی آفتیں، سیلاب، زلزلے، طوفان، ایٹمی دھماکے سہے لیکن پھر بھی اپنی جگہ پر مضبوطی سے کھڑے رہے۔

دراصل درختوں کی جڑیں جو زیر زمین دور دور تک پھیل جاتی ہیں، ان درختوں کے لیے ایک نیٹ ورک کا کام کرتی ہیں جس کے ذریعے یہ ایک دوسرے سے نمکیات اور کیمیائی اجزا کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے پھل دار اور جاندار درخت، ٹنڈ منڈ اور سوکھے ہوئے درختوں کو نمکیات اور کاربن بھی فراہم کرتے ہیں۔ اگر جنگل میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کردی جائے، یا موسمیاتی تغیر یا کسی قدرتی آفت کے باعث کسی مقام کا ماحولیاتی نظام متاثر ہوجائے تو زیر زمین قائم درختوں کا یہ پورا نیٹ ورک بھی متاثر ہوتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی ایک تار کے کٹ جانے سے پورا مواصلاتی نظام منقطع ہوجائے۔ماحول کو صاف رکھنے اور آلودگی سے بچانے کے لیے درخت لگانا بے حد ضروری ہیں لیکن اس سے قبل یہ علم ہونا ضروری ہے کہ کس علاقے کی آب و ہوا اور محل وقوع کے لحاظ سے کون سے درخت موزوں رہیں گے؟

درخت اپنی افزائش اور ساخت کے اعتبار سے مختلف زمینوں اور مختلف موسمی حالات میں مخصوص اقسام پر مشتمل ہوتے ہیں۔ مختلف درخت مخصوص آب و ہوا، زمین، درجہ حرارت اور بارش میں پروان چڑھ سکتے ہیں۔دنیا میں تقریباً 60 ہزار قسم کے درخت ہیں۔ ایک درخت اوسطاً 260 پونڈآکسیجن ہر سال پید ا کرتا ہے۔ دو قدآوردرختوں کی پیدا کردہ آکسیجن 4 افراد کے ایک خاندان کیلئے کافی ہے۔ شاہ بلوط اور چنار کے گھنے درخت سب سے زیادہ آکسیجن پیدا کرنے والے درخت سمجھے جاتے ہیں۔ نیم، پیپل، ایلو ویرا، اورتْلسی سمیت تقریبا 9 ایسے درخت ہیں جو 24 گھنٹے آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ دنیا میں ہر گزرنے والے منٹ میں تقریباً 55 ہزار6 سو درخت کاٹ دئیے جاتے ہیں۔سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان اور مصطفیٰ کمال کے دور میں کراچی کا نقشہ تیزی سے بدلا ایک نے درخت لگوائے اور دوسرے نے جم کر سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی۔کراچی کو سرسبز بنانے کے لیے غیر ملکی نسل کے کونو کارپس درخت کثیر تعداد میں لگائے گئے۔ صرف شاہراہ فیصل پر 300 کونو کارپس درخت ہیں۔ تاہم یہ کراچی کے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اور پولن الرجی کا باعث بن رہے ہیں۔ پرندے بھی ان درختوں کو اپنی رہائش اور افزائش نسل کے لیے استعمال نہیں کرتے۔ماہرین کے مطابق کونو کارپس بادلوں اور بارش کے سسٹم پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں جس کے باعث کراچی میں مون سون کے موسم پر منفی اثر پڑ رہا ہے اور درجہ حرارت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ عوام میں اس بات کا شعور اجاگر کرنا ضروری ہے کہ کراچی کے لیے کونو کارپس ماحول دشمن درخت ہے۔ کراچی کے مقامی درختوں میں نیم، ببول، گل مہر، سائرس، لنگرا اور دیگر ماحول دوست درخت شامل ہیں۔اور اب موجودہ حکومت سب کچھ اْلٹ پْلٹ کرکے پھر ترقی کے منفرد مشن پر کارفرما ہے۔ کراچی میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے نام پرگرین بیلٹ پر برسوں سے موجود ہزاروں پودوں اور بڑے گھنے سایہ دار درختوں کو ختم کر دیا گیا۔ جس کے بعد کراچی کے صرف 1.87 فیصد رقبے پر درخت باقی رہ گئے ہیں۔درخت انسان اور دوسری جنگلی حیات کی بقا کا ضامن ہے۔ خود تو تیز دھوپ میں جھلستیاور دکھ جھیلتے ہیں۔ لیکن دوسروں کو ٹھنڈی چھاؤں اور آرام کے علاوہ میٹھے پھل اور پْرسکون ماحول مہیا کرتیہیں۔ کراچی سمیت سندھ بلکہ پورے ملک کا حسن درختوں کی کٹائی سے گہنا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے حْسن کو بچانے اور اسے آباد رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پرشجرکاری کی جائے تاکہ آئندہ نسلوں کو بہتر اور صاف ماحول فراہم کیا جاسکے۔


متعلقہ خبریں


آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید وجود - جمعه 24 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا

پی ٹی اے ، غیر رجسٹرڈ ادویات کی آن لائن تشہیر کیخلاف ایکشن وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

فروخت میں ملوث ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کیخلاف کریک ڈاؤن جنسی صحت، وزن میں کمی، ذہنی امراض ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی قرار پی ٹی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی آن لائن تشہیر اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے لیا۔غیر رجسٹرڈ ادویات ک...

پی ٹی اے ، غیر رجسٹرڈ ادویات کی آن لائن تشہیر کیخلاف ایکشن

لبنان میں چلتی کار پر اسرائیل کا ڈرون حملہ، 2 افراد شہید وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار، حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت شہری دریائے لیطانی، وادی السلوقی اور السلھانی کے علاقوں سے دور رہیں لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے...

لبنان میں چلتی کار پر اسرائیل کا ڈرون حملہ، 2 افراد شہید

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی وجود - بدھ 22 اپریل 2026

امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان وجود - بدھ 22 اپریل 2026

ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان

مضامین
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں وجود جمعه 24 اپریل 2026
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں

ایران جنگ میں بھارتی تنہائی وجود جمعه 24 اپریل 2026
ایران جنگ میں بھارتی تنہائی

کراچی کی قاتل اور زہریلی فضا وجود جمعه 24 اپریل 2026
کراچی کی قاتل اور زہریلی فضا

انسان خوش فہمیوں کا قید ی! وجود جمعرات 23 اپریل 2026
انسان خوش فہمیوں کا قید ی!

یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری وجود جمعرات 23 اپریل 2026
یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر