... loading ...
جب قدیم انسان رات کے آسمان کو دیکھتے تھے تو سوچتے تھے کہ ساری کائنات صرف انہی کے گِرد گھوم رہی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ خیال ایک لطیفہ محسوس ہونے لگا۔ اور ہم انسانوں نے جان لیا کہ ہم ایک سیّارے پر آباد ہیں جو ایک ستارے یعنی سْورج کے گرد گھوم رہا ہے۔ آج ہمیں یہ پتہ ہے کہ ہمارا سولر سسٹم، ہماری کہکشاں کے بہت دور دراز کے ایک کونے میں واقع ہے۔
اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہماری کہکشاں جیسی اربوں کہکشائیں اور بھی ہیں۔
اب ہم جو یہ سمجھتے ہیں کہ دکھائی دینے والی تمام کائنات ہی کْل کائنات ہے، کہیں ہم قدیم انسان کی طرح تو نہیں سوچ رہے؟ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم ’’ملٹی ورس‘‘ میں ہوں یعنی ہماری کائنات کسی بہت بڑی ’’ملٹی ورس‘‘ کا محض ایک چھوٹا سا، دْور دراز کا کوئی حصہ ہو اور سو سال بعد ہمیں پتہ چلے کہ ہماری کْل کائنات تو فقط ایک ذرّے سے بھی کم حیثیت کی مالک تھی تو آج کی ساری فلکیات کتنی حقیر سی لگے گی، جیسے قدیم انسان کی فلکیات، آج ہمیں حقیر لگتی ہے جو یہ سوچتا تھا کہ ساری کائنات اس کے گرد گھوم رہی ہے۔
میساچیوسِٹس (Massachusetts ) اِنسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر، انفلیشن تھیوری کے خالق، ڈاکٹر ایلن گْوتھ (Dr Alan Guth) کا کہنا ہے کہ’’ملٹی ورس ایک عام سا تصور ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں، کہ ہو سکتا ہے ہماری کائنات کوئی منفرد شے نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کائناتیں بہت زیادہ ہوں‘‘۔
سٹینڈ فورڈ اِنسٹیٹیوٹ فار تھیوریٹکل فزکس کے ڈائریکٹر معروف ماہرِ طبیعات لیونارڈ سسکنڈ (Leonard Susskind) کے بقول’’ملٹی ورس کا تصور، محض خیالی طور پر ترقی نہیں پارہا بلکہ یہ تصور خالص تجربی فزکس اور تھیوریٹکل فزکس کے ملاپ سے پیدا ہوا ہے اور مسلسل پَنپ رہا ہے۔
‘‘
ملٹی ورس کے کئی نظریات اب تک متعارف ہو چکے ہیں، جن میں ’’کاسمولوجیکل ویو‘‘، ’’پاکٹ یونیورسز‘‘، ’’سٹرنگ تھیوری کی ملٹی ورس‘‘ اور کوانٹم کی ’’مینی ورلڈز‘‘ تھیوری خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
1۔ کاسمولوجیکل ویو
غالباً سسکنڈ نے اِسی وجہ سے کہا کہ ملٹی ورس کا نظریہ ’’تجربی فزکس‘‘ کی جانب سے بھی آرہا ہے کیونکہ پہلا نظریہ یہ ہے کہ ہم جہاں تک دیکھ سکتے ہیں، فقط وہاں تک ہی دیکھ پاتے ہیں۔
ہم آئندہ بھی جہاں تک دیکھ سکیں گے فقط وہاں تک ہی دیکھ پائیں گے۔ زمین تک جس کسی سیارے، ستارے یا کہکشاں کی روشنی پہنچ رہی ہے اور پہنچ سکتی ہے، وہیں تک ہمارے دیکھنے کی حدود ہیں۔ آج ہم جانتے ہیں کہ ہماری کائنات کا ایک سِرا بِگ بینگ ہے جو ا?ج سے تیرہ اعشاریہ آٹھ (13.8) بلین سال پہلے پیش آنے والا ایک حادثہ ہے۔ چونکہ کائنات پھیل رہی ہے اور اس نے خلا کو بہت دور دور تک پھیلا دیا ہے اس لیے اب ہم بیالیس بلین سال دْور تک دیکھنے کی صلاحیت کے سائنسی طور پر مالک ہو چکے ہیں۔
فی زمانہ ماہرینِ طبیعات نظر آنے والی کائنات کو ’’آبزرویبل یونیورس‘‘ یعنی قابلِ مشاہدہ کائنات کہہ کر پکارتے ہیں۔ قابلِ مشاہدہ کائنات کو ’’ہبل ریڈی اَس‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ایسا کہنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اب سب جانتے ہیں کہ تمام کہکشائیں بہت زیادہ اونچے درجے کی رفتار کے ساتھ ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں۔
ان تمام کہکشاؤں کی گنتی کا جو اندازہ لگایا گیا تھا کہ ہماری کائنات میں ایک کھرب کہکشائیں ہیں، اب وہ اندازہ بہت پرانا ہو چکا ہے۔ اب فلکیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ ایسی کہکشائیں بھی ہیں جن کا ہم کبھی مشاہدہ نہیں کر سکتے کیونکہ کائنات بہت زیادہ اونچے درجے کی رفتار کے ساتھ باہر کی طرف پھیل رہی ہے۔ قابلِ مشاہدہ کائنات سے پَرے کیا ہے، یہ ہم ابھی نہیں جان سکتے ہیں لیکن اس بات کے نناوے اعشاریہ نو نو فیصد چانسز ہیں کہ قابلِ مشاہدہ کائنات سے پَرے اور کائناتیں ہیں اور بے شمار کائناتیں ہیں۔
اور یہ سب کائناتیں جو ہبل ریڈی اَس سے باہر ہیں، اپنے اپنے شاہد کے لیے اپنے اپنے الگ الگ ’’ہبل ریڈی اَسز‘‘ کی بھی حامل ہیں۔ فی زمانہ دنیا میں ایک بھی فزکس کا ماہر ایسا نہیں پایا جاتا جو یہ سمجھتا ہو کہ ہماری کائنات اپنے آخری کناروں پر ختم ہو جاتی ہے۔
2۔ پاکٹ یونیورسز
یہ دوسرا نظریہ ہے جس میں سب سے پہلے ’’انفلیشن تھیوری‘‘ کو بیان کیا جاتا ہے جو ایلن گْوتھ کی دریافت ہے اور جسے فزکس درست نظریہ تسلیم کر چکی ہے۔
سٹینڈ فورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ’’اینڈری لِنڈے‘‘ نے اس تھیوری پر مزید کام کیا اور اسے ایک طرح سے نئی جہات فراہم کیں۔ اس تھیوری کے مطابق ہماری کائنات فقط ایک سیکنڈ کے ٹریلینتھ ا?ف دی ٹریلینتھ آف دی ٹریلینتھویں حصے میں پھیل کر اتنی بڑی ہو گئی کہ تمام تر قابلِ مشاہدہ کائنات، اپنے تمام تر مادہ اور توانائی سمیت وجود میں آگئی۔
اس نظریہ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ’’انفلیشن‘‘ ہر کہیں، کسی ایک ہی وقت میں رْک تو نہ گئی ہوگی۔ سو جس کائنات کو ہم دیکھتے ہیں یہ ’’انفلیشن کے انڈے‘‘ سے نکلنے والا فقط ایک بچہ ہے۔ لیکن اِسی انفلیشن سے، کہیں اور، کئی ’’بَبل یونیورسز‘‘ یا ’’پاکٹ یونیورسز‘‘ بھی تخلیق ہوئی ہوں گی۔ خود ایلن گوتھ کے الفاظ ہیں کہ ’’ہم نہیں جانتے کہ انفلیشن کیسے شروع ہوئی۔
ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ انفلیشن صرف ایک بار واقع ہوئی یا بار بار بھی واقع ہوئی ہوگی۔ لیکن فرض کریں کہ انفلیشن فقط ایک ہی بار پیش آئی ہو تب بھی یہ لاتعداد ’’پاکٹ یونیورسز‘‘ پیدا کرنے کا باعث ہو سکتی ہے‘‘۔
یہ دیگر کائناتیں کبھی ہم بھی دیکھ پائیں گے؟ اس سوال کا جواب دینا ابھی ممکن نہیں۔ البتہ ماہرین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایسی کائناتوں میں فزکس کے قوانین ہمارے قوانین سے بالکل مختلف ہو سکتے ہیں۔
ممکن ہے وہاں کشش ثقل نہ ہو۔ ممکن ہے وہاں کیمیائی عناصر کوئی اور ہوں یا ان کی ساخت ہی سرے سے ایسی ہو کہ انہیں مادہ نہ کہا جا سکے۔ ضروری نہیں کہ ان میں ستارے ہوں اور اگر ہوں تو کیا معلوم وہ کیسے ہوں۔
3۔ سٹرنگ تھیوری کی کائناتیں
سٹرنگ تھیوری بنیادی طور پر تھیوری آف جنرل ریلیٹوٹی اور کوانٹم میکانیکس کو یکجا کرنے کی کوشش کا نام ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ سٹرنگ تھیوری کے مطابق ایسی بہت سی باتیں جو تھیوری تجویز کرتی ہے اور جو ریاضیاتی طور پر درست ہیں جیسا کہ مثلاً ’ اسپیس کی دس ڈائمینشنز‘ کی بات ، تو ایسی باتیں جو ہم اپنی قابلِ مشاہدہ کائنات میں نہیں دیکھ پارہے، عین ممکن ہے کہ دوسری کائناتوں میں واقع ہورہی ہوں۔ سٹرنگ تھیوری ملٹی ورس کے نظریہ کی سب سے بڑی حامی ہے۔
سٹرنگ تھیوری کے مطابق ہم ایک ملٹی ورس کا حصہ ہیں جہاں فزکس کے مختلف قوانین ایک دوسرے کے پہلو میں وجود رکھتے ہوئے یا مخالف ہوتے ہوئے بھی قائم رہتے ہیں۔ اس خیال کو ’’اینتھروپک سیلیکشن‘‘ کہا جاتا ہے۔ اینتھروپک پرنسپل یہ ہے کہ کسی بھی کائنات کو پہنچاننے کا طریقہ ہمیشہ وہ ہونا چاہیے جو شعوری طور پر قابلِ فہم ہو اور ذہانت کو اپیل کرتا ہو۔
اسی اصول کے مطابق ہم کہتے ہیں کہ ہماری کائنات انسانوں کے لیے بطور خاص مناسب ترین کائنات ہے۔
4۔ مینی ورلڈ تھیوری
مینی ورلڈ تھیوری سب سے دلچسپ ہے۔ یہ تھیوری براہِ راست کوانٹم فزکس کی جانب سے وارد ہوئی ہے۔ اس تھیوری کے مطابق دوسری کائناتوں میں فزکس کے قوانین ہم سے مختلف نہیں ہیں۔ دوسری کائناتیں دراصل ہم سے فاصلوں کے اعتبار سے الگ نہیں ہیں بلکہ ٹائم کے اعتبار سے الگ ہیں۔
یہ کوائنٹم امکانات کی بنا پر تشکیل پانے والی تھیوری ہے۔ اس کے مطابق ہر وہ امکان جو ہم سوچ سکتے ہیں، کسی دوسری کائنات میں ممکن ہے۔ اسے ملٹی ٹائم لائنز، یا پیرالل رئیلٹیز بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تھیوری بنیادی طور پر کوانٹم فزکس کے پرنسپل ا?ف اَن سرٹینٹی کی وجہ سے وجود میں آ ہے۔ بقول ایلن گْوتھ ’’کوانٹم میکانکس ’’پری ڈِکٹِو‘‘ تھیوری نہیں ہے بلکہ یہ ’’پرابیبلسٹک‘‘ تھیوری ہے۔
مثال کے طور پر ایک فوٹان کسی پولرائزر پر، اینگل آف پولرائزیشن سے پینتالیس ڈگری کا زاویہ بنا کر گزرتا ہے تو اس بات کے ففٹی ففٹی چانسز ہیں کہ وہ پولرائزز سے اسی زاویے کے ساتھ گزرے گا یا نہیں؟ کوئی نہیں بتا سکتا۔ چنانچہ کوانٹم میکانیکس کی ایک تشریح جو میرے نزدیک کافی مناسب ہے اس کے مطابق جب فوٹان پولرائزر کو پینتالیس ڈگری پر چھوتا ہے تو دراصل دونوں صورتیں بیک وقت پیش ا?تی ہیں یعنی وہ پینتالیس ڈگری پر گزرا بھی اور نہیں بھی گزرا۔
‘‘
مینی ورلڈ تھیوری میں پوری کائنات کا وجود ایسے ہے جیسے ایک فوٹان کا وجود ہے۔ ایک فوٹان (یعنی ذرّہ? ’’نْور‘‘) ہزارہا جگہ پر بیک وقت ہونے کے ثبوت دیتا ہے۔ اور جس طرح فوٹان ہر ممکنہ راستے سے بیک وقت گزرتا ہے بعینہ اسی طرح ہر ممکن کائنات وجود رکھتی ہے۔ کیونکہ کائنات میں مادے اور توانائی کے تمام تر ذرّات اسی کوانٹم نیچر کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید افراد کی تعدادا 787 ہوگئی،176 بچے شامل،آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، پاسداران انقلاب نے خبردار کردیا ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے اب بہت دیر ہو چکی، فوجی مہم چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے(ٹرمپ)ایران کی وزارت...
ہمیں کہا گیا یہ بات آپ وزیراعظم کے سامنے کر دیں تو میں نے کہا ہے کہ ساتھیوں سے مشورہ کریں گے،خطے کے حالات خطرناک ہیں لہٰذا پارلیمنٹ کواعتماد میں لیا جائے،قائد حزب اختلاف آج صبح تک حکومت کو فیصلے سے آگاہ کر دیں گے(محمود خان اچکزئی)خطے کی صورت حال اور ایران پر حملے پر بریفنگ کی...
واضح نہیں میرینزکی فائرکی گئی گولیاں لگیں یا ہلاکت کاسبب بنیں، سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی یا نہیں،امریکی حکام امریکی فوج نے معاملہ محکمہ خارجہ کے سپرد کر دیا ،گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں، پولیس حکام (رپورٹ:افتخار چوہدری)امریکی حکام کے مطابق کراچی قونصل...
سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...
مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرہ ،مرکزی دروازے کی توڑ پھوڑ،نمائش چورنگی، عباس ٹائون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ،سڑکوں پر نعرے بازی پولیس نے امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اب حالات قابو میں ہیں، کسی کو بھی ...
پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے،شہباز شریف کی مذمت غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کیساتھ ہیں،خامنہ ای کی شہادت پر غم کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسو...
خشکی اور سمندر تیزی سے دہشت گرد جارحین کا قبرستان بن جائیں گے، امریکا کا خلیج عمان میں ایرانی جہاز ڈبونے کا دعویٰ ابراہم لنکن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،دشمن فوج پرایران کے طاقتور حملے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے، پاسداران انقلاب ایران نے بڑا وار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے می...
ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...
ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...
فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...
خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...
400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...