... loading ...
غزل کی ہیت میں نعت گوئی کے ساتھ ساتھ جدید شعراء نے آزاد نظم کی صورت میں بھی محبت وسیرت ِرسول ؐکے چراغ روشن کیے ہیں اور پابند نظم بھی کہی ہے۔ہائیکو بھی لکھی گئی اور ماہیے بھی ،قطعہ بھی کہا گیا اوررباعی بھی ۔سہ حرفیاں بھی منظر عام پر آئیں اور یک مصرعی نظمیں بھی:
جس نے سوچا انہیںؐ
وہ خدا کی قسم
ماورائے زمان و زمیں ہو گیا
جس نے لکھا انہیںؐ
اس کا معجز قلم
شہپرِجبرائیلِ امیں ہو گیا
جس نے چاہا انہیں ؐ
اس کی چاہت
بقا کی نگارش ہوئی
اس پہ دن رات پھولوں کی بارش ہوئی
جس نے چا ہا انہیںؐ
اس کو چاہا گیا
اس کی دہلیز تک ہر دوراہا گیا
( شبنم رومانی)
تنک مزاجوں کی سلطنت میں
بتایاجس نے
سخن حدود ِ دعا میں کرنا
لباس نا آشنا رواجوں کی سلطنت میں سکھایا جس نے
نمو کی مشتاق بے ہنر خوئے شعلگی کو
طریق ِ قطع وبرید ِجامہ
حریم ِ شمع ِ صفات ہونا
مکاشفے میں،مباحثے میں،مباہلے میں
دلیل ِ قاطع،دعائے فاتح،ثبوتِ آخر کو اپنے اوزان کی صداقت میں تولتا تھا
وہ نرم لہجے میں بولتاتھا
(اختر حسین جعفری)
جنگ ِحنین کے موقع پر
جب حضرتؐ
مال ِ غنیمت بانٹتے
آپؐ انصار کو کچھ بھی نہ دیتے
ہم اپنی کم سمجھی،کم علمی کے سبب
حصہ نہ ملنے پر اپنی محرومیوں کا کرتے شکوہ
اور تب مرے اپنے پیارے آقاؐ فرماتے
اے انصار
تم اس پر کیوں راضی نہیں ہوتے
کوئی تو اونٹ سنبھالے اور کوئی بکری
لیکن تم اللہ کے رسولؐ کو لیے گھر جائو
یہ سن کر ،پھر دیر تلک ہم سب کے آنسو
آپ ؐ کی خاکِ پا پہ شکر کا سجدہ کرتے
اس نادر بخشش پر میں بھی دل وجان سے راضی ہوتی
(کاش میں طیبہ کے انصار میں شامل ہوتی)
( ناہید قاسمی)
کاش ہو یوں انجام
دل میں انﷺ کی یاد بسی ہو
لب پر ان ﷺ کا نام
(سرشار صدیقی)
یا محمد ﷺ ترے فقیروں کی
شان و شوکت عجیب دیکھی
ان کی ٹھوکر میں بادشاہی ہے
(اکرم کلیم)
ان کی تعریف میں کروں کیسے
نعت لکھوں تو کس طرح لکھوں
مجھ کو الفاظ ہی نہیں ملتے
(رضی الدین رضی)
قیام پا کستان سے لے کر آج تک جہاں غزل کے مضامین اور موضوعات میں بے شمار جدتیںپیدا ہوئیں وہیں نعت میں بھی تازگی اور فنی تجربے کے خوبصورت نمونے سامنے آئے،نیا اسلوب،نئے تشبیہ واستعارات، ندرت ِ فکر وخیال،قلبی عقیدت کا والہانہ اظہار،جذبہ و احساس کی رفعت،جمالِ سرکارؐ کا ذکرِ نکہت افزا، حسنِ سیرت ِرسولؐکی ضو باریاں،فریاد واستغاثہ کی پر سوز لے ،تہذیب اسلامی کی رعنائی اور حرف ومعنی کی تابندگی نے جس نئے طرزِاحساس کو جنم دیا وہ بیسویں صدی کی آخری نصف دہائی کا طرئہ امتیاز ہے ،بلاشبہ یہ عرصہ نعت کا سنہری دور کہا جاسکتا ہے ۔
بیسویں صدی کی آخری دہائی اور اکیسویں صدی کے پہلے پندرہ سالوں میں تخلیقی تسلسل اور فنی ارتقا کے ساتھ جس طرح غزل میں نئے مضامین ،موضوعات اور جدید تر لب ولہجہ کی چمک دمک نے فروغ پایا اسی طرح نعت میں بھی نئی دنیا ئیں دریافت کرنے کا عمل بتدریج آگے بڑھا اور تخلیقی تسلسل کی جاندار روایت بھی پروان چڑھی۔ اس عرصہ میں اردو نعت میں فکروخیال اور اظہارو ابلاغ کے جوزاویے سامنے آئے اور جس طرح نعت کے کینوس میں وسعت پیدا ہوئی اسے الگ سے پہچاننا مشکل نہیں۔اکیسویں صدی کی نعت بھی قیام پاکستان کے بعد لکھی گئی نعت کی طرح اس بات کی غماز ہے کہ آج بھی محبتِ رسول ؐ اور عشقِ مصطفےؐکے چراغ ضو فشاں ہیں،نئی نعت میں جمالِ مصطفے ؐ کی ثناء بھی ہے اورسیرتِ مصطفےؐ کی ضیا بھی، سرکار ِدوعالم ؐ سے عقیدت کا اعتراف بھی ہے اور قلبی تعلق کا انکشاف بھی،قومی وملی مسائل کا بیان بھی ہے اور ذاتی الجھنوں کا اظہار بھی،عصری معاملات بھی ہیں اور کائناتی مسائل کا ادراک بھی،دامان ِرحمت پناہؐ کی وسعتوں کا تذکرہ بھی ہے اور عفو و در گزرطلبی بھی،الغرض جدید نعت ہر زاویے سے ارتقا کی نئی منزلیں بھی سر کررہی ہے اور بشارتیں تحریر کرنے کا کیف آورکام بھی سر انجام دے رہی ہے۔معروف نعت نگار ریاض حسین چودھری لکھتے ہیں ’’اکیسویں صدی کا آغاز کائنات ِ نعت میں اظہار وابلاغ کے نئے آفاق کی تسخیرکے عزمِ نو اور ولولۂ تازہ کے ساتھ ہوا ہے،اس تخلیقی،تہذیبی،روحانی اور وجدانی سفر کے ابتدائی مراحل ہی میں تفہیم ِنعت کے امکانات کی نئی دنیائوں کی دریافت کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں،افق ِ دیدہ و دل پر جدید حسیت کا بھر پور احساس نئے امکانات کو واضح اور روشن کر رہا ہے‘‘۔
(جدید اردو نعت کی صورت پذیری کا موسم۔نعت رنگ۔شمارہ 17ص۔63)
بیسویں صدی کی آخری دہائی میں نعت جن نئے ذائقوں کے ساتھ صورت پذیر ہوئی وہ اکیسویں صدی کا ابتدائیہ کہا جا سکتا ہے،نئی نعت صرف لسانی اورہیتی تجربوں کی حامل ہی نہیں بلکہ حرف و معنی،مضامین و مفاہیم، فکرو نظر اور فنی وتکنیکی ارتقا کے حوالے سے بھی نئے اور روشن تر راستوں سے مزین ہے ،نئی نسل روایت سے اکتساب کے ساتھ ساتھ نئے موسموں سے بھی رنگ و بو کشیدبھی کررہی ہے۔سوچ،زبان وبیان اور ڈکشن میں نیا پن بھی نمو پا رہا ہے اور کا ئناتی سچائیوں کے ساتھ حقیقت پسندی کا اظہار بھی پوری توانائی کے ساتھ ہو رہا ہے۔نئی نعت کے منظر نامے میں عہد ِحاضر کی سسکتی اور بلکتی انسانیت کی آہیں بھی موجود ہیں اور معاشرے میں پھیلتی ناانصافی اور ظلم وجبر کے خلاف احتجاج کی صدا ئیںبھی ،جدید تر نعت میں مسلم امہ کی محرومیوں اور عصرِ موجود کی زوال آمادہ ساعتوں کا نوحہ بھی رقم ہو رہا ہے اور تہذیبی،اخلاقی ،انسانی ،معاشرتی،معاشی،سیاسی اور نظریاتی عمارت کی سلامتی کی دعا بھی مانگی جارہی ہے۔ توہیں آمیز خاکوں کے خلاف صدائے احتجاج اور نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال بھی نعت کے موضوعات میں شامل ہے ، گویا نئی نعت موضوعات اور مضامین ِنو کا ایک سیل ِبے پناہ ہے جس میں الفاظ ومعانی، نئے رنگ،نئے ڈھنگ،علامت،تراکیب، ،تشبیہات،استعارے،تلازمے اور فکر وخیال کی نئی جہتیںنکھر نکھر کر جدید تر نعت کا حصہ بنتی چلی جارہی ہیں۔اکیسویں صدی کی نعت اسوہ ِحسنہ،جذبہ و احساس،عصرِحاضرکے اضطراب اور انسانی رویوں کی تہذیبی صورت گری کی خواہش و کوشش کا جدید علامتی اور استعاراتی منظر نامہ بن گئی ہے:
یاں مشرق و مغرب کا تفاوت نہیں کشفی
دامانِ رسالت کی ہوا سب کے لیے ہے
(ابوالخیر کشفی)
زمین ثابت قدم ہے اور آسمان روشن
گزر رہی ہے ابھی جو ساعت ظہور کی ہے
(توصیف تبسم)
بستی بستی قریہ قریہ صحرا صحرا خون
امت والے امت کا ہے کتنا سستا خون
( نعیم صدیقی)
بغیر حبِ نبیؐ حسنِ آرزو کیا ہے
بجز ثنائے نبیؐ لطفِ گفتگو کیا ہے
(بشیر حسین ناظم)
وہ فکرِ نو کہ جسے آپؐ سے نہیں نسبت
ہے اس کا سود بھی دل کے لیے زیاں کی طرح
( حفیظ الرحمٰن احسن)
خالد احمد تیری نسبت سے ہے خالد احمد
تُونے پاتال کی قسمت میں بھی رفعت لکھی
(خالد احمد)
شان انؐ کی سوچیے اور سوچ میں کھو جائیے
نعت کا دل میں خیال آئے تو چپ ہو جائیے
(خورشیدرضوی)
تختی لکھی تو اسیؐ نام سے آغاز کیا
جس کو معبود نے ہر نام سے اوپر رکھا
(افتخار عارف)
صدیاں طلوع ہوتی ہیں اس رخ کو دیکھ کر
کہتے ہیں جس کو وقت ہے صدقہ حضورؐ کا
(ریاض مجید)
ہم وہاں ہوتے رعایا کی قدم بوسی کو
آپؐ جس شہرِ محبت میں حکومت کرتے
(حلیم قریشی)
نام سرکارؐ پہ آنسو امنڈ آئے ہیں رشید
اپنے اجداد کی آنکھوں پہ گئی ہیں آنکھیں
( رشید ساقی)
پھر مجھے روضہِ اطہر سے بلاوا آیا
آیا آیا مرے سرکارؐ میں آیا آیا
(قمر رعینی)
رات بھر کہتے رہو نعتیں شہِ ابرارؐ کی
اک فقط صورت یہ ہے صبح کے آثار کی
(ہلال جعفری)
ہم مدینے کے مسافر رشک سے
میزبانوں کے مکاں دیکھا کیے
(عاصی کرنالی)
اہلِ ہنرنے نعتِ نبیؐ سے کیا کیا فیض اٹھائے ہیں
کسبِ ہنر سے عرضِ ہنر تک، عرضِ ہنر سے آگے بھی
(ماجدخلیل)
خدا دکھائے یہ منظر نبیؐ کی مسجد میں
ہو اعتکاف میسر نبیؐ کی مسجد میں
( آفتاب کریمی)
جو دیکھ پاتے انہیں ہم تو حال کیا ہوتا
نہ دیکھنے پہ یہ عالم کہ جیسے دیکھا ہے
(امید فاضلی)
ترےؐ بحرِ حقیقت میں نمود اپنی حبابی ہے
ترےؐ ہونے سے قائم ہوں مرا ہونا نہ ہونا کیا
( سید نصیرالدین نصیر)
اشکوں کو زمیں پر بھی میں گرنے نہیں دیتا
سرمایہ تیریؐ یاد کا ہے دیدۂ تر میں
( انور مسعود)
جس نے بھی دل میں بسا لی ہے محبت اسؐ کی
حشر کے روز وہ رسوا نہیں ہونے والا
(جلیل عالی)
ہوا کی خاموش سرسراہٹ میں نام تیراؐ
گھنے درختوں کی سبز چھائوں فزوں ہے تجھ سے
( خالد اقبال یاسر)
گیا تھا جب تو کوئی اور آدمی تھا میں
میں اپنے آپ سے واقف ہوا مدینے میں
(امجد اسلام امجد)
یہاں تو کوئی بات بھی نہ ڈھنگ سے ادا ہوئی
حضورؐ کی ثنا تو پھر حضورؐ کی ثنا ہوئی
( اسلم کولسری)
معجزہ بولتا ہے مٹھی میں
سنگریزے زباں نہیں رکھتے
(بشیراحمد مسعود)
اک نظر گنبدِ خضریٰ دیکھا
دل چمک اٹھا تمنائی کا
( ریاض حسین زیدی)
ارادہ گویا اشارہ تھا باریابی کا
میں یوں چلا ہوں کہ جیسے مجھے بلایا ہے
(سرشار صدیقی)
پائوں رکھ رکھ کے گھروندے وہؐ بنایا کرتا
میں خنک ریت کا بے نام سا ٹیلہ ہوتا
(ریاض حسین چودھری)
ورنہ سورج تو زمیں پر اُتر آتا کب کا
آپؐ کے نقشِ قدم بیچ میں آئے ہوئے ہیں
( سلیم کوثر)
اثر ذکرِ محمدؐ کا سحر ہوتا ہے یوں جیسے
کوئی گم گشتہ کشتی دامنِ ساحل میں آجائے
ك(سحر انصاری)
تسکینِ کائنات کا پیغام آ گیا
وہ آ گئے تو زیست کو آرام آ گیا
(انور جمال)
شگوفہ ہائے چمن بعد میں ہوئے بیدار
درود پڑھ کے پڑھی ہے صبا نے پہلے نعت
( افضال احمد نور)
غیب و ظاہر کے کناروں کو ملایا جس نے
تو وہ معراج کا رستہ ہے مدینے والے
(یاسمین حمید)
ترےؐ در کودیکھ کے اب نہیںکوئی آرزو مگر ایک ہے
کہ درودِ پاک پہ ختم ہو مری بات بات کا سلسلہ
(عزیز احسن)
جب کوئی ہم سے طلب کرتا ہے تحفہ نازش
ہم اسے نعت کے اشعار سنا دیتے ہیں
(حنیف نازش)
نعت کیا ہے کسی نے جب پوچھا
حرف میں ہم نے روشنی رکھ دی
(قیصر نجفی)
تیریؐ یاد کو تیرےؐ خواب کو میری آنکھ رکھے سنبھال کے
میری زندگی کا جواز ہیں یہی عکس تیرےؐ جمال کے
(محمد فیروز شاہ)
آنسوئوں سے نہ ہو وضو جب تک
آپؐ کی نعت ہی نہیں ہوتی
( احمد جلیل)
حدِ امکان میں ہے جو بھی صفت
وہ مدینے کے تاجدار میں ہے
( گستاخ بخاری)
کتنے خوش بخت ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنا
رہنما آپؐ کی سیرت کو بنا رکھا ہے
( طاہر سلطانی)
نبیؐ کی نعت کی صورت میں عابد
متاعِ بے بہا پہنچی ہے مجھ تک
(عابد سعید عابد)
خدا کا گھر ہے ترےؐ ذکرِ پاک سے معمور
خدا کے گھر میں ہیں روشن ترےؐ بیاں کے چراغ
(شاہ محمد سبطین شاہجہانی)
ہجر کے غارِ حرا میں دیکھتے اجمل کو تم
قریہِ عشق ِمحمدؐ میں کہیں رہتا ہے وہ
( اجمل نیازی)
زباں ملی ہے مجھے مدحتِ نبی ؐ کے لیے
ہر ایک لفظ ہے میرا بس آپ ؐہی کے لیے
(ریاض ندیم نیازی)
انؐ کی نسبت سے دعائوں کا شجر سبز ہوا
ورنہ ٹلتا ہی نہ تھا بے ثمری کا موسم
(صبیح رحمانی)
یہ بھی ہے عشقِ محمدؐ کا کرشمہ خالد
میری پلکوں کے افق پر ہے ضیا ریز شفق
(خالد علیم)
جس طرح ملتے ہیں لب نامِ محمدؐ کے سبب
کاش ہم مل جا ئیں سب نامِ محمدؐ کے سبب
( یعقوب پرواز)
بیگانہ سنتوں سے جو ہو، وہ مرا نہیں
کیوں اس حدیثِ پاک سے صرف نظر کریں
(عرش ہاشمی)
جنہیں حضورؐ نے بخشا شرف زیارت کا
زہے نصیب کہ ان راستوں میںہم پہنچے
(رضا اللہ حیدر)
جو بھی لکھا ہے وہ انوار صفت لکھا ہے
اسمِ احمدؐ نے یہ اعجاز قلم میں رکھا
( نورین طلعت عروبہ)
اور بوصیریؒ جو کبھی جائیں قصیدہ پڑھنے
اپنے مصرعوں میں کہیں بُن کے مجھے لے جائیں
(اخترعثمان)
مدینے جا کے پو چھیں گے دل و جان و جگر سے ہم
یہی رہتا ہے رنگِ درد یا کچھ اور ہوتا ہے
( فیض رسول فیضان)
کیا کیا کرم خدا نے مدینے میں رکھ دیا
یادِ نبیؐ کو خلق کے سینے میں رکھ دیا
(احمد محمودالزماں)
دین و دنیا کی بھلائی کے لیے
پیروی کو انؐ کی سیرت چاہیے
(شاعر علی شاعر)
جب دعا کو ہاتھ اٹھا ئے بابِ اطہر پر سخن
میری پلکوں پر ندامت کے دیے روشن ہوئے
(سجاد سخن)
محبت ہی محبت تھی ، حکیمانہ رویہ تھا
وہ جس نے ایک عالم کو نبیؐ کی سمت کھنچا تھا
(ضیاء الدین نعیم)
آپؐ کی ذاتِ پاک سے دونوں جہاں میں روشنی
آپؐ یہاں کے بادشاہ، آپؐ وہاں کے بادشاہ
(محمد حنیف)
ذرہ کرے خورشید کی مدحت تو عجب کیا
پائیں مرے لب نعت کی رفعت تو عجب کیا
(عقیل عباس جعفری)
درود کیمیا ہے قلب و جاں کے اطمینان کو
لبوں پہ آ گیا تو دور ہر ملال ہو گیا
( مجتبیٰ حیدر شیرازی)
میں کاش! سنگ ہی ہوتا تو زندہ رہ جاتا
نقوشِ پائے پیمبرؐ دوام کرتا ہوا
(سعودعثمانی)
روشنائی قلم سے پھوٹ پڑی
دل کی تختی پہ جب لکھا ہے اسےؐ
(طاہر شیرازی)
اس وادیِ مدحت میں کہاں تک چلا جائے
چاہے تو کوئی حدِ بیاں تک چلا جائے
( ادریس بابر)
ترےؐ کمال کا سورج ہے جاوداں روشن
کہ ایک وقت میں ہیں تجھؐ سے دو جہاں روشن
(شہاب صفدر)
خزاں رتوں میں کھلے ہیں کھجور کے پتے
ہمیشہ سبز رہے ہیں کھجور کے پتے
(قاسم یعقوب)
معراجِ مصطفےؐ کی حقیقت سمجھ کے آج
تسخیرِ کائنات کی خواہش ہوئی مجھے
( رشید امین)
کچھ تو ہو پاس کہ جب آپؐ کے در پر آئوں
روک لیتا ہوں اگر آنکھ میں آنسو آئے
(علی یاسر)
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...
عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...
آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...
میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...
ایئرپورٹ سیمسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنیکا انکشاف اے ایس آئی محمد عالم، ایف سی انضمام الحق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل شامل ہیں ،ذرائع نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ...
شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...
ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...