وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اکیسویں صدی میں اردو نعت

اتوار 27 مئی 2018 اکیسویں صدی میں اردو نعت

غزل کی ہیت میں نعت گوئی کے ساتھ ساتھ جدید شعراء نے آزاد نظم کی صورت میں بھی محبت وسیرت ِرسول ؐکے چراغ روشن کیے ہیں اور پابند نظم بھی کہی ہے۔ہائیکو بھی لکھی گئی اور ماہیے بھی ،قطعہ بھی کہا گیا اوررباعی بھی ۔سہ حرفیاں بھی منظر عام پر آئیں اور یک مصرعی نظمیں بھی:

جس نے سوچا انہیںؐ
وہ خدا کی قسم
ماورائے زمان و زمیں ہو گیا
جس نے لکھا انہیںؐ
اس کا معجز قلم
شہپرِجبرائیلِ امیں ہو گیا
جس نے چاہا انہیں ؐ
اس کی چاہت
بقا کی نگارش ہوئی
اس پہ دن رات پھولوں کی بارش ہوئی
جس نے چا ہا انہیںؐ
اس کو چاہا گیا
اس کی دہلیز تک ہر دوراہا گیا
( شبنم رومانی)
تنک مزاجوں کی سلطنت میں
بتایاجس نے
سخن حدود ِ دعا میں کرنا
لباس نا آشنا رواجوں کی سلطنت میں سکھایا جس نے
نمو کی مشتاق بے ہنر خوئے شعلگی کو
طریق ِ قطع وبرید ِجامہ
حریم ِ شمع ِ صفات ہونا
مکاشفے میں،مباحثے میں،مباہلے میں
دلیل ِ قاطع،دعائے فاتح،ثبوتِ آخر کو اپنے اوزان کی صداقت میں تولتا تھا
وہ نرم لہجے میں بولتاتھا
(اختر حسین جعفری)
جنگ ِحنین کے موقع پر
جب حضرتؐ
مال ِ غنیمت بانٹتے
آپؐ انصار کو کچھ بھی نہ دیتے
ہم اپنی کم سمجھی،کم علمی کے سبب
حصہ نہ ملنے پر اپنی محرومیوں کا کرتے شکوہ
اور تب مرے اپنے پیارے آقاؐ فرماتے
اے انصار
تم اس پر کیوں راضی نہیں ہوتے
کوئی تو اونٹ سنبھالے اور کوئی بکری
لیکن تم اللہ کے رسولؐ کو لیے گھر جائو
یہ سن کر ،پھر دیر تلک ہم سب کے آنسو
آپ ؐ کی خاکِ پا پہ شکر کا سجدہ کرتے
اس نادر بخشش پر میں بھی دل وجان سے راضی ہوتی
(کاش میں طیبہ کے انصار میں شامل ہوتی)
( ناہید قاسمی)
کاش ہو یوں انجام
دل میں انﷺ کی یاد بسی ہو
لب پر ان ﷺ کا نام
(سرشار صدیقی)
یا محمد ﷺ ترے فقیروں کی
شان و شوکت عجیب دیکھی
ان کی ٹھوکر میں بادشاہی ہے
(اکرم کلیم)
ان کی تعریف میں کروں کیسے
نعت لکھوں تو کس طرح لکھوں
مجھ کو الفاظ ہی نہیں ملتے
(رضی الدین رضی)
قیام پا کستان سے لے کر آج تک جہاں غزل کے مضامین اور موضوعات میں بے شمار جدتیںپیدا ہوئیں وہیں نعت میں بھی تازگی اور فنی تجربے کے خوبصورت نمونے سامنے آئے،نیا اسلوب،نئے تشبیہ واستعارات، ندرت ِ فکر وخیال،قلبی عقیدت کا والہانہ اظہار،جذبہ و احساس کی رفعت،جمالِ سرکارؐ کا ذکرِ نکہت افزا، حسنِ سیرت ِرسولؐکی ضو باریاں،فریاد واستغاثہ کی پر سوز لے ،تہذیب اسلامی کی رعنائی اور حرف ومعنی کی تابندگی نے جس نئے طرزِاحساس کو جنم دیا وہ بیسویں صدی کی آخری نصف دہائی کا طرئہ امتیاز ہے ،بلاشبہ یہ عرصہ نعت کا سنہری دور کہا جاسکتا ہے ۔

بیسویں صدی کی آخری دہائی اور اکیسویں صدی کے پہلے پندرہ سالوں میں تخلیقی تسلسل اور فنی ارتقا کے ساتھ جس طرح غزل میں نئے مضامین ،موضوعات اور جدید تر لب ولہجہ کی چمک دمک نے فروغ پایا اسی طرح نعت میں بھی نئی دنیا ئیں دریافت کرنے کا عمل بتدریج آگے بڑھا اور تخلیقی تسلسل کی جاندار روایت بھی پروان چڑھی۔ اس عرصہ میں اردو نعت میں فکروخیال اور اظہارو ابلاغ کے جوزاویے سامنے آئے اور جس طرح نعت کے کینوس میں وسعت پیدا ہوئی اسے الگ سے پہچاننا مشکل نہیں۔اکیسویں صدی کی نعت بھی قیام پاکستان کے بعد لکھی گئی نعت کی طرح اس بات کی غماز ہے کہ آج بھی محبتِ رسول ؐ اور عشقِ مصطفےؐکے چراغ ضو فشاں ہیں،نئی نعت میں جمالِ مصطفے ؐ کی ثناء بھی ہے اورسیرتِ مصطفےؐ کی ضیا بھی، سرکار ِدوعالم ؐ سے عقیدت کا اعتراف بھی ہے اور قلبی تعلق کا انکشاف بھی،قومی وملی مسائل کا بیان بھی ہے اور ذاتی الجھنوں کا اظہار بھی،عصری معاملات بھی ہیں اور کائناتی مسائل کا ادراک بھی،دامان ِرحمت پناہؐ کی وسعتوں کا تذکرہ بھی ہے اور عفو و در گزرطلبی بھی،الغرض جدید نعت ہر زاویے سے ارتقا کی نئی منزلیں بھی سر کررہی ہے اور بشارتیں تحریر کرنے کا کیف آورکام بھی سر انجام دے رہی ہے۔معروف نعت نگار ریاض حسین چودھری لکھتے ہیں ’’اکیسویں صدی کا آغاز کائنات ِ نعت میں اظہار وابلاغ کے نئے آفاق کی تسخیرکے عزمِ نو اور ولولۂ تازہ کے ساتھ ہوا ہے،اس تخلیقی،تہذیبی،روحانی اور وجدانی سفر کے ابتدائی مراحل ہی میں تفہیم ِنعت کے امکانات کی نئی دنیائوں کی دریافت کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں،افق ِ دیدہ و دل پر جدید حسیت کا بھر پور احساس نئے امکانات کو واضح اور روشن کر رہا ہے‘‘۔

(جدید اردو نعت کی صورت پذیری کا موسم۔نعت رنگ۔شمارہ 17ص۔63)
بیسویں صدی کی آخری دہائی میں نعت جن نئے ذائقوں کے ساتھ صورت پذیر ہوئی وہ اکیسویں صدی کا ابتدائیہ کہا جا سکتا ہے،نئی نعت صرف لسانی اورہیتی تجربوں کی حامل ہی نہیں بلکہ حرف و معنی،مضامین و مفاہیم، فکرو نظر اور فنی وتکنیکی ارتقا کے حوالے سے بھی نئے اور روشن تر راستوں سے مزین ہے ،نئی نسل روایت سے اکتساب کے ساتھ ساتھ نئے موسموں سے بھی رنگ و بو کشیدبھی کررہی ہے۔سوچ،زبان وبیان اور ڈکشن میں نیا پن بھی نمو پا رہا ہے اور کا ئناتی سچائیوں کے ساتھ حقیقت پسندی کا اظہار بھی پوری توانائی کے ساتھ ہو رہا ہے۔نئی نعت کے منظر نامے میں عہد ِحاضر کی سسکتی اور بلکتی انسانیت کی آہیں بھی موجود ہیں اور معاشرے میں پھیلتی ناانصافی اور ظلم وجبر کے خلاف احتجاج کی صدا ئیںبھی ،جدید تر نعت میں مسلم امہ کی محرومیوں اور عصرِ موجود کی زوال آمادہ ساعتوں کا نوحہ بھی رقم ہو رہا ہے اور تہذیبی،اخلاقی ،انسانی ،معاشرتی،معاشی،سیاسی اور نظریاتی عمارت کی سلامتی کی دعا بھی مانگی جارہی ہے۔ توہیں آمیز خاکوں کے خلاف صدائے احتجاج اور نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال بھی نعت کے موضوعات میں شامل ہے ، گویا نئی نعت موضوعات اور مضامین ِنو کا ایک سیل ِبے پناہ ہے جس میں الفاظ ومعانی، نئے رنگ،نئے ڈھنگ،علامت،تراکیب، ،تشبیہات،استعارے،تلازمے اور فکر وخیال کی نئی جہتیںنکھر نکھر کر جدید تر نعت کا حصہ بنتی چلی جارہی ہیں۔اکیسویں صدی کی نعت اسوہ ِحسنہ،جذبہ و احساس،عصرِحاضرکے اضطراب اور انسانی رویوں کی تہذیبی صورت گری کی خواہش و کوشش کا جدید علامتی اور استعاراتی منظر نامہ بن گئی ہے:

یاں مشرق و مغرب کا تفاوت نہیں کشفی
دامانِ رسالت کی ہوا سب کے لیے ہے
(ابوالخیر کشفی)
زمین ثابت قدم ہے اور آسمان روشن
گزر رہی ہے ابھی جو ساعت ظہور کی ہے
(توصیف تبسم)
بستی بستی قریہ قریہ صحرا صحرا خون
امت والے امت کا ہے کتنا سستا خون
( نعیم صدیقی)
بغیر حبِ نبیؐ حسنِ آرزو کیا ہے
بجز ثنائے نبیؐ لطفِ گفتگو کیا ہے
(بشیر حسین ناظم)
وہ فکرِ نو کہ جسے آپؐ سے نہیں نسبت
ہے اس کا سود بھی دل کے لیے زیاں کی طرح
( حفیظ الرحمٰن احسن)
خالد احمد تیری نسبت سے ہے خالد احمد
تُونے پاتال کی قسمت میں بھی رفعت لکھی
(خالد احمد)
شان انؐ کی سوچیے اور سوچ میں کھو جائیے
نعت کا دل میں خیال آئے تو چپ ہو جائیے
(خورشیدرضوی)
تختی لکھی تو اسیؐ نام سے آغاز کیا
جس کو معبود نے ہر نام سے اوپر رکھا
(افتخار عارف)
صدیاں طلوع ہوتی ہیں اس رخ کو دیکھ کر
کہتے ہیں جس کو وقت ہے صدقہ حضورؐ کا
(ریاض مجید)
ہم وہاں ہوتے رعایا کی قدم بوسی کو
آپؐ جس شہرِ محبت میں حکومت کرتے
(حلیم قریشی)
نام سرکارؐ پہ آنسو امنڈ آئے ہیں رشید
اپنے اجداد کی آنکھوں پہ گئی ہیں آنکھیں
( رشید ساقی)
پھر مجھے روضہِ اطہر سے بلاوا آیا
آیا آیا مرے سرکارؐ میں آیا آیا
(قمر رعینی)
رات بھر کہتے رہو نعتیں شہِ ابرارؐ کی
اک فقط صورت یہ ہے صبح کے آثار کی
(ہلال جعفری)
ہم مدینے کے مسافر رشک سے
میزبانوں کے مکاں دیکھا کیے
(عاصی کرنالی)
اہلِ ہنرنے نعتِ نبیؐ سے کیا کیا فیض اٹھائے ہیں
کسبِ ہنر سے عرضِ ہنر تک، عرضِ ہنر سے آگے بھی
(ماجدخلیل)
خدا دکھائے یہ منظر نبیؐ کی مسجد میں
ہو اعتکاف میسر نبیؐ کی مسجد میں
( آفتاب کریمی)
جو دیکھ پاتے انہیں ہم تو حال کیا ہوتا
نہ دیکھنے پہ یہ عالم کہ جیسے دیکھا ہے
(امید فاضلی)
ترےؐ بحرِ حقیقت میں نمود اپنی حبابی ہے
ترےؐ ہونے سے قائم ہوں مرا ہونا نہ ہونا کیا
( سید نصیرالدین نصیر)
اشکوں کو زمیں پر بھی میں گرنے نہیں دیتا
سرمایہ تیریؐ یاد کا ہے دیدۂ تر میں
( انور مسعود)
جس نے بھی دل میں بسا لی ہے محبت اسؐ کی
حشر کے روز وہ رسوا نہیں ہونے والا
(جلیل عالی)
ہوا کی خاموش سرسراہٹ میں نام تیراؐ
گھنے درختوں کی سبز چھائوں فزوں ہے تجھ سے
( خالد اقبال یاسر)
گیا تھا جب تو کوئی اور آدمی تھا میں
میں اپنے آپ سے واقف ہوا مدینے میں
(امجد اسلام امجد)
یہاں تو کوئی بات بھی نہ ڈھنگ سے ادا ہوئی
حضورؐ کی ثنا تو پھر حضورؐ کی ثنا ہوئی
( اسلم کولسری)
معجزہ بولتا ہے مٹھی میں
سنگریزے زباں نہیں رکھتے
(بشیراحمد مسعود)
اک نظر گنبدِ خضریٰ دیکھا
دل چمک اٹھا تمنائی کا
( ریاض حسین زیدی)
ارادہ گویا اشارہ تھا باریابی کا
میں یوں چلا ہوں کہ جیسے مجھے بلایا ہے
(سرشار صدیقی)
پائوں رکھ رکھ کے گھروندے وہؐ بنایا کرتا
میں خنک ریت کا بے نام سا ٹیلہ ہوتا
(ریاض حسین چودھری)
ورنہ سورج تو زمیں پر اُتر آتا کب کا
آپؐ کے نقشِ قدم بیچ میں آئے ہوئے ہیں
( سلیم کوثر)
اثر ذکرِ محمدؐ کا سحر ہوتا ہے یوں جیسے
کوئی گم گشتہ کشتی دامنِ ساحل میں آجائے
ك(سحر انصاری)
تسکینِ کائنات کا پیغام آ گیا
وہ آ گئے تو زیست کو آرام آ گیا
(انور جمال)
شگوفہ ہائے چمن بعد میں ہوئے بیدار
درود پڑھ کے پڑھی ہے صبا نے پہلے نعت
( افضال احمد نور)
غیب و ظاہر کے کناروں کو ملایا جس نے
تو وہ معراج کا رستہ ہے مدینے والے
(یاسمین حمید)
ترےؐ در کودیکھ کے اب نہیںکوئی آرزو مگر ایک ہے
کہ درودِ پاک پہ ختم ہو مری بات بات کا سلسلہ
(عزیز احسن)
جب کوئی ہم سے طلب کرتا ہے تحفہ نازش
ہم اسے نعت کے اشعار سنا دیتے ہیں
(حنیف نازش)
نعت کیا ہے کسی نے جب پوچھا
حرف میں ہم نے روشنی رکھ دی
(قیصر نجفی)
تیریؐ یاد کو تیرےؐ خواب کو میری آنکھ رکھے سنبھال کے
میری زندگی کا جواز ہیں یہی عکس تیرےؐ جمال کے
(محمد فیروز شاہ)
آنسوئوں سے نہ ہو وضو جب تک
آپؐ کی نعت ہی نہیں ہوتی
( احمد جلیل)
حدِ امکان میں ہے جو بھی صفت
وہ مدینے کے تاجدار میں ہے
( گستاخ بخاری)
کتنے خوش بخت ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنا
رہنما آپؐ کی سیرت کو بنا رکھا ہے
( طاہر سلطانی)
نبیؐ کی نعت کی صورت میں عابد
متاعِ بے بہا پہنچی ہے مجھ تک
(عابد سعید عابد)
خدا کا گھر ہے ترےؐ ذکرِ پاک سے معمور
خدا کے گھر میں ہیں روشن ترےؐ بیاں کے چراغ
(شاہ محمد سبطین شاہجہانی)
ہجر کے غارِ حرا میں دیکھتے اجمل کو تم
قریہِ عشق ِمحمدؐ میں کہیں رہتا ہے وہ
( اجمل نیازی)
زباں ملی ہے مجھے مدحتِ نبی ؐ کے لیے
ہر ایک لفظ ہے میرا بس آپ ؐہی کے لیے
(ریاض ندیم نیازی)
انؐ کی نسبت سے دعائوں کا شجر سبز ہوا
ورنہ ٹلتا ہی نہ تھا بے ثمری کا موسم
(صبیح رحمانی)
یہ بھی ہے عشقِ محمدؐ کا کرشمہ خالد
میری پلکوں کے افق پر ہے ضیا ریز شفق
(خالد علیم)
جس طرح ملتے ہیں لب نامِ محمدؐ کے سبب
کاش ہم مل جا ئیں سب نامِ محمدؐ کے سبب
( یعقوب پرواز)
بیگانہ سنتوں سے جو ہو، وہ مرا نہیں
کیوں اس حدیثِ پاک سے صرف نظر کریں
(عرش ہاشمی)
جنہیں حضورؐ نے بخشا شرف زیارت کا
زہے نصیب کہ ان راستوں میںہم پہنچے
(رضا اللہ حیدر)
جو بھی لکھا ہے وہ انوار صفت لکھا ہے
اسمِ احمدؐ نے یہ اعجاز قلم میں رکھا
( نورین طلعت عروبہ)
اور بوصیریؒ جو کبھی جائیں قصیدہ پڑھنے
اپنے مصرعوں میں کہیں بُن کے مجھے لے جائیں
(اخترعثمان)
مدینے جا کے پو چھیں گے دل و جان و جگر سے ہم
یہی رہتا ہے رنگِ درد یا کچھ اور ہوتا ہے
( فیض رسول فیضان)
کیا کیا کرم خدا نے مدینے میں رکھ دیا
یادِ نبیؐ کو خلق کے سینے میں رکھ دیا
(احمد محمودالزماں)
دین و دنیا کی بھلائی کے لیے
پیروی کو انؐ کی سیرت چاہیے
(شاعر علی شاعر)
جب دعا کو ہاتھ اٹھا ئے بابِ اطہر پر سخن
میری پلکوں پر ندامت کے دیے روشن ہوئے
(سجاد سخن)
محبت ہی محبت تھی ، حکیمانہ رویہ تھا
وہ جس نے ایک عالم کو نبیؐ کی سمت کھنچا تھا
(ضیاء الدین نعیم)
آپؐ کی ذاتِ پاک سے دونوں جہاں میں روشنی
آپؐ یہاں کے بادشاہ، آپؐ وہاں کے بادشاہ
(محمد حنیف)
ذرہ کرے خورشید کی مدحت تو عجب کیا
پائیں مرے لب نعت کی رفعت تو عجب کیا
(عقیل عباس جعفری)
درود کیمیا ہے قلب و جاں کے اطمینان کو
لبوں پہ آ گیا تو دور ہر ملال ہو گیا
( مجتبیٰ حیدر شیرازی)
میں کاش! سنگ ہی ہوتا تو زندہ رہ جاتا
نقوشِ پائے پیمبرؐ دوام کرتا ہوا
(سعودعثمانی)
روشنائی قلم سے پھوٹ پڑی
دل کی تختی پہ جب لکھا ہے اسےؐ
(طاہر شیرازی)
اس وادیِ مدحت میں کہاں تک چلا جائے
چاہے تو کوئی حدِ بیاں تک چلا جائے
( ادریس بابر)
ترےؐ کمال کا سورج ہے جاوداں روشن
کہ ایک وقت میں ہیں تجھؐ سے دو جہاں روشن
(شہاب صفدر)
خزاں رتوں میں کھلے ہیں کھجور کے پتے
ہمیشہ سبز رہے ہیں کھجور کے پتے
(قاسم یعقوب)
معراجِ مصطفےؐ کی حقیقت سمجھ کے آج
تسخیرِ کائنات کی خواہش ہوئی مجھے
( رشید امین)
کچھ تو ہو پاس کہ جب آپؐ کے در پر آئوں
روک لیتا ہوں اگر آنکھ میں آنسو آئے
(علی یاسر)


متعلقہ خبریں


طالبان کا تاجکستان جانے والی مرکزی سرحدی گزرگاہ پر قبضہ وجود - بدھ 23 جون 2021

طالبان نے افغانستان کی تاجکستان کے ساتھ مرکزی سرحدی گزرگاہ پر قبضہ کرلیا اور حفاظت پر مامور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار وہاں سے سرحد پار کر کے فرار ہو گئے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق قندوز شہر سے 50 کلو میٹر کے فاصلے پر افغانستان کے شمال میں شیر خان بندر پر قبضہ امریکی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد سے طالبان کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔قندوز کی صوبائی کونسل کے رکن خالدین حکیمی نے بتایا کہ بدقسمتی سے صبح ڈیڑھ گھنٹہ لڑائی کے بعد طالبان نے شیر خان بندرگاہ اور تاجکستان کے ساتھ واقع قصبے ...

طالبان کا تاجکستان جانے والی مرکزی سرحدی گزرگاہ پر قبضہ

سندھ میں گرمی میں بھی گیس کا بحران ، صنعتوں کو گیس فراہمی بند وجود - بدھ 23 جون 2021

سندھ میں گرمی میں بھی گیس کا بحران ہے جس کے باعث صنعتوں کو گیس فراہمی بند کردی گئی ہے ۔ترجمان سوئی سدرن گیس کمپنی کے مطابق نان ایکسپورٹ صنعتوں کو گیس کی فراہمی آج سے غیر معینہ مدت کے لیے بند کردی گئی ہے ، جنرل انڈسٹریز کی کیپٹو پاور 50 فیصد بند کی گئی ہے ، کنڑ گیس فیلڈ میں مرمت کا کام جاری ہے ۔ دوسری جانب کراچی کے علاقے ڈیفنس میں 20 انچ گیس پائپ لائن پرترقیاتی کام جاری ہے جس سے ڈیفنس اور کلفٹن کے مختلف علاقوں میں رات 8 بجے سے اگلے 14 گھنٹے کیلیے گیس کی فراہمی متاثرہوسکتی ہے ۔...

سندھ میں گرمی میں بھی گیس کا بحران ، صنعتوں کو گیس فراہمی بند

وزیراعظم کے انٹرویو کا بھارت سے متعلق حصہ سنسر، امریکی ٹی وی سے وضاحت طلب وجود - بدھ 23 جون 2021

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو کو سنسر کرنے کا معاملہ سامنے آنے پر پاکستان نے امریکی ٹی وی سے وضاحت مانگ لی ۔حکومتی ذرائع کے مطابق امریکی ٹی وی چینل نے وزیراعظم عمران خان کا انٹرویو سنسر کیا، انٹرویو میں بھارتی ہندوتوا سوچ کے بارے میں وزیراعظم کے تاثرات سنسر کیے گئے ۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے وزیراعظم کا انٹرویو سنسر کرنے پر امریکی ٹی وی سے وضاحت مانگ لی۔حکومتی ذرائع کے مطابق امریکی ٹی وی نے وزیراعظم کا انٹرویو سنسر کرکے آزادی اظہ...

وزیراعظم کے انٹرویو کا بھارت سے متعلق حصہ سنسر، امریکی ٹی وی سے وضاحت طلب

طالبان کی کارروائیاں، پینٹاگون نے انخلا کی رفتار سست کرنیکا عندیہ دیدیا وجود - بدھ 23 جون 2021

پینٹاگون نے انتباہ کیا ہے کہ طالبان کی کارروائیوں اور انہیں حاصل ہونے والے فوائد کے باعث افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا عمل سست کیا جا سکتا ہے ۔ میڈیا سے گفتگو میں پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے دی جانے والی ڈیڈ لائن برقرار رہے گی لیکن انخلا کے عمل کو صورتحال کی مناسبت سے ایڈجسٹ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے مختلف اضلاع پر حملوں اور پر تشدد کارروائیوں کے بعد صورتحال تبدیل ہو رہی ہے ۔جان کربی نے کہا کہ...

طالبان کی کارروائیاں، پینٹاگون نے انخلا کی رفتار سست کرنیکا عندیہ دیدیا

سینیٹر محسن عزیر کا نام ا سمگلروں کی لسٹ میں موجود ہے ، قائمہ کمیٹی میں انکشاف وجود - بدھ 23 جون 2021

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں انکشاف ہواہے کہ سینیٹر محسن عزیر کا نام سمگلروں کی لسٹ میں موجود ہے کسٹم نے ان کے گودام سے سمگلنگ کا سامان برآمد کیا تھا۔ منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر طلحہ محمود کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔ذرائع کے مطابق کمیٹی میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے سینیٹر محسن عزیز کے کولڈ اسٹوریج/ گودام پر ریڈ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کسٹم کے 100 گن مین نے چھاپہ مارا، سامان ضبط کیا اور گودام کے مالک سینیٹر محسن عزیز کو سمگلر...

سینیٹر محسن عزیر کا نام ا سمگلروں کی لسٹ میں موجود ہے ، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

ٹرمپ کورونا میں مبتلا امریکی شہریوں کو گوانتاناموبے بھیجنا چاہتے تھے ، امریکی صحافیوں کا انکشاف وجود - بدھ 23 جون 2021

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ وہ کورونا میں مبتلا امریکی شہریوں کو گوانتاناموبے بھیجنا چاہتے تھے ۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دو صحافیوں کی جانب سے لکھی گئی کتاب میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق امریکی صدر کا خیال تھا کہ امریکا میں کورونا وائرس کا شکار ہونے والے شہریوں کو گوانتاناموبے کی جیل میں رکھا جائے ۔رپورٹ کے مطابق کتاب میں بتایا گیاہے کہ امریکا میں کورونا وائرس کی صورتحال خراب ہونے کے بعد ٹرمپ نے فروری 2020 میں ہونے والی ایک میٹنگ میں اپنے سٹ...

ٹرمپ کورونا میں مبتلا امریکی شہریوں کو گوانتاناموبے بھیجنا چاہتے تھے ، امریکی صحافیوں کا انکشاف

برطانوی وزیر برائے جنوبی ایشیا لارڈ احمد کی پاکستان آمد وجود - بدھ 23 جون 2021

برطانوی وزیرِ مملکت برائے جنوبی ایشیا اور کامن ویلتھ اور تنازعات میں جنسی تشدد کی روک تھام کے لیے برطانوی وزیرِ اعظم کے نمائندہ خصوصی لارڈ )طارق( احمد آف ومبلڈن اپنے دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ۔ ان کے دو شہروں پر محیط اس دورے سے برطانیہ اور پاکستان کے مابین دوستی کو مزید تقویت ملے گی۔اس دورے کے دوران لارڈ احمد کی وفاقی وزیرِ انسانی حقوق شیریں مزاری، وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی و دیگرسے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ان ملاقاتوں کے دوران لارڈ احمد موسمیاتی تغیر سمیت عالمی طور پر درپ...

برطانوی وزیر برائے جنوبی ایشیا لارڈ احمد کی پاکستان آمد

بلی آئلش نے نامناسب زبان کے استعمال پر ایشیائی افراد سے معافی مانگ لی وجود - بدھ 23 جون 2021

کم عمری میں ہی متعدد ریکارڈز اپنے نام کرنیوالی پاپ گلوکارہ 19سالہ بلی آئلش نے لاعلمی میں ایشیائی اور سیاہ فام افراد کے حوالے سے نامناسب زبان استعمال کرنے پر معافی مانگی لی۔میڈیا رپورٹکے مطابق بلی آئلش نے انسٹاگرام اسٹوری پر ایشیائی نژاد اور سیاہ فام افراد سے معافی مانگتے ہوئے دعوی کیا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے گانے کی ایک ویڈیو میں وہ جس زبان کا استعمال کر رہی ہیں، انہیں اس وقت مذکورہ زبان کے مفہوم کا علم نہیں تھا۔گلوکارہ نے اپنے معافی نامے میں لکھا کہ وائرل ہونے والی ...

بلی آئلش نے نامناسب زبان کے استعمال پر ایشیائی افراد سے معافی مانگ لی

اپوزیشن نے عثمان کاکڑ کے انتقال پر سوال اٹھا دیے ، تحقیقات کا مطالبہ وجود - منگل 22 جون 2021

سینیٹ میں اپوزیشن اراکین نے نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کے گھر میں زخمی ہونے کے بعد انتقال پر سوال اٹھاتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔پیر کو سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضٰی نے کہا کہ عثمان کاکڑ کا خاندان ان کے پوسٹ مارٹم کا مطالبہ کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کہا جا رہا ہے عثمان کاکڑ واش روم میں گرے تھے لیکن عثمان کاکڑ واش روم میں نہیں گرے بلکہ گھر میں جب وہ ...

اپوزیشن نے عثمان کاکڑ کے انتقال پر سوال اٹھا دیے ، تحقیقات کا مطالبہ

طالبان کا افغان حکومت کے خلاف عسکری دبا ئومیں مزید اضافہ ،چھ اضلاع پر قبضہ وجود - منگل 22 جون 2021

طالبان نے کابل حکومت کے خلاف عسکری دبا ئومیں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران انہوں نے مزید چھ اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے ۔ متعدد حکومتی اہلکاروں نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ۔ دوسری جانب طالبان جنگجو ملک کے شمال میں تخار اور فاریاب کی صوبائی دارالحکومتوں کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔ یکم مئی کو افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کا آغاز ہوا تھا اور اس کے بعد سے مجموعی طور پر طالبان اکتالیس اضلاع پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔ افغانستان کے ...

طالبان کا افغان حکومت کے خلاف عسکری دبا ئومیں مزید اضافہ ،چھ اضلاع پر قبضہ

اسرائیلی زندانوں میں 20 سال سے قید فلسطینیوں کی تعداد 78ہوگئی وجود - منگل 22 جون 2021

فلسطینی اسیران اسٹڈی سینٹر کی طرف سے گذشتہ روز جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی زندانوں میں 20 سال سے زاید عرصے سے قید فلسطینیوں کی تعداد 78 ہوگئی ہے ۔ااس گروپ میں مزید 3 فلسطینی قیدی شامل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کی تعداد اٹھہتر ہوگئی ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسیران اسٹڈی سینٹر کے ترجمان ریاض الاشقر نے بتایا کہ بیت لحم سے تعلق رکھنے والے اسماعیل دائود حسین ردایدہ، رام اللہ کے محمد ھاشم احمد نوارہ اور القدس کے یاسر محمد عبید ربایعہ عمد الاسری میں شامل ہوگئے ۔ خیال رہے...

اسرائیلی زندانوں میں 20 سال سے قید فلسطینیوں کی تعداد 78ہوگئی

بھارت تخریب کاری کیلئے افغان سرزمین استعمال کررہا ہے ، دفتر خارجہ وجود - منگل 22 جون 2021

پاکستان نے امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کرنے سے دوٹوک الفاظ میں انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں تخریب کاری کیلئے افغان سرزمین استعمال کررہا ہے امن کے حصول میں افغان فریقین کی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان نہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور ترکی نے خطے میں امن کیلئے باہمی مشاورت پر اتفاق کیا ہے ۔

بھارت تخریب کاری کیلئے افغان سرزمین استعمال کررہا ہے ، دفتر خارجہ