وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 27 مئی 2018 استقبال کتب

گستاخ بخاری کے دوتازہ حمدیہ و نعتیہ مجموعے
’’ارحم‘‘ اور ’’نعت خط‘‘
میرے پیشِ نظر گستاخ ؔبخاری کا حمدیہ مجموعہ ’’ اَرحم‘‘ ہے جو حمدیہ شاعری کے باب میں بے شمار حمدیہ اشعار کے گلدستہ کی مانند دل ودماغ تو کیا ، مرِی رُوح تک کی تاثیر میں روشنی کے چراغ جَلا رہا ہے۔ !اِس سے پہلے کہ ہم اُن کے حمدیہ اشعار سے مستفیض ہوں ضروری معلوم ہوتاہے کہ حمد اور حمد سے متعلق شعری ادب کی تاریخ وارتقا کا مختصر جائزہ لیں ۔
ہمیں اِس بات کو تو گرِہ میں باندھ لینا چاہیے کہ بحیثیت مسلمان ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم ہر لمحہ ، ہر گھڑی اُس خالقِ کائنات کی حمد وثنا کریں جو بلاشرکتِ غیرے دونوں جہان کے ذرّے ذرّے کا مالک ومختار ہے اور خالق ومعبود ہے ۔ جِنّ وانس اُس کی حمدوثنا میں رطلب اللسان ہیں ۔ اُسی کی حمد وثنا کے نور نے کائنات کو پُر نور بنارکھا ہے۔
حمد ، شعائرِ اسلامی کا لازمی جزوہے۔ یہ عبادت بھی ہے اور عبادت کا فرض بھی !کوئی ایسی عبادت نہیں ہے جس میں حمدِ باری تعالیٰ شامل نہ ہو ۔ ہماری معاشرت میں جو طور طریقے اور آداب شامل ہیں اُن میں بے ساختہ زبان سے ذکر ِ خداادا ہوتا ہے… وہ بھی حمدہے۔

حمد، ادبی روایت کے ساتھ ساتھ مناجات اور دعا کے موضوعات سے بھی لبریز ہے ۔اس میں متعدد صورتیں ظاہر ہوتی رہی ہیں۔ اسی لیے میں نے اپنی بالا تحریر میں غالب ؔ کے دیوان میں جو پہلا شعر درج تھا اُسے حمدیہ اشعار میں سے ایک عمدہ مثال کے طور پر پیش کیا جو ادب میں ’’نقش فریادی‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔

موجودہ عصری دور کے بے شمار حمد اور نعت نگاروں میں ایک نام مشاق شاعرِ خوش بیاں حضرت گستاخؔ بخاری کا بھی ہے جو حمد اور نعت کے دو مجموعے تخلیق کرنے کے عمل سے گزرنے کے بعد شعرائے حمد میں شامل ہونے کے لیے بے قرار نظر آتے ہیںجبکہ اس سے پہلے ان کے نو مجموعہ ہائے شعری منصۂ مشہود پر آچکے ہیں، حمد و نعت سے مانوس و متاثر نظر آتے ہیں اور بیک وقت ان کے دو مجموعۂ شعری حمد و نعت ’’ارحم اور نعت خط‘‘ منظرِ عام پر موجود ہیں۔
حمدیہ مجموعہ کا انتساب اس قرآنی آیت کی روشنی میں تجویز کیا ہے۔ ’’اَرْحَمْ یا اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنْ‘‘

یہ دونوں مجموعہ ہائے شعری اس انداز میںجلوہ گر ہوئے ہیں کہ میرا قلم ان کے دونوں مجموعہ ہائے شعری پر اظہارِ خیال کے لیے بے تاب سا ہوگیا ہے۔ ان کا حمدیہ مجموعہ شعری ’’اَرْحم‘‘ دعائوں کے ساتھ شروع ہو کر دعائوں پر ہی ختم ہوتا ہے اور ظاہر ہے دعا مناجات کے زمرے ہی میں شمار ہوتی ہے لہٰذا یہاں عرض کرنا ہے کہ حمد اور دعا و مناجات میں فرق محسوس کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس سے حمد اور مناجات و دعا آپس میں گڈ مڈ ہوجاتے ہیں۔ ایک خالقِ دوجہاں کی شاہکاری کی تعریف و توصیف ہے تو دوسری قدرت رکھنے والے صانع سے التجا!

تاہم شاعرِ موصوف کا موضوع حمد ہی ہے اور وہ رب تعالیٰ کی صفت رحمٰن و رحیم کو اپنے شعر میں کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں:
لَیْسَ کمثل ذات ہے رحمٰن اور رحیم
خلاقِ کائنات ہے رحمٰن اور رحیم
اور پھر مدحتِ رب میں ان کی یہ دعا بھی ملاحظہ کیجیے:
اے خدا ذہن کو گنجینۂ مدحت کرنا
کثرتِ حمد و ثنا کو مری فطرت کرنا
میں ترا ذکر کروں، ذکر کروں، ذکر کروں
اے خدا حرفِ زباں وقفِ محبت کرنا
چار سو ہے تری رحمت تو ہے رحمٰن اور رحیم
لا الٰہ الا کو ہر عبد کی غایت کرنا
خاص بندوں میں مجھے پیار سے شامل کر لے
مجھ کو آ جائے فقط تیری عبادت کرنا
دعا گو ہوں کہ اُن کی یہ دعا بارگاہِ الٰہی میں قبولیت حاصل کرے ،اللہ کے اچھے اور سچے عبادت گزار بندوں میں شامل ہو کروہ اپنی دنیا و آخرت کو مزیدسنوار سکیں۔
اس مجموعۂ حمد کے آغاز میں وہ پھر رب تعالیٰ کے حضور دعا گو نظر آتے ہیں:
عجز و انکسار مانگتا ہوں
دعا یہ بار بار مانگتا ہوں
اب ذرا ان کا حمدیہ اندازِ شاعری بھی ملاحظہ کیجیے:
فقط اللہ کو زیبا ہے خدائی
صفت اس کی ہے شانِ کبریائی
طرب کا یہ انداز بھی شاعر کے ہاں دیکھنے کو ملتا ہے جو یقیناً ایک انفرادی اندازہے۔
یا رحیم یا رحیم یا رحیم
باعثِ فرحت یہ بنیادِ طرب
مندرجہ بالا شعر کے علاوہ بھی رحمٰن و رحیم کی ردیف میں ان کے یہ اشعار بھی ملاحظہ فرمائیے:
لَا یَسقُطُ سے اُس نے کیا خلق پر عیاں
معمارِ واقعات ہے رحمٰن اور رحیم
موجود اور غیوب کا پروردگار ہے
زیبائشِ جہات ہے رحمٰن اور رحیم
اب گستاخؔ بخاری کا یہ شعر بھی ملاحظہ ہو جو اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ وہ کائنات کا خالق و مالک ہے۔
اُس نے کل کائنات کی تخلیق
آپ ہے کائنات میں یکتا
یہ اچھا اور ہمارے عقیدے کے عین مطابق شعر ہے کہ رب تعالیٰ کل کائنات کا خالق اور یکتا ہے۔ اس سے اچھا توصیفی اظہار اور کیا ہوسکتا ہے اور اس عقیدے پر ہر مسلمان قائم بھی ہے۔ مگر یہاں تھوڑا سا اشارہ اسی شعر میں یہ بھی ہوجاتا کہ یہ کائنات کس کے لیے تخلیق کی گئی یا وجہِ تخلیقِ کائنات کیا تھی تو مزید لُطف و اثر پیدا ہوجاتا ہے!
اب ان کے اور کچھ اشعار دیکھیے جو لائقِ تحسین ہیں:
کہاں ذکرِ خدا کی انتہا ہے
ہمہ اطراف تحمید و ثنا ہے
اُسے ہی زیب دے الحمد ﷲ
وہ رب العالمیں ہے برملا ہے
اسے کہتے ہیں سب سبحانک اللہ
اسی کی ذات، ذاتِ کبریا ہے
المختصر یہ کہ گستاخؔ بخاری کے مجموعۂ حمد میں بے شمار اچھے اشعار ہیں اور ان کی یہ خوبی بھی اشعار سے عیاں ہے کہ یہ سہلِ ممتنع میں شعر کہنے کے عادی ہیں۔ ان کی زبان سادہ، آسان اور عام فہم بھی ہے مگر کہیں استعارات اور علامات کا دخل بھی ہے۔ مگر سب سے اچھی خوبی یا خصوصیت ان کی کلام کی یہ ہے کہ ’’اَرحم‘‘ نامی مجموعۂ حمد میں جابجا آیاتِ قرآنی کا استعمال ان کے اشعار کو بے مثل حسن اور خوب صورتی سے نوازتا ہے بلکہ میں یہ کہوں گا کہ ان کے حمدیہ اشعار سے خوشبو پھوٹتی ہے۔
۰۰۰۰۰۰۰
نعت خط
نعت کے مجموعۂ شعری کا نام اُنہوںنے ’’نعت خط‘‘ تجویز کیا ہے جو اس اندازِ انتساب سے شروع ہوتا ہے:
محمد مصطفی ؐ آقا!
قلم نے نعت خط سارے
تمہار ے نام لکھے ہیں
پذیرائی! پذیرائی!
پذیرائی! پذیرائی!
مدحِ رسولؐ کو نعت کہتے ہیں۔ لیکن فی زمانہ نعت پر، نعتیہ ادب پر تنقید کرنے کا دور چل نکلا ہے اور تنقیدِ نعت کی ایک ہَل چَل مچی ہوئی ہے اور کچھ ایسے افراد جو خاصے پڑھے لکھے بھی ہیں مدحتِ رسولؐ پر قدغن سی لگا رہے ہیں اور نعتِ رسولؐ لکھنے والوں کو اپنے ناقدانہ مشوروں سے بھی نواز رہے ہیں جو کسی شخص کے دلی جذبات پر پابندی کے مترادف ہیں۔
لیکن ایک بات ضرور ہے کہ بارگاہِ رسولؐ میں ہدیۂ نعت پیش کرتے وقت حضورؐ کے مرتبے ، عظمت ، فضلیت اور مقامِ رسولؐ کا بطور خاص خیال رکھا جائے تو یہ کوئی بُری بات بھی نہیں ہے چونکہ حضورؐ کی ذات تو وہ ذات ِ با برکت ہے کہ جس کی ثنا خود رب تعالیٰ نے فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر نازاں نظر آتاہے:
جس شانِ رسالت پر اللہ بھی نازاں ہے
وہ شانِ رسالت ہے سرکارِ دو عالم ؐ کی
(فکریؔ)
یا پھر گستاخ صاحب کا اپنا شعر :
مصطفیٰؐ کبریا کے ہیں محبوب
اتنی عظمت کسی نے کب پائی
مرِے حضورؐ کی یہ عظمت بھی دیکھیے:
خلاقؔ نے جس چیز کو قرآن کہا ہے
قرآں نے محمدؐ کو ہی ذی شان کہا ہے
اِسی طرح اُن کا ایک اور شعر :
وہ مصطفی ؐ ہیں، وہ مجتبیٰؐ ہیں، وہی نائبِ ربِ کبریا ہیں
حبیب ِ یزداں ہیں، آشنا ہیں، وہ رازِ ہستی کی مثنوی سے
یہ شعر بھی دیکھیے:
حضورؐ آپ کی تجسیم کر کے اللہ نے
نظامِ دہر کا سب انتظام رکھا
اِس مجموعہ ’’نعت خط ‘‘ میں نہ جانے کتنے ایسے ہی اشعار ہوں گے جو حضور ؐ کی عظمت واہمیت کا اظہار کرتے نظر آئیں گے اور ایسے اشعار یقیناً درودو سلام کے حکم میں شامل کیے جاسکتے ہیں :
درودِ پاک چاہت سے پڑھا ہے
تو سارے وسوسے رَد ہو گئے ہیں
نہیں جو مانتے ختم الرسلؐ وہ
بہت گستاخ و مرُتد ہو گئے ہیں
۰۰۰۰۰۰۰
درودِ پاک کی کثرت کا اعجاز
تلاوت میں روانی ہو گئی ہے
یہ سب کچھ لکھنے کے بعد بھی شاعرِ موصوف تشنہ سے نظر آتے ہیں کہ جب حضرتِ حسانؓ اور بوصیریؓ کے قصیدے کو پڑھتے ہیں تو مزید نعت لکھنے کا سودا دل میں بھر آتا ہے تو پھر وہ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں :
ذکرِ حسانؓ اور بوصیریؓ سے
خواہشِ نعت بڑھ رہی ہے مزید
۰۰۰۰۰۰۰
صلِ علیٰ آقا کی آمد، عابد، حامد، سید، احمد
روشن تیرا نام محمد صل اللہ علیہ وسلم
۰۰۰۰۰۰۰
وہ صادق ہیں، امیں ہیں، شاہِ دیں ہیں
خدائے پاک کے بے مثل جاناں
اور آخر میں اُن کی یہ ملتجانہ خواہش:
کرم اِس بندۂ گستاخ پر ہوں
تو کہلائے یہ اچھا مسلماں
اللہ تبارک وتعالیٰ اُن کی یہ خواہش وتمناپوری فرمائے کہ اُنہوں نے اللہ کے محبوب کی شان میں ہزارہا اشعار ِ نعت رقم کر دیئے ہیں ۔ یقیناً اللہ اپنے محبوب کے طفیل اُن پر کرم ورحمت فرمائے گا۔
۰۰۰۰۰۰۰


متعلقہ خبریں


بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

مضامین
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

انقلاب کی پہلی شرط وجود اتوار 01 فروری 2026
انقلاب کی پہلی شرط

پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے! وجود اتوار 01 فروری 2026
پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے!

نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر