وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

دل کشی اور رعنائیوں کا شہر۔۔کوہاٹ

اتوار 27 مئی 2018 دل کشی اور رعنائیوں کا شہر۔۔کوہاٹ

1960ء کے اوائل کی بات ہے کہ جب کوہاٹ ایک اہم فوجی چھاؤنی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی پرسکون علاقہ تھا۔ سرسبز و شاداب وادی میں واقعہ یہ شہر قدرت کے خوبصورت ترین مناظر سے لدا پھندا دکھائی دیتا تھا۔ وادی کو خدوخال عطا کرنے والے پہاڑوں سے بہہ کر آنے والے چشمے اس کی مٹی کو سیراب بھی کرتے تھے اور زرخیز بھی۔ اس علاقے کی تاریخ شجاعت اور بہادری کے عظیم واقعات سے پْر ہے۔یہی وہ ساری رعنائیاں اور دلکشیاں تھیں جنہوں نے 1960ء میں نوجوانوں کے ایک گروہ کو اپنی طرف مائل کیا اور ہم لاہور ریلوے سٹیشن سے راولپنڈی کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اس علاقے کا نظارہ کرسکیں جسے ’’عجب خان‘‘ نے لازوال بنادیا تھا۔

راولپنڈی پہنچے اور ایک عزیز کے ہاں رات بسر کی۔ صبح ہوتے ہی ہم سٹیم انجن سے چلنے والی ریل گاڑی میں بیٹھ کر اپنی منزل یعنی کوہاٹ کی طرف رواں دواں تھے۔اسٹیم انجن والی ریل گاڑی کا سفر بزاتِ خود ایک مبہوت کردینے والا رومان ہے اور اگر کسی نے اس گاڑی پر سفر نہیں کیا تو یقین کیجئے کہ وہ زندگی کے ایک انتہائی پْر لطف اور خوش کن تجربے سے محروم رہا ہے۔ اس گاڑی میں سفر کرنے کے لییکچھ قواعد و ضوابط متعین تھے اور ان میں سے اہم ترین یہ تھا کہ چلتی ہوئی گاڑی کی کھڑکی سے کوئی مسافر سر باہر نہیں نکالے گا خاص طور پر اس طرف جدھر ریل گاڑی سفر کررہی ہو۔

لوگ اس کی پروا کم کم ہی کرتے تھے اور نتیجتاََ تکلیف اٹھاتے تھے کیونکہ گاڑی کے انجن سے نکلنے والے دھویں میں کوئلے کے گرم ذرات ہوتے تھے جو بلا تکلف آنکھوں میں گھس کر شدید تکلیف کا باعث بنتے تھے۔

کوہاٹ جانے والی ریلوے لائن میدانی علاقوں میں سے دوڑتی چلی جاتی اور پھر اس کے نواح تک پہنچتے منظر بدلنے لگتے اور سْرمئی رنگ کی چٹانیں دکھائی دینے لگتیں۔

پھر کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد ریل گاڑی دریائے سندھ پر بنے لوہے کے پل پر سے گزرتی اور اس کے بعد ایک پہاڑی کا چکر لگاتی بھاپ کے مرغولے چھوڑتی ریل گاڑی سٹیشن پر جارکتی۔ تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو انگریزوں کے زمانے میں ہی کوہاٹ کی عسکری اہمیت مسلمہ رہی ہے۔ انگریز اس علاقے کو ارد گرد کے علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لییبطور بیس کیمپ استعمال کرتے تھے۔

نواحی علاقوں میں اگر کسی عسکری کاروائی کی ضرورت ہوتی تھی تو اس کے لیے لاجسٹک سپورٹ کوہاٹ سے ہی فراہم کی جاتی تھی۔ ’’فرنٹئیر فورس رجمنٹل سنٹر‘‘ بھی کوہاٹ میں ہی قائم تھا تاہم پاکستان بننے کے فوراََ بعد اسے ایبٹ آباد منتقل کردیا گیا۔ ان دنوں جب کوئی چھاؤنی کے علاقے سے گزرتا تھا تو اسے یوں محسوس ہوتا تھا یا شاید اب بھی ہوتا ہو جیسے وہ تاریخ کی کسی کتاب کا مطالعہ کررہا ہو۔
ہر طرف عالیشان بنگلے، محراب دار برآمدے، وسیع و عریج لان اور شاندار قسم کے درخت دکھائی دیتے تھے۔

انٹر سروسز سلیکشن بورڈ کی عمارت کے نزدیک کیوا گنری ہاؤس کی شاندار عمارت واقع تھی جہاں انگریز کے زمانے میں سرپیرے لوئیس نپولین کیوا گنری رہا کرتے تھے جو انگریزوں کی طرف سے یہاں کے انچارج یا حاکم تھے یہ صاحب دوسری افغان جنگ کے دوران حریت کیش افغانوں کے ایک حملے میں مارے گئے تھے۔

قیام پاکستان کے بعد اس گھر کو ڈپٹی کمشنر کی رہائش گاہ میں تبدیل کردیا گیا اور اب سْنا ہے کہ یہاں ایک لائبریری قائم ہے۔
قریب ہی ایک اور گھر بھی تھا جہاں میجر ایلس اپنے اہل خانہ کے ہمراہ رہا کرتے تھے۔ 14اپریل 1923ء کی ایک شامل آفریدی قبیلے کا عجب خان نامی ایک جوان میجر کے گھر میں گھس گیا۔ میجر ایلس اس وقت گھر میں موجود نہیں تھے۔ عجب خان نے میجر کی اہلیہ کو قتل کردیا اور اس کی سترہ سالہ بیٹی ’’حولی‘‘ کو اغوا کر کے لے گیا۔

عجب خان کے اس عمل کی وجہ یہ تھی کہ کسی برطانوی فوجی افسر نے عجب خان کی اہلیہ کی توہین کی تھی۔ عجب خان کے اس انتقام نے برطانوی افسران کو ہلا کر رکھ دیا۔ ’’حولی‘‘ کو بازیاب کروانے کے لیے تین افراد کا انتخاب کیا گیا جن میں اسسٹنٹ پولیٹیکل خان بہادر قلی خان، ایک قبائلی سردار زمان خان اور ایک انگریز خاتون لیلیان سٹار شامل تھے۔ حولی کی بازیابی کی داستان بہت دلچسپ بلکہ ہلادینے والی ہے لیکن اس کا خاتمہ کوش کن انداز میں ہا جب ’’حولی‘‘ کو بازیاب کروالیا گیا اور وہ اپنے والد کے گھر پہنچ گئی۔

عجب خان ہیرو بن گیا اور اس کی داستان زباں زدِ خاص و عام ہوگئی۔ بعد میں ’’عجب خان‘‘ کے نام سے ایک فلم بھی بنائی گئی۔
کوہاٹ چھاؤنی کے علاقے میں کچھ گھر آسیب زدہ بھی مشہور تھے۔ ایسے ہی ایک گھر میں برطانوی فوج کے تربیتی مرکز کا ایک افسر رہائش پزیر تھا۔ اس گھر کے متعلق مشہور تھا کہ یہاں کپڑوں میں اچانک آگ بھڑک اٹھتی ہے یا کہیں سے اچانک پتھر برسنا شروع ہوجاتے ہیں۔

اب شاید وہاں سے آسیب بھی ہجرت کرچکا ہے۔ وادی کی پہاڑیوں سے بہنے والے چشمے کئی چھوٹی بڑی ندیوں کی صوت کوہاٹ شہر اور چھاؤنی کے علاقے سے گزرتے تھے۔ ان ندیوں کی خاص بات یہ تھی کہ ان میں کالے رنگ کے کیکڑے بہت بڑی تعداد میں پائے جاتے تھے۔

ہم نے کوہاٹ ابھی جی بھر کر دیکھا بھی نہیں تھا کہ واپسی کا وقت آن پہنچا اور ہم لوگ ریل گاڑی میں بیٹھ کر لاہور جانے کے لیے راولپنڈی چلے آئے۔ کوہاٹ کو الوداع کہنے سے قبل میں نے خود سے وعدہ کای تھا کہ کبھی واپس آؤں گا اور جی بھر کر یہاں رہوں گا ۔۔۔ لیکن یہ ایک اور کہانی ہے۔جوکبھی اورسنائی جائے گی۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کو نشانا بنانے کے لیے مجھے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جمائما وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

وزیراعظم عمران خان کی سابق اور پہلی اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ان کے سابق شوہر کو سیاسی طور پر نشانا بنانے کے لیے 'آلے' کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ برطانوی اخبار 'ایوننگ اسٹینڈر' کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں 47 سالہ برطانوی نژاد جمائما گولڈ اسمتھ نے کہا کہ خود سے دگنی عمر کے شخص سے شادی کرنے کا فیصلہ آسان نہ تھا اور جن سے انہوں نے شادی کی وہ کوئی عام شخص نہیں تھے۔ جمائما گولڈ اسمتھ کے مطابق انہوں نے 21 سال کی عمر میں خود سے دُگنی عمر کے ایسے شخص سے ...

عمران خان کو نشانا بنانے کے لیے مجھے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جمائما

برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیس چاقو کے حملے میں ہلاک وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

وزیراعظم بورس جانسن کی کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیس چرچ میں چاقو سے کیے گئے قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایسکس پولیس نے بتایا کہ اپنے انتخابی حلقے میں ووٹرز سے ملاقات کرنے والے برطانوی 69سالہ رکن پارلیمنٹ کو ایک شخص نے چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا۔ان پر ایکسکس کے مغربی علاقے میں واقع بیلفیئرز میتھوڈسٹ چرچ میں حملہ کیا گیا اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔پولیس نے فوری طور پر چرچ میں آ کر ایک شخص ...

برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیس چاقو کے حملے میں ہلاک

افغانستان، مسجد میں بم دھماکا، 37فراد جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں جمعے کے روز ایک شیعہ مسجد میں ہوئے بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے جبکہ ستر سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بم دھماکا ٹھیک اس وقت ہوا جب مسجد میں نماز جمعہ ادا کی جا رہی تھی۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس بم دھماکے کا ہدف صوبے کی سب سے بڑی شیعہ مسجد بنی۔ طبی ذرائع کے مطابق اس دھماکے کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے معاون مشن برائے افغانستان UNAMA نے امام باڑہ فاطمیہ مسجد پر ہوئے اس بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ...

افغانستان، مسجد میں بم دھماکا،  37فراد جاں بحق، 70سے زائد زخمی

بعض باتوں کا جواب عمران خان ہی دے سکتے ہیں ، وزیر داخلہ وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اگلے جمعہ تک سب ٹھیک ہوجائے گا، معاملات طے ہوچکے ہیں، طریقہ کار کا اعلان 7 دن میں ہوجائے گا۔ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران شیخ رشید نے حکومت اور فوج میں کسی بھی نوعیت کے اختلاف کی تردید کی۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ مجھے اندازہ ہے، لیکن اس کے باوجود بعض باتوں کا جواب وزیراعظم عمران خان ہی دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگ بہت جلدی گھبرا جاتے ہیں، اس معاملے پر عمران خان نے پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لے لیا ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ میرے پاس ج...

بعض باتوں کا جواب عمران خان ہی دے سکتے ہیں ، وزیر داخلہ

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کی اوسط قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا ، نیپرا ذرائع وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

نیشنل الیکٹرک پاؤر ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا)ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کی اوسط قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ذرائع نیپرا کے مطابق پی ٹی آئی حکومت آنے سے پہلے بجلی کی اوسط قیمت11 روپے 72 پیسے فی یونٹ تھی، پی ٹی آئی حکومت کے دوران فی یونٹ بجلی کی قیمت میں اوسطا 6 روپے11 پیسے اضافہ ہوا۔ نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نیپرا کا کہنا ہے کہ حالیہ 1روپیہ 39 پیسے اضافے سے فی یونٹ اوسط قیمت 17 روپے 83 پیسے ہو جائے گی، اوسط قیمت فی یونٹ میں بنیادی ٹیرف اور سہ ماہی ٹیر...

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کی اوسط قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا ، نیپرا ذرائع

ملک میں مہنگائی کی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ بدستور جاری ہے، مہنگائی کی مجموعی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار مہنگائی کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے میں مہنگائی میں 0.20 فیصد کا اضافہ ہوگیا اور مہنگائی کی مجموعی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی۔ادارہ شماریات کے مطابق کم آمدنی والوں کے لیے مہنگائی کی شرح 14.12 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ ایک ہفتے میں 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 11 روپے تک ...

ملک میں مہنگائی کی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی

برطانیہ بینک فراڈ کی دنیا کا دارالحکومت بن گیا وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

برطانیہ بینک فراڈ کا گڑھ بن گیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے نے برطانیہ کو بینک فراڈ کی دنیا کا دارالحکومت قرار دے دیا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں لوگوں کے ایک ارب ڈالر اڑا لیے گئے۔ بیرون ملک سے دھوکے بازی میں بھارت اور مغربی افریقہ کے شہری ملوث نکلے۔خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ برطانوی ریکارڈ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں 754 ملین پونڈز چرائے گئے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہیں۔

برطانیہ بینک فراڈ کی دنیا کا دارالحکومت بن گیا

کورونا سے صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہوگئے ہیں، ڈبلیو ایچ او وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے کہاہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث فعال اور صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہوگئے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اپنے ایک بیان میں ڈبلیو ایچ او نے صحت، کھیل، تعلیم اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کے فیصلہ سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر جامع پروگرام اور خدمات کے لیے اقدامات اٹھائیں اور محفوظ ماحول پیدا کریں جس سے تمام برادریوں میں جسمانی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ ڈبلیو ایچ او کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سوزانہ جیکب کا اپنے بیان میں کہنا تھا...

کورونا سے صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہوگئے ہیں، ڈبلیو ایچ او

حیدرآباد، مختار کار کے گھر لاش ملنے پر ہنگامہ آرائی وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد کے علاقے قاسم آباد میں حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مختارِ کار ماجد خاصخیلی کے گھر سے ایک لاش ملنے کے بعد ہنگامہ آرائی کی نوبت آگئی ہے۔ ڈی آئی جی شرجیل کھرل کے مطابق مشتعل افراد نے مختارِ کار ماجد خاصخیلی کے گھر کا گھیراؤ کر لیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اسی دوران فائرنگ بھی کی گئی ۔فائرنگ کے نتیجے میں مختارِ کار ماجد خاصخیلی اور ان کے 2 بھائی زخمی ہو گئے۔کمشنرعباس بلوچ کے مطابق مختارِ کار ماجد خاصخیلی کی حالت تشویش ناک ہے۔ ...

حیدرآباد، مختار کار کے گھر لاش ملنے پر ہنگامہ آرائی

گھی اور آئل سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

یوٹیلیٹی اسٹورز نے گھی اور آئل سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف برانڈز کے گھی کی قیمتوں میں 40 سے 1090 روپے تک کا اضافہ کیا گیا، یوٹیلیٹی اسٹورز پر ڈالڈ گھی کی فی کلو قیمت میں 109 روپے تک اضافہ کر دیا گیا ،قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا اطلاق فوری ہوگا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یوٹیلیٹی اسٹورز پر ڈالڈا گھی کا 10 لٹر کین 1090 روپے مہنگا ہوگیا ،10 لٹر ڈالڈا گھی کا کین 2500 روپے بڑھ کر 3590 روپے کا ہوگیا۔ نوٹیفکیشن ...

گھی اور آئل سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ

بجلی کی قیمت میں 1.68 پیسے فی یونٹ اضافہ کی منظوری وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

حکومت نے بجلی کی قیمت میں مزید 1 روپے 68 پیسے فی یونٹ منظوری دیدی۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے عوام پر ایک بار پھر بجلی بم گرا دیا، اور بجلی کی قیمتوں میں 1 روپے 68 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی گئی ۔ وفاقی کابینہ نے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی سمری وزارت توانائی کی جانب سے بھجوائی گئی تھی۔بجلی کی قیمت میں اضافہ سہہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا، کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دی ، نیپرا نے سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ ...

بجلی کی قیمت میں  1.68 پیسے فی یونٹ اضافہ کی منظوری

نسلہ ٹاور خالی کروانے کا اشتہار شائع وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

کراچی میں نسلہ ٹاور کے رہائشیوں سے عمارت خالی کروانے کے اشتہار اخبارات میں شائع کردیے گئے ہیں۔کراچی میں اسسٹنٹ کمشنر فیروزآباد نے نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو عمارت 15 دن میں خالی کرنے کے اشتہار اخبارات میں شائع کرادئیے ہیں۔ نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ اگر نسلہ ٹاور خالی نہ کیا گیا تو رہائشیوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔ اشتہار میں سپریم کورٹ کے 16 جون اور 22 ستمبر والے فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عمارت خالی نہ کرنے کی صورت میں فیروزآباد پولیس کی مدد لی جا...

نسلہ ٹاور خالی کروانے کا اشتہار شائع

مضامین
روشن مثالیں وجود هفته 16 اکتوبر 2021
روشن مثالیں

تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش وجود هفته 16 اکتوبر 2021
تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش

سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے وجود هفته 16 اکتوبر 2021
سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے

پنڈورا پیپرز کے انکشافات وجود هفته 16 اکتوبر 2021
پنڈورا پیپرز کے انکشافات

بارودکاڈھیر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
بارودکاڈھیر

نخریلی بیویاں،خودکش شوہر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
نخریلی بیویاں،خودکش شوہر

آسام میں پولیس کی درندگی وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
آسام میں پولیس کی درندگی

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مضمرات؟ وجود جمعرات 14 اکتوبر 2021
کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مضمرات؟

میں بھول گیا تھا، وہ چیف آف آرمی اسٹاف ہے!! وجود جمعرات 14 اکتوبر 2021
میں بھول گیا تھا، وہ چیف آف آرمی اسٹاف ہے!!

امریکا کی آخری جنگ کی خواہش وجود منگل 12 اکتوبر 2021
امریکا کی آخری جنگ کی خواہش

مسلم قیادت کا بحران اوراسد الدین اویسی وجود منگل 12 اکتوبر 2021
مسلم قیادت کا بحران اوراسد الدین اویسی

کسانوں کے قتل پر نریندر مودی اور امیت شاہ کی مجرمانہ خاموشی وجود منگل 12 اکتوبر 2021
کسانوں کے قتل پر نریندر مودی اور امیت شاہ کی مجرمانہ خاموشی

اشتہار

افغانستان
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود جمعرات 30 ستمبر 2021
طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق وجود بدھ 15 ستمبر 2021
طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق

اشتہار

بھارت
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام وجود منگل 12 اکتوبر 2021
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام

مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں تیزی لانے کا منصوبہ وجود هفته 09 اکتوبر 2021
مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں  تیزی لانے کا منصوبہ

مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا

بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا

شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے
ادبیات
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!

طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ وجود منگل 24 اگست 2021
طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ
شخصیات
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی

ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین تحریر کیے وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین تحریر کیے

ڈاکٹرعبد القدیر خان نے8 سال کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ نصب کیا،ساری دنیا حیرت زدہ رہی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبد القدیر خان نے8 سال کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ نصب کیا،ساری دنیا حیرت زدہ رہی

آزاد کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی کوٹلی میں نماز جنازہ ادا وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
آزاد کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی کوٹلی میں نماز جنازہ ادا