... loading ...
مصر دنیا کے آٹھ قدیم عجوبوں میں واحد بچ جانے والے ایک عجوبے یعنی اہراموں کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں اور ماہرین آثار قدیمہ کی دلچسپی کامحورہے۔ان اہراموں کے راز سے پردہ اٹھانے کے لیے ماہرین آثار قدیمہ کئی برسوں سے وادی مصرکی ریت چھان رہے ہیں۔جس کے تلے برآمدہونے والی ان گنت دریافتوں نے حیرت کاایک جہاں آباد کررکھا ہے۔
انہی دریافتوں میں ایک دریافت قدیم مصری فرعون توتن خامن کے مقبرے کی بھی ہے۔انسانی تاریخ کے طویل باب میں شاید ہی آثار قدیمہ کی اس دریافت میں اس قدر عالمگیر شہرت کسی نے حاصل کی ہو جتنی شہرت توتن خامن کامقبرہ ایک عرصہ تک دنیا سے پوشیدہ رہا۔ماہرین آثار قدیمہ اور مہم جو ایک عرصہ تک اس کی کھوج میں رہے انہی میں ایک نام برطانوی ماہر آثار قدیمہ ہاورڈ کارٹرکا بھی تھا۔
کارٹرتوتن خامن کے گم شدہ مقبرے میں دلچسپی رکھتا تھا تاہم اس مہم کے لیے کثیرسرمایہ درکار تھا۔تین برس تک نامساعد حالات میں مقبرے کی تلاش میں سرگرواں رہنے کے بعد بالآخر1907ء میں کارٹرکواس مہم کے لییجارج ہربرٹ کارنارون کی صورت میں ایک مالدارسپانسرمل گیا۔سرمایہ تومیسر آگیا مگر کھدائی کاکام آسان نہ تھا۔توتن خامن کے مقبرے کی تلاش کئی برسوں تک جاری رہی بالآخر مقبرے کاداخلی دروازہ4نومبر1922ء کو دریافت کرلیا گیا۔
توتن خامن کے مقبرے کی دریافت آثار قدیمہ کی تاریخ کا ایک مشہور اور ہیجان خیزواقعہ ثابت ہوئی کیونکہ یہ پہلا اور واحد ایسا مقبرہ تھا کولٹیروں کی لوٹ مار سے بچارہا تھا۔مقبرے میں وہ خزانہ دریافت ہواتھا جس کاخواب میں بھی تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔خالص سونے کے ڈھیر،اس کے علاوہ مصرکے سنہرے دور کی دستکاری اور آرٹ کے بہترین نمونے بھی منظر عام پرآئے تھے۔
دوسوبرس بعد رامس ششم کے مقبرے کی کھدانی کے نتیجے میں توتن خامن کا مقبرہ مکمل طور پر ٹنوں کے حساب سے چونے کے پتھر کے نیچے دب چکا تھا۔
ابتداء میں ماہرین کاخیال تھاکہ توتن خامن کا باپ آمون ہوتپ چہارم تھا تاہم بعد میں ان ماہرین نے توتن خامن کی جسمانی مشابہت اخناتن تھے کہ اخناتن اس کا بڑا بھائی تھا۔1925ء میں اس کی ممی کامعائنہ کرنے والوں کے مطابق اخناتن یاتو اس کاباپ تھا پھر اس کاسسر۔موجودہ دور میں ڈی این اے رپورٹس بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔فراعین کے دور میں بہن بھائیوں کی باہمی شادیوں کاثبوت بھی ملتاہے۔اس لحاظ سے اخناتن کوتوتن خامن کاباپ اور سسر دونوں ہونے کے امکان کومستردنہیں کیاجاسکتا۔یہ وہ دور تھا جب مصرکی سلطنت ایک عظیم قوت اور طاقت کی حامل تھی۔جو شمال میں فلسطین اور شام اور جنوب میں سوڈان تک پھیلی ہوئی تھی۔
اس قوت اور خوشحالی میں مصری آرٹ اپنی انتہا کوچھورہاتھاتاہم ملک مذہبی انتشار کاشکار بھی تھا۔توتن خامن نے اس مذہبی پہچان کے وسط میں جنم لیا۔اس کی نوجوانی کے دور میں ملک انقلاب کی زد میں رہا۔اخناتن کی قوی ترین مخالف نہ صرف پرانے مذہب کے مذہبی رہنماتھے بلکہ اس کی اپنی بیوی تفرتتی بھی اس کے مخالفین کی صف میں جاکھڑی ہوئی اور اس کے ساتھ رہنا چھوڑدیا۔اخناتن نے اپنے دامادکواپنے ہمراہ اقتدار میں شریک کرلیا مگر تھوڑے عرصے بعددونوں ہی پراسرار طور پر ہلاک ہوگے اور توتن خامن فرعون بن گیا۔اس نے پہلا کام یہ انجام دیاکہ مصریوں کی زندگی میں قدیم دیوتاؤں کودوبارہ بحال کردیا۔یعنی اخناتن کے پیش کیے گئے مذہب پرپانی پھیر دیا۔ توتن خامن نے خلل اور خلفشار سے دو چار اس سلطنت پر دس برس تک حکومت کی۔
اس کی شادی اپنی بہن سمیخا کارنے سے ہوئی جوعمر میں اسے سے دوبرس بڑی تھی۔ان کی اولاد قبل ازوقت ہی مردہ پیدا ہوئی توتن خامن تقریباََ اٹھارہ برس کی عمر می ہی اس دارفانی سے چل بسا۔تاریخی وستاویزنے اگرچہ اس کے بارے میں کافی معلومات میسر آئیں لیکن اس کی موت کی وجہ ایک معمہ ہی بنی رہی اور صدیوں گزر جانے کے بعد بھی یہ معمہ حل نہ ہو مکا۔کہ مصریوں کایہ چہیتا فرعون آخر کس کی سازش کاشکارہوا۔
تاریخی شواہد کے مطابق اس کی نوجوان بیوہ نے مایوسی کی حالت میں شاہی سلسلہ برقرار رکھنے کی کوشش کی اور ایک شہزادے کو اپنا متنبیٰ بنانے کافیصلہ کیا۔مگر اس شہزادے نے جونہی مصرکی سرزمین پر قدم رکھا تووہ بھی موت سے ہمکنارہوگیا غالباََ اس کی موت میں ہورم ہب کاہاتھ تھاجو مصر کا ایک فوجی رہنماتھا۔جس نے توتن خامن کی موت کے فوراََ بعد اقتدار پر قبضہ کرلیا لہٰذا اس سانحہ کاذمہ دار اس کوٹھہرایاگیا۔
اگرچہ ہورم ہب نے عبادت گاہوں اور عوامی مقامات سے توتن خامن کانام حرف غلط کی طرح مٹادیاتھالیکن اس نے اس نوجوان فرعون کے مقبرے کوہاتھ لھانے کی قطعاََکوشش نہ کی۔جس کو انتہائی پرشکوہ انداز میں تعمیرکیاگیا تھا جبکہ اس میں سونے کے ذخائر بھی دفن کیے گئے تھے۔ہورم ہب نے ملک میں مختلف اصلاحات سرانجام دیں اور مصر کی عظمت کودوبارہ بحال کیا۔توتن خامن کی موت کے بعد 70روز تک مذہبی رہنما توتن خامن کی نعش کومنوط کرتے رہے اور اس کورفنانے کی تیاریوں میں مصروف رہے۔اس کے جسم پرکئی سوگزبہترین ریشمی کپڑا لپیٹا گیا جس میں نایاب ہیرے اور موتی لگے ہوئے تھے۔مقدس سیال اس کی نعش پرچھڑکا گیا اور اس کی نعش کوٹھوس سونے کے تابوت میں بند کیاگیا۔اس کی نعش کے چہرے پر سونے کاایک ماسک سجایاگیا جوتوتن خامن کی مشابہت کاحامل تھا اس کے بعد سونے کے تابوت کودیگر دوتابوتوں میں بندکیاگیا اور ہر ایک تابوت میں موت کاشکار ہونے والے فرعون کا سونے کاماسک بنایا گیا اور پھر زیرزمین مقبرے میں دفن کردیا گیا اس کے بعد مقبرے کاداخلی دروازہ بند کردیا گیا اور نوجوان توتن خامن کو اس سونے کے تابوت میں تنہا چھور دیا گیا۔
یہاں تک کہ ارل کارٹارون نے کارٹر کے ساتھ مل کر28نومبر1922ء کوا یک طویل تلاش کے بعد مقبرہ دریافت کرلیا۔اس مقبرے سے طلائی تخت ،سونے کابستر۔سونے کارتھ،منقش مرتبان، سونے کے مجسمے ،سونے کے زیورات جن پر نہایت قیمتی چمکتے ہیرے جواہرات جڑے تھے حتیٰ کہ فرعون توتن خامن کی نعش کو بھی زیورات سے سجایا گیا۔ہر وہ زیورجوتوتن خامن نے اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی پہنا ہوگا وہ بھی اس کی نعش کے ساتھ رکھا گیا ۔ طلائی کمربند،قیمتی پتھروں کی انگوٹھیاں ، بازوؤں میں کنگن اور بازو بند، ٹانگوں اور رانوں پر طلسمی نقوش اور خنجر ، انگلیوں اور پنجوں میں سونے کے خول ،ٹخنوں پر پازیبیں اور اس کے علاوہ کل 143 تعویز نما اشیاء ملیں۔اس کے مقبرے سے بیش قیمت خزانہ ، کئی برتن ، گلدان کھلونے ، مجسمے اور زیورات جو سونے اور ہاتھی دانت اور گلاس ورک سے بنے ہوئے تھے۔ سونے اور پیپائرس کے کاغذوں پر بنی تصاویر، پتھر ، لکڑی ، سونے اور ہاتھی دانت سے بنے ظروف، کشتیوں کے ماڈلز سکے ، کتابیں جو پیپائرس اور پتھروں کے سیلوں پر لکھی گئی تھی۔
سونے کی کرسی جس پر توتن خامن اور اس کی بیوی کی تصویر سونے سے نقش کی ہوئی تھی۔
کارنارون کی اچانک موت کے بعد یکے بعد دیگر ے پیش آنے والے پراسرارواقعات کاسلسلہ شروع ہوگیا۔کارٹر کے دومعاونین میک اور ہیتھل بھی پہلے بخار میں مبتلا ہوئے اور پھر اسی حالت میں ان کی موت واقع ہوگئی۔کارنارون ،میک اور ہیتھل کی اموات کے ساتھ ہی ہلاکتوں کاایک پراسرار سلسلہ شروع ہوگی اگرچہ بددعا کی سچائی پرکم ہی لوگوں نے یقین کیا۔
لیکن پھر بھی کچھ لوگ اس بددعا کی وجہ سے ہلاکتوں کے قائل رہے ہیں ۔ لارڈ کارنارون کے بیٹے کااس بددعا کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ نہ تو اس بددعا کے بارے میں کہنا ہے کہ وہ نہ تو اس بددعا کوجھٹلاتا ہے اور نہ ہی اس پریقین رکھتا ہے۔ اس کے مطابق اس کے والد کی وفات کے فوراََ بعد ایک اجنبی عورت اس سے ملنے آئی اور تنبیہہ کی کہ وہ اپنے بات کی قبر پرنہ جائے۔
کارنارون کے بیٹے نے اسی اجنبی عورت کے حکم کی تعمیل کی۔کئی ماہرین آثار قدیمہ اور سیاح مقبرہ دیکھنے گئے۔بعدازاں ان کی موت بھی انتہائی حیرت انگیز دطریقے سے ہوئیں۔ ان میں سے ایک پروفیسر ڈاکٹر لافلور مقبرہ دیکھنے گے اسی رات ہوٹل کے کمرے میں ان کی نعش پائی گئی۔ ایک کروڑ پتی امریکی سیاح مقبرہ دیکھنے گیا اگلے ہی ون بخار چڑھاجوتیز ہوتا گیا اور اسی حالت میں اس کی موت واقع ہوئی۔
ڈاکٹر کیمبل ایڈن شعبہ نوادرات کے ڈائریکٹر تھے۔وہ توتن خامن کی ایک یادگار اپنے ساتھ امریکا لے گئے وہ تو ہمات کواپنے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیتے تھے بلکہ ان کامذاق اراتے تھے انہیں مقبرے کے بھوت یابددعا کابالکل بھی یقین نہ تھا ان کاکہنا تھاکہ ’’تمام عمرمیراواسطہ مقبروں، اہراموں اوت ممیوں سے رہاہے میں اس کاجیتا جاگتا ثبوت ہوں تو یہ سب بکواس اورتوہمات ہیں۔
اتفاقاََ چندہی ہفتوں بعد اچانک انتہائی غیر متوقع طور پر ان کی بھی موت واقع ہوگئی۔
1950ء میں برطانوی ٹیلی ویڑن نے ایک فلم بنانا شروع کی جس کاعنوان تھا۔بادشاہ توتن خامن کی بددعا‘‘شوٹنگ کے پہلے ہی دن ایک ہولناک واقعہ رونماہوا جس میں فلم کے ہیروکی ٹانگ دس جگہ سے ٹوٹ گئی یہ کردار ایک ایک اور اداکار کودیالیکن ٹیم کاکوئی بھی رکن کام کے لییتیارنہ ہوا۔
ان واقعات کے باوجود لوگوں میں مقبرے کارازجاننے کاشوق کم نہ ہوابلکہ بڑھتا چلاگیا۔طویل تحقیق کے بعد ماہرین نے مختلف اموات کی مختلف توجیہات پیش کیں جن میں کچھ کے مطابق مصر کے قدیم باشندے مختلف اقسام کے زہروں کے خواص کے ماہرہوا کرتے تھے وہ چاہتے تھے کہ ان کے چہیتے بادشاہ کامقبرہ محفوظ رہے اور کوئی بھی اس کے آرام میں مخل نہ ہو۔اگر کوئی مقبرے میں داخل ہوبھی جائے تو وہ زندہ واپس نہ جاسکے۔بددعا انسان کو نفسیاتی طور پرڈرانے کے لیے لکھی گئی۔بددعا کا نفسیاتی اثر مقبرے کے مسموم فضا،چیزوں پرلگا ہوازہر سے بچ بھی جاتے توصدیوں سے بند مقبرے کی دیواروں پر اسفنج نماسماروخ کی وجہ سے مختلف النوع الرجی یاانفیکشن کاشکار ہوجاتے
ترکیہ، پاکستان اور سعودیہ میں سے کسی پربھی حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، ذرائع ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا بل ترک پارلیمنٹ میں پیش کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق معاہدے کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اتحاد مستقل نوعیت کا ہوگا اور کوئی...
سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں چار ڈرونز کو تباہ کر دیا،ترجمان اتحادی فوج سعودی عرب میں تعینات امریکی حکومت کے غیرہنگامی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم سعودی عرب نے حوثیوں کی جانب سے آئل فیلڈ پر داغے گئے ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کا دعوی کیا ہے۔ جبکہ سعودی ف...
افغانستان میں لیتھیم، نایاب ارضی عناصر، تانبا، کوبالٹوسمیت 30 سے زائد معدنیات موجودہیں، رپورٹ شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پر کنٹرول،آمدنی کی تقسیم اور مقامی حقوق سے متعلق تنازعات بدامنی اور تشدد کو ہوا دے رہے ہیں،جبکہ کان کنی کے شعبے میں شفافیت اور مالی نگرانی کا فقد...
ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے آنے والے مہمان پرندوں نے سی ویو، ہاکس بے اور رشین بیچ سمیت سندھ کی جھیلوں کا رخ کرلیا سرد ترین علاقے سائبیریا سے ہجرت کرکے آنے والے مہمان پرندوں کی کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس سے ساحلی علاقوں اور آبی ذخائر کی رو...
ملک میں ہر سال 4 لاکھ 50 ہزار سے 8 لاکھ ڈگری ہولڈرز فارغ التحصیل ہوتے ہیں، پی آئی ڈی ای ملک میں نوجوان گریجویٹس کے لیے روزگار کا حصول سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ ہر سال تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار سے 8 لاکھ ڈگری ہولڈرز تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں، جن میں سے 31 سے 33 فیصد تک ب...
واقعہ راجن پور میں انڈس ہائی وے بنگلہ ہدایت کے قریب پیش آیا جہاں تیز رفتار بس ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر الٹ گئی، ریسکیووزیرِ اعلیٰ مریم نواز کا بس حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار،زخمی مسافروں کے بہترین علاج کا حکم راجن پور میں صبح سویرے سویرے انڈس ہائی وے پر س...
ایک مقدمے میں ضمانت کے بعد دوسرے کیس میں گرفتار کیا گیا، درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف سندھ ہائی کورٹ نے بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے خورد برد کے مقدمے میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواست پر تفتیشی افسر اور سرکاری وکیل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 2 نومبر تک جواب طل...
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایرانی حکومت کے خاتمے کی اہمیت پر گفتگو ہوئی، اسرائیلی وزیراعظم اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے رات گئے ایک فوجی مشق کے دوران ایران کی جانب پرواز کی ہے۔ امریکی میڈیا فوکس نیوز کے چیف فارن کوریسپونڈنٹ ٹری ینگسٹ نے کہا ہے کہ اسرائیلیوں نے رات گئے فوجی مشق کی، ج...
دہشت گردی کے خلاف ہیں،،ایران کے ساتھ امن معاہدہ طے کرنا انتہائی مشکل ہے، گفتگو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ طے کرنا انتہائی مشکل ہے۔ امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک تہران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نش...
صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہیں کی جا سکتی، سلمان اکر م راجہ کے ریمارکس وزیرِ اعلیٰ کے پی کی گرفتاری کے خلاف ہر جگہ آواز اٹھائیں گے، ہماری لیڈرشپ کو رہا کیا جائے، بیرسٹر گوہر ہمارے اراکین کو اٹھایا جا رہا ہے، صوبے کے اندر بے امنی کا کہا گیا او...
مقصد پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور تعاون میں اضافہ کرنا ہے، ایرانی حکام پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران دورے پر پہنچے ہیں۔ایرانی حکام کے مطابق ان کے دورے کا تعلق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے بھی ہے...
مولانا فضل الرحمان کے ذریعے مذاکرات کی آخری کوشش بھی ناکام ہوگئی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا گیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سلامتی کی صورتح...