وجود

... loading ...

وجود

نوازشریف آپ اپنے دشمن خود‘پارٹی کوبھی لے ڈوبیں گے

هفته 26 مئی 2018 نوازشریف آپ اپنے دشمن خود‘پارٹی کوبھی لے ڈوبیں گے

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہاہے کہ مشرف غداری کیس قائم کرتے ہی مشکلات اور دباؤ بڑھا دیا گیا اور دھمکی نما مشورہ دیا گیا کہ بھاری پتھر اٹھانے کا ارادہ ترک کردو۔ منگل کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کی ۔سماعت کے آغاز پر نواز شریف کی جانب سے متفرق درخواست دائر کی گئی جس میں کہا گیا کہ انہوں نے گزشتہ دو روز کی عدالتی کاروائیوں کے دوران تمام سوالوں کے جواب دیئے ہیں ٗ5 سوالوں کے جواب قلمبند کرانا باقی ہیں تاہم ان سوالوں کے جواب دیگر دو ریفرنسز میں گواہان مکمل ہونے کے بعد ریکارڈ کیا جائے ٗعدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد نواز شریف کی درخواست مسترد کردی جس کے بعد نواز شریف نے باقی رہ جانے والے سوالوں کے جواب قلمبند کروائے ۔ ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران بیان قلمبند کراتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ آصف علی زرداری کے ذریعے پیغام دیا گیا کہ پرویز مشرف کے دوسرے مارشل لاء کو پارلیمانی توثیق دی جائے لیکن میں نے ایسا کرنے سے انکار کیا، یہ ہے میرے اصل جرائم کا خلاصہ، اس طرح کے جرائم اور مجرم پاکستانی تاریخ میں جا بجا ملیں گے۔سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ ایک خفیہ ادارے کے افسر کا پیغام پہنچایا گیا کہ مستعفی ہوجاؤ یا طویل رخصت پر چلے جاؤ، مجھے اس کا دکھ ہوا کہ ماتحت ادارے کا ملازم مجھ تک یہ پیغام پہنچا رہا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ شروع ہوتے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ آمر کو کٹہرے میں لانا کتنا مشکل ہوتا ہے، سارے ہتھیار اہل سیاست کے لیے بنے ہیں، جب بات فوجی آمروں کے خلاف آئے تو فولاد موم بن جاتی ہے۔نواز شریف نے کہا کہ جنوری 2014 میں پرویز مشرف عدالت کے لیے نکلا تو طے شدہ منصوبے کے تحت ہسپتال پہنچ گیا اور پراسرار بیماری کا بہانہ بنا کر دور بیٹھا رہا، انصاف کے منصب پر بیٹھے جج مشرف کو ایک گھنٹے کے لیے بھی جیل نہ بھجواسکے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ 2014 کے دھرنوں کا مقصد مجھے دباؤ میں لانا تھا، جو کچھ ہوا سب قوم کے سامنے ہے، اب یہ باتیں ڈھکا چھپا راز نہیں ہیں، امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے، کون تھا وہ امپائر، وہ جو کوئی بھی تھا اس کی پشت پناہی دھرنوں کو حاصل تھی۔نواز شریف نے کہا کہ پی ٹی وی، پارلیمنٹ، وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر فسادی عناصر سے کچھ محفوظ نہ رہا، مقصد تھا مجھے پی ایم ہاؤس سے نکال دیں اور پرویز مشرف کے خلاف کارروائی آگے نہ بڑھے۔سابق وزیراعظم نے کہاکہ منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ میں دباؤ میں آجاؤں گا، میرے راستے پر شرپسند عناصر بٹھا دئیے گئے، کہا گیا وزیراعظم کے گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹتے ہوئے باہر لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مجھ پر لشکر کشی کر کے پیغام دینا مقصود تھا کہ مشرف غداری کیس کو چلانا اتنا آسان نہیں اور طویل رخصت کا مطالبہ اس تاثر کی بنیاد پر تھا کہ نواز شریف کو راستے سے ہٹا دیا گیا، آمریتوں نے گہرے زخم لگائے ہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ کاش آج یہاں لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی روح کو طلب کرسکتے اور پوچھ سکتے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا اور انہیں آئینی مدت پوری کرنے کیوں نہیں دی گئی؟۔نواز شریف نے کہا کہ کاش آپ سینئر ججز کو بلا کر پوچھ سکتے کہ وہ کیوں ہرمارشل لاء کو خوش آمدید کہتے رہے، کاش آج آپ ایک زندہ جرنیل کو بلا کر پوچھ سکتے کہ اس نے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیوں کیا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ نااہلی اور پارٹی صدارت سے ہٹانے کے اسباب و محرکات کو قوم بھی اچھی طرح جانتی ہے۔احتساب عدالت میں بیان قلمبند کراتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ منصب اور پارٹی صدارت سے ہٹانے اور عمر بھر کے لیے نااہل قرار دینا واحد حل سمجھ لیا گیا جبکہ گواہ میرے خلاف ادنیٰ ثبوت بھی پیش نہ کرسکے، عملاً میرے مؤقف کی تائید ہوئی۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ پاناما میں عالمی لیڈرز کا نام بھی تھا ٗ کتنے سربراہان کو معزول کیا گیا لیکن پاکستان میں یہ کارروائی جس شخص کے خلاف ہوئی اس کا نام نواز شریف ہے جس کا نام پاناما میں نہیں تھا۔ نواز شریف نے کہا کہ استغاثہ میرے خلاف کیس ثابت نہیں کر سکا، مجھے اپنے دفاع میں شواہد پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں مسلح افواج کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، فوج کی کمزوری ملکی دفاع کی کمزوری ہوتی ہے، قابل فخر ہیں وہ بہادر سپوت جو سرحدوں پر فرائض انجام دے رہے ہیں، سرحدوں پر ڈٹے ہوئے سپوت ہمارے کل کے لیے اپنا آج قربان کردیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے قوم کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا، ایٹمی دھماکے نہ کیے جاتے تو بھارت کی عسکری بالادستی قائم ہوجاتی، اْس وقت کے آرمی چیف اور حکام کو ہدایت دی کہ 17 دن میں دھماکوں کی تیاری کریں جب کہ دھماکے نہ کرنے پر مجھے 5 ارب ڈالر کا لالچ بھی دیا گیا لیکن میں نے وہی کیا جو پاکستان کے وقار اور مفاد میں تھا، پاکستان کی عزت اربوں کھربوں سے زیادہ عزیز تھی۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے کبھی آئینی مدت پوری کرنے نہیں دی گئی، مجھے جلاوطن کردیا گیا، میری جائیدادیں ضبط کرلی گئیں، واپس آیا تو ہوائی اڈے سے روانہ کردیا گیا، میں اس وقت بھی حقیقی جمہوریت کی بات کررہاتھا، فیصلے وہی کریں جنہیں عوام نے اختیار دیاہے، داخلی اور خارجی پالیسیوں کی باگ دوڑ منتخب نمائندوں کے پاس ہی ہو۔

نواز شریف نے کہا کہ مجھے بے دخل کرنے اور نااہل قرار دینے والے کچھ لوگوں کو تسکین مل گئی ہوگی، مجھے سیسلین مافیا، گارڈ فادر، وطن دشمن اور غدار کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، میرے آباواجداد ہجرت کرکے یہاں آئے، میں پاکستان کا بیٹا ہوں مجھے اس مٹی کا ایک ایک ذرہ پیارا ہے، میں کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا اپنی توہین سمجھتاہوں، میری نااہلی اور پارٹی صدارت سے ہٹانے کے اسباب و محرکات کو قوم بھی اچھی طرح جانتی ہے، کیا میرے خلاف فیصلہ دینے والے ججوں کو مانیٹرنگ جج لگایا جا سکتا ہے؟ کیا کسی لفظ کی تشریح کے لیئے گمنام ڈکشنری استعمال کی جاتی ہے؟ کیا کسی سپریم کورٹ کے بینچ نے جے آئی ٹی کی نگرانی کی؟ کیا کسی نے اقامے پر مجھے نااہل کرنے کی درخواست دی تھی؟، یہاں جتنے گواہان پیش ہوئے کسی نے گواہی نہیں دی کہ میں نے کوئی جرم کیا، آپ اورمجھ سمیت سب کو اللہ کی عدالت میں پیش ہوناہے، ریفرنس کا فیصلہ آپ پر چھوڑ رہا ہوں ۔ بعد ازاں احتساب عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران نواز شریف نے نعیم الحق کی جانب سے دانیال عزیز کو تھپڑ مارنے کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہو ئے کہاکہ تھپڑ مار کلچر تحریک انصاف کا کلچر ہے جس کے ذمہ دار عمران خان ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میںبھی تحریک انصاف کے ممبران گتھم گتھا ہوتے رہے، ایک ایک کر کے پی ٹی آئی کے سارے پول کھل رہے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں کیا کام کیا، وہ کوئی قابل ذکر کارنامہ بتادیں، سوائے دھرنوں اور امپائر کی انگلی کی طرف دیکھنے کے پی ٹی آئی نے کیا، کیا ہے۔صحافی نے سوال کیا ‘ تحریک انصاف نے سو دن کا پلان دیا ہے ٗکیا کہیں گے؟ اس پر نواز شریف نے کہا کہ وہ پہلے بھی دے چکے ہیں لیکن عمل کیا کیا، پی ٹی آئی نے کہا تھا 300 ڈیم بنائیں گے، کہاں ہیں ڈیم؟ اور کہاں ہیں وہ درخت جو کہے تھے لگائیں گے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ 50 ہزار میگا واٹ بجلی کہاں ہے جو تحریک انصاف نے کہا تھا اور کہاں ہے نیا پاکستان، کہاں ہے نیا خیبرپختونخوا؟۔نواز شریف نے کہا کہ یو این ڈی پی کی رپورٹ کہہ رہی ہے کہ خیبرپختونخوا جنوبی پنجاب سے بھی پیچھے ہے ٗ کے پی کا موازنہ جنوبی پنجاب سے کر کے دیکھ لیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ میڈیا کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے، یہ افسوسناک عمل ہے، ہر چیز نوٹ کی جا رہی ہے اور یاد رہے قوم بھی ہر چیز نوٹ کر رہی ہے۔صحافی کے سوال اگلا الیکشن کس نعرے پر ہو گا؟ کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ اگلا الیکشن ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے پر ہوگا، اب تو لوگ مجھے کہتے ہیں ہم نعرہ لگائیں گے ’’ووٹ کو‘‘اور تم کہنا ’’عزت دو‘‘۔صحافی نے ایک اور سوال کیا کہ آپ کی پارٹی آپ کے بیانیے سے متفق ہے؟ جس پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم میرے بیانیے سے متفق ہے۔


متعلقہ خبریں


مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

مضامین
مولانا کی ''میں'' وجود منگل 10 فروری 2026
مولانا کی ''میں''

سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ وجود منگل 10 فروری 2026
سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ

دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں ! وجود منگل 10 فروری 2026
دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں !

شکسگام ، چین کا حصہ ہے! وجود پیر 09 فروری 2026
شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی وجود پیر 09 فروری 2026
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر