وجود

... loading ...

وجود

اکیسویں صدی میںاردو نعت

اتوار 20 مئی 2018 اکیسویں صدی میںاردو نعت

اردو میں نعتیہ شاعری کی تاریخ بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود اردو زبان ۔اردو شاعری کے ہر دور میں شعرانے روایت کی پاسداری میں یا تبرک کے طورپر نعت ضرور کہی ہے لیکن بعض ایسے شاعر بھی گذرے ہیں جنہوں نے نعت ہی کو موضوعِ سخن بنا یا،ان میں کفایت اللہ کافی مراد آبادی، لطف بدایونی،محسن کاکوروی ؒاور امام احمد رضا خان بریلویؒ کے اسمائے گرامی آب ِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں،موخرالذکر دونوں شعرانے تو نعت کو اوجِ کمال تک پہنچا دیا،اردو میں آج تک جتنی بھی نعت لکھی گئی وہ ان شعراکے اثر سے خالی نہیں رہی۔محسن کاکورویؒ کے قلم سے صفحہ ِقرطاس پر آنے والا ہر لفظ کیف ومستی اور سوز وگداز سے لبریز ہے،ان کی شعری کائنات پاکیزہ فکری،بلندی ِنگاہ،ندرت ِ بیان اور نادر تشبیہات و استعارات کا مجموعہ ہے،انہوں نے زیادہ تر قصیدہ کی ہیئت میں نعت کہی ہے لیکن رباعی اور مسدس و مخمس کی ہیئت میں بھی طبع آزمائی کی ،انہوں نے گلدستۂ رحمت، ابیاتِ نعت،مدیح خیر المرسلینؐ،چراغِ کعبہ،صبحِ تجلی سمیت درجن بھر کتب یادگار چھوڑی ہیں،ان کے قصیدہ ِ لامیہ نے انہیں بامِ عروج تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے جس کا آغاز انہوں نے ایک اچھوتے اورمنفردشعر سے کیا:

سمتِ کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل
برق کے کاندھے پہ لائی ہے صبا گنگا جل

شہرت و مقبولیت اور فنی محاسن کے حوالے سے نعتیہ قصائد کی تاریخ میںقصیدہ ِلامیہ اپنی مثال آپ ہے، خالص نعتیہ اشعار ملاحظہ ہوں:

گلِ خوش رنگ رسولِ مدنی العربیؐ
زیبِ دامانِ ابد، طرہِ دستارِ ازل
نہ کوئی اس کا مشابہ ہے نہ ہمسر نہ نظیر
نہ کوئی اس کا مماثل نہ مقابل نہ بدل
اوجِ رفعت کا قمر، نخلِ دو عالم کا ثمر
بحرِ وحدت کا گہر، چشمہِ کثرت کا کنول
مرجعِ روحِ امیں، زیبدہِ عرشِ بریں
حامیِ دینِ متیں، ناسخِ ادیان و ملل

اردو نعت گوئی میں محسن کاکوروی ؒکے ساتھ امام احمد رضا خان ؒ کی خدمات بھی بے بدل رہیں،انہوں نے جس وارفتگی،محبت و عقیدت اور قلبی وابستگی سے نعت کہی وہ انہی کا حصہ ہے۔ انہوں نے قرآن ِ پاک اور احادیث مبار کہ کے حوالوں کو تخلیقی سطح پر نعت کا حصہ بنایا،ان کی کئی نعتیں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں،ان کے سلام ’’ مصطفٰے ؐجانِ رحمت پہ لاکھوں سلام ‘‘ کو تو دنیا بھر میں بے پناہ مقبولیت نصیب ہو ئی۔ چند اشعار دیکھیے:

مصطفٰےؐ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
جس سے تاریک دل جگمگانے لگے
اس چمک والی رنگت پہ لاکھوں سلام
جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا
اس جبینِ سعادت پہ لاکھوں سلام
وہ دہن جس کی ہر بات وحیِ خدا
چشمہِ علم و حکمت پہ لا کھوں سلام

امام احمد رضا خان نے نعت گوئی میںجو رنگ ِ سخن متعارف کرایا عہدِ موجودکی نعت میںبھی اس کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے،انہوں نے فنی کمالات کے ساتھ ساتھ لسانی تشکیلات،اصطلاحات اور تلمیحات کا بھی ایک نیا نظام متعارف کرایااور عربی،فارسی اور ہندی زبان کی پیوندکاری کو بھی خوبصورتی سے نعتیہ شاعری کا حصہ بنایا، زبان وبیان کے حوالے سے اردو کی نعتیہ شاعری کوایک منفرد اسلوب سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ انہوںنے قرآن ِ پاک اورکتبِ حدیث کی تفاسیرکے علاوہ نعت،تاریخ،سیرت و مناقب ، ادب ، نحو،فقہ و تجویداور تصوف سمیت مختلف علوم پر سیکڑوں کتابیں یادگار چھوڑی ہیں:

انؐ کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں
جس راہ چل دیے ہیں، کوچے بسا دیے ہیں
٭
نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذی شان گیا
ساتھ ہی منشیِ رحمت کا قلم دان گیا
٭
لحد میں عشقِ رخِ شہؐ کا داغ لے کے چلے
اندھیری رات سنی تھی چراغ لے کے چلے
٭
حاجیو! آئو شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو

محسن کاکوروی اور امام احمد رضا خان کے علاوہ اس دور میں امیر مینائی اورکرامت علی شہیدی نے بھی نعت گوئی کی تاریخ بنانے میں اہم کردار اد اکیا،جنگ ِآزادی اور اس کے بعد اردو نعت مختلف قومی اور ملی تحریکوں کے اثرات سمیٹ کر حالی سے ہوتی ہوئی اقبال تک پہنچتی ہے تو اس میں موضوعات اور اسالیب میں وسعت پیدا ہو چکی ہو تی ہے،دربارِ رسولؐ میں عرض ِ حال اور استمداد واستعغاثہ کا اندازاسی عہد کی عطا ہے،حالی اور ان کے بعد مولانا شبلی، اسماعیل میرٹھی، نظم طباطبائی،اکبر وارثی ،مولانا ظفر علی خان، مولانا محمد علی جوہر،علامہ اقبال، اقبال سہیل ،حفیظ جالندھری، مولانا حسن رضا خان، مفتی غلام سرورلاہوری،مفتی دیدار علی شاہ اور بیدم وارثی سمیت کئی شعرا نے نعت گوئی کی روایت کو پروان چڑھایا۔ اگرچہ مومن خان مومن اور انشا ء اللہ خان انشاء کے نعتیہ کلام کا تذکرہ کم کم ہی ملتا ہے لیکن انہوں بھی کمال کی نعت کہی ہے۔انشا کے ایک مخمس اور مومن کے قصیدے سے اقتباس ملاحظہ کیجئے جس میں انہوں کس قدر مشکل قافیہ کو نبھایا:

چمن میں نغمۂ بلبل ہے یوں طرب مانوس
کہ جیسے صبحِ شبِ ہجر ، نالہ ہائے فروس
ہوا ہے کون سی ایسی مگر ’’مدینے کی‘‘
دمِ مسیحؑ کو ہے جس کی حسرتِ پابوس
٭
خمیدہ کس لیے نُہ آسماں بنے تھے بھلا
نہ تھا ازل سے جو مدِ نظر ترا پابوس
بہا میں دیتی ہے ماہی دفینہ ہائے زمیں
یہ بڑھ گئی ترے سکے سے قدر تا بہ فلوس
(مومن)
عرش کی کچھ نہیں فقط قائمہ ء جلیل پر
لوحِ جبین ِ مہر پر چشمہ ء سلسبیل پر
ثبت یہی نقوش ہیں عدن کی ہر فصیل پر
صلِ علی نبینا صل علی محمدؐ
(انشاء)
مولانا ظفر علی خان نے سرکار کی ثنا خوانی میں آپ ﷺ کے جو اوصاف بیان کیے انہیں زندگی کی حقیقتوں سے ہم آہنگ کرکے دکھایا،وہ جذبے ،جوش اور ولولے کے ساتھ نعت کہہ کر لوگوںکے دلوںکو گرماتے رہے:
دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہیؐ تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہیؐ تو ہو
پھوٹا جو سینہء شبِ تارِ الست سے
اس نورِ اولیں کا اجالا تمہیؐ تو ہو
علامہ اقبال نے اگرچہ کوئی باقاعدہ نعت نہیں لکھی لیکن اردو نعت گو ئی کا تذکرہ ان کے ذکر کے بغیرنامکمل ہے، ان کی متفرق منظومات میں جو نعتیہ اشعار موجود ہیں وہ فنی و فکری اعتبار سے اعلیٰ ہونے کے ساتھ ساتھ ندرت اور تازگی میں بھی اپنی مثال آپ ہیں، یہ جداگانہ اسلوب جو اقبال کو نصیب ہوا وہ کم یاب بلکہ نایاب ہے:
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِآبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
٭٭
سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفٰےؐ سے مجھے
کہ عالم ِ بشریت کی زد میں ہے گردوں
٭
وہ دانائے سبلؐ، ختم الرسلؐ ، مولائے کلؐ جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا
٭
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہِ دانشِ فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
قیام پاکستان کے وقت متعددایسے شاعر موجود تھے جو صرف نعت گو کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے، ضیا ء القادر ی،ماہر القادری ،کامل جونا گڑھی ،ذہین شاہ تاجی ،ادیب رائے پوری ،بہزاد لکھنوی،اکبر وارثی ،احسان دانش،شورش کا شمیری،صبا اکبر آبادی، محشر رسول نگری،وحیدہ نسیم،منور بدایونی،شمس مینائی، محمد ذکی کیفی،اثر صہبائی اور اسد ملتانی جیسے کئی شعرانے نعت کے فروغ اور ارتقا میںبھر پور کردار ادا کیا اور اس روایت کو آگے بڑھایا:
ہیں آسمانِ نبوت پہ آپؐ بدرِ منیر
حضورؐ آپؐ کے حلقے میں مہر و ماہ اسیر
ك(ضیاء القادری)
سلام اسؐ پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اسؐ پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
سلام اسؐ پر کہ اسرارِ محبت جس نے سمجھائے
سلام اسؐ پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے
سلام اسؐ پر کہ جس نے خوں کے پیا سوں کو قبائیں دیں
سلا م اسؐ پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں
(ماہر القادری)
ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے، قلبِ حیراں کی تسکیں وہیں رہ گئی
دل وہیں رہ گیا، جاں وہیں رہ گئی، خم اسی در پہ اپنی جبیں رہ گئی
(بہزاد لکھنوی)
جو خیال آیا تو خواب میں وہؐ جمال اپنا دکھا گئے
یہ مہک لہک تھی جنابؐ کی کہ مکان سارا بسا گئے
(اکبر وارثی)
یوں اس گلی میں چشمِ تمنا سجائی جائے
پلکوں پہ آنسوئوں کی کناری لگائی جائے
(احسان دانش)
اک اک ادا حضورؐ کی مشہود ہے یہاں
میرا رسولؐ آج بھی موجود ہے یہاں
(محشر رسول نگری)
صبا نعتِ رسولِ پاکؐ اپنے ہاتھ میں رکھو
شفاعت کی سند لے کر چلو دربارِ دوارؐ میں
(صبا اکبرآبادی)
عرش تک تو خیالوں نے سمجھا انہیںؐ
ختم آگے تخیل کی حد ہو گئی
(منور بدایونی)
انؐ کی اک نظر سے قبل، انؐ کی اک نظر کے بعد
ہر طرف اندھیرا تھا، ہر طرف اجالا ہے
(محمد ذکی کیفی)
نبیؐ کا عشق خدا کی اطاعتِ کامل
یہ دیں کی اصل ہے باقی تمام افسانے
(اسد ملتانی)
غارِ حرا سے کرب و بلا کے مقام تک
دیدہ وروں پہ فاش ہیں اسرارِ مصطفٰےؐ
(شورش کاشمیری)
آیا ہے تراؐ اسمِ مبارک میرے لب پر
گرچہ یہ زباں اس کی سزاوار نہیں ہے
(صوفی تبسم)

خراب فردِ عمل ہو نہ جائے اے سیماب
اسے جنابِ رسالت مآبؐ دیکھیں گے
(سیماب اکبر آبادی)
قیام پاکستان کے بعد اردونعت گوئی کے رجحان نے بہت ترقی کی اور جو شاعر صرف غزل کہہ رہے تھے وہ بھی نعت لکھنے لگے اور عہد موجود میں صورتحال یہ ہے کہ تقریباًہر شاعر نعت کہہ رہا ہے۔اردو میں جدید نعت گوئی کا آغاز قیام پاکستان کے ساتھ ہوتا ہے ،عصرِحاضر میں لکھی جانے والی نعت اسی جدید عہد کی توسیع اور تسلسل ہے ۔ ڈاکٹر ریاض مجید لکھتے ہیں ’’ مولانا حالی،علامہ اقبال،ظفر علی خان،حفیظ جالندھری اور اقبال سہیل نے اردو میں نعت کو فکری و فنی طور پر جن نئے امکانات سے روشناس کرایا اور اس میں واقعیت وحقیقت نگاری کی روایت اور قومی، ملی مسائل و موضوعات کے جن عناصر کو فروغ دیا،عصر ِحاضر کے نعت گو شاعروں نے انہی روایات و عناصر ِ نعت کی ترجمانی کی‘‘۔
(اردو میں نعت گو ئی۔ص489)
مذکورہ بالا شعراکی طرح بعد میں آنے والے شاعروں نے بھی جدید روایت نعت کی پاسداری کی۔ ان شعرا میں عبد العزیز خالد،حافظ مظہر الدین،عاصی کرنالی،حافظ لدھیانوی،حفیظ تائب،راسخ عرفانی، تابش دہلوی،محشر بدایونی ، حنیف اسعدی،عبدالکریم ثمر،ہلال جعفری،مظفر وارثی،قمر ہاشمی،اعجاز رحمانی، راجا رشید محمود، مسرور کیفی اور دیگر نے جدید نعت گوئی کی روایت کو فروغ دیا اور اس کے موضوع وفن، ہیئت و اسلوب میں تنوع پیدا کیا:
میں اور میرے فکر و بیاں کی بساط کیا
اسؐ کا کرم ہے اسؐ نے اجازت ثنا کی دی
(عبدالعزیز خالد)
جو حسن میرے پیشِ نظر ہے اگر اسے
جلوے بھی دیکھ لیں تو طوافِ نظر کریں
( حافظ مظہر الدین)
تپتے ہوئے صحرا میں کوئی جو نظر آئے
میں نعت لکھوں تو مجھے خوشبو نظر آئے
(مسرور کیفی)
خوشبو ہر ایک سانس میں شہرِ نبیؐ کی ہے
یہ کیفیت حضورؐ سے وابستگی کی ہے
( حافظ لدھیانوی)
دراڑوں کو بھی تیری رحمتوں نے باندھ رکھا ہے
فضا کتنی شکستہ ہے مگر منظر سلامت ہیں
( مظفر وارثی)
بے نیازی آپؐ سے وابستگی نے کی عطا
میں غنی کوئے پیمبرؐ کی گدائی سے ہوا
( حفیظ تائب)
آپؐ ان کے لیے بھی رحمت ہیں
جو زمانے ابھی نہیں آئے
(حنیف اسعدی)
منزلِ حبِ الہیٰ تک پہنچنے کے لیے
سرورِ کونینؐ کی الفت کا زینہ چاہیے
(سید ریاض الدین سہروردی)
شفق کا رنگ، ستاروں کی ضو، قمر کی ضیا
حبیبِ پاکؐ کے نور و ظہور کی رونق
(محمد علی ظہوری)
اعظم گزر رہی ہے کس آسودگی کے ساتھ
سایہ ہے انؐ کا سر پہ مرے آسماں نہیں
( اعظم چشتی)
دلِ کلیم ہے اس کے کلام سے روشن
خوشا تجلیِ طورِ محمدؐ عربی
(رئیس امروہوی)
اللہ اللہ رخِ مصطفےؐ کی ضیا
جس نے دیکھا خدا پر یقیں آگیا
(صفیہ شمیم ملیح آبادی)
میں جو اک برباد ہوں آباد رکھتا ہے مجھے
دیر تک اسمِ محمدؐ شاد رکھتا ہے مجھے
(منیر نیازی)
پتھروں میں بھی لہو دوڑ گیا
اس قدر عام تھی رحمت انؐ کی
( احمد ندیم قاسمی)
درِ حضورؐ پہ پہنچوں تو ان ؐ کی نذر کروں
چمک رہے ہیں جو پلکوں پہ آبگینے سے
(راسخ عرفانی)
٭ ٭ ٭ ٭


متعلقہ خبریں


اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف وجود - جمعه 06 فروری 2026

معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ

پاکستان اورآزاد کشمیر سمیت دنیا بھرمیںیومِ یکجہتی کشمیر کی گونج وجود - جمعه 06 فروری 2026

ملک بھر میںکشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کا عہد، شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے مختلف مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی پاکستان ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے جدوجہد آزادی میں مصروف ...

پاکستان اورآزاد کشمیر سمیت دنیا بھرمیںیومِ یکجہتی کشمیر کی گونج

آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل وجود - جمعرات 05 فروری 2026

پاکستان اور جموں وکشمیر کے اٹوٹ رشتے کی تجدید، دنیا کشمیریوں کی پکار سنے گی پاکستان اور آزاد کشمیر میںجوش و خروش سے جلسے ، جلوسوں ، ریلیوں کا انعقادکیا جائیگا پاکستان، آزاد جموں وکشمیر اور دنیا بھر میںآج یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منایا جائے گا جسکا مقصد بھارتی ظلم ستم...

آج دنیا بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر کی گونج سنائی دے گی، تیاریاں مکمل

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان وجود - جمعرات 05 فروری 2026

ہر شہر میں جلسے منعقد کیے جائیں اور ریلیاں نکالی جائیں، مولانا عبدالغفور حیدری 8 فروری کا الیکشن قوم کیلئے ناقابل قبول ، عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے،بات چیت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) نے 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے مرکزی سیکریٹری جنرل جمعیت...

جے یو آئی کا 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ وجود - جمعرات 05 فروری 2026

آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں پھلوں کی 2۔28 اور مصالحہ جات کی 2 فیصدقیمتوں میں اضافہ ریکارڈکیا گیا رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ، آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں۔ تفصیلات...

رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ

مضامین
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود هفته 07 فروری 2026
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود هفته 07 فروری 2026
روٹی یا شعور۔۔۔؟

8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست وجود هفته 07 فروری 2026
8فروری کی کال اور پی ٹی آئی کے مفاد پرست

دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت وجود هفته 07 فروری 2026
دہشت گرد تنظیم بجرنگ دل مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کی منظم قوت

جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے ؟ وجود هفته 07 فروری 2026
جنوبی ہندوستان کے مسلمان شاہراہ ترقی پر کیسے ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر