وجود

... loading ...

وجود

اکیسویں صدی میںاردو نعت

اتوار 20 مئی 2018 اکیسویں صدی میںاردو نعت

اردو میں نعتیہ شاعری کی تاریخ بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود اردو زبان ۔اردو شاعری کے ہر دور میں شعرانے روایت کی پاسداری میں یا تبرک کے طورپر نعت ضرور کہی ہے لیکن بعض ایسے شاعر بھی گذرے ہیں جنہوں نے نعت ہی کو موضوعِ سخن بنا یا،ان میں کفایت اللہ کافی مراد آبادی، لطف بدایونی،محسن کاکوروی ؒاور امام احمد رضا خان بریلویؒ کے اسمائے گرامی آب ِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں،موخرالذکر دونوں شعرانے تو نعت کو اوجِ کمال تک پہنچا دیا،اردو میں آج تک جتنی بھی نعت لکھی گئی وہ ان شعراکے اثر سے خالی نہیں رہی۔محسن کاکورویؒ کے قلم سے صفحہ ِقرطاس پر آنے والا ہر لفظ کیف ومستی اور سوز وگداز سے لبریز ہے،ان کی شعری کائنات پاکیزہ فکری،بلندی ِنگاہ،ندرت ِ بیان اور نادر تشبیہات و استعارات کا مجموعہ ہے،انہوں نے زیادہ تر قصیدہ کی ہیئت میں نعت کہی ہے لیکن رباعی اور مسدس و مخمس کی ہیئت میں بھی طبع آزمائی کی ،انہوں نے گلدستۂ رحمت، ابیاتِ نعت،مدیح خیر المرسلینؐ،چراغِ کعبہ،صبحِ تجلی سمیت درجن بھر کتب یادگار چھوڑی ہیں،ان کے قصیدہ ِ لامیہ نے انہیں بامِ عروج تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے جس کا آغاز انہوں نے ایک اچھوتے اورمنفردشعر سے کیا:

سمتِ کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل
برق کے کاندھے پہ لائی ہے صبا گنگا جل

شہرت و مقبولیت اور فنی محاسن کے حوالے سے نعتیہ قصائد کی تاریخ میںقصیدہ ِلامیہ اپنی مثال آپ ہے، خالص نعتیہ اشعار ملاحظہ ہوں:

گلِ خوش رنگ رسولِ مدنی العربیؐ
زیبِ دامانِ ابد، طرہِ دستارِ ازل
نہ کوئی اس کا مشابہ ہے نہ ہمسر نہ نظیر
نہ کوئی اس کا مماثل نہ مقابل نہ بدل
اوجِ رفعت کا قمر، نخلِ دو عالم کا ثمر
بحرِ وحدت کا گہر، چشمہِ کثرت کا کنول
مرجعِ روحِ امیں، زیبدہِ عرشِ بریں
حامیِ دینِ متیں، ناسخِ ادیان و ملل

اردو نعت گوئی میں محسن کاکوروی ؒکے ساتھ امام احمد رضا خان ؒ کی خدمات بھی بے بدل رہیں،انہوں نے جس وارفتگی،محبت و عقیدت اور قلبی وابستگی سے نعت کہی وہ انہی کا حصہ ہے۔ انہوں نے قرآن ِ پاک اور احادیث مبار کہ کے حوالوں کو تخلیقی سطح پر نعت کا حصہ بنایا،ان کی کئی نعتیں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں،ان کے سلام ’’ مصطفٰے ؐجانِ رحمت پہ لاکھوں سلام ‘‘ کو تو دنیا بھر میں بے پناہ مقبولیت نصیب ہو ئی۔ چند اشعار دیکھیے:

مصطفٰےؐ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
جس سے تاریک دل جگمگانے لگے
اس چمک والی رنگت پہ لاکھوں سلام
جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا
اس جبینِ سعادت پہ لاکھوں سلام
وہ دہن جس کی ہر بات وحیِ خدا
چشمہِ علم و حکمت پہ لا کھوں سلام

امام احمد رضا خان نے نعت گوئی میںجو رنگ ِ سخن متعارف کرایا عہدِ موجودکی نعت میںبھی اس کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے،انہوں نے فنی کمالات کے ساتھ ساتھ لسانی تشکیلات،اصطلاحات اور تلمیحات کا بھی ایک نیا نظام متعارف کرایااور عربی،فارسی اور ہندی زبان کی پیوندکاری کو بھی خوبصورتی سے نعتیہ شاعری کا حصہ بنایا، زبان وبیان کے حوالے سے اردو کی نعتیہ شاعری کوایک منفرد اسلوب سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ انہوںنے قرآن ِ پاک اورکتبِ حدیث کی تفاسیرکے علاوہ نعت،تاریخ،سیرت و مناقب ، ادب ، نحو،فقہ و تجویداور تصوف سمیت مختلف علوم پر سیکڑوں کتابیں یادگار چھوڑی ہیں:

انؐ کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں
جس راہ چل دیے ہیں، کوچے بسا دیے ہیں
٭
نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذی شان گیا
ساتھ ہی منشیِ رحمت کا قلم دان گیا
٭
لحد میں عشقِ رخِ شہؐ کا داغ لے کے چلے
اندھیری رات سنی تھی چراغ لے کے چلے
٭
حاجیو! آئو شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو

محسن کاکوروی اور امام احمد رضا خان کے علاوہ اس دور میں امیر مینائی اورکرامت علی شہیدی نے بھی نعت گوئی کی تاریخ بنانے میں اہم کردار اد اکیا،جنگ ِآزادی اور اس کے بعد اردو نعت مختلف قومی اور ملی تحریکوں کے اثرات سمیٹ کر حالی سے ہوتی ہوئی اقبال تک پہنچتی ہے تو اس میں موضوعات اور اسالیب میں وسعت پیدا ہو چکی ہو تی ہے،دربارِ رسولؐ میں عرض ِ حال اور استمداد واستعغاثہ کا اندازاسی عہد کی عطا ہے،حالی اور ان کے بعد مولانا شبلی، اسماعیل میرٹھی، نظم طباطبائی،اکبر وارثی ،مولانا ظفر علی خان، مولانا محمد علی جوہر،علامہ اقبال، اقبال سہیل ،حفیظ جالندھری، مولانا حسن رضا خان، مفتی غلام سرورلاہوری،مفتی دیدار علی شاہ اور بیدم وارثی سمیت کئی شعرا نے نعت گوئی کی روایت کو پروان چڑھایا۔ اگرچہ مومن خان مومن اور انشا ء اللہ خان انشاء کے نعتیہ کلام کا تذکرہ کم کم ہی ملتا ہے لیکن انہوں بھی کمال کی نعت کہی ہے۔انشا کے ایک مخمس اور مومن کے قصیدے سے اقتباس ملاحظہ کیجئے جس میں انہوں کس قدر مشکل قافیہ کو نبھایا:

چمن میں نغمۂ بلبل ہے یوں طرب مانوس
کہ جیسے صبحِ شبِ ہجر ، نالہ ہائے فروس
ہوا ہے کون سی ایسی مگر ’’مدینے کی‘‘
دمِ مسیحؑ کو ہے جس کی حسرتِ پابوس
٭
خمیدہ کس لیے نُہ آسماں بنے تھے بھلا
نہ تھا ازل سے جو مدِ نظر ترا پابوس
بہا میں دیتی ہے ماہی دفینہ ہائے زمیں
یہ بڑھ گئی ترے سکے سے قدر تا بہ فلوس
(مومن)
عرش کی کچھ نہیں فقط قائمہ ء جلیل پر
لوحِ جبین ِ مہر پر چشمہ ء سلسبیل پر
ثبت یہی نقوش ہیں عدن کی ہر فصیل پر
صلِ علی نبینا صل علی محمدؐ
(انشاء)
مولانا ظفر علی خان نے سرکار کی ثنا خوانی میں آپ ﷺ کے جو اوصاف بیان کیے انہیں زندگی کی حقیقتوں سے ہم آہنگ کرکے دکھایا،وہ جذبے ،جوش اور ولولے کے ساتھ نعت کہہ کر لوگوںکے دلوںکو گرماتے رہے:
دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہیؐ تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہیؐ تو ہو
پھوٹا جو سینہء شبِ تارِ الست سے
اس نورِ اولیں کا اجالا تمہیؐ تو ہو
علامہ اقبال نے اگرچہ کوئی باقاعدہ نعت نہیں لکھی لیکن اردو نعت گو ئی کا تذکرہ ان کے ذکر کے بغیرنامکمل ہے، ان کی متفرق منظومات میں جو نعتیہ اشعار موجود ہیں وہ فنی و فکری اعتبار سے اعلیٰ ہونے کے ساتھ ساتھ ندرت اور تازگی میں بھی اپنی مثال آپ ہیں، یہ جداگانہ اسلوب جو اقبال کو نصیب ہوا وہ کم یاب بلکہ نایاب ہے:
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِآبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
٭٭
سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفٰےؐ سے مجھے
کہ عالم ِ بشریت کی زد میں ہے گردوں
٭
وہ دانائے سبلؐ، ختم الرسلؐ ، مولائے کلؐ جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا
٭
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہِ دانشِ فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
قیام پاکستان کے وقت متعددایسے شاعر موجود تھے جو صرف نعت گو کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے، ضیا ء القادر ی،ماہر القادری ،کامل جونا گڑھی ،ذہین شاہ تاجی ،ادیب رائے پوری ،بہزاد لکھنوی،اکبر وارثی ،احسان دانش،شورش کا شمیری،صبا اکبر آبادی، محشر رسول نگری،وحیدہ نسیم،منور بدایونی،شمس مینائی، محمد ذکی کیفی،اثر صہبائی اور اسد ملتانی جیسے کئی شعرانے نعت کے فروغ اور ارتقا میںبھر پور کردار ادا کیا اور اس روایت کو آگے بڑھایا:
ہیں آسمانِ نبوت پہ آپؐ بدرِ منیر
حضورؐ آپؐ کے حلقے میں مہر و ماہ اسیر
ك(ضیاء القادری)
سلام اسؐ پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اسؐ پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
سلام اسؐ پر کہ اسرارِ محبت جس نے سمجھائے
سلام اسؐ پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے
سلام اسؐ پر کہ جس نے خوں کے پیا سوں کو قبائیں دیں
سلا م اسؐ پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں
(ماہر القادری)
ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے، قلبِ حیراں کی تسکیں وہیں رہ گئی
دل وہیں رہ گیا، جاں وہیں رہ گئی، خم اسی در پہ اپنی جبیں رہ گئی
(بہزاد لکھنوی)
جو خیال آیا تو خواب میں وہؐ جمال اپنا دکھا گئے
یہ مہک لہک تھی جنابؐ کی کہ مکان سارا بسا گئے
(اکبر وارثی)
یوں اس گلی میں چشمِ تمنا سجائی جائے
پلکوں پہ آنسوئوں کی کناری لگائی جائے
(احسان دانش)
اک اک ادا حضورؐ کی مشہود ہے یہاں
میرا رسولؐ آج بھی موجود ہے یہاں
(محشر رسول نگری)
صبا نعتِ رسولِ پاکؐ اپنے ہاتھ میں رکھو
شفاعت کی سند لے کر چلو دربارِ دوارؐ میں
(صبا اکبرآبادی)
عرش تک تو خیالوں نے سمجھا انہیںؐ
ختم آگے تخیل کی حد ہو گئی
(منور بدایونی)
انؐ کی اک نظر سے قبل، انؐ کی اک نظر کے بعد
ہر طرف اندھیرا تھا، ہر طرف اجالا ہے
(محمد ذکی کیفی)
نبیؐ کا عشق خدا کی اطاعتِ کامل
یہ دیں کی اصل ہے باقی تمام افسانے
(اسد ملتانی)
غارِ حرا سے کرب و بلا کے مقام تک
دیدہ وروں پہ فاش ہیں اسرارِ مصطفٰےؐ
(شورش کاشمیری)
آیا ہے تراؐ اسمِ مبارک میرے لب پر
گرچہ یہ زباں اس کی سزاوار نہیں ہے
(صوفی تبسم)

خراب فردِ عمل ہو نہ جائے اے سیماب
اسے جنابِ رسالت مآبؐ دیکھیں گے
(سیماب اکبر آبادی)
قیام پاکستان کے بعد اردونعت گوئی کے رجحان نے بہت ترقی کی اور جو شاعر صرف غزل کہہ رہے تھے وہ بھی نعت لکھنے لگے اور عہد موجود میں صورتحال یہ ہے کہ تقریباًہر شاعر نعت کہہ رہا ہے۔اردو میں جدید نعت گوئی کا آغاز قیام پاکستان کے ساتھ ہوتا ہے ،عصرِحاضر میں لکھی جانے والی نعت اسی جدید عہد کی توسیع اور تسلسل ہے ۔ ڈاکٹر ریاض مجید لکھتے ہیں ’’ مولانا حالی،علامہ اقبال،ظفر علی خان،حفیظ جالندھری اور اقبال سہیل نے اردو میں نعت کو فکری و فنی طور پر جن نئے امکانات سے روشناس کرایا اور اس میں واقعیت وحقیقت نگاری کی روایت اور قومی، ملی مسائل و موضوعات کے جن عناصر کو فروغ دیا،عصر ِحاضر کے نعت گو شاعروں نے انہی روایات و عناصر ِ نعت کی ترجمانی کی‘‘۔
(اردو میں نعت گو ئی۔ص489)
مذکورہ بالا شعراکی طرح بعد میں آنے والے شاعروں نے بھی جدید روایت نعت کی پاسداری کی۔ ان شعرا میں عبد العزیز خالد،حافظ مظہر الدین،عاصی کرنالی،حافظ لدھیانوی،حفیظ تائب،راسخ عرفانی، تابش دہلوی،محشر بدایونی ، حنیف اسعدی،عبدالکریم ثمر،ہلال جعفری،مظفر وارثی،قمر ہاشمی،اعجاز رحمانی، راجا رشید محمود، مسرور کیفی اور دیگر نے جدید نعت گوئی کی روایت کو فروغ دیا اور اس کے موضوع وفن، ہیئت و اسلوب میں تنوع پیدا کیا:
میں اور میرے فکر و بیاں کی بساط کیا
اسؐ کا کرم ہے اسؐ نے اجازت ثنا کی دی
(عبدالعزیز خالد)
جو حسن میرے پیشِ نظر ہے اگر اسے
جلوے بھی دیکھ لیں تو طوافِ نظر کریں
( حافظ مظہر الدین)
تپتے ہوئے صحرا میں کوئی جو نظر آئے
میں نعت لکھوں تو مجھے خوشبو نظر آئے
(مسرور کیفی)
خوشبو ہر ایک سانس میں شہرِ نبیؐ کی ہے
یہ کیفیت حضورؐ سے وابستگی کی ہے
( حافظ لدھیانوی)
دراڑوں کو بھی تیری رحمتوں نے باندھ رکھا ہے
فضا کتنی شکستہ ہے مگر منظر سلامت ہیں
( مظفر وارثی)
بے نیازی آپؐ سے وابستگی نے کی عطا
میں غنی کوئے پیمبرؐ کی گدائی سے ہوا
( حفیظ تائب)
آپؐ ان کے لیے بھی رحمت ہیں
جو زمانے ابھی نہیں آئے
(حنیف اسعدی)
منزلِ حبِ الہیٰ تک پہنچنے کے لیے
سرورِ کونینؐ کی الفت کا زینہ چاہیے
(سید ریاض الدین سہروردی)
شفق کا رنگ، ستاروں کی ضو، قمر کی ضیا
حبیبِ پاکؐ کے نور و ظہور کی رونق
(محمد علی ظہوری)
اعظم گزر رہی ہے کس آسودگی کے ساتھ
سایہ ہے انؐ کا سر پہ مرے آسماں نہیں
( اعظم چشتی)
دلِ کلیم ہے اس کے کلام سے روشن
خوشا تجلیِ طورِ محمدؐ عربی
(رئیس امروہوی)
اللہ اللہ رخِ مصطفےؐ کی ضیا
جس نے دیکھا خدا پر یقیں آگیا
(صفیہ شمیم ملیح آبادی)
میں جو اک برباد ہوں آباد رکھتا ہے مجھے
دیر تک اسمِ محمدؐ شاد رکھتا ہے مجھے
(منیر نیازی)
پتھروں میں بھی لہو دوڑ گیا
اس قدر عام تھی رحمت انؐ کی
( احمد ندیم قاسمی)
درِ حضورؐ پہ پہنچوں تو ان ؐ کی نذر کروں
چمک رہے ہیں جو پلکوں پہ آبگینے سے
(راسخ عرفانی)
٭ ٭ ٭ ٭


متعلقہ خبریں


سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم وجود - بدھ 21 جنوری 2026

صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل وجود - بدھ 21 جنوری 2026

داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے وجود - بدھ 21 جنوری 2026

گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 21 جنوری 2026

پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ وجود - منگل 20 جنوری 2026

پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب وجود - منگل 20 جنوری 2026

اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن وجود - منگل 20 جنوری 2026

گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی وجود - منگل 20 جنوری 2026

واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا وجود - پیر 19 جنوری 2026

عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان وجود - پیر 19 جنوری 2026

حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان

مضامین
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر