وجود

... loading ...

وجود
بدھ 10 جون 2026

اکیسویں صدی میںاردو نعت

اتوار 20 مئی 2018 اکیسویں صدی میںاردو نعت

اردو میں نعتیہ شاعری کی تاریخ بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود اردو زبان ۔اردو شاعری کے ہر دور میں شعرانے روایت کی پاسداری میں یا تبرک کے طورپر نعت ضرور کہی ہے لیکن بعض ایسے شاعر بھی گذرے ہیں جنہوں نے نعت ہی کو موضوعِ سخن بنا یا،ان میں کفایت اللہ کافی مراد آبادی، لطف بدایونی،محسن کاکوروی ؒاور امام احمد رضا خان بریلویؒ کے اسمائے گرامی آب ِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں،موخرالذکر دونوں شعرانے تو نعت کو اوجِ کمال تک پہنچا دیا،اردو میں آج تک جتنی بھی نعت لکھی گئی وہ ان شعراکے اثر سے خالی نہیں رہی۔محسن کاکورویؒ کے قلم سے صفحہ ِقرطاس پر آنے والا ہر لفظ کیف ومستی اور سوز وگداز سے لبریز ہے،ان کی شعری کائنات پاکیزہ فکری،بلندی ِنگاہ،ندرت ِ بیان اور نادر تشبیہات و استعارات کا مجموعہ ہے،انہوں نے زیادہ تر قصیدہ کی ہیئت میں نعت کہی ہے لیکن رباعی اور مسدس و مخمس کی ہیئت میں بھی طبع آزمائی کی ،انہوں نے گلدستۂ رحمت، ابیاتِ نعت،مدیح خیر المرسلینؐ،چراغِ کعبہ،صبحِ تجلی سمیت درجن بھر کتب یادگار چھوڑی ہیں،ان کے قصیدہ ِ لامیہ نے انہیں بامِ عروج تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے جس کا آغاز انہوں نے ایک اچھوتے اورمنفردشعر سے کیا:

سمتِ کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل
برق کے کاندھے پہ لائی ہے صبا گنگا جل

شہرت و مقبولیت اور فنی محاسن کے حوالے سے نعتیہ قصائد کی تاریخ میںقصیدہ ِلامیہ اپنی مثال آپ ہے، خالص نعتیہ اشعار ملاحظہ ہوں:

گلِ خوش رنگ رسولِ مدنی العربیؐ
زیبِ دامانِ ابد، طرہِ دستارِ ازل
نہ کوئی اس کا مشابہ ہے نہ ہمسر نہ نظیر
نہ کوئی اس کا مماثل نہ مقابل نہ بدل
اوجِ رفعت کا قمر، نخلِ دو عالم کا ثمر
بحرِ وحدت کا گہر، چشمہِ کثرت کا کنول
مرجعِ روحِ امیں، زیبدہِ عرشِ بریں
حامیِ دینِ متیں، ناسخِ ادیان و ملل

اردو نعت گوئی میں محسن کاکوروی ؒکے ساتھ امام احمد رضا خان ؒ کی خدمات بھی بے بدل رہیں،انہوں نے جس وارفتگی،محبت و عقیدت اور قلبی وابستگی سے نعت کہی وہ انہی کا حصہ ہے۔ انہوں نے قرآن ِ پاک اور احادیث مبار کہ کے حوالوں کو تخلیقی سطح پر نعت کا حصہ بنایا،ان کی کئی نعتیں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں،ان کے سلام ’’ مصطفٰے ؐجانِ رحمت پہ لاکھوں سلام ‘‘ کو تو دنیا بھر میں بے پناہ مقبولیت نصیب ہو ئی۔ چند اشعار دیکھیے:

مصطفٰےؐ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
جس سے تاریک دل جگمگانے لگے
اس چمک والی رنگت پہ لاکھوں سلام
جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا
اس جبینِ سعادت پہ لاکھوں سلام
وہ دہن جس کی ہر بات وحیِ خدا
چشمہِ علم و حکمت پہ لا کھوں سلام

امام احمد رضا خان نے نعت گوئی میںجو رنگ ِ سخن متعارف کرایا عہدِ موجودکی نعت میںبھی اس کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے،انہوں نے فنی کمالات کے ساتھ ساتھ لسانی تشکیلات،اصطلاحات اور تلمیحات کا بھی ایک نیا نظام متعارف کرایااور عربی،فارسی اور ہندی زبان کی پیوندکاری کو بھی خوبصورتی سے نعتیہ شاعری کا حصہ بنایا، زبان وبیان کے حوالے سے اردو کی نعتیہ شاعری کوایک منفرد اسلوب سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ انہوںنے قرآن ِ پاک اورکتبِ حدیث کی تفاسیرکے علاوہ نعت،تاریخ،سیرت و مناقب ، ادب ، نحو،فقہ و تجویداور تصوف سمیت مختلف علوم پر سیکڑوں کتابیں یادگار چھوڑی ہیں:

انؐ کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں
جس راہ چل دیے ہیں، کوچے بسا دیے ہیں
٭
نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذی شان گیا
ساتھ ہی منشیِ رحمت کا قلم دان گیا
٭
لحد میں عشقِ رخِ شہؐ کا داغ لے کے چلے
اندھیری رات سنی تھی چراغ لے کے چلے
٭
حاجیو! آئو شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو

محسن کاکوروی اور امام احمد رضا خان کے علاوہ اس دور میں امیر مینائی اورکرامت علی شہیدی نے بھی نعت گوئی کی تاریخ بنانے میں اہم کردار اد اکیا،جنگ ِآزادی اور اس کے بعد اردو نعت مختلف قومی اور ملی تحریکوں کے اثرات سمیٹ کر حالی سے ہوتی ہوئی اقبال تک پہنچتی ہے تو اس میں موضوعات اور اسالیب میں وسعت پیدا ہو چکی ہو تی ہے،دربارِ رسولؐ میں عرض ِ حال اور استمداد واستعغاثہ کا اندازاسی عہد کی عطا ہے،حالی اور ان کے بعد مولانا شبلی، اسماعیل میرٹھی، نظم طباطبائی،اکبر وارثی ،مولانا ظفر علی خان، مولانا محمد علی جوہر،علامہ اقبال، اقبال سہیل ،حفیظ جالندھری، مولانا حسن رضا خان، مفتی غلام سرورلاہوری،مفتی دیدار علی شاہ اور بیدم وارثی سمیت کئی شعرا نے نعت گوئی کی روایت کو پروان چڑھایا۔ اگرچہ مومن خان مومن اور انشا ء اللہ خان انشاء کے نعتیہ کلام کا تذکرہ کم کم ہی ملتا ہے لیکن انہوں بھی کمال کی نعت کہی ہے۔انشا کے ایک مخمس اور مومن کے قصیدے سے اقتباس ملاحظہ کیجئے جس میں انہوں کس قدر مشکل قافیہ کو نبھایا:

چمن میں نغمۂ بلبل ہے یوں طرب مانوس
کہ جیسے صبحِ شبِ ہجر ، نالہ ہائے فروس
ہوا ہے کون سی ایسی مگر ’’مدینے کی‘‘
دمِ مسیحؑ کو ہے جس کی حسرتِ پابوس
٭
خمیدہ کس لیے نُہ آسماں بنے تھے بھلا
نہ تھا ازل سے جو مدِ نظر ترا پابوس
بہا میں دیتی ہے ماہی دفینہ ہائے زمیں
یہ بڑھ گئی ترے سکے سے قدر تا بہ فلوس
(مومن)
عرش کی کچھ نہیں فقط قائمہ ء جلیل پر
لوحِ جبین ِ مہر پر چشمہ ء سلسبیل پر
ثبت یہی نقوش ہیں عدن کی ہر فصیل پر
صلِ علی نبینا صل علی محمدؐ
(انشاء)
مولانا ظفر علی خان نے سرکار کی ثنا خوانی میں آپ ﷺ کے جو اوصاف بیان کیے انہیں زندگی کی حقیقتوں سے ہم آہنگ کرکے دکھایا،وہ جذبے ،جوش اور ولولے کے ساتھ نعت کہہ کر لوگوںکے دلوںکو گرماتے رہے:
دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہیؐ تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہیؐ تو ہو
پھوٹا جو سینہء شبِ تارِ الست سے
اس نورِ اولیں کا اجالا تمہیؐ تو ہو
علامہ اقبال نے اگرچہ کوئی باقاعدہ نعت نہیں لکھی لیکن اردو نعت گو ئی کا تذکرہ ان کے ذکر کے بغیرنامکمل ہے، ان کی متفرق منظومات میں جو نعتیہ اشعار موجود ہیں وہ فنی و فکری اعتبار سے اعلیٰ ہونے کے ساتھ ساتھ ندرت اور تازگی میں بھی اپنی مثال آپ ہیں، یہ جداگانہ اسلوب جو اقبال کو نصیب ہوا وہ کم یاب بلکہ نایاب ہے:
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِآبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
٭٭
سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفٰےؐ سے مجھے
کہ عالم ِ بشریت کی زد میں ہے گردوں
٭
وہ دانائے سبلؐ، ختم الرسلؐ ، مولائے کلؐ جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا
٭
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہِ دانشِ فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
قیام پاکستان کے وقت متعددایسے شاعر موجود تھے جو صرف نعت گو کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے، ضیا ء القادر ی،ماہر القادری ،کامل جونا گڑھی ،ذہین شاہ تاجی ،ادیب رائے پوری ،بہزاد لکھنوی،اکبر وارثی ،احسان دانش،شورش کا شمیری،صبا اکبر آبادی، محشر رسول نگری،وحیدہ نسیم،منور بدایونی،شمس مینائی، محمد ذکی کیفی،اثر صہبائی اور اسد ملتانی جیسے کئی شعرانے نعت کے فروغ اور ارتقا میںبھر پور کردار ادا کیا اور اس روایت کو آگے بڑھایا:
ہیں آسمانِ نبوت پہ آپؐ بدرِ منیر
حضورؐ آپؐ کے حلقے میں مہر و ماہ اسیر
ك(ضیاء القادری)
سلام اسؐ پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اسؐ پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
سلام اسؐ پر کہ اسرارِ محبت جس نے سمجھائے
سلام اسؐ پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے
سلام اسؐ پر کہ جس نے خوں کے پیا سوں کو قبائیں دیں
سلا م اسؐ پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں
(ماہر القادری)
ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے، قلبِ حیراں کی تسکیں وہیں رہ گئی
دل وہیں رہ گیا، جاں وہیں رہ گئی، خم اسی در پہ اپنی جبیں رہ گئی
(بہزاد لکھنوی)
جو خیال آیا تو خواب میں وہؐ جمال اپنا دکھا گئے
یہ مہک لہک تھی جنابؐ کی کہ مکان سارا بسا گئے
(اکبر وارثی)
یوں اس گلی میں چشمِ تمنا سجائی جائے
پلکوں پہ آنسوئوں کی کناری لگائی جائے
(احسان دانش)
اک اک ادا حضورؐ کی مشہود ہے یہاں
میرا رسولؐ آج بھی موجود ہے یہاں
(محشر رسول نگری)
صبا نعتِ رسولِ پاکؐ اپنے ہاتھ میں رکھو
شفاعت کی سند لے کر چلو دربارِ دوارؐ میں
(صبا اکبرآبادی)
عرش تک تو خیالوں نے سمجھا انہیںؐ
ختم آگے تخیل کی حد ہو گئی
(منور بدایونی)
انؐ کی اک نظر سے قبل، انؐ کی اک نظر کے بعد
ہر طرف اندھیرا تھا، ہر طرف اجالا ہے
(محمد ذکی کیفی)
نبیؐ کا عشق خدا کی اطاعتِ کامل
یہ دیں کی اصل ہے باقی تمام افسانے
(اسد ملتانی)
غارِ حرا سے کرب و بلا کے مقام تک
دیدہ وروں پہ فاش ہیں اسرارِ مصطفٰےؐ
(شورش کاشمیری)
آیا ہے تراؐ اسمِ مبارک میرے لب پر
گرچہ یہ زباں اس کی سزاوار نہیں ہے
(صوفی تبسم)

خراب فردِ عمل ہو نہ جائے اے سیماب
اسے جنابِ رسالت مآبؐ دیکھیں گے
(سیماب اکبر آبادی)
قیام پاکستان کے بعد اردونعت گوئی کے رجحان نے بہت ترقی کی اور جو شاعر صرف غزل کہہ رہے تھے وہ بھی نعت لکھنے لگے اور عہد موجود میں صورتحال یہ ہے کہ تقریباًہر شاعر نعت کہہ رہا ہے۔اردو میں جدید نعت گوئی کا آغاز قیام پاکستان کے ساتھ ہوتا ہے ،عصرِحاضر میں لکھی جانے والی نعت اسی جدید عہد کی توسیع اور تسلسل ہے ۔ ڈاکٹر ریاض مجید لکھتے ہیں ’’ مولانا حالی،علامہ اقبال،ظفر علی خان،حفیظ جالندھری اور اقبال سہیل نے اردو میں نعت کو فکری و فنی طور پر جن نئے امکانات سے روشناس کرایا اور اس میں واقعیت وحقیقت نگاری کی روایت اور قومی، ملی مسائل و موضوعات کے جن عناصر کو فروغ دیا،عصر ِحاضر کے نعت گو شاعروں نے انہی روایات و عناصر ِ نعت کی ترجمانی کی‘‘۔
(اردو میں نعت گو ئی۔ص489)
مذکورہ بالا شعراکی طرح بعد میں آنے والے شاعروں نے بھی جدید روایت نعت کی پاسداری کی۔ ان شعرا میں عبد العزیز خالد،حافظ مظہر الدین،عاصی کرنالی،حافظ لدھیانوی،حفیظ تائب،راسخ عرفانی، تابش دہلوی،محشر بدایونی ، حنیف اسعدی،عبدالکریم ثمر،ہلال جعفری،مظفر وارثی،قمر ہاشمی،اعجاز رحمانی، راجا رشید محمود، مسرور کیفی اور دیگر نے جدید نعت گوئی کی روایت کو فروغ دیا اور اس کے موضوع وفن، ہیئت و اسلوب میں تنوع پیدا کیا:
میں اور میرے فکر و بیاں کی بساط کیا
اسؐ کا کرم ہے اسؐ نے اجازت ثنا کی دی
(عبدالعزیز خالد)
جو حسن میرے پیشِ نظر ہے اگر اسے
جلوے بھی دیکھ لیں تو طوافِ نظر کریں
( حافظ مظہر الدین)
تپتے ہوئے صحرا میں کوئی جو نظر آئے
میں نعت لکھوں تو مجھے خوشبو نظر آئے
(مسرور کیفی)
خوشبو ہر ایک سانس میں شہرِ نبیؐ کی ہے
یہ کیفیت حضورؐ سے وابستگی کی ہے
( حافظ لدھیانوی)
دراڑوں کو بھی تیری رحمتوں نے باندھ رکھا ہے
فضا کتنی شکستہ ہے مگر منظر سلامت ہیں
( مظفر وارثی)
بے نیازی آپؐ سے وابستگی نے کی عطا
میں غنی کوئے پیمبرؐ کی گدائی سے ہوا
( حفیظ تائب)
آپؐ ان کے لیے بھی رحمت ہیں
جو زمانے ابھی نہیں آئے
(حنیف اسعدی)
منزلِ حبِ الہیٰ تک پہنچنے کے لیے
سرورِ کونینؐ کی الفت کا زینہ چاہیے
(سید ریاض الدین سہروردی)
شفق کا رنگ، ستاروں کی ضو، قمر کی ضیا
حبیبِ پاکؐ کے نور و ظہور کی رونق
(محمد علی ظہوری)
اعظم گزر رہی ہے کس آسودگی کے ساتھ
سایہ ہے انؐ کا سر پہ مرے آسماں نہیں
( اعظم چشتی)
دلِ کلیم ہے اس کے کلام سے روشن
خوشا تجلیِ طورِ محمدؐ عربی
(رئیس امروہوی)
اللہ اللہ رخِ مصطفےؐ کی ضیا
جس نے دیکھا خدا پر یقیں آگیا
(صفیہ شمیم ملیح آبادی)
میں جو اک برباد ہوں آباد رکھتا ہے مجھے
دیر تک اسمِ محمدؐ شاد رکھتا ہے مجھے
(منیر نیازی)
پتھروں میں بھی لہو دوڑ گیا
اس قدر عام تھی رحمت انؐ کی
( احمد ندیم قاسمی)
درِ حضورؐ پہ پہنچوں تو ان ؐ کی نذر کروں
چمک رہے ہیں جو پلکوں پہ آبگینے سے
(راسخ عرفانی)
٭ ٭ ٭ ٭


متعلقہ خبریں


گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان وجود - جمعه 05 جون 2026

پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، 11 ماہ میں تجارتی خسارہ 34 ارب 75 کروڑ ڈالر ریکارڈ 11 ماہ میں برآمدات 27 ارب 90 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رہیں، برآمدات میں 5۔61 فیصد کی کمی ہوئی،ادارہ شماریات پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا...

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی وجود - جمعرات 04 جون 2026

خلیج میں رات گئے ہونے والی کارروائیوں کی مزید تفصیلات جاری، ایرانی مفادات پر کسی بھی حملے کا جواب پہلے سے زیادہ شدید انداز میں دیا جائے گا، امریکا کو سخت پیغام ایرانی بحریہ نے پانایا نامی ایک ایسے بحری جہاز پر میزائل داغے جو امریکی اور اسرائیلی مفادات سے وابستہ تھا،ہم پہلے ہی خب...

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع وجود - جمعرات 04 جون 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوانے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی،خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی کے وژن کو ووٹ دیا وفاق اب کے پی کے لوگوں کو اسی بات کی سزا دے رہا ہے، بانی کی آنکھ کا 25 فیصد نقصان ہو چکا، علاج اور ملاقاتوں میں رکاوٹ تشویشناک ہ...

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع وجود - جمعرات 04 جون 2026

ذرائع نے سہیل آفریدی کی جانب سے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے اعلان سے متعلق کہا ہے کہ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو احتجاج کے اعلان اور فیصلے سے لاعلم رکھا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماں اورپی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے احتجاج کے حوالے سے مشاورت نہیں کی گئی۔پی ٹی آئی ذرائ...

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر