وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اکیسویں صدی میںاردو نعت

اتوار 20 مئی 2018 اکیسویں صدی میںاردو نعت

اردو میں نعتیہ شاعری کی تاریخ بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود اردو زبان ۔اردو شاعری کے ہر دور میں شعرانے روایت کی پاسداری میں یا تبرک کے طورپر نعت ضرور کہی ہے لیکن بعض ایسے شاعر بھی گذرے ہیں جنہوں نے نعت ہی کو موضوعِ سخن بنا یا،ان میں کفایت اللہ کافی مراد آبادی، لطف بدایونی،محسن کاکوروی ؒاور امام احمد رضا خان بریلویؒ کے اسمائے گرامی آب ِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں،موخرالذکر دونوں شعرانے تو نعت کو اوجِ کمال تک پہنچا دیا،اردو میں آج تک جتنی بھی نعت لکھی گئی وہ ان شعراکے اثر سے خالی نہیں رہی۔محسن کاکورویؒ کے قلم سے صفحہ ِقرطاس پر آنے والا ہر لفظ کیف ومستی اور سوز وگداز سے لبریز ہے،ان کی شعری کائنات پاکیزہ فکری،بلندی ِنگاہ،ندرت ِ بیان اور نادر تشبیہات و استعارات کا مجموعہ ہے،انہوں نے زیادہ تر قصیدہ کی ہیئت میں نعت کہی ہے لیکن رباعی اور مسدس و مخمس کی ہیئت میں بھی طبع آزمائی کی ،انہوں نے گلدستۂ رحمت، ابیاتِ نعت،مدیح خیر المرسلینؐ،چراغِ کعبہ،صبحِ تجلی سمیت درجن بھر کتب یادگار چھوڑی ہیں،ان کے قصیدہ ِ لامیہ نے انہیں بامِ عروج تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے جس کا آغاز انہوں نے ایک اچھوتے اورمنفردشعر سے کیا:

سمتِ کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل
برق کے کاندھے پہ لائی ہے صبا گنگا جل

شہرت و مقبولیت اور فنی محاسن کے حوالے سے نعتیہ قصائد کی تاریخ میںقصیدہ ِلامیہ اپنی مثال آپ ہے، خالص نعتیہ اشعار ملاحظہ ہوں:

گلِ خوش رنگ رسولِ مدنی العربیؐ
زیبِ دامانِ ابد، طرہِ دستارِ ازل
نہ کوئی اس کا مشابہ ہے نہ ہمسر نہ نظیر
نہ کوئی اس کا مماثل نہ مقابل نہ بدل
اوجِ رفعت کا قمر، نخلِ دو عالم کا ثمر
بحرِ وحدت کا گہر، چشمہِ کثرت کا کنول
مرجعِ روحِ امیں، زیبدہِ عرشِ بریں
حامیِ دینِ متیں، ناسخِ ادیان و ملل

اردو نعت گوئی میں محسن کاکوروی ؒکے ساتھ امام احمد رضا خان ؒ کی خدمات بھی بے بدل رہیں،انہوں نے جس وارفتگی،محبت و عقیدت اور قلبی وابستگی سے نعت کہی وہ انہی کا حصہ ہے۔ انہوں نے قرآن ِ پاک اور احادیث مبار کہ کے حوالوں کو تخلیقی سطح پر نعت کا حصہ بنایا،ان کی کئی نعتیں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں،ان کے سلام ’’ مصطفٰے ؐجانِ رحمت پہ لاکھوں سلام ‘‘ کو تو دنیا بھر میں بے پناہ مقبولیت نصیب ہو ئی۔ چند اشعار دیکھیے:

مصطفٰےؐ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
جس سے تاریک دل جگمگانے لگے
اس چمک والی رنگت پہ لاکھوں سلام
جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا
اس جبینِ سعادت پہ لاکھوں سلام
وہ دہن جس کی ہر بات وحیِ خدا
چشمہِ علم و حکمت پہ لا کھوں سلام

امام احمد رضا خان نے نعت گوئی میںجو رنگ ِ سخن متعارف کرایا عہدِ موجودکی نعت میںبھی اس کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے،انہوں نے فنی کمالات کے ساتھ ساتھ لسانی تشکیلات،اصطلاحات اور تلمیحات کا بھی ایک نیا نظام متعارف کرایااور عربی،فارسی اور ہندی زبان کی پیوندکاری کو بھی خوبصورتی سے نعتیہ شاعری کا حصہ بنایا، زبان وبیان کے حوالے سے اردو کی نعتیہ شاعری کوایک منفرد اسلوب سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ انہوںنے قرآن ِ پاک اورکتبِ حدیث کی تفاسیرکے علاوہ نعت،تاریخ،سیرت و مناقب ، ادب ، نحو،فقہ و تجویداور تصوف سمیت مختلف علوم پر سیکڑوں کتابیں یادگار چھوڑی ہیں:

انؐ کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں
جس راہ چل دیے ہیں، کوچے بسا دیے ہیں
٭
نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذی شان گیا
ساتھ ہی منشیِ رحمت کا قلم دان گیا
٭
لحد میں عشقِ رخِ شہؐ کا داغ لے کے چلے
اندھیری رات سنی تھی چراغ لے کے چلے
٭
حاجیو! آئو شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو

محسن کاکوروی اور امام احمد رضا خان کے علاوہ اس دور میں امیر مینائی اورکرامت علی شہیدی نے بھی نعت گوئی کی تاریخ بنانے میں اہم کردار اد اکیا،جنگ ِآزادی اور اس کے بعد اردو نعت مختلف قومی اور ملی تحریکوں کے اثرات سمیٹ کر حالی سے ہوتی ہوئی اقبال تک پہنچتی ہے تو اس میں موضوعات اور اسالیب میں وسعت پیدا ہو چکی ہو تی ہے،دربارِ رسولؐ میں عرض ِ حال اور استمداد واستعغاثہ کا اندازاسی عہد کی عطا ہے،حالی اور ان کے بعد مولانا شبلی، اسماعیل میرٹھی، نظم طباطبائی،اکبر وارثی ،مولانا ظفر علی خان، مولانا محمد علی جوہر،علامہ اقبال، اقبال سہیل ،حفیظ جالندھری، مولانا حسن رضا خان، مفتی غلام سرورلاہوری،مفتی دیدار علی شاہ اور بیدم وارثی سمیت کئی شعرا نے نعت گوئی کی روایت کو پروان چڑھایا۔ اگرچہ مومن خان مومن اور انشا ء اللہ خان انشاء کے نعتیہ کلام کا تذکرہ کم کم ہی ملتا ہے لیکن انہوں بھی کمال کی نعت کہی ہے۔انشا کے ایک مخمس اور مومن کے قصیدے سے اقتباس ملاحظہ کیجئے جس میں انہوں کس قدر مشکل قافیہ کو نبھایا:

چمن میں نغمۂ بلبل ہے یوں طرب مانوس
کہ جیسے صبحِ شبِ ہجر ، نالہ ہائے فروس
ہوا ہے کون سی ایسی مگر ’’مدینے کی‘‘
دمِ مسیحؑ کو ہے جس کی حسرتِ پابوس
٭
خمیدہ کس لیے نُہ آسماں بنے تھے بھلا
نہ تھا ازل سے جو مدِ نظر ترا پابوس
بہا میں دیتی ہے ماہی دفینہ ہائے زمیں
یہ بڑھ گئی ترے سکے سے قدر تا بہ فلوس
(مومن)
عرش کی کچھ نہیں فقط قائمہ ء جلیل پر
لوحِ جبین ِ مہر پر چشمہ ء سلسبیل پر
ثبت یہی نقوش ہیں عدن کی ہر فصیل پر
صلِ علی نبینا صل علی محمدؐ
(انشاء)
مولانا ظفر علی خان نے سرکار کی ثنا خوانی میں آپ ﷺ کے جو اوصاف بیان کیے انہیں زندگی کی حقیقتوں سے ہم آہنگ کرکے دکھایا،وہ جذبے ،جوش اور ولولے کے ساتھ نعت کہہ کر لوگوںکے دلوںکو گرماتے رہے:
دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہیؐ تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہیؐ تو ہو
پھوٹا جو سینہء شبِ تارِ الست سے
اس نورِ اولیں کا اجالا تمہیؐ تو ہو
علامہ اقبال نے اگرچہ کوئی باقاعدہ نعت نہیں لکھی لیکن اردو نعت گو ئی کا تذکرہ ان کے ذکر کے بغیرنامکمل ہے، ان کی متفرق منظومات میں جو نعتیہ اشعار موجود ہیں وہ فنی و فکری اعتبار سے اعلیٰ ہونے کے ساتھ ساتھ ندرت اور تازگی میں بھی اپنی مثال آپ ہیں، یہ جداگانہ اسلوب جو اقبال کو نصیب ہوا وہ کم یاب بلکہ نایاب ہے:
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِآبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
٭٭
سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفٰےؐ سے مجھے
کہ عالم ِ بشریت کی زد میں ہے گردوں
٭
وہ دانائے سبلؐ، ختم الرسلؐ ، مولائے کلؐ جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا
٭
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہِ دانشِ فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
قیام پاکستان کے وقت متعددایسے شاعر موجود تھے جو صرف نعت گو کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے، ضیا ء القادر ی،ماہر القادری ،کامل جونا گڑھی ،ذہین شاہ تاجی ،ادیب رائے پوری ،بہزاد لکھنوی،اکبر وارثی ،احسان دانش،شورش کا شمیری،صبا اکبر آبادی، محشر رسول نگری،وحیدہ نسیم،منور بدایونی،شمس مینائی، محمد ذکی کیفی،اثر صہبائی اور اسد ملتانی جیسے کئی شعرانے نعت کے فروغ اور ارتقا میںبھر پور کردار ادا کیا اور اس روایت کو آگے بڑھایا:
ہیں آسمانِ نبوت پہ آپؐ بدرِ منیر
حضورؐ آپؐ کے حلقے میں مہر و ماہ اسیر
ك(ضیاء القادری)
سلام اسؐ پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اسؐ پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
سلام اسؐ پر کہ اسرارِ محبت جس نے سمجھائے
سلام اسؐ پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے
سلام اسؐ پر کہ جس نے خوں کے پیا سوں کو قبائیں دیں
سلا م اسؐ پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں
(ماہر القادری)
ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے، قلبِ حیراں کی تسکیں وہیں رہ گئی
دل وہیں رہ گیا، جاں وہیں رہ گئی، خم اسی در پہ اپنی جبیں رہ گئی
(بہزاد لکھنوی)
جو خیال آیا تو خواب میں وہؐ جمال اپنا دکھا گئے
یہ مہک لہک تھی جنابؐ کی کہ مکان سارا بسا گئے
(اکبر وارثی)
یوں اس گلی میں چشمِ تمنا سجائی جائے
پلکوں پہ آنسوئوں کی کناری لگائی جائے
(احسان دانش)
اک اک ادا حضورؐ کی مشہود ہے یہاں
میرا رسولؐ آج بھی موجود ہے یہاں
(محشر رسول نگری)
صبا نعتِ رسولِ پاکؐ اپنے ہاتھ میں رکھو
شفاعت کی سند لے کر چلو دربارِ دوارؐ میں
(صبا اکبرآبادی)
عرش تک تو خیالوں نے سمجھا انہیںؐ
ختم آگے تخیل کی حد ہو گئی
(منور بدایونی)
انؐ کی اک نظر سے قبل، انؐ کی اک نظر کے بعد
ہر طرف اندھیرا تھا، ہر طرف اجالا ہے
(محمد ذکی کیفی)
نبیؐ کا عشق خدا کی اطاعتِ کامل
یہ دیں کی اصل ہے باقی تمام افسانے
(اسد ملتانی)
غارِ حرا سے کرب و بلا کے مقام تک
دیدہ وروں پہ فاش ہیں اسرارِ مصطفٰےؐ
(شورش کاشمیری)
آیا ہے تراؐ اسمِ مبارک میرے لب پر
گرچہ یہ زباں اس کی سزاوار نہیں ہے
(صوفی تبسم)

خراب فردِ عمل ہو نہ جائے اے سیماب
اسے جنابِ رسالت مآبؐ دیکھیں گے
(سیماب اکبر آبادی)
قیام پاکستان کے بعد اردونعت گوئی کے رجحان نے بہت ترقی کی اور جو شاعر صرف غزل کہہ رہے تھے وہ بھی نعت لکھنے لگے اور عہد موجود میں صورتحال یہ ہے کہ تقریباًہر شاعر نعت کہہ رہا ہے۔اردو میں جدید نعت گوئی کا آغاز قیام پاکستان کے ساتھ ہوتا ہے ،عصرِحاضر میں لکھی جانے والی نعت اسی جدید عہد کی توسیع اور تسلسل ہے ۔ ڈاکٹر ریاض مجید لکھتے ہیں ’’ مولانا حالی،علامہ اقبال،ظفر علی خان،حفیظ جالندھری اور اقبال سہیل نے اردو میں نعت کو فکری و فنی طور پر جن نئے امکانات سے روشناس کرایا اور اس میں واقعیت وحقیقت نگاری کی روایت اور قومی، ملی مسائل و موضوعات کے جن عناصر کو فروغ دیا،عصر ِحاضر کے نعت گو شاعروں نے انہی روایات و عناصر ِ نعت کی ترجمانی کی‘‘۔
(اردو میں نعت گو ئی۔ص489)
مذکورہ بالا شعراکی طرح بعد میں آنے والے شاعروں نے بھی جدید روایت نعت کی پاسداری کی۔ ان شعرا میں عبد العزیز خالد،حافظ مظہر الدین،عاصی کرنالی،حافظ لدھیانوی،حفیظ تائب،راسخ عرفانی، تابش دہلوی،محشر بدایونی ، حنیف اسعدی،عبدالکریم ثمر،ہلال جعفری،مظفر وارثی،قمر ہاشمی،اعجاز رحمانی، راجا رشید محمود، مسرور کیفی اور دیگر نے جدید نعت گوئی کی روایت کو فروغ دیا اور اس کے موضوع وفن، ہیئت و اسلوب میں تنوع پیدا کیا:
میں اور میرے فکر و بیاں کی بساط کیا
اسؐ کا کرم ہے اسؐ نے اجازت ثنا کی دی
(عبدالعزیز خالد)
جو حسن میرے پیشِ نظر ہے اگر اسے
جلوے بھی دیکھ لیں تو طوافِ نظر کریں
( حافظ مظہر الدین)
تپتے ہوئے صحرا میں کوئی جو نظر آئے
میں نعت لکھوں تو مجھے خوشبو نظر آئے
(مسرور کیفی)
خوشبو ہر ایک سانس میں شہرِ نبیؐ کی ہے
یہ کیفیت حضورؐ سے وابستگی کی ہے
( حافظ لدھیانوی)
دراڑوں کو بھی تیری رحمتوں نے باندھ رکھا ہے
فضا کتنی شکستہ ہے مگر منظر سلامت ہیں
( مظفر وارثی)
بے نیازی آپؐ سے وابستگی نے کی عطا
میں غنی کوئے پیمبرؐ کی گدائی سے ہوا
( حفیظ تائب)
آپؐ ان کے لیے بھی رحمت ہیں
جو زمانے ابھی نہیں آئے
(حنیف اسعدی)
منزلِ حبِ الہیٰ تک پہنچنے کے لیے
سرورِ کونینؐ کی الفت کا زینہ چاہیے
(سید ریاض الدین سہروردی)
شفق کا رنگ، ستاروں کی ضو، قمر کی ضیا
حبیبِ پاکؐ کے نور و ظہور کی رونق
(محمد علی ظہوری)
اعظم گزر رہی ہے کس آسودگی کے ساتھ
سایہ ہے انؐ کا سر پہ مرے آسماں نہیں
( اعظم چشتی)
دلِ کلیم ہے اس کے کلام سے روشن
خوشا تجلیِ طورِ محمدؐ عربی
(رئیس امروہوی)
اللہ اللہ رخِ مصطفےؐ کی ضیا
جس نے دیکھا خدا پر یقیں آگیا
(صفیہ شمیم ملیح آبادی)
میں جو اک برباد ہوں آباد رکھتا ہے مجھے
دیر تک اسمِ محمدؐ شاد رکھتا ہے مجھے
(منیر نیازی)
پتھروں میں بھی لہو دوڑ گیا
اس قدر عام تھی رحمت انؐ کی
( احمد ندیم قاسمی)
درِ حضورؐ پہ پہنچوں تو ان ؐ کی نذر کروں
چمک رہے ہیں جو پلکوں پہ آبگینے سے
(راسخ عرفانی)
٭ ٭ ٭ ٭


متعلقہ خبریں


خطبہ حج کے فوری ترجمہ پروگرام کو 22 ملین زائرین وزٹ کرچکے ہیں وجود - بدھ 05 اگست 2020

الحرمین الشریفین کے انتظامی امور کی ذمہ دار جنرل پریذیڈنسی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خطبہ حج کا مختلف زبانوں میں براہ راست اور فوری ترجمہ پروگرام کامیابی کے ساتھ اپنی منزلیں طے کر رہا ہے ۔ تین سال پیشتر شروع کیے گئے اس پروگرام میں رواں سال 10 زبانوں میں میدان عرفات سے خطبہ حج براہ راست پیش کیا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ رواںسال کرونا وبا کی وجہ سے حج متاثر ہوا مگر اس کے باوجود میدان عرفات سے خطبہ حج کے ترجمہ پروگرام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ ترجمہ پروگرام کو پوری ...

خطبہ حج کے فوری ترجمہ پروگرام کو 22 ملین زائرین وزٹ کرچکے ہیں

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کر لی وجود - بدھ 05 اگست 2020

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔اس وقت دنیابھر میں 160 سے زیادہ گروپس اور ادارے کورونا وائرس یعنی کووڈ 19 کی ویکسیین کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ماہرین کورونا وائرس سے متعلق نئی سے نئی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ایسے موقع پر جب کورونا کی ویکسین کے لیے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں، روسی سائسندانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کی ایک کمزوری بھی تلاش کر لی ہے ۔روس میں ریسرچ کے ادارے ویکٹر اسٹیٹ ریسرچ سینٹر آف وائرولوجی...

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کر لی

بھارتی ذرائع ابلاغ کے تبصرے بیمار ذہنیت کی نشانی ہیں 'بنگلہ دیش وجود - هفته 01 اگست 2020

بنگلہ دیش کی ''کوئی دشمن نہیں''کی ڈپلومیسی کے باعث پاکستان سے تعلقات بہتر ہورہے ہیں اور اس قربت پر بھارت میں ہونے والے تبصروں پر بنگلہ دیشن کے وزیر خارجہ عبدالمومن نے کہا ہے کہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے تبصرے بیمار ذہنیت کی نشانی ہیں ، کسی کو ہمیں ڈکٹیٹ کرنے کا حق نہیں ۔ ترک خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیشی رہنمائوں کے درمیان حالیہ رابطوں سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی موہوم سی امید پیدا ہو چلی ہے ۔مبصرین کے مطابق دسمبر 1971 میں انتہائی خون خرابے کے بعد زوا...

بھارتی ذرائع ابلاغ کے تبصرے بیمار ذہنیت کی نشانی ہیں 'بنگلہ دیش

مصرمیں قبل از وقت اذان مغرب، لاکھوں روزہ داروں نے نفلی روزہ توڑ دیا وجود - هفته 01 اگست 2020

مصر میں القرآن چینل پر نماز مغرب کی اذان وقت سے پہلے دیے جانے کے نتیجے میں لاکھوں روزہ دار روز توڑ بیٹھے ۔عرب ٹی وی کے مطابق یوم عرفہ کو مغرب کی اذان وقت مقررہ سے 4 منٹ قبل دے دی گئی جسے سنتے ہی لاکھوں افراد نے نفلی روزہ کھول دیا۔اس واقعے کے بعد حکام نے ٹی وی چینل کے عہدیداروں کو تحقیقات اور انکوائری کے لیے طلب کرلیا گیا ہے ۔انکوائری کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ آیا قبل از وقت اذان کسی فنی خرابی سے نشر ہوئی یا یہ کسی شخص کی دانستہ شرارت تھی۔ تحقیقات کے بعد اس واقعے کے ذمہ دار...

مصرمیں قبل از وقت اذان مغرب، لاکھوں روزہ داروں نے نفلی روزہ توڑ دیا

یوکرین کا ایران سے طیارہ حادثے پر بھاری معاوضہ وصول کرنے کا اعلان وجود - هفته 01 اگست 2020

یوکرین کی حکومت نے ایران میں ایک میزائل حملے میں تباہ ہونے والے اپنے مسافر جہاز کے واقعے پر ایران سے بھاری معاوضہ وصول کرنے کا اعلان کیا ہے ۔یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کالیبا نے کہا کہ ان کا ملک 8 جنوری کو ایران یوکرین کے جہاز کو فضا میں میزائل سے تباہ کرنے کا زیادہ سے زیادہ معاوضہ وصول کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت شروع ہوئی ہے مگر یہ بات چیت اتنی آسان نہیں ہو گی۔ایرانی افواج کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ سخت کشیدگی کے وقت ...

یوکرین کا ایران سے طیارہ حادثے پر بھاری معاوضہ وصول کرنے کا اعلان

امریکہ صدارتی انتخابات سے پہلے نئی سرد جنگ چاہتا ہے 'چین وجود - هفته 01 اگست 2020

برطانیہ میں چین کے سفیر کا کہنا ہے کہ امریکہ نومبر کے صدارتی انتخابات کی وجہ سے چین کے ساتھ ایک نئی سرد جنگ شروع کرنا چاہتا ہے ۔برطانیہ میں چین کے سفیر لیو زیاؤمنگ کا لندن میں رپورٹرز سے گفتگو میں کہنا تھا کہ صدارتی انتخابات سے پہلے امریکہ' 'قربانی کا بکرا'' ڈھونڈ رہا ہے اس لیے وہ چین کے ساتھ ایک نئی سرد جنگ چھیڑنا چاہتا ہے ۔'یہ چین نہیں جو جارح بنا ہوا ہے بلکہ دوسرا فریق ہے جو کہ چین کے خلاف سرد جنگ شروع کرنا چاہتا ہے ۔ اور ہمیں اس کا جواب دینا پڑ رہا ہے ۔چین کے سفیر کا کہنا...

امریکہ صدارتی انتخابات سے پہلے نئی سرد جنگ چاہتا ہے 'چین

ہواوے دنیا کا سب سے بڑا اسمارٹ فون فروخت کنندہ بن گیا وجود - هفته 01 اگست 2020

سال 2020 کی دوسری سہ ماہی میں سام سنگ الیکٹرانکس کو پیچھے چھوڑ دینے کے بعد ہواوے دنیا کا سب سے بڑا اسمارٹ فون فروخت کنندہ بن گیا ہے ۔ریسرچ فرم کینیلس کے اعداد و شمار کے مطابق ہواوے نے سام سنگ کی 53.7 ملین کے مقابلے میں 55.8 ملین ڈویوائسز فروخت کیں۔پچھلے سال دوسری سہ ماہی میںکمپنی کی بیرون ملک شپمنٹس میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی لیکن کمپنی نے چینی مارکیٹ پر اپنے تسلط کو بہتر بنایا ہے جو کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے میں تیز رفتار رہا ہے اور یہاں ہواوے اب 70 فیصد سے زائد اپنے ہینڈ ...

ہواوے دنیا کا سب سے بڑا اسمارٹ فون فروخت کنندہ بن گیا

ایران میں شرح پیدائش میں کمی پر رہنما ء پریشان وجود - هفته 01 اگست 2020

1980 کی دہائی میں ایران میں شرحِ پیدائش غیر معمولی طور پر بلند تھا۔ حالیہ برسوں میں اس میں اتنی کمی واقع ہوئی کہ ملکی رہنماؤں نے اس پر پریشانی کا اظہار شروع کر دیا ہے ۔ 1979 کا ایران مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی آبادی کا ملک تھا۔ اسلامی انقلاب کے بعد ایرانی شیعہ علماء اس کثیر آبادی کے تناظر میں اپنے ملک کو ایک طاقتور شیعہ ریاست خیال کرتے تھے جو خلیج فارس اور خطے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی اہل تھی۔اسلامی انقلاب کے کچھ ہی مہینوں بعد ایران کو سن 1980 کی دہائی میں عراق کے ساتھ خ...

ایران میں شرح پیدائش میں کمی پر رہنما ء پریشان

امریکی معیشت کو 2020 کی دوسری سہ ماہی میں بدترین دھچکا وجود - هفته 01 اگست 2020

امریکی معیشت کو سال 2020 کی دوسری سہ ماہی میں بدترین دھچکا پہنچا ہے ، تجارتی ویب سائٹ کے مطابق دوسری سہ ماہی میں امریکی معیشت 32 اعشاریہ 9 فیصد کے سالانہ اندازوں کے حساب سے سکڑی ہے ۔تجارتی ویب سائٹ کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے امریکا کو معاشی کساد بازاری کا سامنا ہے ، وبا نے کاروباری مصروفیات کو بند کردیا اور شہریوں کو گھر بٹھا دیا ہے ۔ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ معیشت میں بہتری اسی صورت میں ممکن ہوسکتی ہے جب کورونا کی وبا پر موثر طریقے سے قابو پایا جائے اور وائرس کی نئی لہر کو...

امریکی معیشت کو 2020 کی دوسری سہ ماہی میں بدترین دھچکا

کورونا سے نمٹنے میں بھارتی حکومت ناکام ہوگئی، امریکی ٹی وی وجود - بدھ 22 جولائی 2020

کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے میں بھارتی حکومت کی ناکامی بے نقاب ہوگئی۔ امریکی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت وبا کے دوران اپنے شہریوں کے تحفظ کی بنیادی ذمے داری اٹھانے میں بھی ناکام رہی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں کورونا مریضوں کی تعداد 10لاکھ کا ہندسہ چھو چکی ہے اور اس حوالے سے بھارت دنیا میں تیسرے نمبر پر آچکا ہے ۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت میں دس لاکھ شہریوں میں سے صرف نو ہزار، جبکہ ایک ہزار میں سے صرف نو افراد کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔دوسری جانب بھارت می...

کورونا سے نمٹنے میں بھارتی حکومت ناکام ہوگئی، امریکی ٹی وی

جسمانی طورپرفعال رہناہائی بلڈ پریشر جیسی بیماری سے بچنے میں مددگار، تحقیق وجود - بدھ 22 جولائی 2020

طبی جریدے جرنل سرکولیشن میں شائع تحقیق میں فضائی آلودگی اور جسمانی سرگرمیوں کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا کیونکہ اس وقت دنیا بھر میں 91 فیصد افراد ایسے خطوں میں مقیم ہیں، جہاں فضائی آلودگی کی شرح عالمی ادارہ صحت کی گائیڈلائنز سے زیادہ ہے ۔ہانگ کانگ کے جوکی کلب اسکول آف پبلک ہیلتھ اینڈ پرائمری کیئر کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ شہری علاقوں میں چاردیواری سے باہر زیادہ وقت رہنے سے فضائی آلودگی میں رہنے کا امکان بڑھتا ہے ، جو صحت کے لیے نقصان دہ اثرات مرتب کرتا ہے ۔تحقیق میں بتا...

جسمانی طورپرفعال رہناہائی بلڈ پریشر جیسی بیماری سے بچنے میں مددگار، تحقیق

مظاہروں کے سبب امریکا کی صورتحال افغانستان سے بدتر ہوگئی، ٹرمپ وجود - بدھ 22 جولائی 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مظاہروں کے سبب امریکا کی صورتحال افغانستان سے بھی بدتر ہوگئی ہے ۔ جو بائیڈن کا جیتنا ملک کو دوزخ میں دھکیلنے کے مترادف ہوگا، اس لیے ری پبلکنز امریکا کو دوزخ میں دھکیلنے کی کوششیں ناکام بنادیں گے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ نسل پرستی کیخلاف احتجاج کرنیوالوں کو کچلنے کے لیے اہم شہروں میں قانون نافذ کرنیوالے اہلکار بھیجے جائیں گے ۔ پورٹ لینڈ اور اوریگن میں اہلکاروں کو بغیر وردی کے تعینات کیا جائے گا اور وہ سادہ گاڑیوں میں گشت کریں ...

مظاہروں کے سبب امریکا کی صورتحال افغانستان سے بدتر ہوگئی، ٹرمپ