وجود

... loading ...

وجود

تھر کے آثار قدیمہ میں چھپے خزانے

اتوار 20 مئی 2018 تھر کے آثار قدیمہ میں چھپے خزانے

پاکستان کا سب سے بڑا صحراتھر، اپنے اندر قدرت کے کئی خوب صورت رنگ سمیٹے ہوئے ہے۔ جہاں کہیں اڑتی ریت نظر آتی ہے تو کہیں لہلہاتے کھیت، کہیں ٹیلے ہیں تو کہیں پہاڑ اور کہیں تاریخی مقامات ،غرض کہ یہ قدرت کے دل کش مناظر کا شاہکار صحرا طبعی خصوصیات سے پوری طرح مزین ہے۔ یہ سندھ کا وہ خطہ ہے ،جو نہ صرف معدنی دولت سے مالامال ہے بلکہ جغرافیائی طور پر بھی اس کی اہمیت انکار نہیں کیا جاسکتا۔

ساڑھے 3 سو کلو میٹر تک بھارت سے جڑا یہ صحرا بہت حساس گردانا جاتا ہے۔یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ شہنشاہ اکبر کی جائے پیدائش عمر کوٹ ہے، اسی وجہ سے جب شہنشاہ اکبر نے تخت و تاج سنبھالا تو تھرپارکر کو تمام ٹیکسوں سے مستثنیٰ کر دیا تھا۔یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والوں نے حکمرانی کی ہے۔ جن کی ترجمانی یہاں کے کھنڈرات اور آثار قدیمہ کرتے ہیں، جن میں جین دھرم، بدھ مت کے مندر، گوو شالے اور بوڈھیسر کی مسجد وغیرہ شامل ہیں۔صحرا کے تاریخی مقامات آج بھی شان دار ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔تھر کے قدیم شہروں میں کاسبو، کیرتھی، ویر واہ، بوڈھیسر، امر کوٹ اور پاری نگر شامل ہیں، جب کہ مٹھی، اسلام کوٹ، ڈیپلو، چیل مہار ایک اندازے کے مطابق ایک صدی سے زائد عرصہ پہلے آباد ہوئے۔ تھرپارکر کے صدر مقام مٹھی میں میروں نے اپنے دور اقتدار میں دو قلعے تعمیر کروائے تھے ،جوآج بھی موجود ہیں۔ ’’گھڑی بھٹ ‘‘مٹھی کا وہ مقام ہے، جہاں سے آپ پورے مٹھی کا نظارہ کرسکتے ہیں، اب تو وہاں ایک یادگار بھی تعمیرکردی گئی ہے ،جہاں سیڑھیوں سے اوپر جا کر مٹھی شہر کا نظارہ کرسکتے ہیں، یہ نظارہ انتہائی دیدہ زیب ہوتا ہے۔’’بھالوا ‘‘اس تھری عورت کا گاوں ہے، جس کے بغیر تھر کے بارے میں لکھی ہوئی، تمام باتیں نامکمل رہ جاتی ہیں۔

اس بہادر عورت نے حکمراں عمر سومرو کی طرف سے شادی کی پیشکش ٹھکرا دی تھی اور رانی کے بہ جائے تھر کی ماروی بن کر رہنے کو فوقیت دی تھی۔ اسی گائوں میں ماروی کا کنواں بھی موجود ہے، جو اب ماروی کلچرل کمپلیکس میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اس شا ن دارر عمارت میں ماروی اور اس کی سہیلی کی مٹی سے بنی مورتیاں، اس زمانے میں استعمال ہونے والے برتن اور چرخہ بھی رکھے گئے ہیں۔جو یہاں آنے والوں کی توجہ کا خاص مرکز ہوتے ہیں۔

ھالوا سے چھ کلو میٹر دور گوری کے ’’جین کا مندر‘‘ میں چمگادڑوں کا مسکن دیکھ کر بہت حیرانی ہوتی ہے، اسے دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے، گویا کوئی نقش نگاری کی گئی ہو۔یہ مندر تین حصوں پرمشتمل تھا۔ پہلا حصہ صحن جہاں مندر کا پجاری بیٹھا ہوا تھا،دوسرا ایک گول سا ہال اوراس پر ایک گنبد اور اس ہال سے گزر کر اندر ایک اور کمرا جہاں کسی زمانے میں مورتی رکھی جاتی ہوگی، اور اس کے ساتھ ہی چھوٹے چھوٹے کمرے پجاریوں کے لیے بنے ہوئے تھے۔ اسلام کوٹ کا قلعہ میروں کے ابتدائی دور 1795ء میں تعمیر کیا گیا تھا، جس کا مقصد تھر پر اپنی اجارا داری کو مضبوط رکھنا تھا۔ یہ قلعہ 386 مربع فیٹ چوڑا تھا، جس میں ہر وقت میروں کی مسلح افواج مقامی بغاوت کو کچلنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ اب اس تاریخی قلعہ کے آثار زمین درگور ہوچکے ہیں۔

ٹھی سے ننگرپارکر جاتے ہوئے وروئی نامی ایک چھوٹا سا گائوں آتا ہے۔ یہاں کے لوگ جین مذہب کے پیرو کار ہیں، اسی لیے یہاں جین مذہب کا مندر تاحال موجود ہے۔ ویرا واہ بھی ننگرپارکر سے تھوڑا آگے جا کر تاریخی بندرگاہ پاری نگر کے ساتھ ہے، یہاں پر بھی جین مذہب کے مندر موجود ہیں۔تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک قدیم اور مہذب لوگوں کا ساحلی شہر تھا، لیکن بارہویں صدی میں قدرتی آفات کی وجہ سے یہ شہر برباد ہوگیا اور اب یہاں اینٹوں کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں۔ ویر واہ میں صرف ایک جین مندر پوری طرح باقی ہے ،جو اس دور کے فن مہارت اور لوگوں کے رہن سہن کی داستان سنا رہا ہے۔ ویر واہ کے قرب و جوار میں ہزاروں ایکڑ رقبے پر چینی مٹی کا ذخیرہ موجود ہے، جسے ’’چائنا کلے‘‘ کہا جاتا ہے۔ بوڈھیسر ایک قدیم شہر جو پارکر کے مشہور پہاڑی سلسلہ کارونجھر کے دامن میں واقع ہے۔ اسے پرانے زمانے میں بوڈھیسر نگری بھی کہا جاتا تھا۔

یہ اس وقت کے آباد اور مہذب شہروں میں سے ایک تھا، یہاں تالاب کی نشانیاں بھی ملتی ہیں جسے اب ڈیم کی شکل دے دی گئی ہے، کہا جاتا ہے کہ یہ وسیع تالاب مقامی آبادیوں کی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے شہرت کا حامل تھا۔بوڈھیسر کارونجھر پہاڑ کے دامن میں ہونے کی وجہ سے بارشوں کا پانی اس تالاب میں جمع ہوجاتا تھا ، یہ پانی مقامی لوگوں اور مال مویشیوں کے کام آتا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سلطان محمود غزنوی سومناتھ کا قلعہ فتح کرنے کے بعد واپس اسی راستے سے گزر رہے تھے، توجاتے ہوئے قافلے کے کچھ لوگ بھٹک گئے تھے، اس اثناء میں پانی کی تلاش کرتے ہوئے یہ قافلہ بوڈھیسر پہنچ گیااور یہاں کچھ عرصہ قیام کیا،اسی دوران سلطان محمود غزنوی نے سنگ مرمر کی ایک یادگار بھی تعمیر کروائی۔ سلطان محمود بیگڑا نے جب یہاں قیام کیااور ان کی نظر اس یاد گار پر پڑی ، تو انہوں نے اسے سلطان مسجد میں تبدیل کروا دیا ، اس مسجد کے آثار آج بھی موجود ہیں۔کاسبو بھارتی صوبے گجرات کی سرحد پر واقع یہ قصبہ تھر کاسب سے زیادہ سر سبز و شاداب علاقہ ہے، اس کی وجہ شہرت یہاں موجود میٹھے پانی کا کنواں ہے اور یہاں سارا سال صرف 25 سے 30 فیٹ کی گہرائی سے میٹھا پانی نکلتا ہے۔یہاںکے مقامی افرادبڑے پیمانے پر سبزیاں اور فصلیں کاشت کرتے ہیں۔ تھرپارکر کے کچھ تاریخی و قدیم آثار قدرتی آفات کی وجہ سے بھی برباد ہوگئے، جب کہ کچھ مقتدر حلقوں کی ستم ظریفی کا شکار ہوئے۔ان تاریخی مقامات کی قدر اور حفاظت عصر حاضر کی اہم ضرورت ہے۔یہ تمام تاریخی مقامات خطیکی تہذیب و تمدن اور تاریخ کی امانت ہیں، جن کی حفاظت اور دیکھ بھال ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔ ماروی کلچرل کمپلیکس کی طرح ان تمام تاریخی مقامات کو تفریحی مقامات میں بدل کر سیاحوں کی دل چسپی اس جانب مبذول کرائی جا سکتی ہے، اس کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔


متعلقہ خبریں


اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی وجود - هفته 11 اپریل 2026

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات وجود - هفته 11 اپریل 2026

فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 11 اپریل 2026

حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی وجود - هفته 11 اپریل 2026

جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان وجود - هفته 11 اپریل 2026

ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 11 اپریل 2026

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا مجھے جانتی ہے، اب دہشتگرد اسمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں، جلسہ ڈیلے کرنے کے سوال پر ردعمل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پ...

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی وجود - هفته 11 اپریل 2026

حزب اللہ طبی گاڑیوں،سہولیات کو وسیع پیمانے پر فوجی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویچی ادری نے لبنان میں ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ طب...

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم) وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم)

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

مضامین
دربار انڈسٹری وجود هفته 11 اپریل 2026
دربار انڈسٹری

برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی وجود هفته 11 اپریل 2026
برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی

پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات وجود هفته 11 اپریل 2026
پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات

کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین وجود هفته 11 اپریل 2026
کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین

ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان وجود جمعه 10 اپریل 2026
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر