وجود

... loading ...

وجود

جعلی دودھ کامکروہ دھندا،سفیدزہرانسانو ںمیں موت بانٹنے لگا

بدھ 16 مئی 2018 جعلی دودھ کامکروہ دھندا،سفیدزہرانسانو ںمیں موت بانٹنے لگا

ملک بھر میں جعلی دودھ مکھن، گھی اوردیگرکھانے پینے کی اشیاء کامکروہ دھندہ عروج پرہے۔آج ہم خاص طورپراپنے قارئین کویہ بتاناچاہتے ہیں کہ ہم جسے صحت بخش دودھ سمجھ کرپی رہے ہیں وہ دودھ نہیں سفیدزہرہے۔آج انتہائی اہم اور خبردار کر دینے والے حقائق کے ساتھ تحریرپیش خدمت ہے۔امید ہے اس تحریرکو پڑھ کرآپ جعلی دودھ کے نقصانات سے محفوط رہنے کی کوشش ضرورکریں گے۔ دودھ اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ ایسی نعمت ہے جو امیروغریب، بچوں ، بوڑھوں ، جوانوں میں یکساں طورپرپسندیدہ غذاہے۔ دودھ کے فائدوں کوشمارکرناانتہائی مشکل کام ہے۔ دودھ ایسی غذاہے جسے دنیا بھر میں بہترین اور مکمل غذا سمجھاجاتا ہے۔ ڈاکٹر، حکیم اورشعبہ علاج سے تعلق رکھنے والے تمام ماہرین دودھ کوبے شماربیماریوں کا علاج بتاتے ہیں۔

دودھ کودنیابھرمیں صحت کے لیے انتہائی مفید ترین غذاتسلیم کیاجاتاہے۔ زیادہ علاقوں میں گائے، بھینس، بھیڑ، بکری اونٹنی کا دودھ استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق دودھ بیماریوں سے لڑنے کے لیے قوت مدافعت پیداکرتا ہے۔ کئی اقسام کے زہروں کا اثر ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ دودھ میں 3.2 فیصد پروٹین، 4.1 فیصد کولیسٹرول، 8فیصد آیوڈین، 120 ملی گرام کیلشیم، 90 ملی گرام فاسفورس، 2 ملی گرام آئرن اور وٹامن اے، بی، سی پائے جاتے ہیں۔ بکری کے دودھ کو معالج حضرات بہت سی بیماریوں کے لیے شفاء قرار دیتے ہیں۔ بکری کا دودھ استعمال کرنے سے جسم کو طاقت ملتی ہے، قوت ہاضمہ تیز ہوتا ہے، بھوک کھل کر لگتی ہے۔ طبی اعتبار سے اُونٹنی کا دودھ بے شمار فوائد کا حامل ہے۔ صحرا میں رہنے والوں کے لیے اونٹنی کادودھ بہت بڑی نعمت ہے۔ رسول اللہ ﷺ بھی اُونٹنی کا دودھ شوق سے استعمال فرماتے تھے۔ اُونٹنی کے دودھ میں وٹامن سی کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے۔

ذیا بیطس کے مریضوں کے لیے اُونٹنی کا دودھ قدرت کی جانب سے عطا کردہ بہترین علاج اور معجزے جیسی حقیقت رکھتاہے۔ ماہرین صحت کے مطابق اُونٹنی کے دودھ میں انسولین کی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے۔ انسولین ایک ہارمون ہے جو ذیابیطس کے مریضوں میں کم مقدار میں بنتا ہے۔ ڈاکٹرحضرات شوگرکے مریضوں کو یہ ہارمون دوائیوں کی شکل میں دیتے ہیں۔ اُونٹنی کا دودھ یرقان، دمہ اوربواسیر جیسے تکلیف دہ امراض کے علاج میں شفاء یاب سمجھاجاتا ہے۔ گائے، بھینس اوربھیڑکادودھ بھی انسانی صحت کے لیے بے حد مفیدمکمل غذاہے۔ افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ ایک دودھ کی قسم ایسی بھی ہے جوانسانی صحت کے لیے مفیدنہیں زہرہے۔ یہی وہ جعلی دودھ ہے جسے پینے پر شہری مجبور ہو چکے ہیں۔ ماضی میں دودھ میں پانی کی ملاوٹ کی جاتی تھی جوشاید اس قدر نقصان دہ نہیں ہوگی جتناکہ آج جعلی دودھ نقصان دہ ہے۔

آپ یہ جان کرحیران ہوں گے کہ جعلی دوھ کسی جانورسے حاصل نہیں ہوتابلکہ یہ مختلف قسم کی مضرچیزوں کو ملا کر تیار کیا جاتاہے۔ دور کی بات نہیں آج سے دس سال پیچھے چلے جائیں توگرمی شروع ہوتے ہی شہرمیں دودھ اوردودھ سے بنی دیگر غذائیں نایاب ہوجایاکرتی تھیں۔ یعنی گرمی کے موسم میں جانورکم دودھ دیتے تھے اورطلب میں اضافے کے باعث دودھ کی کمی رہتی تھی۔ ماضی کے مقابلے میں آج آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوچکاہے اورجانوربھی کم پالے جاتے ہیں پھربھی شہرکی تمام ملک شاپس پردودھ وافرمقدارمیں دستیاب رہتاہے۔ جعلی دودھ کا معاملہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ کئی جعلی دودھ سازکمپنیاں پکڑی جاچکی ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی جعلی دودھ کے متعلق تمام حقائق سے آگاہ ہے۔ جعلی دودھ میں جوخطرناک اجزاء استعمال کیے جاتے ہیں ان میں یوریا، کپڑے دھونے والاسَرف، ہائیڈروجن، فارمولین، نشاستہ مایا، کوکنگ آئل یا ڈالڈا گھی، میگنیشیئم سلفیٹ، ملک پائوڈر، دودھ کی پی ایچ، اساس اورتیزاب میں توازن برقرار رکھنا۔ گاڑھا پن بڑھانے کے لیے بال صفا پائوڈر استعمال کیا جاتا ہے، بورک ایسڈ اور عام سادہ پانی، پسے سنگھاڑے، کیلشیم ہائڈرو آکسائڈ، سکم ملک پائوڈراورپینٹ بھی ڈالا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جعلی دودھ سے بہت سارے موذی امراض میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہاہے۔ ماہرین صحت کے مطابق جعلی دودھ پینے سے ابتدائی طور پر پیٹ کی تمام بیماریاں ، تیزابیت، قے، پیچش، فوڈ پوائزننگ، بچوں کے دانتوں کا خراب ہونا، گروتھ کم ہونا، نظر کا کمزور ہونا اور دیگر ایسی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں جو جعلی دودھ کے مسلسل استعمال سے آگے بڑھ کر کینسر، ہائیپر ٹینشن، کڈنی، لیور، شوگر، لبلبے کی بیماریاں پیدا کرتا ہے۔

قارئین محترم اپنے اردگردکاجائزہ لیں آپ کوفوری علم ہوجائے گاکہ آج انسانی معاشرہ ایسے ہی امراض کاتیزی کے ساتھ شکار ہو چکاہے۔ جعلی دودھ بنانے والے مافیا کو پکڑنے کے لیے ہمارے ادارے بھی کوشش کر رہے ہیں ،جعلی دودھ کی پیدوارروکنے اوراپنی صحت کواس سفید زہرسے محفوظ رکھنے کاصرف ایک ہی طریقہ ہے کہ شہری دودھ کااستعمال کم سے کم کریں اوردودھ خریدتے وقت اچھی طرح تسلی کرلیں کہ دودھ گائے، بھینس، بھیڑ، بکری یااُونٹنی کاہے کہ کسی مشین میں تیارکردہ۔ جعلی دودھ کودکاندارایسے برتن میں رکھتے ہیں جس کے نیچے چھوٹی سی موٹرنصب ہوتی ہے یادکانداردودھ کو بار بار ہلاتے رہتے ہیں اس کے علاوہ اس برتن میں ایک عدد ٹمپریچربتانے والامیٹربھی نصب ہوتاہے۔ فریج کے اندرمحفوظ دودھ بھی دکاندارکسٹمرکودیتے وقت خوب ہلا کر دیتے ہیں۔ جعلی دودھ تمام بڑے شہروں میں سرعام فروخت ہورہاہے اوراس سفید زہرکوفروخت کرکے انسانی جانوں سے کھیلنے والے مافیاکے گریبان میں ہاتھ ڈال کر ان کو ایسی سزائیں دینی چاہئیں جو مثال بن جائیں اور کوئی بھی بے ایمان انسانی جانوں سے کھیلنے کی جرأت نہ کرے۔


متعلقہ خبریں


حکومت کی پیپلزپارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت، بلاول کو اہم وزارت ملنے کا امکان وجود - جمعه 19 جون 2026

پیپلز پارٹی کے ماننے کی صورت میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کو اہم وزارت کا قلمدان ملنے کا امکان ،وفاقی کابینہ میں ردوبدل متوقع ، نئے چہرے سامنے لائے جائیں گے‘ذرائع وزیراعظم کی تمام وزراء سے کارکردگی رپورٹ طلب ، وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوگا،کامرس، پاور، ہاؤسنگ، موا...

حکومت کی پیپلزپارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت، بلاول کو اہم وزارت ملنے کا امکان

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط وجود - جمعه 19 جون 2026

امریکا اور ایران نے وقت سے پہلے ہی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی...

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ وجود - جمعه 19 جون 2026

جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں شرکت ضروری نہیں رہی ایم او یو پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخط کے بعد بطورثالث توثیق کر دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے شیڈول دورہ منسوخ کردیا گیا۔تفصیلات کے ...

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ

کراچی میں بھاری جرمانوں کیخلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال وجود - جمعه 19 جون 2026

شہری مشکلات کا شکار، ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ کوطویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے حب ریور روڈ، شیرشاہ و دیگر علاقوں میں شہری پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر پریشان کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو...

کراچی میں بھاری جرمانوں کیخلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال

مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھنائونی سازش وجود - جمعه 19 جون 2026

موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں،رپورٹ اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسج...

مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھنائونی سازش

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

مضامین
بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں وجود جمعه 19 جون 2026
بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں

یادوں کی نیلامی وجود جمعه 19 جون 2026
یادوں کی نیلامی

نظامِ فاروقِ اعظم اور عصرِ حاضر وجود جمعه 19 جون 2026
نظامِ فاروقِ اعظم اور عصرِ حاضر

مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر