وجود

... loading ...

وجود

جعلی دودھ کامکروہ دھندا،سفیدزہرانسانو ںمیں موت بانٹنے لگا

بدھ 16 مئی 2018 جعلی دودھ کامکروہ دھندا،سفیدزہرانسانو ںمیں موت بانٹنے لگا

ملک بھر میں جعلی دودھ مکھن، گھی اوردیگرکھانے پینے کی اشیاء کامکروہ دھندہ عروج پرہے۔آج ہم خاص طورپراپنے قارئین کویہ بتاناچاہتے ہیں کہ ہم جسے صحت بخش دودھ سمجھ کرپی رہے ہیں وہ دودھ نہیں سفیدزہرہے۔آج انتہائی اہم اور خبردار کر دینے والے حقائق کے ساتھ تحریرپیش خدمت ہے۔امید ہے اس تحریرکو پڑھ کرآپ جعلی دودھ کے نقصانات سے محفوط رہنے کی کوشش ضرورکریں گے۔ دودھ اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ ایسی نعمت ہے جو امیروغریب، بچوں ، بوڑھوں ، جوانوں میں یکساں طورپرپسندیدہ غذاہے۔ دودھ کے فائدوں کوشمارکرناانتہائی مشکل کام ہے۔ دودھ ایسی غذاہے جسے دنیا بھر میں بہترین اور مکمل غذا سمجھاجاتا ہے۔ ڈاکٹر، حکیم اورشعبہ علاج سے تعلق رکھنے والے تمام ماہرین دودھ کوبے شماربیماریوں کا علاج بتاتے ہیں۔

دودھ کودنیابھرمیں صحت کے لیے انتہائی مفید ترین غذاتسلیم کیاجاتاہے۔ زیادہ علاقوں میں گائے، بھینس، بھیڑ، بکری اونٹنی کا دودھ استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق دودھ بیماریوں سے لڑنے کے لیے قوت مدافعت پیداکرتا ہے۔ کئی اقسام کے زہروں کا اثر ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ دودھ میں 3.2 فیصد پروٹین، 4.1 فیصد کولیسٹرول، 8فیصد آیوڈین، 120 ملی گرام کیلشیم، 90 ملی گرام فاسفورس، 2 ملی گرام آئرن اور وٹامن اے، بی، سی پائے جاتے ہیں۔ بکری کے دودھ کو معالج حضرات بہت سی بیماریوں کے لیے شفاء قرار دیتے ہیں۔ بکری کا دودھ استعمال کرنے سے جسم کو طاقت ملتی ہے، قوت ہاضمہ تیز ہوتا ہے، بھوک کھل کر لگتی ہے۔ طبی اعتبار سے اُونٹنی کا دودھ بے شمار فوائد کا حامل ہے۔ صحرا میں رہنے والوں کے لیے اونٹنی کادودھ بہت بڑی نعمت ہے۔ رسول اللہ ﷺ بھی اُونٹنی کا دودھ شوق سے استعمال فرماتے تھے۔ اُونٹنی کے دودھ میں وٹامن سی کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے۔

ذیا بیطس کے مریضوں کے لیے اُونٹنی کا دودھ قدرت کی جانب سے عطا کردہ بہترین علاج اور معجزے جیسی حقیقت رکھتاہے۔ ماہرین صحت کے مطابق اُونٹنی کے دودھ میں انسولین کی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے۔ انسولین ایک ہارمون ہے جو ذیابیطس کے مریضوں میں کم مقدار میں بنتا ہے۔ ڈاکٹرحضرات شوگرکے مریضوں کو یہ ہارمون دوائیوں کی شکل میں دیتے ہیں۔ اُونٹنی کا دودھ یرقان، دمہ اوربواسیر جیسے تکلیف دہ امراض کے علاج میں شفاء یاب سمجھاجاتا ہے۔ گائے، بھینس اوربھیڑکادودھ بھی انسانی صحت کے لیے بے حد مفیدمکمل غذاہے۔ افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ ایک دودھ کی قسم ایسی بھی ہے جوانسانی صحت کے لیے مفیدنہیں زہرہے۔ یہی وہ جعلی دودھ ہے جسے پینے پر شہری مجبور ہو چکے ہیں۔ ماضی میں دودھ میں پانی کی ملاوٹ کی جاتی تھی جوشاید اس قدر نقصان دہ نہیں ہوگی جتناکہ آج جعلی دودھ نقصان دہ ہے۔

آپ یہ جان کرحیران ہوں گے کہ جعلی دوھ کسی جانورسے حاصل نہیں ہوتابلکہ یہ مختلف قسم کی مضرچیزوں کو ملا کر تیار کیا جاتاہے۔ دور کی بات نہیں آج سے دس سال پیچھے چلے جائیں توگرمی شروع ہوتے ہی شہرمیں دودھ اوردودھ سے بنی دیگر غذائیں نایاب ہوجایاکرتی تھیں۔ یعنی گرمی کے موسم میں جانورکم دودھ دیتے تھے اورطلب میں اضافے کے باعث دودھ کی کمی رہتی تھی۔ ماضی کے مقابلے میں آج آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوچکاہے اورجانوربھی کم پالے جاتے ہیں پھربھی شہرکی تمام ملک شاپس پردودھ وافرمقدارمیں دستیاب رہتاہے۔ جعلی دودھ کا معاملہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ کئی جعلی دودھ سازکمپنیاں پکڑی جاچکی ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی جعلی دودھ کے متعلق تمام حقائق سے آگاہ ہے۔ جعلی دودھ میں جوخطرناک اجزاء استعمال کیے جاتے ہیں ان میں یوریا، کپڑے دھونے والاسَرف، ہائیڈروجن، فارمولین، نشاستہ مایا، کوکنگ آئل یا ڈالڈا گھی، میگنیشیئم سلفیٹ، ملک پائوڈر، دودھ کی پی ایچ، اساس اورتیزاب میں توازن برقرار رکھنا۔ گاڑھا پن بڑھانے کے لیے بال صفا پائوڈر استعمال کیا جاتا ہے، بورک ایسڈ اور عام سادہ پانی، پسے سنگھاڑے، کیلشیم ہائڈرو آکسائڈ، سکم ملک پائوڈراورپینٹ بھی ڈالا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جعلی دودھ سے بہت سارے موذی امراض میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہاہے۔ ماہرین صحت کے مطابق جعلی دودھ پینے سے ابتدائی طور پر پیٹ کی تمام بیماریاں ، تیزابیت، قے، پیچش، فوڈ پوائزننگ، بچوں کے دانتوں کا خراب ہونا، گروتھ کم ہونا، نظر کا کمزور ہونا اور دیگر ایسی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں جو جعلی دودھ کے مسلسل استعمال سے آگے بڑھ کر کینسر، ہائیپر ٹینشن، کڈنی، لیور، شوگر، لبلبے کی بیماریاں پیدا کرتا ہے۔

قارئین محترم اپنے اردگردکاجائزہ لیں آپ کوفوری علم ہوجائے گاکہ آج انسانی معاشرہ ایسے ہی امراض کاتیزی کے ساتھ شکار ہو چکاہے۔ جعلی دودھ بنانے والے مافیا کو پکڑنے کے لیے ہمارے ادارے بھی کوشش کر رہے ہیں ،جعلی دودھ کی پیدوارروکنے اوراپنی صحت کواس سفید زہرسے محفوظ رکھنے کاصرف ایک ہی طریقہ ہے کہ شہری دودھ کااستعمال کم سے کم کریں اوردودھ خریدتے وقت اچھی طرح تسلی کرلیں کہ دودھ گائے، بھینس، بھیڑ، بکری یااُونٹنی کاہے کہ کسی مشین میں تیارکردہ۔ جعلی دودھ کودکاندارایسے برتن میں رکھتے ہیں جس کے نیچے چھوٹی سی موٹرنصب ہوتی ہے یادکانداردودھ کو بار بار ہلاتے رہتے ہیں اس کے علاوہ اس برتن میں ایک عدد ٹمپریچربتانے والامیٹربھی نصب ہوتاہے۔ فریج کے اندرمحفوظ دودھ بھی دکاندارکسٹمرکودیتے وقت خوب ہلا کر دیتے ہیں۔ جعلی دودھ تمام بڑے شہروں میں سرعام فروخت ہورہاہے اوراس سفید زہرکوفروخت کرکے انسانی جانوں سے کھیلنے والے مافیاکے گریبان میں ہاتھ ڈال کر ان کو ایسی سزائیں دینی چاہئیں جو مثال بن جائیں اور کوئی بھی بے ایمان انسانی جانوں سے کھیلنے کی جرأت نہ کرے۔


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

مضامین
حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود جمعرات 15 جنوری 2026
حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود جمعرات 15 جنوری 2026
پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

مکارتھی ازم وجود جمعرات 15 جنوری 2026
مکارتھی ازم

کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟

بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر