وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

برصغیر کی نوابی ریاستیں‘جنہیں زبردستی بھارت میں شامل کیاگیا

منگل 15 مئی 2018 برصغیر کی نوابی ریاستیں‘جنہیں زبردستی بھارت میں شامل کیاگیا

پاکستان کس طرح وجود میںآ یا اور تقسیم ہند کیسے ہوئی ؟ انگریزوں کے زیر تحت ہندوستان کے علاقوں میں جدوجہدآزادی کے دوران کیاکچھ ہوا؟اس کے بارے میں بہت ساری معلومات مل جاتی ہے۔برصغیر میں انگریزوں مکی حکمرانی کے دورمیں چھ سوکے قریب نوابی ریاستیں موجودتھیں۔یہ علاقے کے لحاظ سے بھارت کے ایک تہائی حصے پر مشتمل تھیں اور آبادی کے حوالے سے یہاں پرایک چوتھائی لوگ بستے تھے۔

انگریزوں نے تقسیم ہندکے دوران مسلمانوں کے ساتھ بہت زیادتی اور انصافی کی ان پرایک مکمل داستان لکھی جاسکتی ہے۔ ہندؤں اور انگریزوں کے گٹھ جوٹ سے نوابی ریاستوں کے الحاق کے سلسلے میں بھی پاکستان کے ساتھ بہت غلط رویہ اپنایا گیا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن 22 مارچ 1947ء کودہلی میں بطور وائسرایت تعینات ہوا اسے برصغیر کی مسلمانوں کی آزادی اور خود مختاری پسندنہ تھی بلکہ اس کوہندوستان مسلمانوں کے تقسیم ہندکے مطالبے کوختم کروانے کے لیے بھیجا گیاتھا۔

لیکن وہ قائداعظم محمدعلی جناح کی قیادت میں متحدآزادی کے متوالے مسلمانوں کے سامنے ٹھہرنہ سکا۔مسلمانوں کی قوت کے سامنے وہ یہ تسلیم کرنے پرمجبور ہوگیاکہ برصغیر کی تقسیم ناگزیرہوچکی ہے۔ چنانچہ 3جون 1947ء کوتقسیم ہندکامنصوبہ برطانوی پارلیمنٹ میں بحث ومباحثے کے بعد 18 جولائی 1947ء کومنظور کیاگیا۔تاریخ گواہ ہے کہ انگریزوں نے محض مسلم دشمنی اور اپنی روایتی بدیانتی ومکاری کامظاہرہ کرتے ہوئے کانگریس کاساتھ دیتے ہوئے ہندوؤن کوان کے حق سے زیادہ فائدہ پہنچایا جبکہ مسلمانوں کی مخالفت میں ان کاجائزحق سے محروم کردیا۔

انہوں نے تقسیم ہندکے منصبوے پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا۔انہوں ے نے سرحدوں کی حدبندی اثاثوں اور افواج کی تقسیم پنجاب اور مسلم اکثریتی علاقوں کی پاکستان میں شمولیت مسلمانوں کے جان ومال کے تحفظ اور ریاستوں کے پاکستان کے ساتھ الحاق ہر معاملے پر ہندوؤں کی حمایت کرتے ہوئے ان کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے مسلمانوں کونقصان پہنچایا۔

حالانکہ 21جولائی 1947ء کوبرطانوی وزیراعظم مسٹر ایٹلی نے پارلیمنٹ میں اعلان کیاتھاکہ برطانیا کے اقتدار واختیار کے خاتمے کے ساتھ ہی ہندوستانی ریاستوں سے برطانیا کے معاہدے ختم ہوجائیں گے اور یہ ریاستیں ازسرنوآزادہوجائیں گی اور ان کواپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کاپوراپورا اختیار حاصل ہوگا وہ بھارت یاپاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرلیں یااپنی آزاد حیثیت برقراررکھیں۔

لارڈماؤنٹ بیٹن اور کانگریس نے آپس میں ساز بازکرکے یہ فیصلہ کرلیاتھا کہ آزاد اور خودمختار ریاستوں کاالحاق ہر صورت میں انڈین یونین کے ساتھ کیاجائے گاحیدرآبادکن جودھ پور‘ٹراونکور‘ بیکانیر اور میسور نے آزاد رہتے ہوئے کسی بھی ڈومین میں شامل نہیں ہوں گے لیکن ان کوقانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جبری طور پر انڈین یونین میں شامل کردیاجبکہ دوسری طرف راجپوتانہ کی ریاستوں نے باہمی مفادت کے تحت متحدہ محاذبنانے کی کوشش کی توہندورہنما لارڈماؤنٹ بیٹن کے پیروں میں بیٹھ گئے جس نے 25 جولائی 1947 کو دہلی میں نوابوں اور مہاراجوں سے دھمکی بھرے لہجے میں کہاکہ آپ اپنی ہمسایہ ڈومین سے کسی بھی صورت میں راہ فراد اختیار نہیں کرسکتے اس لیے بعد کے مسائل سے بچنے کے لیے سوچ سمجھ کرفیصلہ کیجئے کہ آپ کافائدہ کس میں ہے۔

اس سلسلے میں کشمیرکی مثال سب کے سامنے ہے جہاں مسلمان آبادی اکثریت میں تھی اور تقسیم کے فارمولے اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے مطابق اس کاالحاق پاکستان کے ساتھ ہونا تھا لیکن بدقسمتی سے اس کاحکمران ایک سکھ ہری سنگھ ڈوگرہ تھا کشمیرکوایسٹ انڈیا کمپنی نے اس کے ہاتھوں صرف 75لاکھ روپے سکہ نانک شاہی میں فروخت کردیا۔سکھوں سے قبل یہاں پرمسلمانوں کی حکومت تھی۔

مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد احمد شاہ درانی نے ریاست کشمیر کواپنی حکومت میں شامل کرلیاتھا جوجلد ہی سکھوں کے قبضے میںآ گیا۔اس کی کوئی بھی سرحد بھارت سے نہیں ملتی تھی لیکن ماؤنٹ بیٹن کے زیر اثر ریڈکلف نے جوانصافیاں کیں ان میں کشمیر کا بھارت کے ساتھ ناجائز الحاق بھی شامل ہے۔بھارت دوستی میں انگریزوں نے اسے ایسے علاقے فراہم کیے جن کی بدولت بھارت کی سرحد کشمیرسے مل گئی اس طرح انگریزوں اور ہندؤں نے سازش کرکے پاکستان کی شہ رگ کشمیرپاناجائزقبضہ کیا۔

اس کے علاوہ جونا گڑھ اور بعض دیگر ریاستوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کافیصلہ کیاتو بھارت ان کے فیصلوں پربھی اثرانداز ہوا۔ ریاست جوناگڑھ چار ہزار میل پرمشتمل ہے اور یہ سمندر ک راستے کراچی سے صرف دوسومیل کی دوری پرواقع ہے۔ تقسیم ہندکے وقت یہاں نواب مہابت خانجی کی حکومت تھی انہوں نے 15ستمبر1947ء کوپاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کی دستاویز پردستخط کیے بھارت نے اس پربہت واویلامچایا اور مہایت خانجی کے کراچی آنے پر 9نومبر1947ء کوجوناگڑھ میں فوجیں داخل کرکے بزور طاقت اس پر قبضہ کرلیا۔

جوناگڑھ پربھارت کے ناجائز قبضے کو68برس ہونے کوہیں۔پاکستان نے اس مسئلے کوکشمیر کے ساتھ جوڑ کر فروری 1971 میں اقوام متحدہ میں پیش کیالیکن تاحال اس کاکوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ 15 اگست 1947ء تک مغربی پاکستان میں پنجاب سندھ، بلوچستان، صوبہ سرحد اور قبایلی علاقے شامل تھے بعد ازاں 27 مارچ 1948ء تک یہاں بہت سی آزاد نوابی ریاستوں نے شمولیت اختیار کی ۔

ریاست بہاولپور دریائے ستلج،سندھ کے کنارے پرواقع اور 3اضلاع بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم خان میں تقسیم تھی۔تقسیم ہیند کے بعد یہاں کے نواب حکمران نے ریاست بہاولپور کوپاکستان میں شامل کیااس کی ریاستی حیثیت 1955ء تک برقرار رہی۔ چترال پاکستان کاایک ضلع ہے یہ ماضی میں ریاست چترال کہلاتاتھا یہ ہندوکش کے پہاڑوں کے دامن میں واقع تھی اسے یہ اعزازحاصل ہے کہ یہ وہ پہلی ریاست ہے جس نے غیر مشروط طور پاکستان میں شامل ہو کر 15 اگست 1947ء کواس کے ساتھ الحاق کیاکیونکہ بہت ساری دوسری ریاستوں نے اپنے مفادات اور اختیارات کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تحریری معاہدے بھی کیے تھے لیکن یہ غیر مشروط طور پرپاکستان کاحصہ بنی۔


متعلقہ خبریں


بھارتی سیاستدانوں نے اپنے آرمی چیف کے دعوے پر سوال اٹھا دیے وجود - پیر 21 اکتوبر 2019

بھارتی سیاستدانوں نے اپنے ہی آرمی چیف کے دعوے پر سوال اٹھا دیے ۔کانگریس لیڈر اکلیش سنگھ نے کہا ہے کہ مودی سرکا ر کے سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوے انتخابات میں ہی نظر آتے ہیں،لگتا ہے اب سرجیکل اسٹرائیکس پر ہی راج نیتی چلے گی۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر اکلیش سنگھ نے کہا کہ سرجیکل اسٹرائیکس ہمیشہ انتخابات سے پہلے ہی کیوں ہوتی ہیں ؟انہوں نے کہا کہ سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوئوں کا ایک معمول بن گیا ہے ،لگتا ہے اب سرجیکل ا سٹرائیکس پر ہی راج نیتی چلے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ...

بھارتی سیاستدانوں نے اپنے آرمی چیف کے دعوے پر سوال اٹھا دیے

ترکی میں ای سگریٹ کی اجازت نہیں دوں گا،ترک صدر وجود - پیر 21 اکتوبر 2019

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ میں کبھی بھی الیکٹرانک (ای) سگریٹ کی کمپنی کو اجازت نہیں دوں گا کہ وہ اپنی مصنوعات ترکی میں فروخت کریں۔ استنبول میں تمباکو نوشی کے حوالے سے تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے وزیر تجارت کو حکم دیا ہے کہ ترکی میں الیکٹرانک سگریٹ کی اجازت نہیں دینی کیوں کہ اس زہر سے تمباکو کی کمپنیاں امیر ہوتی جارہی تھیں۔عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 2016 میں ترکی کی آبادی کے 27 فیصد 15 سالہ نوجوان سگریٹ پیتے تھے ، جبکہ 2010 میں 31...

ترکی میں ای سگریٹ کی اجازت نہیں دوں گا،ترک صدر

لبنان،عوامی احتجاج کے بعد وزیراعظم سعدا لحریری معاشی اصلاحات پر رضا مند وجود - پیر 21 اکتوبر 2019

لبنان میں عوامی احتجاج کے بعد وزیراعظم سعدا لحریری معاشی اصلاحات پر راضی ہو گئے ، چند حکومتی وزرا نے استعفے بھی دیئے ۔ ابھی بھی ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر موجود ہیں۔وزیراعظم سعد الحریری نے حکومتی اتحادیوں کے ساتھ معاشی بحران کو کم کرنے کے لئے اصلاحات کے ایک پیکیج پر اتفاق کیا ہے ، 4 حکومتی اراکین کے استعفیٰ کے باوجود مظاہرے جاری ہیں۔دارالحکومت بیروت میں احتجاج کے دوران مظاہرین نے قومی پرچم اٹھا رکھے تھے ۔ رات بھر ہونے والے احتجاج میں آتش بازی بھی کی گئی، مظاہرین سڑک...

لبنان،عوامی احتجاج کے بعد وزیراعظم سعدا لحریری معاشی اصلاحات پر رضا مند

نینسی پلوسی غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان جا پہنچیں وجود - پیر 21 اکتوبر 2019

امریکا کے ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی اور کانگریس کے سینئر ارکان غیر علانیہ دورے پر افغانستان پہنچ چکے ہیں۔ نینسی پلوسی نے کابل افغان صدر اشرف غنی، امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر اور امریکی فوج کے کمانڈروں و فوجیوں سے ملاقاتیں کیں۔نینسی پلوسی نے افغانستان کا دورہ ایسے موقع پر کیا ہے کہ جب امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر بھی اْسی روز افغانستان پہنچے ہیں۔ہائوس اسپیکر اور وزیر دفاع کے ایک ہی روز دورہ افغانستان کو اتفاق قرار دیا جا رہا ہے۔ جب کہ مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ ان کے...

نینسی پلوسی غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان جا پہنچیں

تیونس‘ مذہبی سیاسی جماعت النہضہ کا حکومت کی تشکیل پراصرار وجود - پیر 21 اکتوبر 2019

عرب ملک تیونس میں حال ہی میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ملک کی مذہبی سیاسی جماعت النہضہ نے ایوان میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد النہضہ اب حکومت کی تشکیل پربھی مْصر ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق النہضہ کی مجلس شوریٰ کے چیئرمین عبدالکریم الھارونی نے ایک بیان میں کہا کہ پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد جماعت حکومت کی تشکیل کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ دنوں میں تیونس میں بننے والی حکومت کی سربراہی تحریک النہضہ ہی کرے گی۔ تاہم ان کا...

تیونس‘ مذہبی سیاسی جماعت النہضہ کا حکومت کی تشکیل پراصرار

بچوں سے بد فعلی‘ 38 ممالک سے 337 افراد گرفتار وجود - جمعه 18 اکتوبر 2019

برطانیا اور امریکا کے تفتیش کاروں نے ڈارک ویب پر موجود بچوں سے بد فعلی پر مبنی ویڈیوز کی ویب سائٹ پر تحقیق کر کے مختلف ممالک سے 337 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔برطانیا کی سرکاری ایجنسی این سی اے نے بتایا کہ ویب سائٹ پر 2 لاکھ 50 ہزار ویڈیو موجود تھیں جن کو پوری دنیا سے مختلف افراد نے10 لاکھ بار ڈاون لوڈ کیا تھا۔ویب سائٹ پر ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والوں کو ڈیجیٹل کرنسی میں ادائیگی کی جاتی تھی۔ تفتیش کاروں نے 38 ممالک سے 337 افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں برطانیا، آئرلینڈ، امریکا،جنوب...

بچوں سے بد فعلی‘ 38 ممالک سے 337 افراد گرفتار

امریکا سے مذاکرات ‘ترکی نے کردوں کیخلاف آپریشن روک دیا وجود - جمعه 18 اکتوبر 2019

ترکی اور امریکا کے درمیان شام میں کردوں کے خلاف جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا جس کے بعد ترکی نے شام میں عارضی طور پر سیز فائر کا اعلان کرتے ہوئے کردوں کو نکلنے کے لیے پانچ دن کی مہلت دے دی۔جنگ بندی کے حوالے سے امریکا کے نائب صدر مائیک پینس ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کرنے انقرہ پہنچے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیغام پہنچایا، ان کے ساتھ وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھی موجود تھے۔ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی جس میں مائیک پینس نے بتایا کہ امریکا اور ترکی کے درمیان...

امریکا سے مذاکرات ‘ترکی نے کردوں کیخلاف آپریشن روک دیا

برطانیا نے یورپی یونین سے بریگزٹ معاہدہ کرلیا وجود - جمعه 18 اکتوبر 2019

یورپی کمیشن کے صدر جین کلاڈ جنکر نے برسلز میں بلاک کے رہنماؤں کے سمٹ سے قبل بتایا کہ برطانیا نے یورپی یونین سے سخت کوشش کے بعد بریگزٹ معاہدہ حاصل کر لیا ہے۔دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم بورس جونسن کا کہنا تھا کہ ہم نے زبردست بریگزٹ معاہدہ حاصل کیا ہے۔جین کلاڈ جنکر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جہاں چاہت ہو وہاں معاہدہ ہوتا ہے، یہ یورپی یونین اور برطانیہ کے لیے منصفانہ اور متوازن معاہدہ ہے اور ہمارے حل تلاش کرنے کا عہد نامہ ہے۔انہوں نے آئندہ ہ...

برطانیا نے یورپی یونین سے بریگزٹ معاہدہ کرلیا

کانگرس میں ایردوآن اور خاندان کے اثاثوں کی رپورٹ طلب وجود - جمعه 18 اکتوبر 2019

شام میں ترکی کی فوجی کارروائی کے بعد امریکا نے ترک حکومت اور صدر طیب ایردوآن کے خلاف مزید اقدامات پرعمل درآمد شروع کیا ہے۔ ری پبلیکن رکن کانگرس سینیٹر لنڈسی گراہم اور متعدد امریکی سینیٹرز نے کانگرس میں ایک نیا بل پیش کیا ہے جس میں ترک عہدیداروں اور اداروں پر عائد کی جانے والی پابندیوں کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ ترک صدر طیب ایردوآن اور ان کے خاندان کے اثاثوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ فراہم کرے۔ اس بل میں روس ، ایران اور ترکی کے لیے شام میں تیل پیدا کرن...

کانگرس میں ایردوآن اور خاندان کے اثاثوں کی رپورٹ طلب

امریکی پابندیوں کے باوجود ہواوے کی آمدن میں اضافہ وجود - جمعه 18 اکتوبر 2019

امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ اور مختلف پابندیوں کا سامنا کرنے والی چینی کمپنی ہواوے کے منافع میں کوئی کمی نہیں آ سکی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ امریکا کی طرف سے چینی کمپنی کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں، تمام تر کوششوں کے باوجود رواں سال کے پہلے نو ماہ میں کمپنی کی آمدن میں 24.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔کمپنی کے مطابق ہواوے کو 86.2 ارب ڈالرز کا منافع ہوا ہے اور اسکے منافع کی شرح میں 8.7 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔یاد رہے کہ امریکی صد...

امریکی پابندیوں کے باوجود ہواوے کی آمدن میں اضافہ

قبل از وقت سفید بال خطرناک بیماری کی علامت ہے، ماہرین وجود - جمعرات 17 اکتوبر 2019

رواں دور میں سفید بال ہونا عمومی بات ہے اور مرد و خواتین دونوں ہی اس بات سے پریشان نظر آتے ہیں،کیونکہ سفید بال بڑھاپے کی نشانی سمجھے جاتے ہیں۔ماہرین صحت قبل از وقت سفید بال امراض قلب کا عندیہ دیتے ہیں۔یونیورسٹی آف قاہرہ کے ماہرین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں 545 مردوں میں سفید بالوں اور دل کی بیماری کے خطرے کے درمیان تعلق کا مطالعہ کیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ بالوں کی جتنی سفید رنگت زیادہ تھی اتنا ہی دل کی بیماری کا خطرہ زیادہ دیکھا گیا۔ماہرین نے مردوں کو وارننگ جاری کر تے...

قبل از وقت سفید بال خطرناک بیماری کی علامت ہے، ماہرین

مصنوعی ذہانت والے روبوٹس سے ملازمین کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ، اوریکل رپورٹ وجود - جمعرات 17 اکتوبر 2019

اوریکل کی ملازمین کے حوالے سے ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت، آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) نے ملازمین کی سوچ کو بدل رکھ دیا ہے اور ملازمین عام منیجروں کے مقابلے میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس والے روبوٹس ساتھی ملازمین کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ خوش ہیں، ایچ آر ٹیم کا کردار ملازمین کی بھرتی، ان کی تربیت اور ملازمین کو ادارے سے منسلک رکھنے کے لیے بھی تبدیل ہوا ہے۔ یہ سروے رپورٹ اوریکل اور فیوچر ورک پلیس نے کی جو کاروباری قائدین کی تیاری، ان کی ملازمتوں اور ملازمین کے دیگر...

مصنوعی ذہانت والے روبوٹس سے ملازمین کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ، اوریکل رپورٹ

مضامین
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

کامی یاب مرد۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
کامی یاب مرد۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

اشتہار