وجود

... loading ...

وجود

برصغیر کی نوابی ریاستیں‘جنہیں زبردستی بھارت میں شامل کیاگیا

منگل 15 مئی 2018 برصغیر کی نوابی ریاستیں‘جنہیں زبردستی بھارت میں شامل کیاگیا

پاکستان کس طرح وجود میںآ یا اور تقسیم ہند کیسے ہوئی ؟ انگریزوں کے زیر تحت ہندوستان کے علاقوں میں جدوجہدآزادی کے دوران کیاکچھ ہوا؟اس کے بارے میں بہت ساری معلومات مل جاتی ہے۔برصغیر میں انگریزوں مکی حکمرانی کے دورمیں چھ سوکے قریب نوابی ریاستیں موجودتھیں۔یہ علاقے کے لحاظ سے بھارت کے ایک تہائی حصے پر مشتمل تھیں اور آبادی کے حوالے سے یہاں پرایک چوتھائی لوگ بستے تھے۔

انگریزوں نے تقسیم ہندکے دوران مسلمانوں کے ساتھ بہت زیادتی اور انصافی کی ان پرایک مکمل داستان لکھی جاسکتی ہے۔ ہندؤں اور انگریزوں کے گٹھ جوٹ سے نوابی ریاستوں کے الحاق کے سلسلے میں بھی پاکستان کے ساتھ بہت غلط رویہ اپنایا گیا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن 22 مارچ 1947ء کودہلی میں بطور وائسرایت تعینات ہوا اسے برصغیر کی مسلمانوں کی آزادی اور خود مختاری پسندنہ تھی بلکہ اس کوہندوستان مسلمانوں کے تقسیم ہندکے مطالبے کوختم کروانے کے لیے بھیجا گیاتھا۔

لیکن وہ قائداعظم محمدعلی جناح کی قیادت میں متحدآزادی کے متوالے مسلمانوں کے سامنے ٹھہرنہ سکا۔مسلمانوں کی قوت کے سامنے وہ یہ تسلیم کرنے پرمجبور ہوگیاکہ برصغیر کی تقسیم ناگزیرہوچکی ہے۔ چنانچہ 3جون 1947ء کوتقسیم ہندکامنصوبہ برطانوی پارلیمنٹ میں بحث ومباحثے کے بعد 18 جولائی 1947ء کومنظور کیاگیا۔تاریخ گواہ ہے کہ انگریزوں نے محض مسلم دشمنی اور اپنی روایتی بدیانتی ومکاری کامظاہرہ کرتے ہوئے کانگریس کاساتھ دیتے ہوئے ہندوؤن کوان کے حق سے زیادہ فائدہ پہنچایا جبکہ مسلمانوں کی مخالفت میں ان کاجائزحق سے محروم کردیا۔

انہوں نے تقسیم ہندکے منصبوے پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا۔انہوں ے نے سرحدوں کی حدبندی اثاثوں اور افواج کی تقسیم پنجاب اور مسلم اکثریتی علاقوں کی پاکستان میں شمولیت مسلمانوں کے جان ومال کے تحفظ اور ریاستوں کے پاکستان کے ساتھ الحاق ہر معاملے پر ہندوؤں کی حمایت کرتے ہوئے ان کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے مسلمانوں کونقصان پہنچایا۔

حالانکہ 21جولائی 1947ء کوبرطانوی وزیراعظم مسٹر ایٹلی نے پارلیمنٹ میں اعلان کیاتھاکہ برطانیا کے اقتدار واختیار کے خاتمے کے ساتھ ہی ہندوستانی ریاستوں سے برطانیا کے معاہدے ختم ہوجائیں گے اور یہ ریاستیں ازسرنوآزادہوجائیں گی اور ان کواپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کاپوراپورا اختیار حاصل ہوگا وہ بھارت یاپاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرلیں یااپنی آزاد حیثیت برقراررکھیں۔

لارڈماؤنٹ بیٹن اور کانگریس نے آپس میں ساز بازکرکے یہ فیصلہ کرلیاتھا کہ آزاد اور خودمختار ریاستوں کاالحاق ہر صورت میں انڈین یونین کے ساتھ کیاجائے گاحیدرآبادکن جودھ پور‘ٹراونکور‘ بیکانیر اور میسور نے آزاد رہتے ہوئے کسی بھی ڈومین میں شامل نہیں ہوں گے لیکن ان کوقانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جبری طور پر انڈین یونین میں شامل کردیاجبکہ دوسری طرف راجپوتانہ کی ریاستوں نے باہمی مفادت کے تحت متحدہ محاذبنانے کی کوشش کی توہندورہنما لارڈماؤنٹ بیٹن کے پیروں میں بیٹھ گئے جس نے 25 جولائی 1947 کو دہلی میں نوابوں اور مہاراجوں سے دھمکی بھرے لہجے میں کہاکہ آپ اپنی ہمسایہ ڈومین سے کسی بھی صورت میں راہ فراد اختیار نہیں کرسکتے اس لیے بعد کے مسائل سے بچنے کے لیے سوچ سمجھ کرفیصلہ کیجئے کہ آپ کافائدہ کس میں ہے۔

اس سلسلے میں کشمیرکی مثال سب کے سامنے ہے جہاں مسلمان آبادی اکثریت میں تھی اور تقسیم کے فارمولے اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے مطابق اس کاالحاق پاکستان کے ساتھ ہونا تھا لیکن بدقسمتی سے اس کاحکمران ایک سکھ ہری سنگھ ڈوگرہ تھا کشمیرکوایسٹ انڈیا کمپنی نے اس کے ہاتھوں صرف 75لاکھ روپے سکہ نانک شاہی میں فروخت کردیا۔سکھوں سے قبل یہاں پرمسلمانوں کی حکومت تھی۔

مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد احمد شاہ درانی نے ریاست کشمیر کواپنی حکومت میں شامل کرلیاتھا جوجلد ہی سکھوں کے قبضے میںآ گیا۔اس کی کوئی بھی سرحد بھارت سے نہیں ملتی تھی لیکن ماؤنٹ بیٹن کے زیر اثر ریڈکلف نے جوانصافیاں کیں ان میں کشمیر کا بھارت کے ساتھ ناجائز الحاق بھی شامل ہے۔بھارت دوستی میں انگریزوں نے اسے ایسے علاقے فراہم کیے جن کی بدولت بھارت کی سرحد کشمیرسے مل گئی اس طرح انگریزوں اور ہندؤں نے سازش کرکے پاکستان کی شہ رگ کشمیرپاناجائزقبضہ کیا۔

اس کے علاوہ جونا گڑھ اور بعض دیگر ریاستوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کافیصلہ کیاتو بھارت ان کے فیصلوں پربھی اثرانداز ہوا۔ ریاست جوناگڑھ چار ہزار میل پرمشتمل ہے اور یہ سمندر ک راستے کراچی سے صرف دوسومیل کی دوری پرواقع ہے۔ تقسیم ہندکے وقت یہاں نواب مہابت خانجی کی حکومت تھی انہوں نے 15ستمبر1947ء کوپاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کی دستاویز پردستخط کیے بھارت نے اس پربہت واویلامچایا اور مہایت خانجی کے کراچی آنے پر 9نومبر1947ء کوجوناگڑھ میں فوجیں داخل کرکے بزور طاقت اس پر قبضہ کرلیا۔

جوناگڑھ پربھارت کے ناجائز قبضے کو68برس ہونے کوہیں۔پاکستان نے اس مسئلے کوکشمیر کے ساتھ جوڑ کر فروری 1971 میں اقوام متحدہ میں پیش کیالیکن تاحال اس کاکوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ 15 اگست 1947ء تک مغربی پاکستان میں پنجاب سندھ، بلوچستان، صوبہ سرحد اور قبایلی علاقے شامل تھے بعد ازاں 27 مارچ 1948ء تک یہاں بہت سی آزاد نوابی ریاستوں نے شمولیت اختیار کی ۔

ریاست بہاولپور دریائے ستلج،سندھ کے کنارے پرواقع اور 3اضلاع بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم خان میں تقسیم تھی۔تقسیم ہیند کے بعد یہاں کے نواب حکمران نے ریاست بہاولپور کوپاکستان میں شامل کیااس کی ریاستی حیثیت 1955ء تک برقرار رہی۔ چترال پاکستان کاایک ضلع ہے یہ ماضی میں ریاست چترال کہلاتاتھا یہ ہندوکش کے پہاڑوں کے دامن میں واقع تھی اسے یہ اعزازحاصل ہے کہ یہ وہ پہلی ریاست ہے جس نے غیر مشروط طور پاکستان میں شامل ہو کر 15 اگست 1947ء کواس کے ساتھ الحاق کیاکیونکہ بہت ساری دوسری ریاستوں نے اپنے مفادات اور اختیارات کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تحریری معاہدے بھی کیے تھے لیکن یہ غیر مشروط طور پرپاکستان کاحصہ بنی۔


متعلقہ خبریں


بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

مضامین
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی! وجود بدھ 01 جولائی 2026
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی!

مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ وجود بدھ 01 جولائی 2026
مقبوضہ وادی میں منشیات کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ

بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود منگل 30 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

میرے عزیزہم وطنو!! وجود منگل 30 جون 2026
میرے عزیزہم وطنو!!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر