... loading ...
ہر سال کی طرح اس سال بھی پاکستان میں نرسوں کا عالمی یوم خاموشی سے گزر گیا،حکومت اور نجی شعبہٗ صحت میں اس حوالے سے ملک کے طول وعرض میں چند رسمی اور روایتی تقریبات کے علاوہ کچھ ایسا نہیں ہوا،جس سے یہ پتہ چل سکے کہ 71سال گزرنے کے بعد ہمارے ملک کے شعبہٗ صحت میں سرکاری اور نجی سطح پر اس نظر انداز شعبیٗ کی اہمیت کو تسلیم کرلیا ہے،یہ بھی ناقابل تریدد حقیقت ہے کہ آج دنیا میں جہاں کہیں بھی صحت کا منظم نظام موجود ہے،اس کے پیچھے نرسنگ کا ہیلتھ کیئر سٹم موجود ہے بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں تو نرسیز کی اہمیت اورافادیت طبی عملے سے زائد تسلیم کی جاتی ہے،اس کی وجہ طبی عملے کی ہدایت کے مطابق مریضوں کو انجکشن لگانا،وقت مقررہ پر انہیں دوا دینا اور دیگر اس کی تشخیصی ضروریات کو پورا کرانا جیسی ذمہ داری اسٹاف نرس پر ہی عائد ہوتی ہے،ہمارے ملک میں کئی دہائیوں تک نرسنگ کی تعلیم وتربیت کیجانب آنے کا رجحان بہت کم رہا اور کئی دہائیوں قبل جب نرسنگ کی تعلیم وتربیت کی جانب آنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہواتو طویل عرصے تک محدود نرسنگ اسکولز پھر ان میں بھی تعلیم وتربیت کا کوئی باقائدہ انفرااسٹرکچر کا نہ ہونا جیسی مشکلات نرسنگ کے شعبے کی تعمیر وترقی کی راہ میں حامل رہی ہیں۔ یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ علاج معالجے کے شعبے میں عملی مریض کی تیمارداری (نرس) سے بڑھ کر دکھی انسانیت کی کوئی خدمت نہیں ہے،لیکن یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ آج تک ہمارے معالجین عملی طور پر نرس کی حیثیت کو ذہنی طور پر تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں اور جو لوگ نرس کی حیثیت اور اہمیت کو قبول کرتے ہیں،ان کی تعداد انتہائی کم اور باالفاظ دیگر نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ یقینا یہ جان کر آپ کو انتہائی حیرت ہوگی کہ ایک عشرے قبل تک نرس کو دوران تعلیم کوئی مقررہ نصاب کے بجائے فوٹو اسٹیٹ لیکچر کے ذریعے نرسوں کو نظری تعلیم دی جاتی تھی یہ تو اللہ بھلا کرے ڈاکٹر شیر شاہ سید کا جنہوںنے چند سال قبل نہ صرف نرسنگ بلکہ پیرا میڈیکل اسٹاف،مڈو ایف،ہیلتھ کیئر سٹم کے اہم حصے کو میڈیکل ایجوکیشن کیلئے نوٹس کی فوٹو اسٹیٹ سے زیر تعلیم طلبہ کی جان چھڑائی اور درجنوں نصابی کتب لکھ کر شائع کردیںگو کہ گذشتہ ایک دھائی سے ملک میں نرسوں کی تعداد میں اضافے کیلئے کچھ کام ضرور ہوا ہے،لیکن اس کے باوجود پاکستان میں نرسوں کی تعداد کا جو تناسب ہے اسکے مطابق دو ہزار مریضوں کے لئے صرف ایک نرس ہے جبکہ پاکستان میں رجسٹرڈ نرسوں کی تعداد ایک لاکھ تین ہزار سات سو ستترہے۔پاکستان میں نرسنگ کی کمی کی بڑی وجہ معاشرے میں اس شعبے کو نظر انداز کیا جانا اور اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھنا ہے،جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک ہزار افراد کیلئے تین نرسوں کا ہونا ضروری ہے جبکہ یہ شعبہ دن رات چوبیس گھنٹے مریضوں کی دیکھ بھال کا تقاضہ کرتا ہے ، پاکستان میں90فیصد نرسیز خواتین ہیں جوبعض پیچیدگیوں کے باعث رات کی ڈیوٹی سے اجتناب کرتی ہیں اس حوالے سے ہماری سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحت کے اس اہم شعبے کی اہمیت اور افادیت کو عملی طورپر تسلیم کرتے ہوئے ایک محفوظ اور منظم صحت کے قومی نظام کو رائج کرنے کیلئے نرسنگ کی تعلیم وتربیت کے علاوہ ان کی نشتوں میں اضافے کے ساتھ ان کی اعلیٰ تعلیم وتربیت کو بھی طبی عملے کی تربیت کی طرح سرکاری سطح پر یقینی بنائے۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے ،خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے ،بھارتی آرمی چیف کا آپریشن سندور کو ٹریلر کہنا خود فریبی ہے خیبرپختونخوا میں سرحد پر موجودہ صورتحال میں آمد و رفت کنٹرول...
یہ ٹیسٹ رن کر رہے ہیں، دیکھنے کے لیے کہ لوگوں کا کیا ردعمل آتا ہے ، کیونکہ یہ سوچتے ہیں اگر لوگوں کا ردعمل نہیں آتا، اگر قابل انتظام ردعمل ہے ، تو سچ مچ عمران خان کو کچھ نہ کر دیں عمران خان ایک 8×10 کے سیل میں ہیں، اسی میں ٹوائلٹ بھی ہوتا ہے ،گھر سے کوئی کھانے کی چیز...
سہیل آفریدی کی زیر صدارت پارٹی ورکرزاجلاس میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ منگل کے دن ہر ضلع، گاؤں ، یونین کونسل سے وکررز کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے اگلے ہفتے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کر دیا، احتجاج میں آگے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔وزیر ...
جب 28ویں ترمیم سامنے آئے گی تو دیکھیں گے، ابھی اس پر کیا ردعمل دیں گورنر کی تقرری کا اختیار وزیراعظم اور صدر کا ہے ، ان کے علاوہ کسی کا کردار نہیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔سیہون میں میڈیا سے گفتگو میں مراد ...
دنیا بھر میںایئربس اے 320طیاروں میں سافٹ ویئر کے مسئلے سے ہزاروں طیارے گراؤنڈ پی آئی اے کے کسی بھی جہاز میں مذکورہ سافٹ ویئر ورژن لوڈڈ نہیں ، طیارے محفوظ ہیں ،ترجمان ایئر بس A320 طیاروں کے سافٹ ویئر کا مسئلہ سامنے آنے کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان میں بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہو سک...
37روز سے کسی کی ملاقات نہیں کرائی جارہی، بہن علیمہ خانم کو ملاقات کی اجازت کا حکم دیا جائے سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا جائے کہ سلمان اکرم راجہ،فیصل ملک سے ملاقات کی اجازت دی جائے ، وکیل بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات سے متعلق درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد ف...
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...