وجود

... loading ...

وجود

عام انتخابات کی تیاریاں عروج پر،سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم تیزکردی

پیر 14 مئی 2018 عام انتخابات کی تیاریاں عروج پر،سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم تیزکردی

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف جاری احتسابی عمل میں تیزی آنے کے ساتھ ساتھ عام انتخابات 2018کے لیے سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم میں بھی تیزی آگئی ہے ۔ملک کی تمام بڑی چھوٹی سیاسی جماعتیں جلسوں پر جلسے کرنے میں مصروف ہیںاس حوالے سے پنجاب میں سرائیکی خطہ اور سندھ میں کراچی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے جبکہ خیبر پختون خوا میں ہزارہ ڈویژن کونمایاں حیثیت ہے ۔ بہر کیف عام انتخابات اپنے وقت پر ہونگے یا نہیں اس بحث سے ہٹ کر یہ تو طے ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں اپنی ’’مدتیں ‘‘پوری کرنے کے بعد تحلیل ہونے جارہی ہیں جبکہ نگران حکومتی سیٹ اپ کے حوالے سے وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مشاورتی عمل بھی مکمل ہوچکاہے ۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ’’ نگران وزیر اعظم ‘‘کے نام پر وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور ان کے درمیان اتفاق ہوگیا ہے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے بھی عام نتخابات میں حصہ لینے والی ممکنہ 110سیاسی جماعتوں سے’’ انتخابی نشان‘‘ کے لیے درخواستیں طلب کر لی ہیں ۔

جہاں تک نگران وزیر اعظم کے نام پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے کی بات ہے تو اس حوالے سے ابھی اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو اعتماد میں لیا جانا باقی ہے۔ اس ضمن میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت تحریک انصاف کو اعتماد میں لیا جانا انتہائی ضروری ہے دوسری صورت میں مسلم لیگ (ن) کے وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے اپوزیشن لیڈر کے درمیان ہونے والے اتفاق رائے کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بہر کیف الیکشن کمیشن کی جانب سے عام انتخابات کی تیاریوں کے عمل میں خاصی تیزی آگئی ہے اس ضمن میں حتمی ووٹرز لسٹوں کے ساتھ ساتھ انتخابی حلقہ بندیوں اور اس کے نقشہ جات کا عمل بھی مکمل ہونے کو ہے ۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف نیب کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے بعد جہاں مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سیخ پا دکھائی دیتے ہیں وہاں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے بھی یہ موقف سامنے آیا ہے کہ عام انتخابات سے پہلے نیب کے اس طرح کے اقدامات ’’پری پول دھاندلی‘‘کے مترادف ہیں ۔

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ نیب کا ادارہ جب سے وجود میں آیا ہے اس وقت سے یہ’’ متنازعہ‘‘ ہی رہا ہے اس ضمن میں سیاسی حلقے یہ پختہ سوچ رکھتے ہیں کہ اس ادارے کو ہر حکومت نے اپنے سیاسی مقاصد کے طور پر استعمال کیا ہے اس ضمن میں سیاسی حلقوں کی جانب سے ٹھوس دلائل بھی دیئے جاتے ہیں کہ ماضی میں 1997کی حکومت میں نواز حکومت نے اس ادارے کو پیپلز پارٹی اور اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا اور اس کے بعد سابق ڈکٹیٹر جنرل (ر) پرویز مشرف نے بھی اسی ادارے کا استعمال کرتے ہوئے پہلے پیپلز پارٹی پیٹریاٹ اور بعد میں مسلم لیگ (ق) جیسی سیاسی جماعتیں بنوائیں یعنی اقتدار کو مضبوط بنانے اور طول دینے کے لیے نیب کو استعمال کیا جاتا رہاہے ۔موجودہ حکومت کے ابتدائی چار برسوں میں جب تک نواز شریف وزیر اعظم رہے اس وقت تک نیب کی تمام تر کاراوئیاں سندھ میں پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کے خلاف ہوتیں دکھائی دی ہیں ۔سپریم کورٹ کی جانب سے احتسابی عمل شروع کیے جانے اورجسٹس (ر) جاوید اقبال کے چیئر مین نیب بن جانے کے بعد پنجاب میں احتسابی عمل شروع ہوا جو اس وقت خیبر پختون خوا تک پہنچ گیا ہے لیکن یہاں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ احتسابی عمل کی رفتار سندھ میں سست پڑی گئی ہے۔

بہر کیف ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے بے رحم اور بلا تفریق احتساب ناگزیر ہے۔ جہاں سابق وزیر اعظم نواز شریف پر کرپشن کے الزامات کا معاملہ ہے تو ایسے ہی پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین سابق صدر آصف علی زرداری ،سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف پر بھی غیر معمولی کرپشن کے الزامات ہیں، اسی طرح خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ اور بعض صوبائی وزیروں کو بھی کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے ۔ایسے میں نیب کو غیر جانب درانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنے احتسابی عمل میں سیاسی اعتبار سے’’ توازن‘‘ پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ بات ہورہی تھی عام انتخابات کی اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن میں دن رات کام ہورہا ہے جبکہ نگران وزیر اعظم کی تقرری کا معاملہ بھی اگلے ایک دو روز میں اپنے منطقی انجام تک پہنچنے والا ہے ۔ملک میں عام انتخابات کے حوالے ایک سنجیدہ اور پختہ سوچ یہ بھی ہے کہ عام انتخابات سے پہلے ’’احتساب ‘‘کا عمل مکمل ہونا چاہیے تاکہ صاف اور شفاف قیادت سامنے آسکے جو یقینا ملک و قوم کی تعمیرو ترقی کی ضمانت ہوگی ۔یہی وجہ ہے کہ عام انتخابات سے پہلے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طرح سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی ،راجہ پرویز اشرف اور سابق صدر آصف علی زردادی کے خلاف بھی نیب کا گھیرا تنگ ہوسکتا ہے جبکہ خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت میں شامل نمایاں شخصیات کو بھی نیب کا بلاواآسکتا ہے ۔اس طرح وفاقی دارالحکومت میں عام انتخابات سے پہلے یہ چہ میگوئیاں پختگی کے ساتھ آگے بڑھ رہیں ہیں کہ نیب کو اپنے اوپر لگنے والے ’’پری پول دھاندلی ‘‘کے الزام کو زائل کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے خلاف بلا تفریق احتساب کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر ایک بار پھر’’ انتخابات ‘‘پر دھاندلی زدہ ہونے کا الزام لگ سکتا ہے ۔


متعلقہ خبریں


بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

مضامین
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

انقلاب کی پہلی شرط وجود اتوار 01 فروری 2026
انقلاب کی پہلی شرط

پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے! وجود اتوار 01 فروری 2026
پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے!

نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر