... loading ...
لیڈرشپ کی تھیوریاں ہمیں بتاتی ہیں جو لیڈر بنے، وہ پیدا ہی قیادت کرنے کے لیے ہوئے تھے اور جب موقع آیا تو لیڈر بن گئے۔ صدیوں سے یہی عقیدہ چلا آرہا تھا کہ کچھ لوگوں میں لیڈرشپ کی خداداد صلاحیتیں ہوتی ہیں اور لہٰذا وہ ایسے انداز اور ایسے مناصب پر قیادت کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں جو کہ عام آدمی کے بس سے باہر ہیں۔ تقریباً ہر معاشرے میں قیادت دیوتائوں کے اوتار سے لے کر سرداروں تک کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ آج بھی، ’’پیدائشی قائد‘‘ کا تصور قبولِ عام کی سند رکھتا ہے، خصوصاً اس لیے کہ لیڈر اکثر منفرد اور اعلیٰ افراد کی حیثیت سے دوسروں سے الگ نظر آتے ہیں۔
خواتین ہمیشہ سے اس خیال کی بھینٹ چڑھتی رہی ہیں کیونکہ شروع سے یہ فرض کیا جاتا ہے کہ ’’فطری‘‘ طور پر عورتیں لیڈر نہیں بن سکتیں۔ بے بنیاد ثابت ہو جانے کے باوجود، تاریخ میں یہ نظریہ بار بار زندہ ہوتا رہا ہے اور آج بھی اس پر ایمان رکھنے والے بہت سے لوگ موجود ہیں۔ لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں، مختلف ادوار میں ان گنت خواتین حکومتوں، سلطنتوں، قبیلوں اور یہاں تک کہ افواج کی بھی قیادت کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے جنگوں کا آغاز اور اختتام کیا ہے، نہایت عمدگی سے اور نہایت وحشت سے بھی، مملکتوں کا انتظام و انصرام کیا ہے، بعض خواتین کی قیادت وہاں کامیاب رہی جہاں دوسرے ناکام ہو گئے۔ تاریخ میں بعض خواتین لیڈر گمنام رہیں اور اس بارے میں بحث ہوتی رہی کہ ان کا کوئی وجود تھا بھی یا وہ محض افسانوں اور دیومالائی قصوں کی پیداوار تھیں۔ مگر خواتین حکمرانوں اور سربراہانِ مملکت کے کارنامے ہمیں معلوم تاریخ کی ابتدا سے نظر آتے ہیں اور قابل آباد براعظموں، اور بے شمار ثقافتوں اور ممالک میں ان کا تذکرہ ملتا ہے۔
خواتین لیڈروں کے مطالعے کا آغاز غالباً قدیم مصر سے کیا جا سکتا ہے جو کہ براعظم پر اتنا عرصہ غالب رہا کہ جس کی مثال معلوم تاریخ میں نہیں ملتی۔ 31 ویں صدی قبل مسیح میں ممکنہ طور پر پہلی معلوم خاتون حکمران میریت نت سے لے کر دوسری صدی قبل مسیح میں قلوپطرہ کی حکمرانی تک، مصر میں خواتین بااثر عہدوں اور بعض اوقات حکمرانی کے مناصب پر فائز رہی ہیں۔ قدیم مصر میں ملکائوں کو دیوتائوں سے منسوب کرنے کی وجہ سے تقدیس و تحریم حاصل رہی اور ان کے پاس نہ صرف عزت و وقار اور اثر و رسوخ ہوتا تھا بلکہ بعض خاتون حکمرانوں کی حیثیت سے فرائض بھی انجام دیتی رہیں۔ ان خواتین لیڈروں میں سے بعض نے مصری ثقافت پر قابل ذکر اثرات مرتب کیے جیسا کہ پندرھویں صدی قبل مسیح میں تھیبس کی ملکہ ایہوتپ جس نے نہ صرف حکمرانی کی بلکہ مصر کے تین آئندہ حکمرانوں کو جنم بھی دیا جن میں سے ایک، اہموس نوفریتاری، لڑکی تھی۔ اس کے علاوہ براعظم افریقہ کے ذیلی صحرائی حصے میں، حکمرانوں کی بیویاں اور ان کی مائیں اکثر مشترکہ حکمران ہوتی تھیں۔ تاریخی اعتبار سے مشرقی اور وسطی افریقہ میں کئی قبیلوں اور سلطنتوں میں نسل ماں سے چلتی تھی اور وقتاً فوقتاً خواتین حکمران بھی رہیں۔
دیگر براعظموں میں بھی خواتین حکمرانوں کی ویسی ہی تاریخ نظر آتی ہے۔ تاریخ میں عرب کی ایسی ملکائوں کا تذکرہ ملتا ہے جو حکمران رہیں۔ اسی طرح، اگرچہ قدیم چین میں خواتین کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا تھا، مگر کنفیوشس کے زمانے کی محفوظ تاریخ میں شہنشاہوں کی شریک حیات کی غیررسمی حکومت کا تذکرہ ملتا ہے اور بعض ایسی خواتین کا بھی جو قانونی حکمران تھیں۔ یورپ میں ہمیں اس کی مزید مثالیں نظر آتی ہیں جہاں خواتین نے اپنے شوہروں کی جگہ حکمرانی کے فرائض انجام دیے جو کہ جنگوں پر گئے ہوئے تھے، اور انہوں نے نشاۃ ثانیہ میں حصہ ڈالا۔ مثال کے طور پر، کیتھرین عظمیٰ نے کارہائے نمایاں سے بھرپور زندگی گزاری اور روسی، یورپی بلکہ عالمی تاریخ کے طویل ترین دورِ حکمرانی کے حامل اور مقبول ترین حکمرانوں کی فہرست میں اس کا نام آتا ہے۔ اگرچہ کوئی تحریری ریکارڈ موجود نہیں مگر زبانی تاریخ کی بدولت ہمیں پولی نیشیا اور براعظم شمالی امریکاو جنوبی امریکہ میں خواتین حکمرانوں کا احوال سننے کو ملتا ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں متعدد خواتین تخت شاہی سنبھالے ہوئے ہیں جن میں برطانیا کی ملکہ الزبتھ دوم شامل ہے جن کا متاثر کن دورِ حکمرانی 1952ء سے شروع ہوا۔ ڈنمارک کی ملکہ مارگریتھ دوم اور مائوری ملکہ کونی کی مثال دی جا سکتی ہے۔ ایسی ملکائوں کی حکمرانی پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے کیونکہ قدیم زمانے میں کسی قوم پر حکمرانی کرنے کا پیمانہ موجودہ دور سے خاصا مختلف ہے۔ مگر کئی جدید اقوام پر منتخب خواتین قائدین حکمران رہی ہیں اور اب بھی ہیں۔
شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...
محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...
ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...
جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...
مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...
ایران میں دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی ،میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا ،آج بلیک میلنگ، کرپشن اور خونریزی کے 47 سالہ دور کا خاتمہ ہوجائے گا ٹرمپ کی دھمکی کا بیان پاگل پن اور نسل کشی کا انتباہ قرار(عرب میڈیا ) ہم نے ایران میں رجیم چینج کردی، موجودہ قیادت م...
سعودی عرب میں پیٹروکیمیکل اور صنعتی کمپلیکس حملوں پر اظہار تشویش،حملے غیر ضروری،کشیدگی میں اضافہ قرار، مشرق وسطی تنازع حل کرنے کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، فیلڈ مارشل آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسزکاپاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کی صلاحیت پ...
مقدمات میں تاخیر اور عدالتی عمل میں رکاوٹیں نفرتوں کو بڑھا رہی ہیں، جس کا نقصان ملک کو ہوگا بانی پی ٹی آئی کی پر امن رہائی تحریک کیلئے عملی ممبرشپ شروع ہو چکی ہے ،وزیراعلیٰ کی صحافی سے گفتگو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل افریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کے کیسز میں تاخیر ...
سندھ حکومت مشاورت کے بعد جواب دے گی، توانائی بچت کیلئے شادی ہالز، ریسٹورنٹس، بیکریاں رات 10 بجے کے بعد کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی، اطلاق آج سے ہوگا میڈیکل اسٹورزکے اوقات کار ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے،وزیراعظم کی زیر صدارت توانائی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کے حوالے ...
آج کی ڈیڈ لائن حتمی ، ہماری فوج دنیا کی عظیم فوج ، ضرورت پڑی تو ایران کے تیل پر قبضہ کریں گے، ویسے ان کے پاس کچھ میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں،ٹرمپ کاتقریب سے خطاب ایران نے امریکی تجاویز پر جنگ بندی کو مستردکردیا ، جنگ کا مستقل اور مکمل خاتمہ ضروری ہے ، ایران نے اپنا ردعمل پا...
ملک بھر میںحکومت کی تیاری مکمل، موبائل ایپ کے ذریعے فیول خریداری کی مانیٹرنگ شہریوں کیلئے کوٹہ مقرر ، کسی شخص کو مقررہ حد سے زیادہ پیٹرول خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی حکومت نے ملک بھر کے پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے اور شہریوں کیلئے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کا...
ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو جنگ بندی کیلئے اپنے مطالبات پہنچا دیے ہیں، ایران ایران کے واضح موقف کو کسی صورت پسپائی یا پیچھے ہٹنے کی علامت نہ سمجھا جائے،ترجمان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری براہِ راست جنگ کے دوران پیر، کو تہران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن...