... loading ...
شگفتہ شفیق کی شاعری ہر ایک کو اپنی ہی داستان معلو م ہو تی ہے کہ ان کا شعر ی ا ظہا ر ان کی خو بصورت فکر کو نما یا ں کر تا ہے اور قاری کے د ل میں اتر تا چلا جا تا ہے شگفتہ شفیق کا پسند یدہ مو ضو ع شاعری میں محبت ہے اور محبت میں ہجر و فراق کو اُ نھو ں نے اپنے خو بصورت لہجے سے مجسم کر د یا ہے:
خواب لوگوں نے جلا ڈالے تھے
راکھ راہوں میں اُڑا دی ہم نے
ہنستی مسکراتی ،پیار اور خلوص لٹاتی شگفتہ شفیق کے کیا اپنے کیا پرائے، سب ہی دیوانے ہیں اور ان دیوانوںمیں پاکستان، انڈیا، امریکہ، کینیڈا اور لندن وغیرہ سب ہی کے احباب شامل ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کو صرف محبت کی مٹی سے گوندھ کر بنایا گیا ہے۔ بے حد نرم دل او ر گداز لہجے و الی شاعرہ شگفتہ شفیق کراچی میں 8 اگست کو پیدا ہوئیں۔بہنوں اور بھائی میں سب سے چھوٹی ہونے کے سبب ماں باپ کی بے حد لاڈلی تھیں لیکن جب شگفتہ13سال کی تھیں تب ان کی امی اچانک دل کا سخت دورہ پڑنے پر انہیں اکیلا چھوڑ کر مالک حقیقی سے جا ملیں اور شگفتہ کی زندگی میں اندھیرے پھیل گئے اور وہ4مہینوں کے لئے بسترِ علالت پر جا پڑیں، اور ایسے میں گھر والوں کی توجہ اور محبت کے علاوہ جس چیز نے ان کو سہارا دیا وہ ان کی چھوٹی چھوٹی نظمیں تھیں جو وہ بیماری کی حالت میں لکھا کرتی تھیںجس میں صرف ان کی اور ان کی ماں کی باتیں ہوا کرتی تھیں شگفتہ کے پاس ماں کے بغیر جینے کا کوئی تصور نہیں تھا لیکن جینا پڑا کہ یہ مالک حقیقی کا فیصلہ تھا یوں13سال کی عمر سے شاعری کی ابتدا ہوئی۔ بیچلر آف سائنس کی ڈگری پی ای سی ایچ ایس کالج سے حاصل کی اور بیچلر آف ایجوکیشن بھی کیا ،لکھنے اور چھپنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ اب ان میں کہانیوں کا اضافہ ہو چکا تھا۔پھر شادی ہوئی ۔ شفیق صاحب ایئر لائن میں انجینئر تھے تو فری ٹکٹ کی سہولت ہونے کے سبب دنیا بھر کی سیاحت ان کے حصے میں آئی۔ ماشاء اللہ 2بیٹے اور1بیٹی اللہ نے عطا کیے۔بچوں کی تعلیم اور تربیت کی ذمہ داری بھی بہت احسن طریقے سے نبھائی۔آج ماشاء اللہ دونوں بیٹے انجینئر اور بیٹی لندن میں ڈاکٹر ہے۔ بڑا بیٹا امریکہ میں ہے چھوٹا بیٹا آج کل این ای ڈی یونیورسٹی سے ماسٹرز کر رہا ہے۔ یوں زندگی بڑی اچھی گزر رہی تھی ا ور شگفتہ خوب شاعری لکھ رہی تھیں اور چھپ رہی تھی کہ مارچ2010میں بخار آیا اور ایک ہفتے تک نہیں گیا تب بلڈ ٹیسٹ ہوئے اور ڈائیگنوس ہوا کہ شگفتہ شفیق کو بلڈ کینسر ہے۔ تب بچوں کے آنسو نہیں تھم رہے تھے اور شفیق کا دل مٹھی میں آ گیا تھا۔ شگفتہ بتاتی ہیں کہ سب گھر والوں کو اس قدر پریشان دیکھنا میرے بس سے باہر تھادل میں تو میرے بھی ٹھنڈی لہریں تھیں لیکن میں نے ہی اپنی ہمت جمع کی اور مسکراہٹ کو لبوں پر چپکا لیا کہ کوئی بات نہیں۔ اللہ پاک اپنا فضل کرے گا ۔شگفتہ کا اس سے پہلے کتاب لانے کا کوئی پروگرام نہیں تھاکہ اپنے شوق کو پورا کرنے کو لکھتی تھی لیکن صرف اپنے آپ کو مصروف کرنے کی خاطر تمام پرانے رسالے میگزین نکال کر اپنی غزلوں نظموں کی کٹنگ کر کے منتخب کر کے کمپائیل کیااتنا زیادہ مواد تھاکہ آرام سے 2کتابیں بن گئیں۔ اور یوں غزل نظم پر مشتمل مجموعہ “میرا دل کہتا ہے اگست 2010 میں چھپ کر مارکیٹ میں آیا جو کہ ہاٹ کیک کی طرح صرف ایک ماہ میں ختم ہو گیا۔ اور اس کا دوسرا ایڈیشن لانا پڑا۔ ــ”میرا دل کہتا ہے”کو بہترین پذیرائی خوبصورت تبصروں کی شکل میں ملی اور بیرون ملک ایوارڈ سے بھی نوازا گیا اور مجموعہ کلام کو کینیڈا میں بھی لاؤنچ کیا گیا جہاں میرے میکے اور سسرال والے بڑی تعداد میں رہتے ہیں یوں کتاب کی پذیرائی بھی ہوئی۔ اور تمام رشتہ داروں سے ملنے کا موقعہ بھی میسر آیا، پھر شگفتہ شفیق کا دوسرا مجموعہ کلام ـ”یاد آتی ہے”کے نام سے 2012میں آیا اور اللہ کے فضل سے اس نے بھی خوب پزیرائی پائی اس مجموعے کو فرینکفرٹ اور ٹورنٹو میںلانچ کیا گیا شگفتہ شفیق کا تیسرا مجموعہ کلام ’’جاگتی آنکھوں کے خواب‘‘۲۰۱۳ء میں منصہ شہود پر آیا ۔ یہ بھی ڈنمارک میں اور ٹورنٹو میں لاؤئنچ ہوا اور پسند کیا گیا۔
شگفتہ شفیق نے پاکستان میں بہت مشاعرے پڑھے ہیں اسی طرح بیرون، ملک لندن ، امریکہ اور کینڈا میں بھی بہت مشاعروں میں شرکت کی جن میں چوٹی کے شعراٗ شامل ہیں شگفتہ شفیق کا کلام کئی سنگرز نے بھی گا کر اس میں چار چاند لگائے ہیں۔
جنوری ۲۰۱۳ء سے مارچ ۲۰۱۴ء تک شگفتہ شفیق کے آغا خان ہسپتال میںبہت سارے کیموتھراپی سائیکلز ہوئے جو ایک سخت تجربہ تھا لیکن الحمدُللہ انہوں نے نے اﷲ کے فضل و کرم سے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کیا اور فتح حاصل کی ا ب ماشاء اﷲ شگفتہ شفیق کو آغا خان ہسپتال کی تقریبات میں رول ماڈل کے طور پر بلایا جاتا ہے کہ ہمت کی جائے تو اﷲ پاک ضرور مدد کرتے ہیں اور کامیابی ملتی ہے ۔
شگفتہ شفیق کو کراچی میں ۲۰ ؍ مئی ۲۰۱۵ء کو میٹرو 1 اَدبی فورم او ر ا نڈس یونیورسٹی ادبی فورم کی طرف سے اُردو ادب کی ترویج پر شاندار تقریبِ پذیرائی میں وائس چانسلر خالد امین اورڈائریکٹر صاحب جناب محمد رئیس علوی صاحب نے یاد گاری شیلڈز اور میڈل دیئے گئے ۔ تقریب بزمِ شاعری میں دکھائی گئی ۔
شگفتہ شفیق کہتی ہیں کہ ہر شر میں بھی خیر کا پہلو آپ تلاش کرسکتے ہیں ۔ یہ لکھنا لکھانا میرا شوق تھا لیکن اس میں ہی مصروف ہوکر ہم نے بلڈ کینسر سے فائٹ کی ہے ۔ لمبی لمبی طویل 14-15گھنٹے کی فلائٹس لیں اور کسی کو احساس تک نہ ہونے دیا کہ ہم کس کرائسز سے گزر رہے ہیں ۔ اپنے آپ کو بہت خو د ہمت دلاتے رہے گھر اور گھر والوں کا بھی خیال رکھا اور بہت اہم بات یہ کہ مجھے اﷲ کا بیحد فضل اور میرے پیارے دوستوں سے حو صلہ اور بیشمار دعائیں حاصل رہی ہیں اور میں آپ سب کی قرض دار ہوں تو اب میں نمازوں میں لازمی اپنے پیارے احباب کیلئے سب سے پہلے دُعائیں کرتی ہوں کہ کبھی انہیں گرم ہوا نہ چھو پائے میرے قریبی دوست میرے دل میں بستے ہیں ۔ مجھے فیس بُک بہت پیارا ہے کہ ا س میں ہم نے خوب ہی آن لائن لکھا اور تعریف پائی ۔ میں آپ سب کی ممنون ہوں میرے شوہر اور بچوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا ہے ۔ ہر لمحہ میری خوشی کیلئے ہر کام پر تیار رہے ہیں جیسے میں ان پر جان دیتی ہوں وہ بھی مجھے سر آنکھوں پر رکھتے ہیں ۔آجکل کئی کتابوں پر کام کر رہی ہوں جس میں نثر اور نظم دونوں ہی شامل ہیں لیکن درمیان میں جب گھر اور گھر والے آجاتے ہیں تو کام چھوڑ کر اپنے گھر یلو فرائض میں لگ جاتی ہوں ۔ لیکن شاعری سفرنامے کتابوں پر تبصرے ، کہانیاں افسانے سب چلتے رہتے ہیں ۔ ذرا رفتا ر ہلکی ہوجاتی ہے شگفتہ شفیق ہمیشہ آپ سب کی محبتوں اور ددعاؤں میں رہنے کی خواہشمند ہیں۔ اور دل سے آپ سب کی سلامتی اور خوشیوں کیلئے دعا گو ہیں :
اپنے دل میں ترا تو گھر دیکھا
تو ہر اک سمت تھا جدھر دیکھا
میں نے خود کو ترا بنا ڈالا
رنگ میں تیرے رنگ کر دیکھا
٭
زمانے بھر سے جدا اس طرح ہیں میرے نبیؐ
الگ ہو پھولوں میں جیسے گلاب کیا کہنا
٭
چپکے چپکے سے دیکھنا ترا
پیار کی داستان نہ ہو جائے
جو ترے ساتھ ساتھ چلنے لگے
تو زمین آسمان نہ ہو جائے
٭
جی چاہتا ہے مجھ سے ملے بار بار وہ
ملنے کا بار بار سبب جانتا بھی ہو
٭
کہتی ہے بس شگفتہ اپنا مسیحا اس کو
ہاں زندگی ملی تھی شہر سخن میں جا کے
٭
بھیجا پیام ماں کو ہے ہاتھ سے ہوا کے
بس اک نظر تو دیکھوں اِس لاڈلی کو آکے
٭
جو تم نے مجھ سے کئے ہیں سوال جانے دو
ہے ہجر راس مجھے تو وصال جانے دو
عداوتیں بھلا میرا بگاڑ لیں گی کیا
محبتوں کا بھی دیکھا ہے ہال جانے دو
٭
اس کا یقین کون کرے گا جہان میں
جو کور چشم خود کو بھی پہچانتا نہیں
٭
تم بھی خوش باش ہم کو دکھتے ہو
ہم بھی تکیے کو نم نہیں کرتے
٭
روز کرتا ہے وہ روشن شام کو
اک دیا چھوٹا سا میرے نام کا
٭
کچھ پل تو عمر کے ہمیں اتنے عزیز ہیں
جب یاد آئے ہم بڑ ے سرشار ہوگئے
٭
تو ہے ساتھی گر مر ا تو کہکشاں ہے زندگی
تیری الفت ساتھ ہو شادماں ہے زندگی
٭
اس سے ملنا کوئی ضروری نہیں
وہ میرے دل کے پاس رہتا ہے
٭
کہتا ہے وہ کہ چاہتیں مٹتی نہیں کبھی
دل سے شگفتہ نام مٹانے کا فائدہ
٭
سو چا جو میں نے آج تو یہ راز پا لیا
دیمک کی طرح مجھ کو محبت نے کھا لیا
٭
یوں ہی سب بے وفائی کرتے ہیں
ایسا کیا تم نے بے مثال کیا
٭
لگن زندگی کی جگانی پڑے گی
خوشی سب کی خاطر منانی پڑے گی
گھرانے کی عزت بچانی پڑے گی
ہنسی تو لبوں پر سجانی پڑے گی
٭
خبر نہیں یہ عداوت ہے یا کہ اُلفت ہے
جہاں ہو ذکر مرا مسکرانے جاتا ہے
٭
روایت وفا کی نبھاتی رہی ہو ں
محبت سے اپنا بناتی رہی ہو ں
بڑی مشکلیں ہیں پر اے جان جاناں
ثوابِ محبت کماتی رہی ہوں
٭
میں نے سجدوں میں فقط ایک تمنا کی تھی
آستینوں میں کبھی سانپ نہ پالے کوئی
خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم ہے، خیبر پختونخوا میں آپریشن نہیں کرنا تو کیا خارجی نور ولی کو وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے؟ اس کی بیعت کرلی جائے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر وزیر اعلیٰ کے پی فرما رہے ہیں کابل ہماری سکیورٹی کی گارنٹی دے، کیا ہبت اللہ بتائیں گے چارس...
اب تک کہیں سے اشارہ نہیں ملا ، بانی پی ٹی آئی سے ہم ملے گے ان سے مکالمہ ہو گا،ہدایت لیں گے پھر ان سے بات ہوسکتی ہے،سلمان اکرم راجا کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کرنے سے انکار سندھ حکومت احسان نہیں کر رہی، سہیل آفریدی کو پروٹوکول دینا آئینی حق ،رانا ثنا 5 بڑوں وال...
مصدقہ اطلاعات پرکئی ہفتوں پر محیط انتہائی پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس آپریشن،گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید، نیاز قادر عرف کنگ، حمدان عرف فرید شامل ہیں کارروائی میں 30 عدد امونیم نائٹریٹ سے بھرے ڈرم، 5 دھماکہ خیز سلنڈرز، ایک پرائما کارڈ اور ڈیٹونیٹرز کی بڑی مقدار...
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا 9 سے 11 جنوری تک سندھ کا تاریخی دورہ کریں گے،پی ٹی آئی آٹھ فروری یومِ سیاہ کے طور پر منائیں گے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا،پریس کانفرنس پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے انصاف ہاؤس کراچی میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ...
ڈیلسی روڈریگز نے درست کام نہیں کیا تو مادورو سے زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑے گی گرین لینڈ امریکی دفاع کیلئے ضروری ہے ،امریکی صدرکی نائب صدر وینزویلا کو دھمکی واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا نے درست رویہ اختیار نہ کیا تو امریکا دوبارہ حملہ کر دے ...
روشنیوں کا شہر مختلف مسائل کا شکار، ٹوٹی سڑکیں، کھلے نالوں نے شہر کی شکل بگاڑ دی،ماہرین نے صحت کیلئے ہولناک قرار دیدیا ان فوڈ اسٹریٹس اور غذائی اسٹالز میں پہلے ہی حفظان صحت کے اصولوں کا فقدان ہے رہی سہی کسر اڑتی دھول مٹی نے پوری کردی روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی مختلف مسا...
15 نکاتی ایجنڈے میں واضح کیا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا تمام فریق مل کر بیٹھیں گے تو مؤثر پالیسی بنے گی اور امن بحال ہوگا،صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن...
پنجاب میں احتجاج کی قیادت سہیل آفریدی، خیبرپختونخوا میں شاہد خٹک کریں گے جو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں وہ کرتے رہیں احتجاج ہر صورت ہوگا، پارٹی ذرائع پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 8 فروری کو ملک بھر میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پارٹی ذرائع کے مطابق اس شیڈول احتجاج کے لی...
سندھ کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے،پیپلز پارٹی کراچی سے دشمنی کرتی ہے ایم کیو ایم ، پیپلزپارٹی پر برا وقت آتا ہے تو مصنوعی لڑائی لڑنا شروع کر دیتے ہیں،پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلاول ...
9 تا 11 جنوری کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں کا دورہ کریں گے، سلمان اکرم راجا مزارقائد پر حاضری شیڈول میں شامل، دورے سے اسٹریٹ موومنٹ کو نئی رفتار ملے گی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ اپنے دورے کے دوران کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ عوام سے براہِ را...
اٹلی،ارجنٹائن،پیرس، یونان ، ٹائمز اسکوائر ،شکاگو ،واشنگٹن اور دیگر امریکی شہروں میںاحتجاج امریکا کو وینزویلا سمیت کسی غیر ضروری جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہئے،مشتعل شرکا کا مطالبہ امریکا کی جانب سے وینزویلا پر حملے کے خلاف امریکی شہروں سمیت دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے جن میں ٹرمپ ...
کاراکاس میں کم از کم سات زور دار دھماکے، اہم فوجی تنصیبات اور وزارت دفاع کو نشانہ بنایا گیا ،دھماکوں کے بعد کئی علاقوں میں بجلی غائب، آسمان میں دھواں اُٹھتا ہوا دیکھا گیا امریکی فوج کی خصوصی یونٹ ڈیلٹا فورس نے رات کے وقت ان کے بیڈروم سے اُس وقت گرفتار کیا جب وہ گہری نیند سو رہے...