وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نئی نسل کی د لنشیں لہجے والی معرو ف نما ئندہ شاعرہ شگفتہ شفیق سے ملیے

اتوار 13 مئی 2018 نئی نسل کی د لنشیں لہجے والی معرو ف نما ئندہ شاعرہ شگفتہ شفیق سے ملیے

شگفتہ شفیق کی شاعری ہر ایک کو اپنی ہی داستان معلو م ہو تی ہے کہ ان کا شعر ی ا ظہا ر ان کی خو بصورت فکر کو نما یا ں کر تا ہے اور قاری کے د ل میں اتر تا چلا جا تا ہے شگفتہ شفیق کا پسند یدہ مو ضو ع شاعری میں محبت ہے اور محبت میں ہجر و فراق کو اُ نھو ں نے اپنے خو بصورت لہجے سے مجسم کر د یا ہے:

خواب لوگوں نے جلا ڈالے تھے
راکھ راہوں میں اُڑا دی ہم نے

ہنستی مسکراتی ،پیار اور خلوص لٹاتی شگفتہ شفیق کے کیا اپنے کیا پرائے، سب ہی دیوانے ہیں اور ان دیوانوںمیں پاکستان، انڈیا، امریکہ، کینیڈا اور لندن وغیرہ سب ہی کے احباب شامل ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کو صرف محبت کی مٹی سے گوندھ کر بنایا گیا ہے۔ بے حد نرم دل او ر گداز لہجے و الی شاعرہ شگفتہ شفیق کراچی میں 8 اگست کو پیدا ہوئیں۔بہنوں اور بھائی میں سب سے چھوٹی ہونے کے سبب ماں باپ کی بے حد لاڈلی تھیں لیکن جب شگفتہ13سال کی تھیں تب ان کی امی اچانک دل کا سخت دورہ پڑنے پر انہیں اکیلا چھوڑ کر مالک حقیقی سے جا ملیں اور شگفتہ کی زندگی میں اندھیرے پھیل گئے اور وہ4مہینوں کے لئے بسترِ علالت پر جا پڑیں، اور ایسے میں گھر والوں کی توجہ اور محبت کے علاوہ جس چیز نے ان کو سہارا دیا وہ ان کی چھوٹی چھوٹی نظمیں تھیں جو وہ بیماری کی حالت میں لکھا کرتی تھیںجس میں صرف ان کی اور ان کی ماں کی باتیں ہوا کرتی تھیں شگفتہ کے پاس ماں کے بغیر جینے کا کوئی تصور نہیں تھا لیکن جینا پڑا کہ یہ مالک حقیقی کا فیصلہ تھا یوں13سال کی عمر سے شاعری کی ابتدا ہوئی۔ بیچلر آف سائنس کی ڈگری پی ای سی ایچ ایس کالج سے حاصل کی اور بیچلر آف ایجوکیشن بھی کیا ،لکھنے اور چھپنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ اب ان میں کہانیوں کا اضافہ ہو چکا تھا۔پھر شادی ہوئی ۔ شفیق صاحب ایئر لائن میں انجینئر تھے تو فری ٹکٹ کی سہولت ہونے کے سبب دنیا بھر کی سیاحت ان کے حصے میں آئی۔ ماشاء اللہ 2بیٹے اور1بیٹی اللہ نے عطا کیے۔بچوں کی تعلیم اور تربیت کی ذمہ داری بھی بہت احسن طریقے سے نبھائی۔آج ماشاء اللہ دونوں بیٹے انجینئر اور بیٹی لندن میں ڈاکٹر ہے۔ بڑا بیٹا امریکہ میں ہے چھوٹا بیٹا آج کل این ای ڈی یونیورسٹی سے ماسٹرز کر رہا ہے۔ یوں زندگی بڑی اچھی گزر رہی تھی ا ور شگفتہ خوب شاعری لکھ رہی تھیں اور چھپ رہی تھی کہ مارچ2010میں بخار آیا اور ایک ہفتے تک نہیں گیا تب بلڈ ٹیسٹ ہوئے اور ڈائیگنوس ہوا کہ شگفتہ شفیق کو بلڈ کینسر ہے۔ تب بچوں کے آنسو نہیں تھم رہے تھے اور شفیق کا دل مٹھی میں آ گیا تھا۔ شگفتہ بتاتی ہیں کہ سب گھر والوں کو اس قدر پریشان دیکھنا میرے بس سے باہر تھادل میں تو میرے بھی ٹھنڈی لہریں تھیں لیکن میں نے ہی اپنی ہمت جمع کی اور مسکراہٹ کو لبوں پر چپکا لیا کہ کوئی بات نہیں۔ اللہ پاک اپنا فضل کرے گا ۔شگفتہ کا اس سے پہلے کتاب لانے کا کوئی پروگرام نہیں تھاکہ اپنے شوق کو پورا کرنے کو لکھتی تھی لیکن صرف اپنے آپ کو مصروف کرنے کی خاطر تمام پرانے رسالے میگزین نکال کر اپنی غزلوں نظموں کی کٹنگ کر کے منتخب کر کے کمپائیل کیااتنا زیادہ مواد تھاکہ آرام سے 2کتابیں بن گئیں۔ اور یوں غزل نظم پر مشتمل مجموعہ “میرا دل کہتا ہے اگست 2010 میں چھپ کر مارکیٹ میں آیا جو کہ ہاٹ کیک کی طرح صرف ایک ماہ میں ختم ہو گیا۔ اور اس کا دوسرا ایڈیشن لانا پڑا۔ ــ”میرا دل کہتا ہے”کو بہترین پذیرائی خوبصورت تبصروں کی شکل میں ملی اور بیرون ملک ایوارڈ سے بھی نوازا گیا اور مجموعہ کلام کو کینیڈا میں بھی لاؤنچ کیا گیا جہاں میرے میکے اور سسرال والے بڑی تعداد میں رہتے ہیں یوں کتاب کی پذیرائی بھی ہوئی۔ اور تمام رشتہ داروں سے ملنے کا موقعہ بھی میسر آیا، پھر شگفتہ شفیق کا دوسرا مجموعہ کلام ـ”یاد آتی ہے”کے نام سے 2012میں آیا اور اللہ کے فضل سے اس نے بھی خوب پزیرائی پائی اس مجموعے کو فرینکفرٹ اور ٹورنٹو میںلانچ کیا گیا شگفتہ شفیق کا تیسرا مجموعہ کلام ’’جاگتی آنکھوں کے خواب‘‘۲۰۱۳ء میں منصہ شہود پر آیا ۔ یہ بھی ڈنمارک میں اور ٹورنٹو میں لاؤئنچ ہوا اور پسند کیا گیا۔

شگفتہ شفیق نے پاکستان میں بہت مشاعرے پڑھے ہیں اسی طرح بیرون، ملک لندن ، امریکہ اور کینڈا میں بھی بہت مشاعروں میں شرکت کی جن میں چوٹی کے شعراٗ شامل ہیں شگفتہ شفیق کا کلام کئی سنگرز نے بھی گا کر اس میں چار چاند لگائے ہیں۔

جنوری ۲۰۱۳ء سے مارچ ۲۰۱۴ء تک شگفتہ شفیق کے آغا خان ہسپتال میںبہت سارے کیموتھراپی سائیکلز ہوئے جو ایک سخت تجربہ تھا لیکن الحمدُللہ انہوں نے نے اﷲ کے فضل و کرم سے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کیا اور فتح حاصل کی ا ب ماشاء اﷲ شگفتہ شفیق کو آغا خان ہسپتال کی تقریبات میں رول ماڈل کے طور پر بلایا جاتا ہے کہ ہمت کی جائے تو اﷲ پاک ضرور مدد کرتے ہیں اور کامیابی ملتی ہے ۔

شگفتہ شفیق کو کراچی میں ۲۰ ؍ مئی ۲۰۱۵ء کو میٹرو 1 اَدبی فورم او ر ا نڈس یونیورسٹی ادبی فورم کی طرف سے اُردو ادب کی ترویج پر شاندار تقریبِ پذیرائی میں وائس چانسلر خالد امین اورڈائریکٹر صاحب جناب محمد رئیس علوی صاحب نے یاد گاری شیلڈز اور میڈل دیئے گئے ۔ تقریب بزمِ شاعری میں دکھائی گئی ۔

شگفتہ شفیق کہتی ہیں کہ ہر شر میں بھی خیر کا پہلو آپ تلاش کرسکتے ہیں ۔ یہ لکھنا لکھانا میرا شوق تھا لیکن اس میں ہی مصروف ہوکر ہم نے بلڈ کینسر سے فائٹ کی ہے ۔ لمبی لمبی طویل 14-15گھنٹے کی فلائٹس لیں اور کسی کو احساس تک نہ ہونے دیا کہ ہم کس کرائسز سے گزر رہے ہیں ۔ اپنے آپ کو بہت خو د ہمت دلاتے رہے گھر اور گھر والوں کا بھی خیال رکھا اور بہت اہم بات یہ کہ مجھے اﷲ کا بیحد فضل اور میرے پیارے دوستوں سے حو صلہ اور بیشمار دعائیں حاصل رہی ہیں اور میں آپ سب کی قرض دار ہوں تو اب میں نمازوں میں لازمی اپنے پیارے احباب کیلئے سب سے پہلے دُعائیں کرتی ہوں کہ کبھی انہیں گرم ہوا نہ چھو پائے میرے قریبی دوست میرے دل میں بستے ہیں ۔ مجھے فیس بُک بہت پیارا ہے کہ ا س میں ہم نے خوب ہی آن لائن لکھا اور تعریف پائی ۔ میں آپ سب کی ممنون ہوں میرے شوہر اور بچوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا ہے ۔ ہر لمحہ میری خوشی کیلئے ہر کام پر تیار رہے ہیں جیسے میں ان پر جان دیتی ہوں وہ بھی مجھے سر آنکھوں پر رکھتے ہیں ۔آجکل کئی کتابوں پر کام کر رہی ہوں جس میں نثر اور نظم دونوں ہی شامل ہیں لیکن درمیان میں جب گھر اور گھر والے آجاتے ہیں تو کام چھوڑ کر اپنے گھر یلو فرائض میں لگ جاتی ہوں ۔ لیکن شاعری سفرنامے کتابوں پر تبصرے ، کہانیاں افسانے سب چلتے رہتے ہیں ۔ ذرا رفتا ر ہلکی ہوجاتی ہے شگفتہ شفیق ہمیشہ آپ سب کی محبتوں اور ددعاؤں میں رہنے کی خواہشمند ہیں۔ اور دل سے آپ سب کی سلامتی اور خوشیوں کیلئے دعا گو ہیں :

اپنے دل میں ترا تو گھر دیکھا
تو ہر اک سمت تھا جدھر دیکھا
میں نے خود کو ترا بنا ڈالا
رنگ میں تیرے رنگ کر دیکھا
٭
زمانے بھر سے جدا اس طرح ہیں میرے نبیؐ
الگ ہو پھولوں میں جیسے گلاب کیا کہنا
٭
چپکے چپکے سے دیکھنا ترا
پیار کی داستان نہ ہو جائے
جو ترے ساتھ ساتھ چلنے لگے
تو زمین آسمان نہ ہو جائے
٭
جی چاہتا ہے مجھ سے ملے بار بار وہ
ملنے کا بار بار سبب جانتا بھی ہو
٭
کہتی ہے بس شگفتہ اپنا مسیحا اس کو
ہاں زندگی ملی تھی شہر سخن میں جا کے
٭
بھیجا پیام ماں کو ہے ہاتھ سے ہوا کے
بس اک نظر تو دیکھوں اِس لاڈلی کو آکے
٭
جو تم نے مجھ سے کئے ہیں سوال جانے دو
ہے ہجر راس مجھے تو وصال جانے دو
عداوتیں بھلا میرا بگاڑ لیں گی کیا
محبتوں کا بھی دیکھا ہے ہال جانے دو
٭
اس کا یقین کون کرے گا جہان میں
جو کور چشم خود کو بھی پہچانتا نہیں
٭
تم بھی خوش باش ہم کو دکھتے ہو
ہم بھی تکیے کو نم نہیں کرتے
٭
روز کرتا ہے وہ روشن شام کو
اک دیا چھوٹا سا میرے نام کا
٭
کچھ پل تو عمر کے ہمیں اتنے عزیز ہیں
جب یاد آئے ہم بڑ ے سرشار ہوگئے
٭
تو ہے ساتھی گر مر ا تو کہکشاں ہے زندگی
تیری الفت ساتھ ہو شادماں ہے زندگی
٭
اس سے ملنا کوئی ضروری نہیں
وہ میرے دل کے پاس رہتا ہے
٭
کہتا ہے وہ کہ چاہتیں مٹتی نہیں کبھی
دل سے شگفتہ نام مٹانے کا فائدہ
٭
سو چا جو میں نے آج تو یہ راز پا لیا
دیمک کی طرح مجھ کو محبت نے کھا لیا
٭
یوں ہی سب بے وفائی کرتے ہیں
ایسا کیا تم نے بے مثال کیا
٭
لگن زندگی کی جگانی پڑے گی
خوشی سب کی خاطر منانی پڑے گی
گھرانے کی عزت بچانی پڑے گی
ہنسی تو لبوں پر سجانی پڑے گی
٭
خبر نہیں یہ عداوت ہے یا کہ اُلفت ہے
جہاں ہو ذکر مرا مسکرانے جاتا ہے
٭
روایت وفا کی نبھاتی رہی ہو ں
محبت سے اپنا بناتی رہی ہو ں
بڑی مشکلیں ہیں پر اے جان جاناں
ثوابِ محبت کماتی رہی ہوں
٭
میں نے سجدوں میں فقط ایک تمنا کی تھی
آستینوں میں کبھی سانپ نہ پالے کوئی


متعلقہ خبریں


بھارت نے ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری کا اعتراف کر لیا وجود - جمعرات 21 نومبر 2019

جنت نظیر وادی کو بھارت نے دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا۔ 109روز سے جاری کرفیو اور لاک ڈائون کے دوران بھارتی درندے کشمیری بچوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ ہزاروں افراد کی گرفتاری کا بھارت نے خود اعتراف کر لیا۔ عالمی تنظیموں کی رپورٹس نے بھی مودی سرکار کی فسطائیت کا پردہ چاک کر دیا۔مقبوضہ وادی میں زندگی آج بھی قید ہے ، مسلسل لاک ڈائون کے باعث حالات انتہائی خراب ہیں، 109 روز سے جاری بربریت بھی حوصلے پست نہ کر سکی، مظالم کے باوجود کشمیریوں کا عزم جوان ہے ۔بھارت کے وزیر مملکت برائے دا...

بھارت نے ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری کا اعتراف کر لیا

ناروے میں اسلام مخالف ریلی ، توہین قرآن کی جسارت کرنے والے ملعون پر حملہ وجود - جمعرات 21 نومبر 2019

ناروے میں اسلام مخالف ریلی میں توہین قرآن کی جسارت کرنے والے ملعون شخص پر مسلم نوجوانوں نے حملہ کردیا۔ناروے کے شہر کرسٹین سینڈ میں قرآن کی توہین کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے ۔ اسلام مخالف تنظیم (سیان)کے کارکنوں نے ریلی نکالی جس میں قرآن کی شدید بے حرمتی کی گئی۔ لیکن ناروے کی پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور تنظیم کے سربراہ لارس تھورسن کو روکنے کی کوئی کوشش نہ کی۔قرآن کی توہین کو وہاں موجود مسلمان نوجوان برداشت نہ کرسکے اور سبق سکھانے کے لیے اس پر حملہ کردیا۔ پہلے ایک نوجوان ر...

ناروے میں اسلام مخالف ریلی ، توہین قرآن کی جسارت کرنے والے ملعون پر حملہ

ایران کیساتھ جنگ نہیں چاہتے ، دفاع کیلئے ہر پل تیار ہیں،شاہ سلمان وجود - جمعرات 21 نومبر 2019

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان نے کہاہے کہ ریاض تہران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا مگر اپنے دفاع کرنے کے لئے ہر پل تیار ہے ۔شوریٰ کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عالمی برداری ایران کے میزائل اور ایٹمی پروگرام کو روکنے میں کردار ادا کرے ، اپنا دفاع کے لئے انتہائی اقدام اٹھانے میں ایک لمحہ کی تاخیر نہیں کی جائے گی۔شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی تیل تنصیبات پر حملے میں ایرانی اسلحہ استعمال ہوا، عالمی برادری ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کوروکنے میں کردار ادا کرے ۔سعودی ...

ایران کیساتھ جنگ نہیں چاہتے ، دفاع کیلئے ہر پل تیار ہیں،شاہ سلمان

ملکہ الزبتھ کے چھوٹے بیٹے شہزادہ اینڈریو کا شاہی ذمہ داریوں سے علیحدگی کا اعلان وجود - جمعرات 21 نومبر 2019

ملکہ الزبتھ کے چھوٹے بیٹے شہزادہ اینڈریو نے اپنی شاہی ذمہ داریوں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق برطانوی ملکہ نے ڈیوک آف یارک کو ان کی سرکاری خدمات سے سبکدوش ہونے کی اجازت دے دی، اس بات کی تصدیق شہزادہ اینڈریو کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بھی ہوئی جس میں انہوں نے بچوں سے جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات کا معاملہ منظر عام پر آنے سے متعلق بتایا۔شہزادہ اینڈریو برطانوی ملکہ الزبتھ کے دوسرے بیٹے اور برطانیہ کے تخت و تاج کے امیدواروں ...

ملکہ الزبتھ کے چھوٹے بیٹے شہزادہ اینڈریو کا شاہی ذمہ داریوں سے علیحدگی کا اعلان

سب سے زیادہ تارکین وطن بچے امریکا میں قید ہیں، اقوام متحدہ وجود - جمعرات 21 نومبر 2019

اقوام متحدہ کی رپورٹ آزادی سے محروم کر دئیے گئے بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کا عالمی جائزہ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ تارکین وطن بچے امریکی جیلوں میں قید ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں امریکی جیلوں میں ایک لاکھ سے زائد تارکین وطن بچوں کے قید ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے جبکہ ان بچوں کے والدین بھی کسی نہ کسی جیل میں قید ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی ہے ۔انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے عال...

سب سے زیادہ تارکین وطن بچے امریکا میں قید ہیں، اقوام متحدہ

بابری مسجد کیس میں فیصلے کے خلاف اپیل کا اعلان وجود - منگل 19 نومبر 2019

بھارت میں ایک مسلم گروپ نے ایودھیا میں بابری مسجد کی زمین ہندوں کو دیے جانے سے متعلق حالیہ فیصلے کے خلاف ملکی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق دانشوروں اور مختلف تنظیموں کے گروپ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک رکن سید قاسم الیاس نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں واضح خامیاں ہیں۔ اس سلسلے میں مرکزی مسلم فریق سنی وقف بورڈ نے عدالت کا فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے اسے چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بابری مسجد کیس میں فیصلے کے خلاف اپیل کا اعلان

حکومت سازی میں عرب قانون سازوں کی حمایت خطرناک ہے، اسرائیلی وزیراعظم وجود - منگل 19 نومبر 2019

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے سیاسی حریف بینی گینٹس نے عرب قانون سازوں کی حمایت سے حکومت قائم کی، تو یہ ممکنہ پیش رفت ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک ویڈیو میں یہ تنبیہ کی۔ اسرائیلی میں ستمبر میں ہوئے انتخابات کے بعد سے مختلف سیاسی جماعتیں حکومت سازی کی کوششوں میں ہیں تاہم اب تک کوئی بھی سیاسی اتحاد مطلوبہ حمایت حاصل نہیں کر سکا۔ مرکزی امیدوار نیتن یاہو اور گین...

حکومت سازی میں عرب قانون سازوں کی حمایت خطرناک ہے، اسرائیلی وزیراعظم

مواخذے کی کارروائی، صدر ٹرمپ کے خلاف ایک اور گواہی ریکارڈ وجود - منگل 19 نومبر 2019

امریکا کے قومی سلامتی ادارے کے سابق اہلکار ٹِم موریسن نے کہاہے کہ یورپی یونین میں امریکی سفیر سونڈ لینڈ نے انہیں بتایا تھا کہ وہ یوکرین معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر عمل پیرا تھے۔امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ٹم موریسن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی میں گواہی دیتے ہوئے کہا کہ انہیں سونڈ لینڈ نے بتایا تھا کہ یوکرین کے لیے امریکی امداد مشروط ہے اور اس کی شرط یہ ہے کہ یوکرین سابق صدر جو بائیڈن اور ان کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے خلاف تحقیقات کا ا...

مواخذے کی کارروائی، صدر ٹرمپ کے خلاف ایک اور گواہی ریکارڈ

نوسالہ بیلجیئن بچہ الیکٹریکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کے لیے تیار وجود - منگل 19 نومبر 2019

ایک نو سالہ بیلجیئن جس کی ماں ڈچ نسل سے اس وقت گریجوایشن کررہا ہے۔ عن قریب وہ اپنے اس مضمون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرلے گا۔عرب ٹی وی کے مطابق نو سالہ لوران سایمنز کے والد بیلجئین سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ والد ڈنمارک سے ہیں۔ لوران نیدرلینڈس کی یونیورسٹی آف آئندھوون میں الیکٹریکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کررہا ہے۔ اگرچہ اس عمر کے کسی بچے کا اس تعلیمی مرحلے تک پہنچنا آسان نہیں مگر یہ اس نے اسے حقیقت ہے۔یونیورسٹی کے عملے اور انتظامیہ کا کہنا تھاکہ بچہ غ...

نوسالہ بیلجیئن بچہ الیکٹریکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کے لیے تیار

سابق ایرانی بادشاہ کے بیٹے کی حکومت مخالف احتجاج کی حمایت وجود - منگل 19 نومبر 2019

ایران کے سابق باد شاہ کے صاحب زادے رضا پہلوی نے اپنے ایک صوتی پیغام میں ملک میں حکومت کے خلاف جاری عوامی احتجاج کی تحریک کی مکمل حمایت کردی،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ان کا یہ بیان ایران انٹرنیشنل عریبک ویب سائٹ کے ٹویٹر اکائونٹ پر نشرہوا ۔رضا پہلوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایران میں بڑے پیمانے پر احتجاج ملک میں قومی یکجہتی کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔

سابق ایرانی بادشاہ کے بیٹے کی حکومت مخالف احتجاج کی حمایت

60 ارکان پارلیمنٹ کا صدر حسن روحانی سے باز پرس کا مطالبہ وجود - منگل 19 نومبر 2019

60 ایرانی قانون سازوں نے ایران کے درجنوں شہروں میں مظاہروں کے پس منظر میں صدر حسن روحانی سے باز پرس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے ارکان نے صدر حسن روحانی پر ملک کا انتظام وانصرام چلانے میں ناکامی اور نا اہلی کا الزام عائد کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر حسن روحانی اور ان کی حکومت اپنے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک کررہی ہے۔

60 ارکان پارلیمنٹ کا صدر حسن روحانی سے باز پرس کا مطالبہ

ہانگ کانگ ،حکومت مخالف مظاہرے ، پولیس سے جھڑپیں وجود - اتوار 17 نومبر 2019

ہانگ کانگ میں حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آ گئی، مظاہرین اور پولیس جھڑپوں کے دوران متعد افراد زخمی ہو گئے ۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جمہوریت کے حامی صبح ہی سڑکوں پر آ گئے اورحکومت مخالف مظاہرہ کیا، سکیورٹی اہلکاروں نے آنسو گیس کے شیل پھینکے تو مظاہرین نے بھی پٹرول بم سے پولیس کو ضرب لگائی، نوجوانوں نے آنسو گیس سے بچنے کے لیے ہیلمٹ اور ماسک پہن رکھے تھے ، انہوں اپنے دفاع کے لیے چھتریاں بھی اٹھا رکھی تھیں جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین پٹ...

ہانگ کانگ ،حکومت مخالف مظاہرے ، پولیس سے جھڑپیں