وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نئی نسل کی د لنشیں لہجے والی معرو ف نما ئندہ شاعرہ شگفتہ شفیق سے ملیے

اتوار 13 مئی 2018 نئی نسل کی د لنشیں لہجے والی معرو ف نما ئندہ شاعرہ شگفتہ شفیق سے ملیے

شگفتہ شفیق کی شاعری ہر ایک کو اپنی ہی داستان معلو م ہو تی ہے کہ ان کا شعر ی ا ظہا ر ان کی خو بصورت فکر کو نما یا ں کر تا ہے اور قاری کے د ل میں اتر تا چلا جا تا ہے شگفتہ شفیق کا پسند یدہ مو ضو ع شاعری میں محبت ہے اور محبت میں ہجر و فراق کو اُ نھو ں نے اپنے خو بصورت لہجے سے مجسم کر د یا ہے:

خواب لوگوں نے جلا ڈالے تھے
راکھ راہوں میں اُڑا دی ہم نے

ہنستی مسکراتی ،پیار اور خلوص لٹاتی شگفتہ شفیق کے کیا اپنے کیا پرائے، سب ہی دیوانے ہیں اور ان دیوانوںمیں پاکستان، انڈیا، امریکہ، کینیڈا اور لندن وغیرہ سب ہی کے احباب شامل ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کو صرف محبت کی مٹی سے گوندھ کر بنایا گیا ہے۔ بے حد نرم دل او ر گداز لہجے و الی شاعرہ شگفتہ شفیق کراچی میں 8 اگست کو پیدا ہوئیں۔بہنوں اور بھائی میں سب سے چھوٹی ہونے کے سبب ماں باپ کی بے حد لاڈلی تھیں لیکن جب شگفتہ13سال کی تھیں تب ان کی امی اچانک دل کا سخت دورہ پڑنے پر انہیں اکیلا چھوڑ کر مالک حقیقی سے جا ملیں اور شگفتہ کی زندگی میں اندھیرے پھیل گئے اور وہ4مہینوں کے لئے بسترِ علالت پر جا پڑیں، اور ایسے میں گھر والوں کی توجہ اور محبت کے علاوہ جس چیز نے ان کو سہارا دیا وہ ان کی چھوٹی چھوٹی نظمیں تھیں جو وہ بیماری کی حالت میں لکھا کرتی تھیںجس میں صرف ان کی اور ان کی ماں کی باتیں ہوا کرتی تھیں شگفتہ کے پاس ماں کے بغیر جینے کا کوئی تصور نہیں تھا لیکن جینا پڑا کہ یہ مالک حقیقی کا فیصلہ تھا یوں13سال کی عمر سے شاعری کی ابتدا ہوئی۔ بیچلر آف سائنس کی ڈگری پی ای سی ایچ ایس کالج سے حاصل کی اور بیچلر آف ایجوکیشن بھی کیا ،لکھنے اور چھپنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ اب ان میں کہانیوں کا اضافہ ہو چکا تھا۔پھر شادی ہوئی ۔ شفیق صاحب ایئر لائن میں انجینئر تھے تو فری ٹکٹ کی سہولت ہونے کے سبب دنیا بھر کی سیاحت ان کے حصے میں آئی۔ ماشاء اللہ 2بیٹے اور1بیٹی اللہ نے عطا کیے۔بچوں کی تعلیم اور تربیت کی ذمہ داری بھی بہت احسن طریقے سے نبھائی۔آج ماشاء اللہ دونوں بیٹے انجینئر اور بیٹی لندن میں ڈاکٹر ہے۔ بڑا بیٹا امریکہ میں ہے چھوٹا بیٹا آج کل این ای ڈی یونیورسٹی سے ماسٹرز کر رہا ہے۔ یوں زندگی بڑی اچھی گزر رہی تھی ا ور شگفتہ خوب شاعری لکھ رہی تھیں اور چھپ رہی تھی کہ مارچ2010میں بخار آیا اور ایک ہفتے تک نہیں گیا تب بلڈ ٹیسٹ ہوئے اور ڈائیگنوس ہوا کہ شگفتہ شفیق کو بلڈ کینسر ہے۔ تب بچوں کے آنسو نہیں تھم رہے تھے اور شفیق کا دل مٹھی میں آ گیا تھا۔ شگفتہ بتاتی ہیں کہ سب گھر والوں کو اس قدر پریشان دیکھنا میرے بس سے باہر تھادل میں تو میرے بھی ٹھنڈی لہریں تھیں لیکن میں نے ہی اپنی ہمت جمع کی اور مسکراہٹ کو لبوں پر چپکا لیا کہ کوئی بات نہیں۔ اللہ پاک اپنا فضل کرے گا ۔شگفتہ کا اس سے پہلے کتاب لانے کا کوئی پروگرام نہیں تھاکہ اپنے شوق کو پورا کرنے کو لکھتی تھی لیکن صرف اپنے آپ کو مصروف کرنے کی خاطر تمام پرانے رسالے میگزین نکال کر اپنی غزلوں نظموں کی کٹنگ کر کے منتخب کر کے کمپائیل کیااتنا زیادہ مواد تھاکہ آرام سے 2کتابیں بن گئیں۔ اور یوں غزل نظم پر مشتمل مجموعہ “میرا دل کہتا ہے اگست 2010 میں چھپ کر مارکیٹ میں آیا جو کہ ہاٹ کیک کی طرح صرف ایک ماہ میں ختم ہو گیا۔ اور اس کا دوسرا ایڈیشن لانا پڑا۔ ــ”میرا دل کہتا ہے”کو بہترین پذیرائی خوبصورت تبصروں کی شکل میں ملی اور بیرون ملک ایوارڈ سے بھی نوازا گیا اور مجموعہ کلام کو کینیڈا میں بھی لاؤنچ کیا گیا جہاں میرے میکے اور سسرال والے بڑی تعداد میں رہتے ہیں یوں کتاب کی پذیرائی بھی ہوئی۔ اور تمام رشتہ داروں سے ملنے کا موقعہ بھی میسر آیا، پھر شگفتہ شفیق کا دوسرا مجموعہ کلام ـ”یاد آتی ہے”کے نام سے 2012میں آیا اور اللہ کے فضل سے اس نے بھی خوب پزیرائی پائی اس مجموعے کو فرینکفرٹ اور ٹورنٹو میںلانچ کیا گیا شگفتہ شفیق کا تیسرا مجموعہ کلام ’’جاگتی آنکھوں کے خواب‘‘۲۰۱۳ء میں منصہ شہود پر آیا ۔ یہ بھی ڈنمارک میں اور ٹورنٹو میں لاؤئنچ ہوا اور پسند کیا گیا۔

شگفتہ شفیق نے پاکستان میں بہت مشاعرے پڑھے ہیں اسی طرح بیرون، ملک لندن ، امریکہ اور کینڈا میں بھی بہت مشاعروں میں شرکت کی جن میں چوٹی کے شعراٗ شامل ہیں شگفتہ شفیق کا کلام کئی سنگرز نے بھی گا کر اس میں چار چاند لگائے ہیں۔

جنوری ۲۰۱۳ء سے مارچ ۲۰۱۴ء تک شگفتہ شفیق کے آغا خان ہسپتال میںبہت سارے کیموتھراپی سائیکلز ہوئے جو ایک سخت تجربہ تھا لیکن الحمدُللہ انہوں نے نے اﷲ کے فضل و کرم سے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کیا اور فتح حاصل کی ا ب ماشاء اﷲ شگفتہ شفیق کو آغا خان ہسپتال کی تقریبات میں رول ماڈل کے طور پر بلایا جاتا ہے کہ ہمت کی جائے تو اﷲ پاک ضرور مدد کرتے ہیں اور کامیابی ملتی ہے ۔

شگفتہ شفیق کو کراچی میں ۲۰ ؍ مئی ۲۰۱۵ء کو میٹرو 1 اَدبی فورم او ر ا نڈس یونیورسٹی ادبی فورم کی طرف سے اُردو ادب کی ترویج پر شاندار تقریبِ پذیرائی میں وائس چانسلر خالد امین اورڈائریکٹر صاحب جناب محمد رئیس علوی صاحب نے یاد گاری شیلڈز اور میڈل دیئے گئے ۔ تقریب بزمِ شاعری میں دکھائی گئی ۔

شگفتہ شفیق کہتی ہیں کہ ہر شر میں بھی خیر کا پہلو آپ تلاش کرسکتے ہیں ۔ یہ لکھنا لکھانا میرا شوق تھا لیکن اس میں ہی مصروف ہوکر ہم نے بلڈ کینسر سے فائٹ کی ہے ۔ لمبی لمبی طویل 14-15گھنٹے کی فلائٹس لیں اور کسی کو احساس تک نہ ہونے دیا کہ ہم کس کرائسز سے گزر رہے ہیں ۔ اپنے آپ کو بہت خو د ہمت دلاتے رہے گھر اور گھر والوں کا بھی خیال رکھا اور بہت اہم بات یہ کہ مجھے اﷲ کا بیحد فضل اور میرے پیارے دوستوں سے حو صلہ اور بیشمار دعائیں حاصل رہی ہیں اور میں آپ سب کی قرض دار ہوں تو اب میں نمازوں میں لازمی اپنے پیارے احباب کیلئے سب سے پہلے دُعائیں کرتی ہوں کہ کبھی انہیں گرم ہوا نہ چھو پائے میرے قریبی دوست میرے دل میں بستے ہیں ۔ مجھے فیس بُک بہت پیارا ہے کہ ا س میں ہم نے خوب ہی آن لائن لکھا اور تعریف پائی ۔ میں آپ سب کی ممنون ہوں میرے شوہر اور بچوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا ہے ۔ ہر لمحہ میری خوشی کیلئے ہر کام پر تیار رہے ہیں جیسے میں ان پر جان دیتی ہوں وہ بھی مجھے سر آنکھوں پر رکھتے ہیں ۔آجکل کئی کتابوں پر کام کر رہی ہوں جس میں نثر اور نظم دونوں ہی شامل ہیں لیکن درمیان میں جب گھر اور گھر والے آجاتے ہیں تو کام چھوڑ کر اپنے گھر یلو فرائض میں لگ جاتی ہوں ۔ لیکن شاعری سفرنامے کتابوں پر تبصرے ، کہانیاں افسانے سب چلتے رہتے ہیں ۔ ذرا رفتا ر ہلکی ہوجاتی ہے شگفتہ شفیق ہمیشہ آپ سب کی محبتوں اور ددعاؤں میں رہنے کی خواہشمند ہیں۔ اور دل سے آپ سب کی سلامتی اور خوشیوں کیلئے دعا گو ہیں :

اپنے دل میں ترا تو گھر دیکھا
تو ہر اک سمت تھا جدھر دیکھا
میں نے خود کو ترا بنا ڈالا
رنگ میں تیرے رنگ کر دیکھا
٭
زمانے بھر سے جدا اس طرح ہیں میرے نبیؐ
الگ ہو پھولوں میں جیسے گلاب کیا کہنا
٭
چپکے چپکے سے دیکھنا ترا
پیار کی داستان نہ ہو جائے
جو ترے ساتھ ساتھ چلنے لگے
تو زمین آسمان نہ ہو جائے
٭
جی چاہتا ہے مجھ سے ملے بار بار وہ
ملنے کا بار بار سبب جانتا بھی ہو
٭
کہتی ہے بس شگفتہ اپنا مسیحا اس کو
ہاں زندگی ملی تھی شہر سخن میں جا کے
٭
بھیجا پیام ماں کو ہے ہاتھ سے ہوا کے
بس اک نظر تو دیکھوں اِس لاڈلی کو آکے
٭
جو تم نے مجھ سے کئے ہیں سوال جانے دو
ہے ہجر راس مجھے تو وصال جانے دو
عداوتیں بھلا میرا بگاڑ لیں گی کیا
محبتوں کا بھی دیکھا ہے ہال جانے دو
٭
اس کا یقین کون کرے گا جہان میں
جو کور چشم خود کو بھی پہچانتا نہیں
٭
تم بھی خوش باش ہم کو دکھتے ہو
ہم بھی تکیے کو نم نہیں کرتے
٭
روز کرتا ہے وہ روشن شام کو
اک دیا چھوٹا سا میرے نام کا
٭
کچھ پل تو عمر کے ہمیں اتنے عزیز ہیں
جب یاد آئے ہم بڑ ے سرشار ہوگئے
٭
تو ہے ساتھی گر مر ا تو کہکشاں ہے زندگی
تیری الفت ساتھ ہو شادماں ہے زندگی
٭
اس سے ملنا کوئی ضروری نہیں
وہ میرے دل کے پاس رہتا ہے
٭
کہتا ہے وہ کہ چاہتیں مٹتی نہیں کبھی
دل سے شگفتہ نام مٹانے کا فائدہ
٭
سو چا جو میں نے آج تو یہ راز پا لیا
دیمک کی طرح مجھ کو محبت نے کھا لیا
٭
یوں ہی سب بے وفائی کرتے ہیں
ایسا کیا تم نے بے مثال کیا
٭
لگن زندگی کی جگانی پڑے گی
خوشی سب کی خاطر منانی پڑے گی
گھرانے کی عزت بچانی پڑے گی
ہنسی تو لبوں پر سجانی پڑے گی
٭
خبر نہیں یہ عداوت ہے یا کہ اُلفت ہے
جہاں ہو ذکر مرا مسکرانے جاتا ہے
٭
روایت وفا کی نبھاتی رہی ہو ں
محبت سے اپنا بناتی رہی ہو ں
بڑی مشکلیں ہیں پر اے جان جاناں
ثوابِ محبت کماتی رہی ہوں
٭
میں نے سجدوں میں فقط ایک تمنا کی تھی
آستینوں میں کبھی سانپ نہ پالے کوئی


متعلقہ خبریں


ہیٹی ، صدر کے استعفے کیلئے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے وجود - پیر 14 اکتوبر 2019

ہیٹی میں صدر کے استعفے کے لیے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ، لوگوں نے صدر اور ان کے ساتھیوں کی مبینہ کرپشن کے خلاف زبردست غم و غصے کا اظہار کیا، ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دیں جس سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلا کر نظام زندگی مفلوج کر دیا، صدر کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف بینرز اٹھا رکھے تھے ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ صدر اور ان کے ساتھی بدعنوان ہیں، انہیں فوری مستعفی ہونا پڑے گا۔ملک کے غریب افراد خوراک اور پیٹرول...

ہیٹی ، صدر کے استعفے کیلئے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے

فرانس ،جرمنی کا شام میں کردوں کیخلاف کارروائی روکنے کا مطالبہ وجود - پیر 14 اکتوبر 2019

فرانسیسی صدر اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے ترکی سے شمالی شام میں کردوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے ۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اس حملے کے سنگین انسانی اثرات مرتب ہوں گے اور سخت گیر جنگجو گروپ داعش کو پھر سے سر اٹھانے کا موقع مل سکتا ہے ۔فرانسیسی صدر نے ایلزے محل پیرس میں جرمن چانسلر سے ملاقات کے بعد مشترکہ نیوزکانفرنس میں کہا کہ ہماری مشترکہ خواہش یہ ہے کہ اس حملے کو روک دیا جائے ۔جرمن چانسلر نے اس موقع پر بتایا کہ انھوں نے ترک صدر رجب طیب ار...

فرانس ،جرمنی کا شام میں کردوں کیخلاف کارروائی روکنے کا مطالبہ

شمالی شام سے اپنے 1 ہزار فوجی واپس بلا رہے ہیں ، امریکی وزیردفاع وجود - پیر 14 اکتوبر 2019

امریکا نے شام سے ایک ہزارفوجی واپس بلانے کا اعلان کیاہے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کا اعلان امریکہ کے وزیر دفاع مارک ایسپر نے کیا ہے ۔ایک انٹرویو میں مارک ایسپر نے کہا ہے کہ ہم شام کے شمال سے اپنے ایک ہزار فوجیوں کو پیچھے ہٹا رہے ہیں۔ایسپر نے کہا ہے کہ یہ انخلا جلد کیا جائے گا۔قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کے بعد ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کی یاد دہانی کرواتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ مذاکرات میں صدر ٹرمپ نے مجھے شام کے شمال سے منظم طریقے سے فوجی انخلا کے آغاز کا حکم دیا ہے ۔

شمالی شام سے اپنے 1 ہزار فوجی واپس بلا رہے ہیں ، امریکی وزیردفاع

ٹرمپ نے اسرائیلی فوج کے طویل المیعاد منصوبے پر پانی پھیر دیا وجود - اتوار 13 اکتوبر 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں کردوں کی حمایت سے دست برداری کا اعلان کرکے اسرائیلی فوج کے طویل المیعاد منصوبے پرپانی پھیر دیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے موجودہ آرمی چیف نے کثیر سالہ منصوبہ تیارکیا تھا جس کی نگرانی آرمی چیف اویو کوحاوی خود کررہے تھے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں کرد آبادی کی حمایت سے دست برداری کا اعلان کرکے اسرائیل کے منصوبے پر پانی پھیر دیا۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے لیے امریکی صدر کا ترکوں کی حمایت ترک کرنا حیران کن ہے ۔ اسرا...

ٹرمپ نے اسرائیلی فوج کے طویل المیعاد منصوبے پر پانی پھیر دیا

سوڈان کی تاریخ کی پہلی خاتون چیف جسٹس مقرر وجود - هفته 12 اکتوبر 2019

سوڈان میں جسٹس نعمات عبداللہ محمد خیر کو چیف جسٹس اور تاج السر علی الحبر کو ملک کا اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا ہے ۔نعمات خیر سوڈان کی نئی تاریخ میں چیف جسٹس کے منصب پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔عمر البشیر کی حکومت کے خلاف انقلابی تحریک کو سپورٹ کرنے والی خواتین میں جسٹس نعمات بھی شریک تھیں۔وہ رواں سال اپریل میں خرطوم میں سوڈانی فوج کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے منعقد ہونے والے دھرنے میں نظر آئی تھیں۔نعمات خیر 1957 میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے خرطوم میں قاہرہ یونیورسٹی کے کیمپس سے قانون...

سوڈان کی تاریخ کی پہلی خاتون چیف جسٹس مقرر

چین براعظم افریقا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک بن گیا وجود - هفته 12 اکتوبر 2019

چین براعظم افریقا میں سب سے زیادہ براہ راست سرمایہ کاری کرنے والا ملک ہے ۔بین الاقوامی کنسلٹنگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی ارنسٹ اینڈ ینگ کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق چین 2014 سے 2018 کے درمیان 72.2 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے ساتھ بر اعظم افریقہ کے لئے سب سے زیادہ براہ راست سرمایہ کرنے والا ملک ہے ۔چین کے بعد فرانسیسی زبان بولنے والے ممالک کے لئے 34.1ارب ڈالر سرمایہ کاری کے ساتھ فرانس دوسرے ، 30.8 ارب ڈالر کے ساتھ امریکہ تیسرے اور 25.2 ارب ڈالر کے ساتھ متحدہ عرب امارات چوتھے نمبر پر ہے ۔...

چین براعظم افریقا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک بن گیا

بھارت ،دُلہا کی بیت الخلا میں سیلفی پر دُلہن کو انعام ملے گا وجود - جمعه 11 اکتوبر 2019

بھارت میںدُلہا کی بیت الخلا میں سیلفی پر دُلہن کو انعام ملے گا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مدھیا پردیش کی حکومت نے شادی کیلئے یہ اسکیم متعارف کرائی ہے جس کے لیے درخواست صرف اسی صورت دی جاسکتی ہے جب دُلہن یہ ثابت کردے کہ اس کے ہونے والے شوہر کے گھر میں باتھ روم بھی موجود ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیاکہ سرکاری افسران ہر جگہ باتھ روم چیک نہیں کرسکتے لہٰذا وہ دُلہا سے باتھ روم میں کھڑے ہوکر سیلفی کا مطالبہ کرتے ہیں۔باتھ روم میں کھڑے ہوکر سیلفی لینے کی شرط صرف دیہاتی علاقوں میں ہ...

بھارت ،دُلہا کی بیت الخلا میں سیلفی پر دُلہن کو انعام ملے گا

ترکی کو شام میں فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دی،امریکی وزیر خارجہ وجود - جمعه 11 اکتوبر 2019

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ امریکا نے ترکی کو شام میں فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دی۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ٹی وی چینل پی بی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ اطلاعات بالکل غلط ہیں کہ امریکا نے ترکی کو اس آپریشن کی اجازت دی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے ترکی کو کوئی گرین سگنل نہیں دیا۔اگر امریکا نے ترکی کو اجازت نہیں دی تو شام سے فوج کیوں نکالی، اس سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے شام سے امریکی فوجی نکالنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ترکی کے حفاظتی خدشات...

ترکی کو شام میں فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دی،امریکی وزیر خارجہ

بھارتی طلبا واساتذہ کا کشمیرمیں کرفیو ختم کرنے کیلئے مودی سرکارکوخط وجود - جمعه 11 اکتوبر 2019

بھارت بھر سے طلبا اور اساتذہ نے کشمیریوں پر تشدد کے خلاف مودی سرکار کو خط لکھ دیا۔مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد لاک ڈاؤن کو تقریباً دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزرچکا ہے اور مظلوم کشمیریوں کا مسلسل دو ماہ سے دنیا سے رابطہ ٹوٹا ہوا ہے تاہم مودی سرکار ہے کہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ اب تو غیر انسانی کرفیو کے خلاف بھارت سے بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔بھارت کی مختلف ریاستوں اور ٹیکنالوجی تعلیمی اداروں سے وابستہ تقریباً 132 طلبا اور اساتذہ نے مودی ...

بھارتی طلبا واساتذہ کا کشمیرمیں کرفیو ختم کرنے کیلئے مودی سرکارکوخط

شام کی خودمختاری اور علاقائی سا لمیت کا احترام کیا جائے، چین وجود - جمعه 11 اکتوبر 2019

ترکی کی جانب سے شام کے کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیے جانے کے بعد چین نے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کا مطالبہ کردیا۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ہزاروں لوگوں کو بے گھر اور گھروں سے بھاگنے پر مجبور کرنے والوں کے خلاف بدھ کو بمباری کا اعلان کیا تھا۔کارروائی کے اعلان کے بعد امریکا نے ترکی اور شام کی سرحد سے اپنی فوج واپس بلانے کا اعلان کیا تھا جس امریکی سینیٹرز نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی افواج کو واپس بلانے سے داعش کے دہشت...

شام کی خودمختاری اور علاقائی سا لمیت کا احترام کیا جائے، چین

میکسیکو میں شہریوں نے میئر کو تشدد کا نشانہ بنا دیا وجود - جمعرات 10 اکتوبر 2019

میکسیکو میں شہریوں نے میئر کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق میکسیکو کے جنوبی علاقے کے میئر جارج لوئسکو وعدوں کے مطابق کام نہ کرنے پر شہریوں نے دفتر سے زبردستی باہر نکالا اور گاڑی میں باندھ کر شہر میں گھمایا۔ جس کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے ۔ پولیس نے واقعہ میں ملوث 11افراد کو گرفتارکرلیا ۔میئر جارج لوئس کو بظاہر کوئی زخم نہیں آئے تاہم انہیں بری طرح گھسیٹا گیا۔میکسیکو کے شہریوں کی جانب سے میئر پر حملے کا یہ دوسرا واقعہ ہے جو انتخابی مہم کے دو...

میکسیکو میں شہریوں نے میئر کو تشدد کا نشانہ بنا دیا

اسرائیل کا القدس میں ترکی کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا منصوبہ وجود - جمعرات 10 اکتوبر 2019

اسرائیلی وزارت خارجہ نے وزیر خارجہ یسرایل کاٹز کے ایما پر''مقبوضہ بیت المقدس''میں ترک حکومت کی سرگرمیوں اور ترکی کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں پر پابندی لگانے کا منصوبہ تیار کر لیا۔اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں ترکی کی سماجی اور ترقیاتی سرگرمیوں کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزارت خارجہ نے القدس میں ترک حکومت کے تعاون سے شروع کی گئی کسی بھی قسم کی سرگرمی پرپابندی لگانے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ رپورٹ میں بتایا ...

اسرائیل کا القدس میں ترکی کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا منصوبہ

مضامین
تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔
َِ(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔<BR> َِ(علی عمران جونیئر)

خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود پیر 30 ستمبر 2019
خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

اشتہار