وجود

... loading ...

وجود

نئی نسل کی د لنشیں لہجے والی معرو ف نما ئندہ شاعرہ شگفتہ شفیق سے ملیے

اتوار 13 مئی 2018 نئی نسل کی د لنشیں لہجے والی معرو ف نما ئندہ شاعرہ شگفتہ شفیق سے ملیے

شگفتہ شفیق کی شاعری ہر ایک کو اپنی ہی داستان معلو م ہو تی ہے کہ ان کا شعر ی ا ظہا ر ان کی خو بصورت فکر کو نما یا ں کر تا ہے اور قاری کے د ل میں اتر تا چلا جا تا ہے شگفتہ شفیق کا پسند یدہ مو ضو ع شاعری میں محبت ہے اور محبت میں ہجر و فراق کو اُ نھو ں نے اپنے خو بصورت لہجے سے مجسم کر د یا ہے:

خواب لوگوں نے جلا ڈالے تھے
راکھ راہوں میں اُڑا دی ہم نے

ہنستی مسکراتی ،پیار اور خلوص لٹاتی شگفتہ شفیق کے کیا اپنے کیا پرائے، سب ہی دیوانے ہیں اور ان دیوانوںمیں پاکستان، انڈیا، امریکہ، کینیڈا اور لندن وغیرہ سب ہی کے احباب شامل ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کو صرف محبت کی مٹی سے گوندھ کر بنایا گیا ہے۔ بے حد نرم دل او ر گداز لہجے و الی شاعرہ شگفتہ شفیق کراچی میں 8 اگست کو پیدا ہوئیں۔بہنوں اور بھائی میں سب سے چھوٹی ہونے کے سبب ماں باپ کی بے حد لاڈلی تھیں لیکن جب شگفتہ13سال کی تھیں تب ان کی امی اچانک دل کا سخت دورہ پڑنے پر انہیں اکیلا چھوڑ کر مالک حقیقی سے جا ملیں اور شگفتہ کی زندگی میں اندھیرے پھیل گئے اور وہ4مہینوں کے لئے بسترِ علالت پر جا پڑیں، اور ایسے میں گھر والوں کی توجہ اور محبت کے علاوہ جس چیز نے ان کو سہارا دیا وہ ان کی چھوٹی چھوٹی نظمیں تھیں جو وہ بیماری کی حالت میں لکھا کرتی تھیںجس میں صرف ان کی اور ان کی ماں کی باتیں ہوا کرتی تھیں شگفتہ کے پاس ماں کے بغیر جینے کا کوئی تصور نہیں تھا لیکن جینا پڑا کہ یہ مالک حقیقی کا فیصلہ تھا یوں13سال کی عمر سے شاعری کی ابتدا ہوئی۔ بیچلر آف سائنس کی ڈگری پی ای سی ایچ ایس کالج سے حاصل کی اور بیچلر آف ایجوکیشن بھی کیا ،لکھنے اور چھپنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ اب ان میں کہانیوں کا اضافہ ہو چکا تھا۔پھر شادی ہوئی ۔ شفیق صاحب ایئر لائن میں انجینئر تھے تو فری ٹکٹ کی سہولت ہونے کے سبب دنیا بھر کی سیاحت ان کے حصے میں آئی۔ ماشاء اللہ 2بیٹے اور1بیٹی اللہ نے عطا کیے۔بچوں کی تعلیم اور تربیت کی ذمہ داری بھی بہت احسن طریقے سے نبھائی۔آج ماشاء اللہ دونوں بیٹے انجینئر اور بیٹی لندن میں ڈاکٹر ہے۔ بڑا بیٹا امریکہ میں ہے چھوٹا بیٹا آج کل این ای ڈی یونیورسٹی سے ماسٹرز کر رہا ہے۔ یوں زندگی بڑی اچھی گزر رہی تھی ا ور شگفتہ خوب شاعری لکھ رہی تھیں اور چھپ رہی تھی کہ مارچ2010میں بخار آیا اور ایک ہفتے تک نہیں گیا تب بلڈ ٹیسٹ ہوئے اور ڈائیگنوس ہوا کہ شگفتہ شفیق کو بلڈ کینسر ہے۔ تب بچوں کے آنسو نہیں تھم رہے تھے اور شفیق کا دل مٹھی میں آ گیا تھا۔ شگفتہ بتاتی ہیں کہ سب گھر والوں کو اس قدر پریشان دیکھنا میرے بس سے باہر تھادل میں تو میرے بھی ٹھنڈی لہریں تھیں لیکن میں نے ہی اپنی ہمت جمع کی اور مسکراہٹ کو لبوں پر چپکا لیا کہ کوئی بات نہیں۔ اللہ پاک اپنا فضل کرے گا ۔شگفتہ کا اس سے پہلے کتاب لانے کا کوئی پروگرام نہیں تھاکہ اپنے شوق کو پورا کرنے کو لکھتی تھی لیکن صرف اپنے آپ کو مصروف کرنے کی خاطر تمام پرانے رسالے میگزین نکال کر اپنی غزلوں نظموں کی کٹنگ کر کے منتخب کر کے کمپائیل کیااتنا زیادہ مواد تھاکہ آرام سے 2کتابیں بن گئیں۔ اور یوں غزل نظم پر مشتمل مجموعہ “میرا دل کہتا ہے اگست 2010 میں چھپ کر مارکیٹ میں آیا جو کہ ہاٹ کیک کی طرح صرف ایک ماہ میں ختم ہو گیا۔ اور اس کا دوسرا ایڈیشن لانا پڑا۔ ــ”میرا دل کہتا ہے”کو بہترین پذیرائی خوبصورت تبصروں کی شکل میں ملی اور بیرون ملک ایوارڈ سے بھی نوازا گیا اور مجموعہ کلام کو کینیڈا میں بھی لاؤنچ کیا گیا جہاں میرے میکے اور سسرال والے بڑی تعداد میں رہتے ہیں یوں کتاب کی پذیرائی بھی ہوئی۔ اور تمام رشتہ داروں سے ملنے کا موقعہ بھی میسر آیا، پھر شگفتہ شفیق کا دوسرا مجموعہ کلام ـ”یاد آتی ہے”کے نام سے 2012میں آیا اور اللہ کے فضل سے اس نے بھی خوب پزیرائی پائی اس مجموعے کو فرینکفرٹ اور ٹورنٹو میںلانچ کیا گیا شگفتہ شفیق کا تیسرا مجموعہ کلام ’’جاگتی آنکھوں کے خواب‘‘۲۰۱۳ء میں منصہ شہود پر آیا ۔ یہ بھی ڈنمارک میں اور ٹورنٹو میں لاؤئنچ ہوا اور پسند کیا گیا۔

شگفتہ شفیق نے پاکستان میں بہت مشاعرے پڑھے ہیں اسی طرح بیرون، ملک لندن ، امریکہ اور کینڈا میں بھی بہت مشاعروں میں شرکت کی جن میں چوٹی کے شعراٗ شامل ہیں شگفتہ شفیق کا کلام کئی سنگرز نے بھی گا کر اس میں چار چاند لگائے ہیں۔

جنوری ۲۰۱۳ء سے مارچ ۲۰۱۴ء تک شگفتہ شفیق کے آغا خان ہسپتال میںبہت سارے کیموتھراپی سائیکلز ہوئے جو ایک سخت تجربہ تھا لیکن الحمدُللہ انہوں نے نے اﷲ کے فضل و کرم سے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کیا اور فتح حاصل کی ا ب ماشاء اﷲ شگفتہ شفیق کو آغا خان ہسپتال کی تقریبات میں رول ماڈل کے طور پر بلایا جاتا ہے کہ ہمت کی جائے تو اﷲ پاک ضرور مدد کرتے ہیں اور کامیابی ملتی ہے ۔

شگفتہ شفیق کو کراچی میں ۲۰ ؍ مئی ۲۰۱۵ء کو میٹرو 1 اَدبی فورم او ر ا نڈس یونیورسٹی ادبی فورم کی طرف سے اُردو ادب کی ترویج پر شاندار تقریبِ پذیرائی میں وائس چانسلر خالد امین اورڈائریکٹر صاحب جناب محمد رئیس علوی صاحب نے یاد گاری شیلڈز اور میڈل دیئے گئے ۔ تقریب بزمِ شاعری میں دکھائی گئی ۔

شگفتہ شفیق کہتی ہیں کہ ہر شر میں بھی خیر کا پہلو آپ تلاش کرسکتے ہیں ۔ یہ لکھنا لکھانا میرا شوق تھا لیکن اس میں ہی مصروف ہوکر ہم نے بلڈ کینسر سے فائٹ کی ہے ۔ لمبی لمبی طویل 14-15گھنٹے کی فلائٹس لیں اور کسی کو احساس تک نہ ہونے دیا کہ ہم کس کرائسز سے گزر رہے ہیں ۔ اپنے آپ کو بہت خو د ہمت دلاتے رہے گھر اور گھر والوں کا بھی خیال رکھا اور بہت اہم بات یہ کہ مجھے اﷲ کا بیحد فضل اور میرے پیارے دوستوں سے حو صلہ اور بیشمار دعائیں حاصل رہی ہیں اور میں آپ سب کی قرض دار ہوں تو اب میں نمازوں میں لازمی اپنے پیارے احباب کیلئے سب سے پہلے دُعائیں کرتی ہوں کہ کبھی انہیں گرم ہوا نہ چھو پائے میرے قریبی دوست میرے دل میں بستے ہیں ۔ مجھے فیس بُک بہت پیارا ہے کہ ا س میں ہم نے خوب ہی آن لائن لکھا اور تعریف پائی ۔ میں آپ سب کی ممنون ہوں میرے شوہر اور بچوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا ہے ۔ ہر لمحہ میری خوشی کیلئے ہر کام پر تیار رہے ہیں جیسے میں ان پر جان دیتی ہوں وہ بھی مجھے سر آنکھوں پر رکھتے ہیں ۔آجکل کئی کتابوں پر کام کر رہی ہوں جس میں نثر اور نظم دونوں ہی شامل ہیں لیکن درمیان میں جب گھر اور گھر والے آجاتے ہیں تو کام چھوڑ کر اپنے گھر یلو فرائض میں لگ جاتی ہوں ۔ لیکن شاعری سفرنامے کتابوں پر تبصرے ، کہانیاں افسانے سب چلتے رہتے ہیں ۔ ذرا رفتا ر ہلکی ہوجاتی ہے شگفتہ شفیق ہمیشہ آپ سب کی محبتوں اور ددعاؤں میں رہنے کی خواہشمند ہیں۔ اور دل سے آپ سب کی سلامتی اور خوشیوں کیلئے دعا گو ہیں :

اپنے دل میں ترا تو گھر دیکھا
تو ہر اک سمت تھا جدھر دیکھا
میں نے خود کو ترا بنا ڈالا
رنگ میں تیرے رنگ کر دیکھا
٭
زمانے بھر سے جدا اس طرح ہیں میرے نبیؐ
الگ ہو پھولوں میں جیسے گلاب کیا کہنا
٭
چپکے چپکے سے دیکھنا ترا
پیار کی داستان نہ ہو جائے
جو ترے ساتھ ساتھ چلنے لگے
تو زمین آسمان نہ ہو جائے
٭
جی چاہتا ہے مجھ سے ملے بار بار وہ
ملنے کا بار بار سبب جانتا بھی ہو
٭
کہتی ہے بس شگفتہ اپنا مسیحا اس کو
ہاں زندگی ملی تھی شہر سخن میں جا کے
٭
بھیجا پیام ماں کو ہے ہاتھ سے ہوا کے
بس اک نظر تو دیکھوں اِس لاڈلی کو آکے
٭
جو تم نے مجھ سے کئے ہیں سوال جانے دو
ہے ہجر راس مجھے تو وصال جانے دو
عداوتیں بھلا میرا بگاڑ لیں گی کیا
محبتوں کا بھی دیکھا ہے ہال جانے دو
٭
اس کا یقین کون کرے گا جہان میں
جو کور چشم خود کو بھی پہچانتا نہیں
٭
تم بھی خوش باش ہم کو دکھتے ہو
ہم بھی تکیے کو نم نہیں کرتے
٭
روز کرتا ہے وہ روشن شام کو
اک دیا چھوٹا سا میرے نام کا
٭
کچھ پل تو عمر کے ہمیں اتنے عزیز ہیں
جب یاد آئے ہم بڑ ے سرشار ہوگئے
٭
تو ہے ساتھی گر مر ا تو کہکشاں ہے زندگی
تیری الفت ساتھ ہو شادماں ہے زندگی
٭
اس سے ملنا کوئی ضروری نہیں
وہ میرے دل کے پاس رہتا ہے
٭
کہتا ہے وہ کہ چاہتیں مٹتی نہیں کبھی
دل سے شگفتہ نام مٹانے کا فائدہ
٭
سو چا جو میں نے آج تو یہ راز پا لیا
دیمک کی طرح مجھ کو محبت نے کھا لیا
٭
یوں ہی سب بے وفائی کرتے ہیں
ایسا کیا تم نے بے مثال کیا
٭
لگن زندگی کی جگانی پڑے گی
خوشی سب کی خاطر منانی پڑے گی
گھرانے کی عزت بچانی پڑے گی
ہنسی تو لبوں پر سجانی پڑے گی
٭
خبر نہیں یہ عداوت ہے یا کہ اُلفت ہے
جہاں ہو ذکر مرا مسکرانے جاتا ہے
٭
روایت وفا کی نبھاتی رہی ہو ں
محبت سے اپنا بناتی رہی ہو ں
بڑی مشکلیں ہیں پر اے جان جاناں
ثوابِ محبت کماتی رہی ہوں
٭
میں نے سجدوں میں فقط ایک تمنا کی تھی
آستینوں میں کبھی سانپ نہ پالے کوئی


متعلقہ خبریں


کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات وجود - جمعه 13 مارچ 2026

صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان وجود - جمعه 13 مارچ 2026

عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج وجود - جمعه 13 مارچ 2026

مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم وجود - جمعه 13 مارچ 2026

کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط وجود - جمعه 13 مارچ 2026

جنگ صیہونی حکومت اور امریکانے شروع کی ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں، ایرانی صدر کا بیان ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ...

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد وجود - جمعه 13 مارچ 2026

پورے ہال میں لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ، ایک دوسرے پر بدزبانی کی، کوئی بھی لڑائی بند کرنے کو تیار نہ تھا حکومتی ارکان نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران مجموعی طور پر14 قراردادیں منظور کرا لیں سٹی کونسل کا اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جہاں ارکان ایک...

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

مضامین
امریکا ہار جائے گا! وجود جمعه 13 مارچ 2026
امریکا ہار جائے گا!

ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق وجود جمعه 13 مارچ 2026
ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق

عالمی طاقتوں کا کھیل اور امت ِ مسلمہ کا مستقبل وجود جمعه 13 مارچ 2026
عالمی طاقتوں کا کھیل اور امت ِ مسلمہ کا مستقبل

بھارتی مسلمانوں کی ملک سے وفاداری مشکوک وجود جمعه 13 مارچ 2026
بھارتی مسلمانوں کی ملک سے وفاداری مشکوک

ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر