وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 13 مئی 2018 استقبال کتب

1 بحر 100 غزلیں
نام کتاب:1 بحر 100 غزلیں
موضوع:شاعری
شاعر:شاعر علی شاعرؔ
ضخامت:224 صفحات
قیمت:300 روپے
ناشر:ظفر اکیڈمی، کراچی
مبصر: مجید فکری
پیش نظر مجموعۂ شاعری جناب شاعر علی شاعرؔ کا تخلیق کردہ ہے۔ جس میں شاعر موصوف نے ایک ہی بحر میں سو غزلیں کہہ کر اپنی انفرادیت کا ایک بیش بہا نمونۂ شاعری ادب اور ادب سے شغف رکھنے والے حضرات کے لئے تحفۂ خاص بنا کر پیش کردیا ہے۔یہ کتاب ظفر اکیڈمی نے اچھے گیٹ اَپ اور دیدہ زیب سرورق کے ساتھ شائع کی ہے۔

موصوف متعدد کتابوں کے مصنف، کئی مجموعہ ہائے غزل، کئی افسانوی ناول، یہاں تک کہ بچوں کے ادب پر بھی ان کی کئی دلچسپ نظمیں اور گیت کتابی شکل میں منظر عام پر آچکے ہیں وہ چونکہ درس و تدریس کے شعبہ سے بھی تعلق رکھتے ہیں اس لئے انہوں نے طلباء کے لئے درسی کتب بھی شائع کی ہیں۔ گویا یہ حضرت بڑوں کے شاعر و ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کے ادب پر خصوصی دسترس رکھتے ہیں۔ میں جب ان کی تصانیف و تالیفات پر نظر ڈالتا ہوں تو حیرت و استعجاب کی تصویر بن جاتا ہوں کہ ادب کا وہ کون سا شعبہ ہے جو ان کی دسترس سے باہر ہے۔ یہاں تک کہ تروینی جیسی نئی اصطلاح میں بھی ’’تروینیاں‘‘ نام کا اولین مجموعہ بھی لکھ ڈالا۔ اسی لئے میں نے انہیں رواں لہجے کا شاعر کہا ہے۔ان کے پاس لکھنے کا اس قدر مواد موجود ہے اور ساتھ ہی اُسے پیش کرنے کی ایسی روانی جیسے ایک سیلِ رواں ہے جو بڑی تیزی سے ان کی ذہنی ہم آہنگی کا سبب بن جاتا ہے اور ان کی بیشتر شاعری سہلِ ممتنع کا منہ بولتا ثبوت فراہم کرتی ہے۔

علی حیدر ملک کے افسانے
نام کتاب:علی حیدر ملک کے افسانے
مرتب:اے خیام
ضخامت:208 صفحات
قیمت:500 روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
مبصر: مجید فکری
پیش نظر کتاب علی حیدر ملک کے افسانوں پر مشتمل ہے۔ جسے ان کے ایک نہایت قریبی اور دیرینہ دوست اے۔ خیام نے بعد از مرگ مرتب کیا ہے۔ کتاب کے بیک فلیپ پر زاہدہ حنا صاحبہ کا ایک جامع تبصرہ اور کتاب کے مصنف کا تعارف بھی پڑھنے کے قابل ہے جبکہ اندرونی فلیپ پر صبا اکرام کا اظہار خیال شامل ہے۔
کتاب کے اندرونی صفحات پر مرتب نے ایک مضمون بھی لکھا ہے جبکہ اسی طرح کا ایک اور مضمون بھی جو خالصتاً علی حیدر ملک کی شخصیت اور ان کی خانگی زندگی سے متعلق بھی ہے یاور امان صاحب نے تحریر کیا ہے۔وہ چونکہ کھُلنا میں ان کے پڑوسی بھی رہ چکے ہیں اسی لئے شاید انہوں نے بڑی تفصیل اور بے تکلفانہ انداز میں ان کی ابتدائی بلکہ طالبانہ زندگی کا ذکر بھی بڑے دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے علی حیدر ملک سے اپنی دوستی کاحق نبھا دیا ہے۔
یہ بات بتانا بھی ضروری ہے کہ ا س کتاب میں 39 افسانے اور 27 افسانچے شامل ہیں ہر افسانہ اور ہر افسانچہ پڑھنے کے قابل ہے اللہ تبارک و تعالیٰ مرحوم علی حیدر ملک کی مغفرت فرمائے اور اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین ثم آمین۔

درِ آئینہ
نام کتاب:درِ آئینہ(شعری مجموعہ)
موضوع:شاعری
شاعر:رفیع الدین رازؔ
ضخامت:200 صفحات
قیمت:400 روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
مبصر:مجید فکری
پیشِ نظر مجموعۂ شاعری نامور شاعر جناب رفیع الدین رازؔ کا تخلیق کردہ ہے جوعمدہ گیٹ اپ ، دیدہ زیب سرورق اور بہترین کمپوزنگ کے ساتھ جلوہ گر ہوا ہے۔ حال ہی میں ان کا ایک اور ہائیکو کا مجموعہ بھی گردش کررہا ہے البتہ یہ مجموعہ غزلیات پر مشتمل ہے اور ا س میں 69 غزلیں شامل ہیں۔
رفیع الدین رازؔ ایک ممتاز و معروف غزل گو شاعر ہیں اور اب تک جو بھی کلام انہوں نے کتابی شکل میں پیش کیا ہے لائق تحسین و ستائش ہے۔

یہ مجموعہ جس کا نام ’’درِ آئینہ‘‘ ہے اس پر کتاب میں شامل ایک مضمون بھی اسی عنوان سے ’’فراست رضوی‘‘ نے بڑی تفصیل کے ساتھ تحریر کیا ہے وہ لکھتے ہیں:
’’عصری غزل کے منظر نامے پر نظر ڈالئے تو آپ کو رفیع الدین رازؔ بہت نمایاں نظر آئیں گے۔ ان کی غزل ہمارے ادبی سرمایہ میں ایک خاص اہمیت کی حامل ہے۔میرے نزدیک رفیع الدین رازؔ کی غزلیں اس لئے اہم ہیں کہ یہ ہمارے عہد کے آشوب کا اظہار بھی کرتی ہیں اور ان میں تازہ خیال کے رنگ بھی پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ رفیع الدین رازؔ ایک پڑھے لکھے، خلاق طبع، منکسر اور خود ساز انسان ہیں…انہوں نے غزل کے علاوہ بھی دوسری اصناف کو اپنے اظہارکے لئے منتخب کیا ہے۔ رباعی، نعت، قطعہ، انشائیہ، آزاد نظم، پابند نظم، دوہا، ہائیکو، ماہیہ، تروینی اور افسانے میں بھی وہ اپنے جوہر دکھلا چکے ہیں۔‘‘

رونقِ چمن
نام کتاب:رونقِ چمن
موضوع:مختصر افسانے، مضامین، خاکے
مصنف:اخی بیگ
مرتب: شاعر علی شاعر
ضخامت:160 صفحات
قیمت:400 روپے
مبصر:مجید فکری
رونقِ چمن۔ اخی بیگ صاحب کی تازہ تصنیف ہے۔ جس میں زیادہ تر افسانے ،کچھ خاکے، مضامین اور ایک نظم شامل ہے۔ کتاب کے انتساب میں خاندان کا پورا شجرہ نسب پیش کردیا گیا ہے جبکہ فہرست مضامین میں ستر 70))کے قریب مختصر افسانے / خاکے اور چند افسانچے شامل ہیں۔
کتاب کی شروعات شاعر علی شاعر ناشر و مدیر رنگِ ادب کراچی کے پیش لفظ اور خود صاحب تصنیف اخی بیگ کی گزارش اکبر الٰہ آبادی کے اس شعر سے کی گئی ہے:
مذہبی بحث ہم نے کی ہی نہیں
فالتو عقل ہم میں تھی ہی نہیں
الغرض اس تمام تفصیلات و توضیحات کا مقصد قارئین کو ان لکھے ہوئے مختصر افسانوں /خاکوں اور افسانچوں سے متعارف کرانا اور ان کی ادبی کاوشوں کو داد و تحسین سے نوازنا بھی ہے جو انہوں نے اپنی 73 سالہ زندگی کے علم و تجربے کے بعد تحریر کی ہیں۔
پہلے موصوف کا مختصر تعارف بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔بقول شاعر علی شاعر ’’رونق چمن‘‘ کے خالق جناب اخی بیگ صاحب سینئر شاعر بلکہ ادیب بھی ہیں۔ افسانچوں کی تخلیق کاری نے ان کی شہرت میں چار چاند لگادیئے ہیں وہ شاعری پر توجہ کم دیتے ہیں، ورنہ آج ان کا مقام کراچی کے نامو رشعراء میں ہوتا…! ابھی تک تین کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں (۱) شعور تنگ نظر(نظم) (۲)شعور تنگ نظر (نثر) (۳) بھیا کون ہو؟پیش نظر کتاب ’’رونقِ چمن‘‘ ان کی چوتھی کتاب ہے اور مختصر افسانوں پر مشتمل ہے۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

مضامین
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم وجود منگل 16 جون 2026
ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم

عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر