وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 13 مئی 2018 استقبال کتب

1 بحر 100 غزلیں
نام کتاب:1 بحر 100 غزلیں
موضوع:شاعری
شاعر:شاعر علی شاعرؔ
ضخامت:224 صفحات
قیمت:300 روپے
ناشر:ظفر اکیڈمی، کراچی
مبصر: مجید فکری
پیش نظر مجموعۂ شاعری جناب شاعر علی شاعرؔ کا تخلیق کردہ ہے۔ جس میں شاعر موصوف نے ایک ہی بحر میں سو غزلیں کہہ کر اپنی انفرادیت کا ایک بیش بہا نمونۂ شاعری ادب اور ادب سے شغف رکھنے والے حضرات کے لئے تحفۂ خاص بنا کر پیش کردیا ہے۔یہ کتاب ظفر اکیڈمی نے اچھے گیٹ اَپ اور دیدہ زیب سرورق کے ساتھ شائع کی ہے۔

موصوف متعدد کتابوں کے مصنف، کئی مجموعہ ہائے غزل، کئی افسانوی ناول، یہاں تک کہ بچوں کے ادب پر بھی ان کی کئی دلچسپ نظمیں اور گیت کتابی شکل میں منظر عام پر آچکے ہیں وہ چونکہ درس و تدریس کے شعبہ سے بھی تعلق رکھتے ہیں اس لئے انہوں نے طلباء کے لئے درسی کتب بھی شائع کی ہیں۔ گویا یہ حضرت بڑوں کے شاعر و ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کے ادب پر خصوصی دسترس رکھتے ہیں۔ میں جب ان کی تصانیف و تالیفات پر نظر ڈالتا ہوں تو حیرت و استعجاب کی تصویر بن جاتا ہوں کہ ادب کا وہ کون سا شعبہ ہے جو ان کی دسترس سے باہر ہے۔ یہاں تک کہ تروینی جیسی نئی اصطلاح میں بھی ’’تروینیاں‘‘ نام کا اولین مجموعہ بھی لکھ ڈالا۔ اسی لئے میں نے انہیں رواں لہجے کا شاعر کہا ہے۔ان کے پاس لکھنے کا اس قدر مواد موجود ہے اور ساتھ ہی اُسے پیش کرنے کی ایسی روانی جیسے ایک سیلِ رواں ہے جو بڑی تیزی سے ان کی ذہنی ہم آہنگی کا سبب بن جاتا ہے اور ان کی بیشتر شاعری سہلِ ممتنع کا منہ بولتا ثبوت فراہم کرتی ہے۔

علی حیدر ملک کے افسانے
نام کتاب:علی حیدر ملک کے افسانے
مرتب:اے خیام
ضخامت:208 صفحات
قیمت:500 روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
مبصر: مجید فکری
پیش نظر کتاب علی حیدر ملک کے افسانوں پر مشتمل ہے۔ جسے ان کے ایک نہایت قریبی اور دیرینہ دوست اے۔ خیام نے بعد از مرگ مرتب کیا ہے۔ کتاب کے بیک فلیپ پر زاہدہ حنا صاحبہ کا ایک جامع تبصرہ اور کتاب کے مصنف کا تعارف بھی پڑھنے کے قابل ہے جبکہ اندرونی فلیپ پر صبا اکرام کا اظہار خیال شامل ہے۔
کتاب کے اندرونی صفحات پر مرتب نے ایک مضمون بھی لکھا ہے جبکہ اسی طرح کا ایک اور مضمون بھی جو خالصتاً علی حیدر ملک کی شخصیت اور ان کی خانگی زندگی سے متعلق بھی ہے یاور امان صاحب نے تحریر کیا ہے۔وہ چونکہ کھُلنا میں ان کے پڑوسی بھی رہ چکے ہیں اسی لئے شاید انہوں نے بڑی تفصیل اور بے تکلفانہ انداز میں ان کی ابتدائی بلکہ طالبانہ زندگی کا ذکر بھی بڑے دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے علی حیدر ملک سے اپنی دوستی کاحق نبھا دیا ہے۔
یہ بات بتانا بھی ضروری ہے کہ ا س کتاب میں 39 افسانے اور 27 افسانچے شامل ہیں ہر افسانہ اور ہر افسانچہ پڑھنے کے قابل ہے اللہ تبارک و تعالیٰ مرحوم علی حیدر ملک کی مغفرت فرمائے اور اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین ثم آمین۔

درِ آئینہ
نام کتاب:درِ آئینہ(شعری مجموعہ)
موضوع:شاعری
شاعر:رفیع الدین رازؔ
ضخامت:200 صفحات
قیمت:400 روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
مبصر:مجید فکری
پیشِ نظر مجموعۂ شاعری نامور شاعر جناب رفیع الدین رازؔ کا تخلیق کردہ ہے جوعمدہ گیٹ اپ ، دیدہ زیب سرورق اور بہترین کمپوزنگ کے ساتھ جلوہ گر ہوا ہے۔ حال ہی میں ان کا ایک اور ہائیکو کا مجموعہ بھی گردش کررہا ہے البتہ یہ مجموعہ غزلیات پر مشتمل ہے اور ا س میں 69 غزلیں شامل ہیں۔
رفیع الدین رازؔ ایک ممتاز و معروف غزل گو شاعر ہیں اور اب تک جو بھی کلام انہوں نے کتابی شکل میں پیش کیا ہے لائق تحسین و ستائش ہے۔

یہ مجموعہ جس کا نام ’’درِ آئینہ‘‘ ہے اس پر کتاب میں شامل ایک مضمون بھی اسی عنوان سے ’’فراست رضوی‘‘ نے بڑی تفصیل کے ساتھ تحریر کیا ہے وہ لکھتے ہیں:
’’عصری غزل کے منظر نامے پر نظر ڈالئے تو آپ کو رفیع الدین رازؔ بہت نمایاں نظر آئیں گے۔ ان کی غزل ہمارے ادبی سرمایہ میں ایک خاص اہمیت کی حامل ہے۔میرے نزدیک رفیع الدین رازؔ کی غزلیں اس لئے اہم ہیں کہ یہ ہمارے عہد کے آشوب کا اظہار بھی کرتی ہیں اور ان میں تازہ خیال کے رنگ بھی پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ رفیع الدین رازؔ ایک پڑھے لکھے، خلاق طبع، منکسر اور خود ساز انسان ہیں…انہوں نے غزل کے علاوہ بھی دوسری اصناف کو اپنے اظہارکے لئے منتخب کیا ہے۔ رباعی، نعت، قطعہ، انشائیہ، آزاد نظم، پابند نظم، دوہا، ہائیکو، ماہیہ، تروینی اور افسانے میں بھی وہ اپنے جوہر دکھلا چکے ہیں۔‘‘

رونقِ چمن
نام کتاب:رونقِ چمن
موضوع:مختصر افسانے، مضامین، خاکے
مصنف:اخی بیگ
مرتب: شاعر علی شاعر
ضخامت:160 صفحات
قیمت:400 روپے
مبصر:مجید فکری
رونقِ چمن۔ اخی بیگ صاحب کی تازہ تصنیف ہے۔ جس میں زیادہ تر افسانے ،کچھ خاکے، مضامین اور ایک نظم شامل ہے۔ کتاب کے انتساب میں خاندان کا پورا شجرہ نسب پیش کردیا گیا ہے جبکہ فہرست مضامین میں ستر 70))کے قریب مختصر افسانے / خاکے اور چند افسانچے شامل ہیں۔
کتاب کی شروعات شاعر علی شاعر ناشر و مدیر رنگِ ادب کراچی کے پیش لفظ اور خود صاحب تصنیف اخی بیگ کی گزارش اکبر الٰہ آبادی کے اس شعر سے کی گئی ہے:
مذہبی بحث ہم نے کی ہی نہیں
فالتو عقل ہم میں تھی ہی نہیں
الغرض اس تمام تفصیلات و توضیحات کا مقصد قارئین کو ان لکھے ہوئے مختصر افسانوں /خاکوں اور افسانچوں سے متعارف کرانا اور ان کی ادبی کاوشوں کو داد و تحسین سے نوازنا بھی ہے جو انہوں نے اپنی 73 سالہ زندگی کے علم و تجربے کے بعد تحریر کی ہیں۔
پہلے موصوف کا مختصر تعارف بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔بقول شاعر علی شاعر ’’رونق چمن‘‘ کے خالق جناب اخی بیگ صاحب سینئر شاعر بلکہ ادیب بھی ہیں۔ افسانچوں کی تخلیق کاری نے ان کی شہرت میں چار چاند لگادیئے ہیں وہ شاعری پر توجہ کم دیتے ہیں، ورنہ آج ان کا مقام کراچی کے نامو رشعراء میں ہوتا…! ابھی تک تین کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں (۱) شعور تنگ نظر(نظم) (۲)شعور تنگ نظر (نثر) (۳) بھیا کون ہو؟پیش نظر کتاب ’’رونقِ چمن‘‘ ان کی چوتھی کتاب ہے اور مختصر افسانوں پر مشتمل ہے۔


متعلقہ خبریں


کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات وجود - جمعه 13 مارچ 2026

صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...

کامران ٹیسوری کی چھٹی، نہال ہاشمی گورنر سندھ تعینات

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان وجود - جمعه 13 مارچ 2026

عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...

موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول مفت فراہم کرنے کا اعلان

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج وجود - جمعه 13 مارچ 2026

مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...

امریکی فوجی اڈے بند ہونے تک حملے جاری رہیں گے ،ایران کے نومنتخب سپریم لیڈرکاکھلا چیلنج

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم وجود - جمعه 13 مارچ 2026

کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...

دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط وجود - جمعه 13 مارچ 2026

جنگ صیہونی حکومت اور امریکانے شروع کی ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں، ایرانی صدر کا بیان ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ...

جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے ،ایران کی جنگ ختم کرنے کیلئے 3 شرائط

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد وجود - جمعه 13 مارچ 2026

پورے ہال میں لاتوں گھونسوں کا آزادانہ استعمال ، ایک دوسرے پر بدزبانی کی، کوئی بھی لڑائی بند کرنے کو تیار نہ تھا حکومتی ارکان نے صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران مجموعی طور پر14 قراردادیں منظور کرا لیں سٹی کونسل کا اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا جہاں ارکان ایک...

کراچی سٹی کونسل اجلاس بدترین ہنگامہ آرائی کی نذر، اراکین کا ایک دوسرے پر تشدد

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

مضامین
امریکا ہار جائے گا! وجود جمعه 13 مارچ 2026
امریکا ہار جائے گا!

ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق وجود جمعه 13 مارچ 2026
ایران کی عالمی جغرافیائی اہمیت ایران اور وینزویلا میںبنیادی فرق

عالمی طاقتوں کا کھیل اور امت ِ مسلمہ کا مستقبل وجود جمعه 13 مارچ 2026
عالمی طاقتوں کا کھیل اور امت ِ مسلمہ کا مستقبل

بھارتی مسلمانوں کی ملک سے وفاداری مشکوک وجود جمعه 13 مارچ 2026
بھارتی مسلمانوں کی ملک سے وفاداری مشکوک

ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر