وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 13 مئی 2018 استقبال کتب

1 بحر 100 غزلیں
نام کتاب:1 بحر 100 غزلیں
موضوع:شاعری
شاعر:شاعر علی شاعرؔ
ضخامت:224 صفحات
قیمت:300 روپے
ناشر:ظفر اکیڈمی، کراچی
مبصر: مجید فکری
پیش نظر مجموعۂ شاعری جناب شاعر علی شاعرؔ کا تخلیق کردہ ہے۔ جس میں شاعر موصوف نے ایک ہی بحر میں سو غزلیں کہہ کر اپنی انفرادیت کا ایک بیش بہا نمونۂ شاعری ادب اور ادب سے شغف رکھنے والے حضرات کے لئے تحفۂ خاص بنا کر پیش کردیا ہے۔یہ کتاب ظفر اکیڈمی نے اچھے گیٹ اَپ اور دیدہ زیب سرورق کے ساتھ شائع کی ہے۔

موصوف متعدد کتابوں کے مصنف، کئی مجموعہ ہائے غزل، کئی افسانوی ناول، یہاں تک کہ بچوں کے ادب پر بھی ان کی کئی دلچسپ نظمیں اور گیت کتابی شکل میں منظر عام پر آچکے ہیں وہ چونکہ درس و تدریس کے شعبہ سے بھی تعلق رکھتے ہیں اس لئے انہوں نے طلباء کے لئے درسی کتب بھی شائع کی ہیں۔ گویا یہ حضرت بڑوں کے شاعر و ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کے ادب پر خصوصی دسترس رکھتے ہیں۔ میں جب ان کی تصانیف و تالیفات پر نظر ڈالتا ہوں تو حیرت و استعجاب کی تصویر بن جاتا ہوں کہ ادب کا وہ کون سا شعبہ ہے جو ان کی دسترس سے باہر ہے۔ یہاں تک کہ تروینی جیسی نئی اصطلاح میں بھی ’’تروینیاں‘‘ نام کا اولین مجموعہ بھی لکھ ڈالا۔ اسی لئے میں نے انہیں رواں لہجے کا شاعر کہا ہے۔ان کے پاس لکھنے کا اس قدر مواد موجود ہے اور ساتھ ہی اُسے پیش کرنے کی ایسی روانی جیسے ایک سیلِ رواں ہے جو بڑی تیزی سے ان کی ذہنی ہم آہنگی کا سبب بن جاتا ہے اور ان کی بیشتر شاعری سہلِ ممتنع کا منہ بولتا ثبوت فراہم کرتی ہے۔

علی حیدر ملک کے افسانے
نام کتاب:علی حیدر ملک کے افسانے
مرتب:اے خیام
ضخامت:208 صفحات
قیمت:500 روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
مبصر: مجید فکری
پیش نظر کتاب علی حیدر ملک کے افسانوں پر مشتمل ہے۔ جسے ان کے ایک نہایت قریبی اور دیرینہ دوست اے۔ خیام نے بعد از مرگ مرتب کیا ہے۔ کتاب کے بیک فلیپ پر زاہدہ حنا صاحبہ کا ایک جامع تبصرہ اور کتاب کے مصنف کا تعارف بھی پڑھنے کے قابل ہے جبکہ اندرونی فلیپ پر صبا اکرام کا اظہار خیال شامل ہے۔
کتاب کے اندرونی صفحات پر مرتب نے ایک مضمون بھی لکھا ہے جبکہ اسی طرح کا ایک اور مضمون بھی جو خالصتاً علی حیدر ملک کی شخصیت اور ان کی خانگی زندگی سے متعلق بھی ہے یاور امان صاحب نے تحریر کیا ہے۔وہ چونکہ کھُلنا میں ان کے پڑوسی بھی رہ چکے ہیں اسی لئے شاید انہوں نے بڑی تفصیل اور بے تکلفانہ انداز میں ان کی ابتدائی بلکہ طالبانہ زندگی کا ذکر بھی بڑے دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے علی حیدر ملک سے اپنی دوستی کاحق نبھا دیا ہے۔
یہ بات بتانا بھی ضروری ہے کہ ا س کتاب میں 39 افسانے اور 27 افسانچے شامل ہیں ہر افسانہ اور ہر افسانچہ پڑھنے کے قابل ہے اللہ تبارک و تعالیٰ مرحوم علی حیدر ملک کی مغفرت فرمائے اور اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین ثم آمین۔

درِ آئینہ
نام کتاب:درِ آئینہ(شعری مجموعہ)
موضوع:شاعری
شاعر:رفیع الدین رازؔ
ضخامت:200 صفحات
قیمت:400 روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
مبصر:مجید فکری
پیشِ نظر مجموعۂ شاعری نامور شاعر جناب رفیع الدین رازؔ کا تخلیق کردہ ہے جوعمدہ گیٹ اپ ، دیدہ زیب سرورق اور بہترین کمپوزنگ کے ساتھ جلوہ گر ہوا ہے۔ حال ہی میں ان کا ایک اور ہائیکو کا مجموعہ بھی گردش کررہا ہے البتہ یہ مجموعہ غزلیات پر مشتمل ہے اور ا س میں 69 غزلیں شامل ہیں۔
رفیع الدین رازؔ ایک ممتاز و معروف غزل گو شاعر ہیں اور اب تک جو بھی کلام انہوں نے کتابی شکل میں پیش کیا ہے لائق تحسین و ستائش ہے۔

یہ مجموعہ جس کا نام ’’درِ آئینہ‘‘ ہے اس پر کتاب میں شامل ایک مضمون بھی اسی عنوان سے ’’فراست رضوی‘‘ نے بڑی تفصیل کے ساتھ تحریر کیا ہے وہ لکھتے ہیں:
’’عصری غزل کے منظر نامے پر نظر ڈالئے تو آپ کو رفیع الدین رازؔ بہت نمایاں نظر آئیں گے۔ ان کی غزل ہمارے ادبی سرمایہ میں ایک خاص اہمیت کی حامل ہے۔میرے نزدیک رفیع الدین رازؔ کی غزلیں اس لئے اہم ہیں کہ یہ ہمارے عہد کے آشوب کا اظہار بھی کرتی ہیں اور ان میں تازہ خیال کے رنگ بھی پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ رفیع الدین رازؔ ایک پڑھے لکھے، خلاق طبع، منکسر اور خود ساز انسان ہیں…انہوں نے غزل کے علاوہ بھی دوسری اصناف کو اپنے اظہارکے لئے منتخب کیا ہے۔ رباعی، نعت، قطعہ، انشائیہ، آزاد نظم، پابند نظم، دوہا، ہائیکو، ماہیہ، تروینی اور افسانے میں بھی وہ اپنے جوہر دکھلا چکے ہیں۔‘‘

رونقِ چمن
نام کتاب:رونقِ چمن
موضوع:مختصر افسانے، مضامین، خاکے
مصنف:اخی بیگ
مرتب: شاعر علی شاعر
ضخامت:160 صفحات
قیمت:400 روپے
مبصر:مجید فکری
رونقِ چمن۔ اخی بیگ صاحب کی تازہ تصنیف ہے۔ جس میں زیادہ تر افسانے ،کچھ خاکے، مضامین اور ایک نظم شامل ہے۔ کتاب کے انتساب میں خاندان کا پورا شجرہ نسب پیش کردیا گیا ہے جبکہ فہرست مضامین میں ستر 70))کے قریب مختصر افسانے / خاکے اور چند افسانچے شامل ہیں۔
کتاب کی شروعات شاعر علی شاعر ناشر و مدیر رنگِ ادب کراچی کے پیش لفظ اور خود صاحب تصنیف اخی بیگ کی گزارش اکبر الٰہ آبادی کے اس شعر سے کی گئی ہے:
مذہبی بحث ہم نے کی ہی نہیں
فالتو عقل ہم میں تھی ہی نہیں
الغرض اس تمام تفصیلات و توضیحات کا مقصد قارئین کو ان لکھے ہوئے مختصر افسانوں /خاکوں اور افسانچوں سے متعارف کرانا اور ان کی ادبی کاوشوں کو داد و تحسین سے نوازنا بھی ہے جو انہوں نے اپنی 73 سالہ زندگی کے علم و تجربے کے بعد تحریر کی ہیں۔
پہلے موصوف کا مختصر تعارف بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔بقول شاعر علی شاعر ’’رونق چمن‘‘ کے خالق جناب اخی بیگ صاحب سینئر شاعر بلکہ ادیب بھی ہیں۔ افسانچوں کی تخلیق کاری نے ان کی شہرت میں چار چاند لگادیئے ہیں وہ شاعری پر توجہ کم دیتے ہیں، ورنہ آج ان کا مقام کراچی کے نامو رشعراء میں ہوتا…! ابھی تک تین کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں (۱) شعور تنگ نظر(نظم) (۲)شعور تنگ نظر (نثر) (۳) بھیا کون ہو؟پیش نظر کتاب ’’رونقِ چمن‘‘ ان کی چوتھی کتاب ہے اور مختصر افسانوں پر مشتمل ہے۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر