وجود

... loading ...

وجود

گوات در سے گوادر تک

اتوار 13 مئی 2018 گوات در سے گوادر تک

گوادر بلوچستان کا ایک قدیم شہر ہے۔ یہاں پندرہویں صدی سے لے کر انیسویں صدی تک کے آثار ملتے ہیں جو گوادر کی قدیم ثقافت اور تہذیب و تمدن ظاہر کرتے ہیں۔ گوادر کا لفظی مفہوم ’’گوات در‘‘ یعنی ہوا کا دروازہ ہے۔ کوہ باتیل کے دامن میں واقع یہ شہر نہ صرف ماضی میں ایک تجارتی اور کاروباری مرکز رہا ہے بلکہ اکیسویں صدی میں گوادر کو وسط ایشیا کا گیٹ وے بھی کہا جاتا ہے۔ بلوچستان کا یہ ساحلی شہر 1892 سے 1958 تک سلطنتِ عمان کا حصہ رہا۔ 1958 میں حکومت پاکستان نے اسے سلطنت عمان سے 40 لاکھ پونڈ میں خریدا اور اب یہ شہر پاکستان کی ایک اہم بندرگاہ کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔گوادر چونکہ ماضی میں سلطنتِ عمان کا حصہ تھا اس لیے گوادر میں اس دور کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ شہر کے وسط میں موجود عمانی میوزیم واقع ہے جسے ماضی میں عمانی حکومت کی گرانٹ سے مزین و آراستہ کیا گیا تھا۔ اس قدیم قلعے میں عمانی دور کے ساز و سان اور اشیا رکھی گئی ہیں۔ اس قلعے کے کئی حصے اب بھی عوام کے لیے بند ہیں۔ اس وقت عمانی میوزیم محکمہ آثار قدیمہ اور ثقافت کے زیرِ انتظام ہے۔گوادر میں سولہویں صدی کے قدیم ورثے کوہ باتیل پر پائے جاتے ہیں، اور کوہ باتیل پر پرتگیزیوں کے غار نما مورچوں کے آثار اب خستہ حال ہوچکے ہیں۔ ان کا تاریخی حوالے سے ذکر کلمت میں حمل جہیند اور پرتگیزیوں کے درمیان ہونے والی جنگ سے ملتا ہے جبکہ انیسویں صدی میں برطانوی دور کے تعمیراتی شاہکار موجود ہیں۔ ان آثار قدیمہ میں انگریز دور میں بنایا گیا ٹیلی گراف نظام اور گوادر ڈاکخانے کی عمارت کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ تاریخی دستاویزات کے مطابق انگریزوں نے پہلی مرتبہ 1863 میں گوادر کا علاقہ کراچی ٹیلیگراف سے منسلک کیا اور 1894 میں انگریزوں نے گوادر میں پہلا ڈاکخانہ کھولا۔

ایک صدی سے زائد پرانی برطانوی دور کی یہ قدیم عمارات، گوادر کے اہم آثار قدیمہ میں شامل ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ تاریخی عمارات عدم توجہی کی نذر ہوکر منہدم ہوتی جارہی ہیں۔گوادر شاہی بازار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا قیام گوادر کے پاکستان سے الحاق سے قبل ہوچکا تھا۔ گوادر شاہی بازار کی دکانوں کی تعمیرات بھی قدیم شاہکار ہیں کیونکہ یہ تمام دکانیں لکڑیوں کے تختوں سے بنائی گئے ہیں۔ اب بھی یہاں کی چند دکانیں اصل حالت میں ملیں گی جب کہ زیادہ تر دکانیں منہدم ہوچکی ہیں۔ مقامی لوگ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ شاہی بازار گوادر کی پہلی اور قدیم مارکیٹ ہے جہاں آج بھی گوادر کے مشہور ’’خدابخش حلوائی‘‘ کی دکان اور قدیم ہوٹل ’’کریمک‘‘ موجود ہیں؛ اور جہاں آج بھی لوگوں کا ہجوم رہتا ہے۔

قدیم شاہی بازار کی زیادہ تر دکانیں کھنڈرات کے ڈھیر میں بدل کر آثار قدیمہ کا حصہ بن چکی ہیں۔ ان دکانوں کی تعمیر دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ زمانہ قدیم میں یہاں کے لوگ ثقافتی حوالے سے کتنے مہذب تھے۔کہا جاتا ہے کہ ماضی میں گوادر کا کاروبار اسماعیلی فرقے کے لوگوں کے پاس تھا۔ آج بھی گوادر میں اس فرقے کے لوگ موجود ہیں۔گوادر شاہی بازار میں موجود ’’کریموک ہوٹل‘‘ آج بھی ماہی گیروں کے لیے اہم ہے جہاں ماہی گیر شکار کے بعد چائے کی چسکیاں لینے آتے ہیں اور شام کے وقت یہاں لوگوں کا ہجوم دیکھ کر ماضی کی یادیں پھر سے تازہ ہوجاتی ہیں کہ جب لوگ اپنے فارغ اوقات، قصے کہانیاں سنا کر گزارا کرتے تھے۔ شاہی بازار کی دوسری گلی میں اسماعیلیوں کا قدیم عبادت خانہ موجود ہے جو 118 سال پرانا ہے۔

جب ہم اسماعیلی فرقے کا عبادت خانہ دیکھنے گئے تو بند تالوں کی وجہ سے اندر کے مناظر تو دیکھ نہ سکے مگر باہر کے مناظر سے دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ وقتاً فوقتاً اس کی تزئین و آرائش ہوتی رہی ہے۔ گوادر کے مقامی صحافی عبدالحلیم گوادر کے آثار قدیمہ کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ گوادر کا شمار دیگر شہروں کی طرح قدیم شہروں میں ہوتا ہے جہاں 15ویں اور 18ویں صدی اور اس سے بھی قدیم عہد کے بہت سے آثار کی موجودگی کا دعویٰ کیا جاتا ہے جن میں کوہ باتیل کے دامن میں واقع گنبد اور غار؛ اور شہر کے وسط میں واقع قلعے اور دیگر قدیم مقامات شامل ہیں۔ عبدالحلیم کا کہنا ہے کہ گوادر میں برطانوی دور میں پیغام رسانی کے لیے استعمال ہونے والے تار گھر (تار آفس) کی عمارت بھی قدیم فنِ تعمیر کا شاہکار ہے۔گوادر تار آفس آثار قدیمہ کا حصہ ہے مگر اس کی حالت زار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قدیم عمارت کسی بھی وقت منہدم ہوسکتی ہے۔ اس وقت گوادر تار آفس کی دیواروں میں بڑی بڑی دراڑیں پڑچکی ہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے گوادر کی زیادہ تر تاریخی و قدیم عمارات کا وجود بھی خطرے میں ہے اور کسی بھی وقت یہ تاریخی ورثے منہدم ہوکر صفحہ ہستی سے مٹ سکتے ہیں۔ اسماعیلی فرقے کی رہائشی کالونی میں واقع عمانی دور کے قلعے بھی قدیم آثار کو ظاہر کرتے ہیں جو اس وقت خستہ حالی کے شکار ہیں۔

تاریخی مقامات اور عمارات کسی بھی قوم کی ثقافت، تہذیب و تمدن کے اہم ورثے میں شمار ہوتے ہیں۔ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام اپنے قدیم، تاریخی اور تہذیبی و تمدنی آثار کی نہ صرف دیکھ بھال کرتی ہیں بلکہ وہ اپنے تاریخی ورثے کو محفوظ بھی کرتی ہیں جبکہ گوادر میں محکمہ آثار قدیمہ کی عدم توجہی کے باعث یہ تاریخی مقامات کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے ہیں جبکہ ان میں سے کچھ منہدم ہونے کے بھی قر یب ہیں۔تاریخ دانوں کے مطابق، آثار قدیمہ کسی بھی علاقے کے ثقافتی ورثے کے اہم حصے ہوتے ہیں اور ان سے قوموں کی قدیم تہذیب کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے لیکن گوادر میں سارا معاملہ الٹا ہے اور خدشہ ہے کہ جلد ہی یہ آثار، مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکے ہوں گے۔مؤرخین کہتے ہیں کہ کسی بھی علاقے کی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لیے وہاں کے قدیم تاریخی ورثے کو محفوظ بنانا اور اس کی دیکھ بھال کی خصوصی اہمیت ہے۔ اگر قدیم تاریخی و ثقافتی ورثے کو محفوظ نہ کیا گیا تو پھر یہ چند دہائیوں کے بعد ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا۔ اور یوں آنے والی نسل بھی اپنے ماضی سے ناآشنا ہوجائے گی۔گوادر میں قدیم آثار کی تباہی صرف عمارتوں کا انہدام نہیں ہوگا بلکہ یہ اس علاقے میں پروان چڑھنے والی نئی نسل کو اپنے ماضی، اپنی ثقافت، تہذیب اور تمدن سے بھی لاعلم اور لاتعلق کردے گا۔


متعلقہ خبریں


امریکی تجاویز مسترد، جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا،ایران کا دوٹوک جواب وجود - جمعرات 26 مارچ 2026

  ایران پر حملے اور ٹارگٹ کلنگ فوری بند کی جائے، مستقبل میں حملے اور جارحیت کے نہ ہونے کی ٹھوس ضمانت دی جائے،جنگ سے ایران میں ہونیوالے نقصانات کا ازالہ بصورت معاوضہ کیا جائے مشرق وسطیٰ میں ایران کے اتحادی یا حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کو بند کیا جائے،آبن...

امریکی تجاویز مسترد، جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا،ایران کا دوٹوک جواب

بھارتی عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام قرار، عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ وجود - جمعرات 26 مارچ 2026

پاکستان کی آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزائوں کی مذمت فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق کے دبائو کی عکاسی کرتا ہے، ترجمان دفترخارجہ پاکستان نے کشمیری خاتون رہنماء آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزاں کی مذ...

بھارتی عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام قرار، عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی وجود - بدھ 25 مارچ 2026

تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم وجود - بدھ 25 مارچ 2026

  وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 مارچ 2026

کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا وجود - بدھ 25 مارچ 2026

مغازی پناہ گزیں کیمپ میں باپ کے سامنے بچیکے زخموں میں ناخن پیوست کیے گئے واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے غزہ کے علاقے مغازی پناہ گزیں کیمپ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک فلسطینی شہری ...

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان وجود - منگل 24 مارچ 2026

جنگ نے خلیج کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو متاثر کیا، ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے سے ایٔرلائن ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ ہے ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ایٔر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق...

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

مضامین
آخری گواہی وجود جمعرات 26 مارچ 2026
آخری گواہی

جلوت و خلوت : بندے کی زندگی کا روحانی توازن وجود جمعرات 26 مارچ 2026
جلوت و خلوت : بندے کی زندگی کا روحانی توازن

مقبوضہ کشمیر میں نماز عید پر پابندی وجود جمعرات 26 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں نماز عید پر پابندی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن وجود بدھ 25 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن

ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری وجود بدھ 25 مارچ 2026
ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر