وجود

... loading ...

وجود

گوات در سے گوادر تک

اتوار 13 مئی 2018 گوات در سے گوادر تک

گوادر بلوچستان کا ایک قدیم شہر ہے۔ یہاں پندرہویں صدی سے لے کر انیسویں صدی تک کے آثار ملتے ہیں جو گوادر کی قدیم ثقافت اور تہذیب و تمدن ظاہر کرتے ہیں۔ گوادر کا لفظی مفہوم ’’گوات در‘‘ یعنی ہوا کا دروازہ ہے۔ کوہ باتیل کے دامن میں واقع یہ شہر نہ صرف ماضی میں ایک تجارتی اور کاروباری مرکز رہا ہے بلکہ اکیسویں صدی میں گوادر کو وسط ایشیا کا گیٹ وے بھی کہا جاتا ہے۔ بلوچستان کا یہ ساحلی شہر 1892 سے 1958 تک سلطنتِ عمان کا حصہ رہا۔ 1958 میں حکومت پاکستان نے اسے سلطنت عمان سے 40 لاکھ پونڈ میں خریدا اور اب یہ شہر پاکستان کی ایک اہم بندرگاہ کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔گوادر چونکہ ماضی میں سلطنتِ عمان کا حصہ تھا اس لیے گوادر میں اس دور کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ شہر کے وسط میں موجود عمانی میوزیم واقع ہے جسے ماضی میں عمانی حکومت کی گرانٹ سے مزین و آراستہ کیا گیا تھا۔ اس قدیم قلعے میں عمانی دور کے ساز و سان اور اشیا رکھی گئی ہیں۔ اس قلعے کے کئی حصے اب بھی عوام کے لیے بند ہیں۔ اس وقت عمانی میوزیم محکمہ آثار قدیمہ اور ثقافت کے زیرِ انتظام ہے۔گوادر میں سولہویں صدی کے قدیم ورثے کوہ باتیل پر پائے جاتے ہیں، اور کوہ باتیل پر پرتگیزیوں کے غار نما مورچوں کے آثار اب خستہ حال ہوچکے ہیں۔ ان کا تاریخی حوالے سے ذکر کلمت میں حمل جہیند اور پرتگیزیوں کے درمیان ہونے والی جنگ سے ملتا ہے جبکہ انیسویں صدی میں برطانوی دور کے تعمیراتی شاہکار موجود ہیں۔ ان آثار قدیمہ میں انگریز دور میں بنایا گیا ٹیلی گراف نظام اور گوادر ڈاکخانے کی عمارت کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ تاریخی دستاویزات کے مطابق انگریزوں نے پہلی مرتبہ 1863 میں گوادر کا علاقہ کراچی ٹیلیگراف سے منسلک کیا اور 1894 میں انگریزوں نے گوادر میں پہلا ڈاکخانہ کھولا۔

ایک صدی سے زائد پرانی برطانوی دور کی یہ قدیم عمارات، گوادر کے اہم آثار قدیمہ میں شامل ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ تاریخی عمارات عدم توجہی کی نذر ہوکر منہدم ہوتی جارہی ہیں۔گوادر شاہی بازار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا قیام گوادر کے پاکستان سے الحاق سے قبل ہوچکا تھا۔ گوادر شاہی بازار کی دکانوں کی تعمیرات بھی قدیم شاہکار ہیں کیونکہ یہ تمام دکانیں لکڑیوں کے تختوں سے بنائی گئے ہیں۔ اب بھی یہاں کی چند دکانیں اصل حالت میں ملیں گی جب کہ زیادہ تر دکانیں منہدم ہوچکی ہیں۔ مقامی لوگ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ شاہی بازار گوادر کی پہلی اور قدیم مارکیٹ ہے جہاں آج بھی گوادر کے مشہور ’’خدابخش حلوائی‘‘ کی دکان اور قدیم ہوٹل ’’کریمک‘‘ موجود ہیں؛ اور جہاں آج بھی لوگوں کا ہجوم رہتا ہے۔

قدیم شاہی بازار کی زیادہ تر دکانیں کھنڈرات کے ڈھیر میں بدل کر آثار قدیمہ کا حصہ بن چکی ہیں۔ ان دکانوں کی تعمیر دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ زمانہ قدیم میں یہاں کے لوگ ثقافتی حوالے سے کتنے مہذب تھے۔کہا جاتا ہے کہ ماضی میں گوادر کا کاروبار اسماعیلی فرقے کے لوگوں کے پاس تھا۔ آج بھی گوادر میں اس فرقے کے لوگ موجود ہیں۔گوادر شاہی بازار میں موجود ’’کریموک ہوٹل‘‘ آج بھی ماہی گیروں کے لیے اہم ہے جہاں ماہی گیر شکار کے بعد چائے کی چسکیاں لینے آتے ہیں اور شام کے وقت یہاں لوگوں کا ہجوم دیکھ کر ماضی کی یادیں پھر سے تازہ ہوجاتی ہیں کہ جب لوگ اپنے فارغ اوقات، قصے کہانیاں سنا کر گزارا کرتے تھے۔ شاہی بازار کی دوسری گلی میں اسماعیلیوں کا قدیم عبادت خانہ موجود ہے جو 118 سال پرانا ہے۔

جب ہم اسماعیلی فرقے کا عبادت خانہ دیکھنے گئے تو بند تالوں کی وجہ سے اندر کے مناظر تو دیکھ نہ سکے مگر باہر کے مناظر سے دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ وقتاً فوقتاً اس کی تزئین و آرائش ہوتی رہی ہے۔ گوادر کے مقامی صحافی عبدالحلیم گوادر کے آثار قدیمہ کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ گوادر کا شمار دیگر شہروں کی طرح قدیم شہروں میں ہوتا ہے جہاں 15ویں اور 18ویں صدی اور اس سے بھی قدیم عہد کے بہت سے آثار کی موجودگی کا دعویٰ کیا جاتا ہے جن میں کوہ باتیل کے دامن میں واقع گنبد اور غار؛ اور شہر کے وسط میں واقع قلعے اور دیگر قدیم مقامات شامل ہیں۔ عبدالحلیم کا کہنا ہے کہ گوادر میں برطانوی دور میں پیغام رسانی کے لیے استعمال ہونے والے تار گھر (تار آفس) کی عمارت بھی قدیم فنِ تعمیر کا شاہکار ہے۔گوادر تار آفس آثار قدیمہ کا حصہ ہے مگر اس کی حالت زار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قدیم عمارت کسی بھی وقت منہدم ہوسکتی ہے۔ اس وقت گوادر تار آفس کی دیواروں میں بڑی بڑی دراڑیں پڑچکی ہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے گوادر کی زیادہ تر تاریخی و قدیم عمارات کا وجود بھی خطرے میں ہے اور کسی بھی وقت یہ تاریخی ورثے منہدم ہوکر صفحہ ہستی سے مٹ سکتے ہیں۔ اسماعیلی فرقے کی رہائشی کالونی میں واقع عمانی دور کے قلعے بھی قدیم آثار کو ظاہر کرتے ہیں جو اس وقت خستہ حالی کے شکار ہیں۔

تاریخی مقامات اور عمارات کسی بھی قوم کی ثقافت، تہذیب و تمدن کے اہم ورثے میں شمار ہوتے ہیں۔ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام اپنے قدیم، تاریخی اور تہذیبی و تمدنی آثار کی نہ صرف دیکھ بھال کرتی ہیں بلکہ وہ اپنے تاریخی ورثے کو محفوظ بھی کرتی ہیں جبکہ گوادر میں محکمہ آثار قدیمہ کی عدم توجہی کے باعث یہ تاریخی مقامات کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے ہیں جبکہ ان میں سے کچھ منہدم ہونے کے بھی قر یب ہیں۔تاریخ دانوں کے مطابق، آثار قدیمہ کسی بھی علاقے کے ثقافتی ورثے کے اہم حصے ہوتے ہیں اور ان سے قوموں کی قدیم تہذیب کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے لیکن گوادر میں سارا معاملہ الٹا ہے اور خدشہ ہے کہ جلد ہی یہ آثار، مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکے ہوں گے۔مؤرخین کہتے ہیں کہ کسی بھی علاقے کی اہمیت کو برقرار رکھنے کے لیے وہاں کے قدیم تاریخی ورثے کو محفوظ بنانا اور اس کی دیکھ بھال کی خصوصی اہمیت ہے۔ اگر قدیم تاریخی و ثقافتی ورثے کو محفوظ نہ کیا گیا تو پھر یہ چند دہائیوں کے بعد ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا۔ اور یوں آنے والی نسل بھی اپنے ماضی سے ناآشنا ہوجائے گی۔گوادر میں قدیم آثار کی تباہی صرف عمارتوں کا انہدام نہیں ہوگا بلکہ یہ اس علاقے میں پروان چڑھنے والی نئی نسل کو اپنے ماضی، اپنی ثقافت، تہذیب اور تمدن سے بھی لاعلم اور لاتعلق کردے گا۔


متعلقہ خبریں


سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم وجود - بدھ 21 جنوری 2026

صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل وجود - بدھ 21 جنوری 2026

داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے وجود - بدھ 21 جنوری 2026

گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 21 جنوری 2026

پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ وجود - منگل 20 جنوری 2026

پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب وجود - منگل 20 جنوری 2026

اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن وجود - منگل 20 جنوری 2026

گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی وجود - منگل 20 جنوری 2026

واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا وجود - پیر 19 جنوری 2026

عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان وجود - پیر 19 جنوری 2026

حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان

مضامین
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر