وجود

... loading ...

وجود

امریکاکی ایران پرسخت اقتصادی پابندیاں

جمعه 11 مئی 2018 امریکاکی ایران پرسخت اقتصادی پابندیاں

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں لگانے کا بھی اعلان کردیا ہے۔ اس سلسلہ میں امریکی صدر نے گزشتہ روز باور کرایا کہ ایران نے جوہری معاہدے کی پاسداری نہیں کی اور وہ اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران کے ساتھ 2015ء میں ہونیوالے معاہدے میں امریکا‘ برطانیا‘ روس‘ جرمنی‘ فرانس اور چین فریق تھے جبکہ روس‘ فرانس‘ جرمنی اور برطانیا نے امریکا کی جانب سے اس معاہدے سے علیحدگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے ساتھ یہ معاہدہ برقرار رکھنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے امریکا کی اس معاہدے سے علیحدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ معاہدے میں شامل دیگر ممالک اس معاہدے کو برقرار رکھیں گے۔ ٹرمپ نے معاہدہ منسوخی کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ یہ جوہری معاہدہ ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔ اگر ہم نے اس معاہدے کو جاری رکھا تو ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو جائیگی اور ایران جیسے ہی ایٹمی ہتھیار بنانے میں کامیاب ہوگا‘ دیگر ممالک بھی کوششیں تیز کردینگے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ایران سے ایٹمی تعاون کرنیوالی ریاستوں پر بھی پابندیاں لگائیں گے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایٹمی معاہدے سے علیحدگی پر ٹرمپ کے فیصلہ کو دلیرانہ قرار دیا اور اسکی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ اسی طرح سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی ٹرمپ کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ ایران کے صدر حسن روحانی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ٹرمپ کا فیصلہ نفسیاتی جنگ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ امریکا کی جانب سے پابندیوں کے باوجود ایران اپنی ترقی کا سفر جاری رکھے گا۔ انکے بقول امریکی صدر کا اعلان عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ ٹرمپ کے اس اعلان پر جس انداز میں ایٹمی معاہدہ کے فریق دیگر ممالک اور یورپی یونین کے علاوہ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی افسوس کا اظہار کیا گیا اور اس معاہدہ کو برقرار رکھنے کے لیے توقعات ظاہر کی گئی ہیں‘ اس سے بادی النظر میں یہی تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے بغیر سوچے سمجھے اور اسکے ممکنہ منفی اور مضر اثرات کا جائزہ لیے بغیر محض اپنی کہی ہوئی بات کی ’’لاج‘‘ رکھنے کے لیے یہ اعلان کیا ہے۔ اس تناظر میں ٹرمپ نے گزشتہ روز وائٹ ہائوس میں خطاب کرتے ہوئے یہی باور کرایا کہ وہ محض خالی دھمکیاں نہیں دیتے بلکہ جو کہتے ہیں وہ کر دکھاتے ہیں۔ انکے بقول ہمیں ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہوگا‘ وہ ایک دہشت گرد ملک ہے اور دنیا بھر میں ہونیوالی دہشت گردی میں ملوث ہے۔

ٹرمپ کا یہ اعلان درحقیقت انکے اس بیان کا تسلسل ہے جو گزشتہ سال انہوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ اسلامی نیٹو سربراہی کانفرنس کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے دیا تھا۔ اس وقت بھی انہوں نے ایران کو دہشت گرد ملک قرار دیا اور مسلم ممالک سمیت پوری اقوام عالم پر ایران سے تعلقات منقطع کرنے پر زور دیا۔ ان کا یہ اعلان درحقیقت سعودی عرب اور یمن کے تنازعہ میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان تھا جسکے بعد سعودی عرب کے امریکا کے ساتھ تعلقات مزید گہرے ہوئے۔ اسی تناظر میں اب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ٹرمپ کے گزشتہ روزکے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا ہے جس میں اقوام عالم اور خطے کے مفادات کے بجائے ذاتی مفادات کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔

پاکستان کو اگرچہ ایران پر پابندیوں سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلہ سے وقتی طور پر فائدہ حاصل ہو سکتا ہے کہ اسکے نتیجہ میں ہماری گوادر پورٹ کے مقابل بھارت کی سرپرستی میں تعمیر ہونیوالی ایران کی چاہ بہار پورٹ کے لیے سرمایہ کاری رک جائیگی‘ نتیجتاً بھارت پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) کو سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں کامیاب نہیں ہوسکے گا اور سی پیک اس خطہ کے ممالک کے علاوہ مغربی‘ یورپی ممالک کی توجہ کا بھی مرکز بن جائیگا تاہم اس وقتی فائدے کا ٹرمپ کے متذکرہ اعلان سے علاقائی اور عالمی امن کو لاحق ہونیوالے سنگین خطرات کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو ہماری جانب سے ٹرمپ کے فیصلہ کے ساتھ کھڑا ہونا عرب دنیا کے تنازعہ میں خود کو مکمل غیرجانبدار رکھنے کے فیصلہ کی خلاف ورزی ہوگی جبکہ ہم ملک کی سلامتی کو لاحق خطرات کی بنیاد پر یمن جنگ کے حوالے سے ایران یا سعودی عرب میں سے کسی ایک کے ساتھ کھڑے ہونے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس طرح ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ سے نکلنے کا اعلان سب سے زیادہ ہمارے لیے آزمائش ہے۔

امریکی ڈیموکریٹ اوبامہ کے پہلے دور حکومت میں جب ایران پر ایٹمی افزودگی حاصل کرنے کے الزام کے تحت پہلی بار امریکی ایماء پر اقوام متحدہ کی جانب سے اقتصادی پابندیاں لگائی گئیں اس وقت پاکستان ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کی تنصیب کا معاہدہ کرچکا تھا اور اس پر ہوم ورک جاری تھا۔ چنانچہ ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد ہونے کے باعث امریکی فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے ناطے پاکستان کے لیے متذکرہ معاہدے کو عملی جامہ پہنانانا ممکن ہوگیا حالانکہ اس وقت توانائی کے سنگین بحران کے پیش نظر پاکستان ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل پاکستان کی ضرورت تھی۔ ان پابندیوں کے باعث یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا جبکہ امریکا نے توانائی کے سنگین بحران سے عہدہ برا¿ ہونے کے لیے ہماری کسی قسم کی معاونت بھی نہ کی بلکہ ایران پر پابندیوں کے بعد ہم سے ڈومور کے تقاضے بڑھا دیئے گئے۔

یہ طرفہ تماشا ہے کہ امریکا نے تو 2015ء میں اوبامہ ہی کے دور حکومت میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرلیا جس کی بنیاد پر اس پر عائد اقتصادی پابندیاں بھی ہٹ گئیں‘ اسکے باوجود ہماری جانب سے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدہ پر عملدرآمد کے لیے پس و پیش سے کام لیا جاتا رہا۔ ایران کی جانب سے اس معاہدے کی تکمیل کے لیے ہمیں متعدد مراعات کی پیشکش بھی کی گئی جبکہ ایران نے اپنی جانب گیس پائپ لائن کی تنصیب مکمل بھی کرلی مگر ہم امریکی ڈراوے پر بدستور بھیگی بلی بنے بیٹھے رہے جبکہ ایران کے چاہ بہار پورٹ کے حوالے سے ہمارے دیرینہ دشمن بھارت کے ساتھ معاملات طے پاگئے۔ چنانچہ یہ صورتحال ہماری قومی خارجہ پالیسیوں کی ناکامی سے ہی تعبیر کی جاسکتی ہے۔ اب ٹرمپ نے محض اپنی انا کو تسکین پہنچانے کے لیے ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے سے امریکا کو نکالنے کا اعلان کیا ہے تو اس سے ہمارے لیے مزید الجھنیں پیدا ہو جائیں گی۔ اگر ہم اپنے قومی مفادات کا جائزہ لیں تو ہمیں ٹرمپ کے فیصلہ کے ساتھ کھڑے ہونا سوٹ کرتا ہے کیونکہ اس سے ہمارے راہداری منصوبہ کو ناکام بنانے کی بھارتی سازشیں بہرصورت ناکام ہوں گی تاہم دوسری طرف ٹرمپ کے فیصلہ پر انکے اتحادی بھی انکے ساتھ کھڑے نظر نہیں آتے جنہوں نے نہ صرف امریکا کے جوہری معاہدے سے باہر نکلنے پر تشویش ظاہر کی ہے بلکہ اس معاہدے کو برقرار رکھنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ ایسا ہی ردعمل یورپی یونین کی جانب سے سامنے آیا ہے جس کے رکن ممالک کی سی پیک کے ساتھ وابستگی سے ہمارے لیے ترقی و خوشحالی کے دروازے کھلنے ہیں مگر ہمارے لیے یہ بڑی آزمائش ہے کہ امریکا کے ساتھ کھڑے ہو کر ہم ایران کی ناراضگی کے بھی متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ ہمیں اس وقت جن اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا ہے اسکے تناظر میں ہم نے اپنی سلامتی کے تقاضوں کے تحت بالخصوص مسلم دنیا میں اپنا غیرجانبداری والا تاثر برقرار رکھنا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری تعاون کے معاہدے سے باہر نکل کر علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے تقاضوں کی نفی کی ہے جس سے امن و سلامتی کو لاحق خطرات مزید گھمبیر ہو سکتے ہیں کیونکہ اب اپنی اپنی بقاء و سلامتی کے لیے اقوام عالم میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونا فطری امر ہوگا۔ امریکی نیٹو اتحادیوں نے اسی تناظر میں ٹرمپ کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اقوام متحدہ نے بھی دیگر ممالک پر ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ برقرار رکھنے پر ہی زور دیا ہے۔ اگر ٹرمپ تعمیری اور مثبت مقاصد کے بجائے محض اپنے ذاتی مفادات اور مسلم دشمن ایجنڈا کی بنیاد پر ایران پر پابندیاں لگوانے کے درپے ہیں جبکہ اس سے قبل وہ ہماری فوجی اور اقتصادی امداد روک کر ہمیں بھی اقتصادی عالمی پابندیوں میں جکڑنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں تو ہمیں بہرصورت ٹرمپ کے یکطرفہ فیصلہ کے مقابل اپنے ملکی سلامتی کے تقاضوں اور قومی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی کیونکہ ٹرمپ آج ایران کے بارے میں اپنے اعلانات کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں تو کل کو وہ ہمارے بارے میں کیے گئے اعلانات کو بھی عملی جامہ پہناتے نظر آئینگے۔ اس تناظر میں بہتر یہی ہے کہ امریکی اعلان پر جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے قومی سیاسی عسکری قائدین سر جوڑ کر بیٹھیں اور قومی مفادات کو پیش نظر رکھ کر کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے اور پھر اسکی پارلیمنٹ سے توثیق کرائی جائے۔ امریکا اب ہمارا ایسا دوست ہرگز نہیں کہ ہر معاملہ میں اسکی ہاں میں ہاں ملائی جائے۔ ہمیں اپنے مفادات کو بہرصورت مقدم رکھنا ہوگا۔


متعلقہ خبریں


آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب وجود - بدھ 11 مارچ 2026

بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط وجود - بدھ 11 مارچ 2026

نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع وجود - بدھ 11 مارچ 2026

پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 10 مارچ 2026

ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند وجود - منگل 10 مارچ 2026

سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند

اسٹاک ایکسچینج بدترین مندی کے بعد کریش، کاروبار معطل، سرمایہ کاروں کا انخلا وجود - منگل 10 مارچ 2026

100انڈیکس میں 11015 پوائنٹس کی کمی سے 146480 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا خطے کی کشیدہ صورتحال پر انویسٹرز سرمائے کے انخلا کو ترجیح دے رہے ہیں،ماہرین کی گفتگو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر شدید مندی ریکارڈ کی گئی جس میں ہنڈریڈ انڈیکس 9453 پوائنٹس کی کمی سے 14804...

اسٹاک ایکسچینج بدترین مندی کے بعد کریش، کاروبار معطل، سرمایہ کاروں کا انخلا

خلیجی ممالک پر حملے ، ایران کاسب سے زیادہ نقصان ہوگا،سعودیہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

اپنی سرزمین، شہریوں، قومی سلامتی کے دفاع کیلئے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں خطے میں امن اور استحکام کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے،وزارت خارجہ سعودی عرب نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید ب...

خلیجی ممالک پر حملے ، ایران کاسب سے زیادہ نقصان ہوگا،سعودیہ

امریکا ، اسرائیل کی ایران تیل تنصیبات پر بمباری،20افراد شہید ، ایران کا 200امریکی فوجی مارنے کا دعویٰ وجود - پیر 09 مارچ 2026

جنگ کے نویں روز امریکی اور اسرائیلی کی جانب سے تہران کے نیلوفر اسکوائر پر بمباریم آئل ریفائنر اور آئل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا،اصفہان کے 8 شہروں پر فضائی حملے، نجف آباد پر بمباری،ایرانی میڈیا ایران نے اسرائیل پر نئے میزائل داغے،21 امریکی بحرین میں نیول اڈے پر مارے گئے،امریکی تی...

امریکا ، اسرائیل کی ایران تیل تنصیبات پر بمباری،20افراد شہید ، ایران کا 200امریکی فوجی مارنے کا دعویٰ

آپرپشن غضب للحق،583افغان طالبان ہلاک ،242چیک پوسٹیں تباہ وجود - پیر 09 مارچ 2026

795زخمی ، 38 چیک پوسٹوں پر قبضہ، 213 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ تباہ افغان طالبان کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچا ،وفاقی وزیر اطلاعاتعطا تارڑ پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک 583افغان طالبان ہلاک جبکہ 795زخمی ہو گئے ہیں ۔وفاقی وزیر ا...

آپرپشن غضب للحق،583افغان طالبان ہلاک ،242چیک پوسٹیں تباہ

مضامین
منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

بھارتی کال سنٹرز سے سائبر فراڈ وجود بدھ 11 مارچ 2026
بھارتی کال سنٹرز سے سائبر فراڈ

ایران پر حملے وجود بدھ 11 مارچ 2026
ایران پر حملے

امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ وجود منگل 10 مارچ 2026
امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ

آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت وجود منگل 10 مارچ 2026
آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر