... loading ...
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں لگانے کا بھی اعلان کردیا ہے۔ اس سلسلہ میں امریکی صدر نے گزشتہ روز باور کرایا کہ ایران نے جوہری معاہدے کی پاسداری نہیں کی اور وہ اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران کے ساتھ 2015ء میں ہونیوالے معاہدے میں امریکا‘ برطانیا‘ روس‘ جرمنی‘ فرانس اور چین فریق تھے جبکہ روس‘ فرانس‘ جرمنی اور برطانیا نے امریکا کی جانب سے اس معاہدے سے علیحدگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے ساتھ یہ معاہدہ برقرار رکھنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے امریکا کی اس معاہدے سے علیحدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ معاہدے میں شامل دیگر ممالک اس معاہدے کو برقرار رکھیں گے۔ ٹرمپ نے معاہدہ منسوخی کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ یہ جوہری معاہدہ ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔ اگر ہم نے اس معاہدے کو جاری رکھا تو ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو جائیگی اور ایران جیسے ہی ایٹمی ہتھیار بنانے میں کامیاب ہوگا‘ دیگر ممالک بھی کوششیں تیز کردینگے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ایران سے ایٹمی تعاون کرنیوالی ریاستوں پر بھی پابندیاں لگائیں گے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایٹمی معاہدے سے علیحدگی پر ٹرمپ کے فیصلہ کو دلیرانہ قرار دیا اور اسکی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ اسی طرح سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی ٹرمپ کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ ایران کے صدر حسن روحانی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ٹرمپ کا فیصلہ نفسیاتی جنگ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ امریکا کی جانب سے پابندیوں کے باوجود ایران اپنی ترقی کا سفر جاری رکھے گا۔ انکے بقول امریکی صدر کا اعلان عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ ٹرمپ کے اس اعلان پر جس انداز میں ایٹمی معاہدہ کے فریق دیگر ممالک اور یورپی یونین کے علاوہ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی افسوس کا اظہار کیا گیا اور اس معاہدہ کو برقرار رکھنے کے لیے توقعات ظاہر کی گئی ہیں‘ اس سے بادی النظر میں یہی تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے بغیر سوچے سمجھے اور اسکے ممکنہ منفی اور مضر اثرات کا جائزہ لیے بغیر محض اپنی کہی ہوئی بات کی ’’لاج‘‘ رکھنے کے لیے یہ اعلان کیا ہے۔ اس تناظر میں ٹرمپ نے گزشتہ روز وائٹ ہائوس میں خطاب کرتے ہوئے یہی باور کرایا کہ وہ محض خالی دھمکیاں نہیں دیتے بلکہ جو کہتے ہیں وہ کر دکھاتے ہیں۔ انکے بقول ہمیں ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہوگا‘ وہ ایک دہشت گرد ملک ہے اور دنیا بھر میں ہونیوالی دہشت گردی میں ملوث ہے۔
ٹرمپ کا یہ اعلان درحقیقت انکے اس بیان کا تسلسل ہے جو گزشتہ سال انہوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ اسلامی نیٹو سربراہی کانفرنس کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے دیا تھا۔ اس وقت بھی انہوں نے ایران کو دہشت گرد ملک قرار دیا اور مسلم ممالک سمیت پوری اقوام عالم پر ایران سے تعلقات منقطع کرنے پر زور دیا۔ ان کا یہ اعلان درحقیقت سعودی عرب اور یمن کے تنازعہ میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان تھا جسکے بعد سعودی عرب کے امریکا کے ساتھ تعلقات مزید گہرے ہوئے۔ اسی تناظر میں اب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ٹرمپ کے گزشتہ روزکے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا ہے جس میں اقوام عالم اور خطے کے مفادات کے بجائے ذاتی مفادات کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔
پاکستان کو اگرچہ ایران پر پابندیوں سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلہ سے وقتی طور پر فائدہ حاصل ہو سکتا ہے کہ اسکے نتیجہ میں ہماری گوادر پورٹ کے مقابل بھارت کی سرپرستی میں تعمیر ہونیوالی ایران کی چاہ بہار پورٹ کے لیے سرمایہ کاری رک جائیگی‘ نتیجتاً بھارت پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) کو سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں کامیاب نہیں ہوسکے گا اور سی پیک اس خطہ کے ممالک کے علاوہ مغربی‘ یورپی ممالک کی توجہ کا بھی مرکز بن جائیگا تاہم اس وقتی فائدے کا ٹرمپ کے متذکرہ اعلان سے علاقائی اور عالمی امن کو لاحق ہونیوالے سنگین خطرات کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو ہماری جانب سے ٹرمپ کے فیصلہ کے ساتھ کھڑا ہونا عرب دنیا کے تنازعہ میں خود کو مکمل غیرجانبدار رکھنے کے فیصلہ کی خلاف ورزی ہوگی جبکہ ہم ملک کی سلامتی کو لاحق خطرات کی بنیاد پر یمن جنگ کے حوالے سے ایران یا سعودی عرب میں سے کسی ایک کے ساتھ کھڑے ہونے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس طرح ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ سے نکلنے کا اعلان سب سے زیادہ ہمارے لیے آزمائش ہے۔
امریکی ڈیموکریٹ اوبامہ کے پہلے دور حکومت میں جب ایران پر ایٹمی افزودگی حاصل کرنے کے الزام کے تحت پہلی بار امریکی ایماء پر اقوام متحدہ کی جانب سے اقتصادی پابندیاں لگائی گئیں اس وقت پاکستان ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کی تنصیب کا معاہدہ کرچکا تھا اور اس پر ہوم ورک جاری تھا۔ چنانچہ ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد ہونے کے باعث امریکی فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے ناطے پاکستان کے لیے متذکرہ معاہدے کو عملی جامہ پہنانانا ممکن ہوگیا حالانکہ اس وقت توانائی کے سنگین بحران کے پیش نظر پاکستان ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل پاکستان کی ضرورت تھی۔ ان پابندیوں کے باعث یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا جبکہ امریکا نے توانائی کے سنگین بحران سے عہدہ برا¿ ہونے کے لیے ہماری کسی قسم کی معاونت بھی نہ کی بلکہ ایران پر پابندیوں کے بعد ہم سے ڈومور کے تقاضے بڑھا دیئے گئے۔
یہ طرفہ تماشا ہے کہ امریکا نے تو 2015ء میں اوبامہ ہی کے دور حکومت میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرلیا جس کی بنیاد پر اس پر عائد اقتصادی پابندیاں بھی ہٹ گئیں‘ اسکے باوجود ہماری جانب سے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدہ پر عملدرآمد کے لیے پس و پیش سے کام لیا جاتا رہا۔ ایران کی جانب سے اس معاہدے کی تکمیل کے لیے ہمیں متعدد مراعات کی پیشکش بھی کی گئی جبکہ ایران نے اپنی جانب گیس پائپ لائن کی تنصیب مکمل بھی کرلی مگر ہم امریکی ڈراوے پر بدستور بھیگی بلی بنے بیٹھے رہے جبکہ ایران کے چاہ بہار پورٹ کے حوالے سے ہمارے دیرینہ دشمن بھارت کے ساتھ معاملات طے پاگئے۔ چنانچہ یہ صورتحال ہماری قومی خارجہ پالیسیوں کی ناکامی سے ہی تعبیر کی جاسکتی ہے۔ اب ٹرمپ نے محض اپنی انا کو تسکین پہنچانے کے لیے ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے سے امریکا کو نکالنے کا اعلان کیا ہے تو اس سے ہمارے لیے مزید الجھنیں پیدا ہو جائیں گی۔ اگر ہم اپنے قومی مفادات کا جائزہ لیں تو ہمیں ٹرمپ کے فیصلہ کے ساتھ کھڑے ہونا سوٹ کرتا ہے کیونکہ اس سے ہمارے راہداری منصوبہ کو ناکام بنانے کی بھارتی سازشیں بہرصورت ناکام ہوں گی تاہم دوسری طرف ٹرمپ کے فیصلہ پر انکے اتحادی بھی انکے ساتھ کھڑے نظر نہیں آتے جنہوں نے نہ صرف امریکا کے جوہری معاہدے سے باہر نکلنے پر تشویش ظاہر کی ہے بلکہ اس معاہدے کو برقرار رکھنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ ایسا ہی ردعمل یورپی یونین کی جانب سے سامنے آیا ہے جس کے رکن ممالک کی سی پیک کے ساتھ وابستگی سے ہمارے لیے ترقی و خوشحالی کے دروازے کھلنے ہیں مگر ہمارے لیے یہ بڑی آزمائش ہے کہ امریکا کے ساتھ کھڑے ہو کر ہم ایران کی ناراضگی کے بھی متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ ہمیں اس وقت جن اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا ہے اسکے تناظر میں ہم نے اپنی سلامتی کے تقاضوں کے تحت بالخصوص مسلم دنیا میں اپنا غیرجانبداری والا تاثر برقرار رکھنا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری تعاون کے معاہدے سے باہر نکل کر علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے تقاضوں کی نفی کی ہے جس سے امن و سلامتی کو لاحق خطرات مزید گھمبیر ہو سکتے ہیں کیونکہ اب اپنی اپنی بقاء و سلامتی کے لیے اقوام عالم میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونا فطری امر ہوگا۔ امریکی نیٹو اتحادیوں نے اسی تناظر میں ٹرمپ کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اقوام متحدہ نے بھی دیگر ممالک پر ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ برقرار رکھنے پر ہی زور دیا ہے۔ اگر ٹرمپ تعمیری اور مثبت مقاصد کے بجائے محض اپنے ذاتی مفادات اور مسلم دشمن ایجنڈا کی بنیاد پر ایران پر پابندیاں لگوانے کے درپے ہیں جبکہ اس سے قبل وہ ہماری فوجی اور اقتصادی امداد روک کر ہمیں بھی اقتصادی عالمی پابندیوں میں جکڑنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں تو ہمیں بہرصورت ٹرمپ کے یکطرفہ فیصلہ کے مقابل اپنے ملکی سلامتی کے تقاضوں اور قومی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی کیونکہ ٹرمپ آج ایران کے بارے میں اپنے اعلانات کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں تو کل کو وہ ہمارے بارے میں کیے گئے اعلانات کو بھی عملی جامہ پہناتے نظر آئینگے۔ اس تناظر میں بہتر یہی ہے کہ امریکی اعلان پر جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے قومی سیاسی عسکری قائدین سر جوڑ کر بیٹھیں اور قومی مفادات کو پیش نظر رکھ کر کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے اور پھر اسکی پارلیمنٹ سے توثیق کرائی جائے۔ امریکا اب ہمارا ایسا دوست ہرگز نہیں کہ ہر معاملہ میں اسکی ہاں میں ہاں ملائی جائے۔ ہمیں اپنے مفادات کو بہرصورت مقدم رکھنا ہوگا۔
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...