وجود

... loading ...

وجود

90کی دہائی میں عالمی کرکٹ کاسب سے خطرنا ک ترین اوپننگ بیٹسمین سعید انور

جمعرات 10 مئی 2018 90کی دہائی میں عالمی کرکٹ کاسب سے خطرنا ک ترین اوپننگ بیٹسمین سعید انور

آج کے دورمیں شائقین کرکٹ انتہائی تیزرفتارکرکٹ پسندکرتے ہیں اسی وجہ سے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ دنیابھرمیں مقبول ہے ۔ اسی تیزرفتار ی کومدنظررکھتے ہوئے ون ڈے کرکٹ پربھی اس کارنگ چڑھتا ہوانظرآتا۔اس بات سے بہت کم لوگ واقف ہیں کہ ابتداء میں ون ڈے کرکٹ میچ ساٹھ اوورپرمشتمل ہواکرتاتھاپھررفتہ رفتہ وقت کی کمی کودیکھتے ہوئے اسے پچاس اوورتک محدودکیاگیا۔اس دورمیں عالمی کرکٹ پرکئی ستارے ابھرے ۔ ون ڈے کرکٹ کی ابتداء میں کسی بھی ٹیم کے لیے ایک اننگ میں دوسورنزکامجموعہ ترتیب دیناناممکن تھا۔ پھررفتہ رفتہ اس طرزکی کرکٹ میں تیزی آتی گئی اوراسکوتین سوکاہندسہ کراس کرنے لگا۔اس دورمیں یوں توکئی پاکستانی بلے بازوں نے عالمی کرکٹ کے افق پراپنانا م بنایا انہی میں ایک نام سعیدانورکابھی ہے۔

سعید انور 90 کی دہائی کا کرکٹ کی دنیا کا بلامبالغہ سب سے خطرناک اوپننگ بیٹسمین ہوا کرتا تھا۔ دنیا کی تمام ٹیموں کے خلاف، تمام گراؤنڈز میں اس نے ہر باؤلر کی کھل کر دھلائی کی۔ یوں تواس نے تمام کرکٹ ٹیموں کے خلاف رنزکے انبارلگائے لیکن بھارت کے خلاف ہمیشہ اس نے ایسی کاکردگی کامظاہرہ کیاکہ بھارتی سورمائوں کود ن میں تارے دکھادیئے۔ بھارت کی سرزمین 194رنزکی اننگ طویل عرصے تک عالمی ون ڈے کرکٹ کاسب سے بڑااسکورہا۔ جسے نئی صدی میں سچن ٹنڈولکرنے توڑا۔

سعید انورنے ون ڈے کے علاوہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی اپنی بیٹنگ کے جوہردکھائے اوربھرپوردادوصول کی ۔90 کی دہائی میں ہی وسیم اکرم کے کپتانی سنبھالتے ہی ہماری ٹیم کو میچ فکسنگ کے الزامات کی زدمیں رہی کہاجاتاہے ہماری ٹیم کے 4 سے 6 ایسے کھلاڑی ایسے تھے جو ہر وقت بکیوں کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔

ان الزامات کواس وقت تقویت ملی جب 1999 کے ورلڈ کپ میں وسیم اکرم کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم ہارٹ فیورٹ کی حیثیت سے شریک ہوئی اور لیگ میچوں میں تمام ٹیموں کو ہراتی ہوئی فائنل میں پہنچ گئی جہاں اس کا مقابلہ آسٹریلیا سے تھا۔اس میچ میں بھی پاکستان کو تمام بکیوں نے فیورٹ قرار دیا۔ پاکستانی ٹیم جب بیٹنگ کرنے آئی تو اوپنر سعید انور اپنے روائتی انداز میں کھیل رہا تھا۔ پھر چند اوورز کے بعد اچانک اس نے اپنے بیٹ کی گرپ کو اوپر نیچے کرنا شروع کردیا۔ ایک دو گیندیں کھیلنے کے بعد اس نے پویلین کی طرف اشارہ کیا اور پھر بارھواں کھلاڑی ایک نیا بیٹ لے کر اس کے پاس آگیا، چند سیکنڈ کھسر پھسر ہوئی اور دنیا نے یہی سمجھا کہ پویلین سے کچھ انسٹرکشنز ملی ہیں۔ اگلی گیند پر سعید انور ایک غیرضروری شارٹ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہوگیا۔ پھر ہماری ٹیم کی لائین لگ گئی اور ہم یہ فائنل یکطرفہ مقابلے کے بعد ہار گئے۔کہاجاتاہے کہ اس میچ سے سعیدانور سمیت ٹیم کے اہم کھلاڑیوں نے کروڑوں روپے بنائے۔

اس میچ کے کچھ عرصے بعد سعید انور کی چھ سالہ بیٹی کو ایک موذی مرض نے گھیر لیا اور وہ معصوم بچی چند ہفتوں کے اندر اندر اللہ کو پیاری ہوگئی۔ سعید انور کو اپنی اس بچی کی ناگہانی موت نے اندر سے توڑ پھوڑ دیا۔ وہ انتہائی خطرناک حد تک ڈپریشن کا شکار ہوگیا اور اس نے ایک آدھ مرتبہ خودکشی کی کوشش بھی کی۔ پھر اس کا ایک دوست اسے ایک دن شب جمعہ تبلیغی مرکز پر لے گیا۔ سعید انور نے رات وہیں گزاری اور بہت دنوں بعد اسے سکون قلب حاصل ہوا۔ اس رات سعید انور کی کایا پلٹ گئی اور اس نے اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور مکمل طور پر تبلیغ کے لیے وقف ہوگیا۔

سعید انور نے اپنے قریبی دوستوں بشمول ثقلین مشتاق، مشتاق احمد، انضمام اور وقار یونس کو بھی دین کی طرف راغب کرلیا اور یوں ہماری ٹیم میں چھوٹی چھوٹی داڑھیاں رکھے، نماز پڑھنے والے کھلاڑیوں کی تعداد بڑھ گئی۔

انہیں دنوں جنید جمشید بھی ہر طرح سے نقصان میں جارہا تھا اور اس کا دل بھی میوزک سے اچاٹ ہونے لگا۔ وہ ایک مشترکہ دوست کے ذریعے سعید انور سے ملا اور پھر جنید جمشید کی کایا بھی پلٹ گئی۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کایہ عظیم بلے بازجس کی دہشت سے گرائونڈمیں بڑ ے بڑے بائولرلرزاکرتے تھے اوروہ ان کی جم کردھلائی کرتاتھا ۔ دعوت تبلیغ کے کام سے وابستہ ہے اورلوگو ں کوصراط مستقیم کی طرف راغب کررہاہے ۔


متعلقہ خبریں


امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی وجود - پیر 30 مارچ 2026

ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق وجود - پیر 30 مارچ 2026

پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی وجود - پیر 30 مارچ 2026

گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف وجود - پیر 30 مارچ 2026

حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی وجود - پیر 30 مارچ 2026

خان یونس میںتین پولیس اہلکار، تین شہری،ایک بچیشہید ہونے والوں میں شامل غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران سے جنگ کے دوران اسرائیلی حملے جاری اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پرحملوں میں تین اہلکاروں سمیت7 فلسطینی شہید اور 4زخمی ہو گئے۔ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران کے...

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

مضامین
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب وجود پیر 30 مارچ 2026
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب

انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے! وجود پیر 30 مارچ 2026
انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے!

میڈیا آئوٹ لیٹس اور پاکستان کے امیج کی تشکیل نو وجود پیر 30 مارچ 2026
میڈیا آئوٹ لیٹس اور پاکستان کے امیج کی تشکیل نو

تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر