وجود

... loading ...

وجود

بھارتی آبی دہشت گردی کا توڑ وقت کی ناگزیرضرورت

پیر 07 مئی 2018 بھارتی آبی دہشت گردی کا توڑ وقت کی ناگزیرضرورت

وفاقی کابینہ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی نے آبی وسائل ڈویڑن کو بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا معاملہ سرعت اور پوری طاقت کے ساتھ عالمی بنک کے روبرو اٹھانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ضمن میں عالمی بنک کی سستی سے بھارت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ بدھ کے روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت منعقد ہونیوالے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کمیشن نے 24 اپریل کو مشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے منظور کی گئی واٹر پالیسی اور آبی منشور کے بارے میں مفصل بریفنگ دی۔ اجلاس میں بحرہند میں سلامتی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس امر کی ہدایت کی گئی کہ اس آبی خطہ میں ملکی مفادات کو یقینی بنانے کے لیے سلامتی کا مزید متحرک بندوبست کیا جائے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر اور اس کے لیے ریفرنڈم نہ کرانے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے گزشتہ روز وفاقی حکومت سے ایک ہفتے کے اندر اندر واٹر پالیسی طلب کرلی۔ فاضل عدالت نے دوران سماعت اپنے ریمارکس میں باور کرایا کہ پانی کے لیے کام نہ کرنیوالے ملک کے دوست نہیں‘ وہ مستقبل کے بچوں کے لیے کیا چھوڑ کر جارہے ہیں۔ اسی طرح ایک شہری ملک عابد حسین نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ انکی دائر کردہ رٹ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالاباغ ڈیم نہ بننے کی وجہ سے 35‘ ایکڑ ملین فٹ سے زائد پانی اور 70‘ ارب روپے سے زائد رقم کا سالانہ نقصان ہورہا ہے۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر حکومت نے سیاسی بنیادوں پر روک رکھی ہے حالانکہ اس ڈیم کو مکمل کرنے سے ملک میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائیگا۔

ہمارے دیرینہ دشمن بھارت نے تو پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی اپنی شروع دن کی سازش کے تحت پاکستان کا پانی روکنے کی خاطر ہی کشمیر پر تسلط جمایا تھا اور اس سازشی منصوبے پر ہی وہ عمل پیرا ہے مگر ہمارے مفاد پرست سیاست دانوں اور منصوبہ سازوں نے بھی پاکستان کے لیے آبی ذخائر بڑھانے میں تساہل سے کام لے کر اور بھارتی سازشوں کا موقع پر توڑ نہ کرکے ملک کی سلامتی کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ حقیقت ہے کہ پانی کے وسائل ہی ہماری زرعی معیشت کے فروغ کی بنیاد ہیں جبکہ پانی ہر ذی روح کی زندگی کی علامت ہے جسے محفوظ کرنا زندگیوں کو محفوظ کرنے کے مترادف ہے۔ اگر اس معاملہ میں کسی قسم کے تساہل سے کام لیا جاتا ہے یا ہمیں اس نعمت سے محروم کرنے کی دشمن کی سازش کو پایہ¿ تکمیل تک پہنچانے میں کوئی آلہ¿ کاربنتا ہے تو اس سے بڑی ملک دشمنی اور کیا ہو سکتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمیں اس معاملہ میں دشمنوں ہی نہیں‘ اپنوں کی سازشوں کا بھی سامنا رہا ہے۔ بھارت نے تو پاکستان کو اپنے زیرنگیں رکھنے کی نیت سے ہی کشمیر کا تنازعہ کھڑا کیا چنانچہ وہ آج کے دن تک کشمیر پر اپنی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی پر قائم ہے جس نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے 1948ء سے 1955ء تک یواین جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کی گئی درجن بھر قراردادوں کو بھی کبھی درخوراعتناء￿ نہیں سمجھا اور اس مسئلہ کے دوطرفہ مذاکرات کے تحت حل کے لیے 1972ء￿ میں کیے گئے شملہ معاہدہ کو بھی آج تک روبہ عمل نہیں ہونے دیا جبکہ مذاکرات کی ہر میز وہ رعونت کے ساتھ خود الٹاتا رہا ہے۔

کشمیر پر اس کے تسلط کا بنیادی مقصد ہی کشمیر کے راستے پاکستان آنیوالے دریاوں پر اپنا تسلط جمانا تھا تاکہ ان کا پانی روک کر کسی بھی طرح پاکستان کو خشک سالی اور قحط کی کیفیت سے دوچار کیا جاس کے‘ اسی تناظر میں جب بھارت نے آبی تنازعہ کو فروغ دینا شروع کیا تو پاکستان نے پہلی بار 1960ء میں اس تنازعہ کے حل کے لیے عالمی بنک سے رجوع کیا چنانچہ عالمی بنک نے ثالث کی حیثیت میں دونوں ممالک کے مابین سندھ طاس معاہدہ کرایا۔ اس میں بھی بھارت کے حق میں ڈنڈی ماری گئی اور تین دریا راوی‘ ستلج اور بیاس مکمل طور پر بھارت کے حوالے کر دیئے گئے جن کا پانی اپنے مصرف میں لانے کا پاکستان کا حق چھین لیا گیا جبکہ دوسرے تین دریا?ں نیلم (چناب)‘ جہلم اور سندھ پر اس معاہدے کے تحت پاکستان کو پہلے ڈیمز تعمیر کرنے کا حق دیکر بھارت کو بھی ساتھ ہی یہ حق دے دیا گیا کہ پاکستان کے بعد وہ بھی ان دریاوں پر ڈیمز تعمیر کر سکتا ہے۔ شومئی قسمت کہ ہمارے منصوبہ سازوں اور حکومتی ارکان نے اپنے کانوں اور آنکھوں پر غفلت کی روایتی پٹی باندھے رکھی اور پاکستان کے لیے انتہائی ضروری ہونے کے باوجود منگلا اور تربیلا ڈیم کے بعد کوئی نیا ڈیم بنانے کی حکمت عملی ہی طے نہ کی جاسکی چنانچہ بھارت کو ہماری ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا جس نے سندھ طاس معاہدے کا سہارا لے کر پاکستان کے حصے میں آنیوالے متذکرہ دریاوں پر بھی دھڑا دھڑ ڈیمز کی تعمیر شروع کردی۔

ہمارے لیے اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ بھارت نے جب دریائے نیلم پر اپنی جانب بگلیہار ڈیم کی تعمیر مکمل کرلی تو ہمارے آبی ماہرین گہری نیند سے بیدار ہوئے اور انہوں نے متذکرہ ڈیم کیخلاف عالمی بنک سے رجوع کرنے کے لیے محض خانہ پری کے طور پر کیس تیار کیا جو اتنا کمزور تھا کہ عالمی بنک کے روبرو پہلی ہی پیشی میں اس جواز کے تحت خارج ہوگیا کہ کسی تعمیر شدہ ڈیم کو گرانے کا حکم دینا مناسب نہیں۔ ہمارے منصوبہ سازوں نے پہلی غلطی تو پاکستان کے حصے میں آنیوالے دریاوں پر کوئی ڈیم تعمیر نہ کرنے کی صورت میں کی جبکہ اس کے بعد وہ پاکستان پر آبی دہشت گردی مسلط کرنے کی بھارتی سازشوں سے بھی بے نیاز ہوگئے۔ اسی بنیاد پر ہم عالمی بنک میں بھارت کیخلاف کوئی کیس نہ جیت سکے جبکہ بھارت کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے کہ اس نے پاکستان کی طرف آنیوالے دریاوں پر مزید ڈیم تعمیر کرنا شروع کر دیئے۔ پھر بھارتی سپریم کورٹ نے قطعی جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی حکومت کو پاکستان آنیوالے دریاوں کا رخ موڑنے کی بھی اجازت دے دی چنانچہ ایسے سازگار حالات میں ہی ہندو انتہاء پسندوں کے نمائندے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو یہ بڑ مارنے کا موقع ملا کہ پاکستان کو پانی کے ایک ایک قطرے سے محروم کر دیا جائیگا۔ یہ درحقیقت پاکستان مخالف بھارتی ایجنڈے کا اہم ترین نکتہ ہے جس پر آج مودی سرکار مکمل طور پر کاربند ہے۔

اس کے برعکس ہمارا یہ معاملہ ہے کہ ایوب خان کے دور میں دریائے سندھ پر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا طے پانے والا منصوبہ بھی اس ڈیم کو متنازعہ بنا کر ہمارے مفاد پرست سیاست دانوں نے غارت کردیا جس کی تعمیر کی صورت میں اسے بم سے اڑانے کی دھمکیاں دی جانے لگیں۔ یہ درحقیقت ہمارے دشمن بھارت ہی کا ایجنڈا تھا جسے اس نے ہمارے مخصوص سیاست دانوں کو دھن‘ دولت کے زور پر اپنا آلہ کار بنا کر پایہ تکمیل کو پہنچایا ہے۔ اسی سازش کے تحت کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے لیے قومی اتفاق رائے کا شوشہ چھوڑا گیا اور پھر دو صوبوں سندھ اور خیبر پی کے کے نام نہاد قوم پرستوں کو کالاباغ ڈیم پر قومی اتفاق رائے نہ ہونے دینے کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ چنانچہ وہ چاہے پیپلزپارٹی میں ہوں یا اے این پی میں اور چاہے تحریک انصاف میں ہوں‘ انہوں نے کابالاغ ڈیم کی بذریعہ دھونس مخالفت کی ٹھان رکھی ہے۔ اس طرح ہمارا دشمن بھارت ہمارے ایسے مفاد پرست سیاست دانوں کی بدولت اپنے سازشی منصوبوں میں کامیاب ہو رہا ہے جبکہ اس نے ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے حصے کے دریائوں پر کشن گنگا اور رتلے پن بجلی کے منصوبے بھی مکمل کرلیے ہیں اور ہمارے منصوبہ سازوں کو ان بھارتی آبی منصوبوں کی تکمیل کے بعد ہی ہوش آیا ہے جنہوں نے پھر عالمی بنک سے رجوع کیا ہے مگر ہمارے کمزور کیس کے باعث بھارت کو عالمی بنک سے ہمارے خلاف حکم امتناعی لینے کا پھرموقع مل گیا ہے۔ بے شک عالمی بنک بھارت کے حق میں ہی ڈنڈی مارتا ہے مگر اپنی ہزیمتوں کا اہتمام کرانے میں ہم خود بھی تو کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔

پاکستان کی طرف سے گزشتہ ماہ کے آغاز میں عالمی بنک کو مراسلہ بھجوایا گیا تھا کہ پاکستان کو کشن گنگا اور رتلے پن بجلی کے بھارتی منصوبوں کے ڈیزائن پر اعتراضات ہیں۔ ابھی عالمی بنک میں یہ مراسلہ ثالثی کے کردار کے تعین کے مراحل سے گزر رہا ہے کہ بھارت نے ہٹ دھرمی کی انتہاء￿ کرتے ہوئے 860 میگاواٹ کے اس منصوبے پر کام بھی شروع کردیا ہے۔ اس طرح ہم احتجاج ہی کرتے رہیں گے اور ہماری قومی سلامتی کمیٹی آبی وسائل ڈویڑن کو بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر عالمی بنک کے روبرو پوری طاقت سے آواز اٹھانے کی ہدایات ہی جاری کرتی رہے گی جبکہ بھارت بگلیہار کی طرح کشن گنگا اور رتلے ڈیم کی تعمیر بھی مکمل کرلے گا۔ ملک میں آج آبی بحران کس قدر سنگین ہوچکا ہے اس کا اندازہ بی بی سی کی دو ماہ قبل جاری کی گئی رپورٹ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ آبی بحران کے باعث پاکستان کے لیے گندم کے پیداواری ہدف کا حصول بھی مشکل ہو جائیگا۔ رپورٹ میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی کہ پنجاب کو پانی کی فراہمی میں 60 فیصد اور سندھ کو 70 فیصد شارٹ فال کا سامنا ہے جبکہ پاکستان میں پانی کی قلت پر آگاہی نہ ہونے کے باعث ملکی سیکورٹی‘ استحکام اور ماحولیاتی پائیداری سخت خطرے کا شکار ہے۔ آج پانی کی کمیابی پاکستان کی زراعت و معیشت کے لیے سنگین خطرے کی گھنٹی بجارہی ہے تو ہمارے پاس کالاباغ ڈیم ہی ایسا منصوبہ ہے جسے مکمل کرکے ہم اپنی آبی اور توانائی کی ضرورتیں پوری کرسکتے ہیں۔ یہ امر واقع ہے کہ قدرت کے نظام میں ہونیوالی موسمیاتی تبدیلیوں نے اس دھرتی پر پانی کی قلت کے منفی اثرات مرتب کرنا شروع کردیئے ہیں اور اس وقت زیرزمین پانی کی سطح انتہائی تیزی سے نیچے گررہی ہے۔ اگر مفاداتی سیاست میں الجھے ہمارے سیاسی قائدین نے اس صورتحال کا بروقت ادراک نہ کیا اور ملک اور عوام کی آبی ضروریات پر توجہ نہ دی تو ہم اپنی بے تدبیریوں کے باعث اس ارض وطن کو ریگستان بنانے کی بھارتی سازشیں خود ہی پایہ تکمیل کو پہنچا دینگے۔


متعلقہ خبریں


آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب وجود - بدھ 11 مارچ 2026

بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط وجود - بدھ 11 مارچ 2026

نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع وجود - بدھ 11 مارچ 2026

پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 10 مارچ 2026

ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند وجود - منگل 10 مارچ 2026

سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند

اسٹاک ایکسچینج بدترین مندی کے بعد کریش، کاروبار معطل، سرمایہ کاروں کا انخلا وجود - منگل 10 مارچ 2026

100انڈیکس میں 11015 پوائنٹس کی کمی سے 146480 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا خطے کی کشیدہ صورتحال پر انویسٹرز سرمائے کے انخلا کو ترجیح دے رہے ہیں،ماہرین کی گفتگو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر شدید مندی ریکارڈ کی گئی جس میں ہنڈریڈ انڈیکس 9453 پوائنٹس کی کمی سے 14804...

اسٹاک ایکسچینج بدترین مندی کے بعد کریش، کاروبار معطل، سرمایہ کاروں کا انخلا

خلیجی ممالک پر حملے ، ایران کاسب سے زیادہ نقصان ہوگا،سعودیہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

اپنی سرزمین، شہریوں، قومی سلامتی کے دفاع کیلئے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں خطے میں امن اور استحکام کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے،وزارت خارجہ سعودی عرب نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید ب...

خلیجی ممالک پر حملے ، ایران کاسب سے زیادہ نقصان ہوگا،سعودیہ

امریکا ، اسرائیل کی ایران تیل تنصیبات پر بمباری،20افراد شہید ، ایران کا 200امریکی فوجی مارنے کا دعویٰ وجود - پیر 09 مارچ 2026

جنگ کے نویں روز امریکی اور اسرائیلی کی جانب سے تہران کے نیلوفر اسکوائر پر بمباریم آئل ریفائنر اور آئل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا،اصفہان کے 8 شہروں پر فضائی حملے، نجف آباد پر بمباری،ایرانی میڈیا ایران نے اسرائیل پر نئے میزائل داغے،21 امریکی بحرین میں نیول اڈے پر مارے گئے،امریکی تی...

امریکا ، اسرائیل کی ایران تیل تنصیبات پر بمباری،20افراد شہید ، ایران کا 200امریکی فوجی مارنے کا دعویٰ

آپرپشن غضب للحق،583افغان طالبان ہلاک ،242چیک پوسٹیں تباہ وجود - پیر 09 مارچ 2026

795زخمی ، 38 چیک پوسٹوں پر قبضہ، 213 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ تباہ افغان طالبان کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچا ،وفاقی وزیر اطلاعاتعطا تارڑ پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک 583افغان طالبان ہلاک جبکہ 795زخمی ہو گئے ہیں ۔وفاقی وزیر ا...

آپرپشن غضب للحق،583افغان طالبان ہلاک ،242چیک پوسٹیں تباہ

مضامین
منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

بھارتی کال سنٹرز سے سائبر فراڈ وجود بدھ 11 مارچ 2026
بھارتی کال سنٹرز سے سائبر فراڈ

ایران پر حملے وجود بدھ 11 مارچ 2026
ایران پر حملے

امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ وجود منگل 10 مارچ 2026
امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ

آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت وجود منگل 10 مارچ 2026
آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر