وجود

... loading ...

وجود

اشیاء کی عمر معلوم کرنے کا سائنسی طریقہ

پیر 07 مئی 2018 اشیاء کی عمر معلوم کرنے کا سائنسی طریقہ

برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی کی لا ئبر یر ی میں سال ہا سال سے موجود ان قرآنی صفحات کے با ر ے میں جب تحقیق کی گئی تو پتا چلا کہ یہ ان چند نسخوں میں سے ایک کے حصے ہو سکتے ہیں جو اسلام کے ابتدائی دور میں لکھے گئے تھے۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ یہ غالباً تیسرے خلیفہء راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لکھے جانے والے قرآنی نسخوں میں سے ایک کا حصہ ہو سکتے ہیں۔اس قیاس کو ایک ایسے سائنسی طریقے سے تقویت ملی ہے جو ماہرین ِارضیات اور آثار قدیمہ کے ماہرین قدیم رکازی (فوسل)دریافتوں کی عمر کا پتا لگانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس طریقہ کار کو ’’کاربن ڈیٹنگ‘‘ یا ’’کاربن 14ڈیٹنگ‘‘ (Carbon-14 Dating) کہا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کسی شئے کی عمر کا پتا لگانے کا یہ سائنسی طریقہ کس طرح کام کرتا ہے؟

ہم جانتے ہیں کہ تمام جان دار، نباتات و حیوانات، ہائیڈرو کاربن کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ یعنی ان کے جسم میں ہائیڈروجن اور کاربن پہ مشتمل خلیے ہوتے ہیں۔ کاربن ایسا ایٹم ہے ،جس کے مرکز (نیوکلیس) میں چھ پروٹون اور چھ نیوٹرون ہوتے ہیں۔ مگر تمام کاربن ایٹم ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ ایسے کاربن ایٹم بھی پائے جاتے ہیں جن کے نیوکلیس میں سات یا آٹھ نیوٹرون ہوتے ہیں۔

اس طرح کاربن کی تین شکلوں کو کاربن 12، کاربن13، اور کاربن 14کہا جاتا ہے۔ ہمارے قدرتی ماحول میں کاربن 12کی تعداد کاربن 13اور کاربن14 کے مقا بلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ فرض کریں کہ ہم نے تجربے سے معلوم کیا ہے کہ ہوا کے کسی بھی نمونے میں اگر ایک ہزار کاربن 12کیایٹم ہیں توساتھ میںصرف ایک کاربن14 کاایٹم ہوتا ہے۔ تو پھر کاربن12 اور کاربن14کا یہ تناسب ان تمام جان داروں میں پایا جائے گا جو ہوا کو سانس کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ایک اچھی بات یہ ہے کہ کاربن 14 تاب کار ہوتا ہے اور وقت گزرنیکے ساتھ کاربن14 ایک نائٹروجن ایٹم بن جاتا ہے۔ کاربن14 کی یہی تاب کارخاصیت ہماری معاون ہے۔ فرض کریں کہ کاربن14 اپنے تاب کاری اثرسے پانچ ہزار سال بعد ایک نائٹروجن ایٹم بن جاتا ہے۔ اب اگر آپ کے پاس کسی جان دار کی ہڈی کا نمونہ ہو ،جس میں کاربن12 اور کاربن14 کا تناسب ایک ہزار بٹا ایک ہو توآپ سمجھ جائیں گیکہ یہ ہڈی بالکل نئی ہے،کیوں کہ اس میں کاربن12 اور کاربن 14 کا تناسب وہ ہی ہے جو فضا میں ہے۔

اشیاء کی عمر معلوم کرنے کا سائنسی طریقہ
لیکن اگر آپ کے پاس ایسی ہڈی ہو جس میں ایک ہزار کاربن 12 کیایٹم ہوں ،مگر ایک بھی کاربن 14 کاایٹم نہ ہو توآپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ یہ ہڈی پانچ ہزار سال پرانی ہے۔ پانچ ہزار سال پہلے اس ہڈی میں کاربن 12 اور کاربن 14 کا وہ ہی تناسب تھا جو فضا میں ہے ،مگر وقت گزرنے کے ساتھ کاربن14کا ا یٹم نائٹروجن میں تبدیل ہوگیا اور اب اس نمونے میں صرف کاربن12کے ایٹم بچے ہیں۔ اس طرح کسی بھی رکاز یافوسل کی قدامت کا تخمینہ کاربن ڈیٹنگ کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔

ہم اسے یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ہماری زمین کی انتہائی بالائی فضاء میں موجود نا ئٹر و جن گیس سورج یا دیگرستاروں سے آنے والی تیز اور ر یڈ یا ئی شعاووں (Radiations) کی وجہ سے اپنی نیوکلیائی ساخت بدل لیتی ہے اور ریڈیو ایکٹیو کاربن14 کے طو ر پر فضا میں شامل ہو جاتی ہے۔ یہ کاربن ایٹم چوں کہ زیادہ دیر تک اس شکل میں نہیں رہ سکتے، اس لیے یہ آکسیجن کے ساتھ مل کر کاربن ڈائی آکسائیڈ بنا لیتا ہے۔ درخت اور پو دے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں۔دیگر جان داریہ پودے کھاتے ہیں۔ان جان داروں کو گوشت خور جانور کھاتے ہیں۔ اس طرح کاربن14 ہماری فوڈ چین میں شامل ہو جاتاہے۔ یعنی یہ اس بکری یا بھیڑ کی کھال میں بھی موجود ہے ،جس پرمذکورہ قرآنی نسخے لکھے گئے ہوں گے۔

ریڈیو کاربن ڈیٹنگ قدرتی اشیامیں موجود ان ہی کا ر بن ایٹمز کی تعداد کے لحاظ سے یہ اندازہ لگاتی ہے کہ اس ما دّے کو ڈی کمپوزہوتی اجزا میں بکھرتے ہوئے کتنا عر صہ گزر چکا ہوگا۔دراصل فضا میںموجودہرگیس کاخاص تناسب ہو تاہے۔یہ خاص تناسب کم و بیش ہمیشہ یک سا ں رہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو ہم اس فضا میں سانس نہ لے سکیں۔ سانس کے ذریعے ہوا کا یہ خاص تناسب تمام جان داروں کے ا جسام میںیک ساں انداز میں موجو د ہے۔ جب کوئی جا ن دار مر جاتاہے تو کیمیائی ٹوٹ پھوٹ کے عمل کی وجہ سے گلنے سڑنے کا عمل شروع ہوجاتاہے اور یہ تناسب بدلنا شروع ہو جاتاہے۔تاب کا رعناصر ایک خا ص تناسب سے ڈی کمپوز ہوتے ہیں۔ان کے ڈی کمپو ز ہونیکا عمل وقت سے منسلک ہے۔ یعنی ایک خاص عر صے میں ایک خا ص مقدار ہی ڈی کمپوز ہوگی۔ اس طرح جب کسی مادّے میں موجودتاب کار کاربن کے ایٹمز کا تنا سب دیکھا جاتا ہے تو یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس ما دّے کو گلتے ، سڑ تے ہوئے کتنا وقت گزر چکاہے۔ اسی محتا ط اندازے کو ر یڈیو کاربن ڈیٹنگ کہا جاتا ہے۔

کاربن ڈیٹنگ کس حد تک قابل اعتبارہے یایہ کتنی پرانی اشیاء کی عمر بتا سکتی ہے،اس ضمن میںبہت سے افراد کو تحفظات ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کاربن ڈیٹنگ کا طریقہ قابل اعتبار نہیں ہے۔ لیکن سائنس دانوں کی اکثریت ا سیدرست مانتی ہے اور اگر نمونے کی مقدار اورمعیار اچھا ہو تو تقریباً 95فی صدتک درست نتائج حاصل ہوتے ہیں۔جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کتنے عرصے پر ا نے نمونیاس طریقے سیپرکھے جا سکتے ہیں تواس کا تعلق بھی ریڈیو ایکٹیوکاربن 14سے ہے۔ کیوںکہ اس کے ختم ہونے کا ایک وقت مقرر ہے۔ موجودہ ہواکے تناسب سے تقریباً 50 ہزار سال پرانے نمونوں کی عمر کا ا ند ا زہ لگایاجاسکتا ہے۔اس سے پرانے مادّے میں چوں کہ کاربن کم سے کم ہوتا چلا جاتا ہیاس لیے اس کی عمر کا اندازہ لگانے کا عمل بھی کم زور سے کم زور تر ہوتا جائے گا۔بہ ہرحال، مذکورہ قرآن پاک کے نسخے کے ضمن میںیہ کا فی قابل اعتبارتصور کیا جاتاہے، کیوں کہ اس کی عمر ڈیڑھ ہزاربرس سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ کاربن ڈیٹنگ کے مطابق جس کھال پر وہ لکھے گئے ہیں،اسے تقریباً 568 عیسوی سے 645 عیسوی کے درمیان شمار کیا گیا ہے۔ یعنی اس نسخے کی عمر کم سے کم بھی تقریباً 1370 سال ہے۔ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کا طریقہ ہی استعمال کرکے سائنس دانوں نے یہ بتایا ہے کہ مصر کی بادشاہت کے قد یم، وسطی اور جدید ادوار کی تواریخ کے بارے میں ان کے اندازے درست ہیں۔ماہرین نے تحقیق کے لیے فر عو نو ں کے مقبروں سے ملنے والے جن بیجوں پر کام کیا ان کے بارے میں پتا چلا کہ ان بیجوں کے کچھ نمونے ساڑھے چار ہزار سال پرانے ہیں۔مصر کے قدیم دور کی اشیاء کے بارے میں کاربن ڈیٹنگ کے ذریعے معلومات حاصل کرنا نئی بات نہیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار انہوں نے انتہائی درست طور پر اعداد و شمار بیان کرنے والے طریقوں کی مدد سے قدیم مصر کے ادوار کی تصدیق کی ہے۔برطانیہ میں کرین فیلڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈریو شارٹ لینڈ کے بہ قول یہ جاننے کے لیے کہ ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کی تیکنیک کتنی قابل اعتبار ہے، سب سے پہلے ا سے ان اشیا پر استعمال کیا گیا جن کے بارے میں معلوم تھا کہ وہ کب بنی تھیں۔ اب یہ تیکنیک اتنی ترقی کر چکی ہے کہ ہم اس سے یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ مصر کی تاریخ کے بارے میں ہماری معلومات درست ہیں یا نہیں۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل کی گئی نئی تحقیق میں برطانیا، فرانس، آسٹریا اور اسرائیل کے سائنس دانوں نے حصہ لیاتھا۔اس تحقیق کے لیے انہوں نے عجائب گھروں سے مختلف پودوں،بیجوں اور قدیم کاغذ کے 211نمونے حاصل کیے تھے۔ تحقیق کی قیادت برطانیہ کی ا?کسفورڈ یونیورسٹی میں محکمہ? ا?ثار قدیمہ کے کرسٹوفر رامسے نے کی۔ ان کی ٹیم نے انتہائی درستی سے معلوم کیا کہ مصر کی قدیم بادشاہت کے تیسرے دور کے فرعون زوزیرکے دورِ اقتدار کی تاریخ دو ہزار چھ سو اکیانوے قبل ِمسیح سے دو ہزار چھ سو پچیس قبلِ مسیح تھی۔


متعلقہ خبریں


اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی وجود - هفته 11 اپریل 2026

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات وجود - هفته 11 اپریل 2026

فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 11 اپریل 2026

حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی وجود - هفته 11 اپریل 2026

جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان وجود - هفته 11 اپریل 2026

ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 11 اپریل 2026

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا مجھے جانتی ہے، اب دہشتگرد اسمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں، جلسہ ڈیلے کرنے کے سوال پر ردعمل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پ...

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی وجود - هفته 11 اپریل 2026

حزب اللہ طبی گاڑیوں،سہولیات کو وسیع پیمانے پر فوجی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویچی ادری نے لبنان میں ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ طب...

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم) وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم)

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

مضامین
دربار انڈسٹری وجود هفته 11 اپریل 2026
دربار انڈسٹری

برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی وجود هفته 11 اپریل 2026
برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی

پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات وجود هفته 11 اپریل 2026
پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات

کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین وجود هفته 11 اپریل 2026
کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین

ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان وجود جمعه 10 اپریل 2026
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر