وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اشیاء کی عمر معلوم کرنے کا سائنسی طریقہ

پیر 07 مئی 2018 اشیاء کی عمر معلوم کرنے کا سائنسی طریقہ

برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی کی لا ئبر یر ی میں سال ہا سال سے موجود ان قرآنی صفحات کے با ر ے میں جب تحقیق کی گئی تو پتا چلا کہ یہ ان چند نسخوں میں سے ایک کے حصے ہو سکتے ہیں جو اسلام کے ابتدائی دور میں لکھے گئے تھے۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ یہ غالباً تیسرے خلیفہء راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لکھے جانے والے قرآنی نسخوں میں سے ایک کا حصہ ہو سکتے ہیں۔اس قیاس کو ایک ایسے سائنسی طریقے سے تقویت ملی ہے جو ماہرین ِارضیات اور آثار قدیمہ کے ماہرین قدیم رکازی (فوسل)دریافتوں کی عمر کا پتا لگانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس طریقہ کار کو ’’کاربن ڈیٹنگ‘‘ یا ’’کاربن 14ڈیٹنگ‘‘ (Carbon-14 Dating) کہا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کسی شئے کی عمر کا پتا لگانے کا یہ سائنسی طریقہ کس طرح کام کرتا ہے؟

ہم جانتے ہیں کہ تمام جان دار، نباتات و حیوانات، ہائیڈرو کاربن کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ یعنی ان کے جسم میں ہائیڈروجن اور کاربن پہ مشتمل خلیے ہوتے ہیں۔ کاربن ایسا ایٹم ہے ،جس کے مرکز (نیوکلیس) میں چھ پروٹون اور چھ نیوٹرون ہوتے ہیں۔ مگر تمام کاربن ایٹم ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ ایسے کاربن ایٹم بھی پائے جاتے ہیں جن کے نیوکلیس میں سات یا آٹھ نیوٹرون ہوتے ہیں۔

اس طرح کاربن کی تین شکلوں کو کاربن 12، کاربن13، اور کاربن 14کہا جاتا ہے۔ ہمارے قدرتی ماحول میں کاربن 12کی تعداد کاربن 13اور کاربن14 کے مقا بلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ فرض کریں کہ ہم نے تجربے سے معلوم کیا ہے کہ ہوا کے کسی بھی نمونے میں اگر ایک ہزار کاربن 12کیایٹم ہیں توساتھ میںصرف ایک کاربن14 کاایٹم ہوتا ہے۔ تو پھر کاربن12 اور کاربن14کا یہ تناسب ان تمام جان داروں میں پایا جائے گا جو ہوا کو سانس کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ایک اچھی بات یہ ہے کہ کاربن 14 تاب کار ہوتا ہے اور وقت گزرنیکے ساتھ کاربن14 ایک نائٹروجن ایٹم بن جاتا ہے۔ کاربن14 کی یہی تاب کارخاصیت ہماری معاون ہے۔ فرض کریں کہ کاربن14 اپنے تاب کاری اثرسے پانچ ہزار سال بعد ایک نائٹروجن ایٹم بن جاتا ہے۔ اب اگر آپ کے پاس کسی جان دار کی ہڈی کا نمونہ ہو ،جس میں کاربن12 اور کاربن14 کا تناسب ایک ہزار بٹا ایک ہو توآپ سمجھ جائیں گیکہ یہ ہڈی بالکل نئی ہے،کیوں کہ اس میں کاربن12 اور کاربن 14 کا تناسب وہ ہی ہے جو فضا میں ہے۔

اشیاء کی عمر معلوم کرنے کا سائنسی طریقہ
لیکن اگر آپ کے پاس ایسی ہڈی ہو جس میں ایک ہزار کاربن 12 کیایٹم ہوں ،مگر ایک بھی کاربن 14 کاایٹم نہ ہو توآپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ یہ ہڈی پانچ ہزار سال پرانی ہے۔ پانچ ہزار سال پہلے اس ہڈی میں کاربن 12 اور کاربن 14 کا وہ ہی تناسب تھا جو فضا میں ہے ،مگر وقت گزرنے کے ساتھ کاربن14کا ا یٹم نائٹروجن میں تبدیل ہوگیا اور اب اس نمونے میں صرف کاربن12کے ایٹم بچے ہیں۔ اس طرح کسی بھی رکاز یافوسل کی قدامت کا تخمینہ کاربن ڈیٹنگ کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔

ہم اسے یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ہماری زمین کی انتہائی بالائی فضاء میں موجود نا ئٹر و جن گیس سورج یا دیگرستاروں سے آنے والی تیز اور ر یڈ یا ئی شعاووں (Radiations) کی وجہ سے اپنی نیوکلیائی ساخت بدل لیتی ہے اور ریڈیو ایکٹیو کاربن14 کے طو ر پر فضا میں شامل ہو جاتی ہے۔ یہ کاربن ایٹم چوں کہ زیادہ دیر تک اس شکل میں نہیں رہ سکتے، اس لیے یہ آکسیجن کے ساتھ مل کر کاربن ڈائی آکسائیڈ بنا لیتا ہے۔ درخت اور پو دے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں۔دیگر جان داریہ پودے کھاتے ہیں۔ان جان داروں کو گوشت خور جانور کھاتے ہیں۔ اس طرح کاربن14 ہماری فوڈ چین میں شامل ہو جاتاہے۔ یعنی یہ اس بکری یا بھیڑ کی کھال میں بھی موجود ہے ،جس پرمذکورہ قرآنی نسخے لکھے گئے ہوں گے۔

ریڈیو کاربن ڈیٹنگ قدرتی اشیامیں موجود ان ہی کا ر بن ایٹمز کی تعداد کے لحاظ سے یہ اندازہ لگاتی ہے کہ اس ما دّے کو ڈی کمپوزہوتی اجزا میں بکھرتے ہوئے کتنا عر صہ گزر چکا ہوگا۔دراصل فضا میںموجودہرگیس کاخاص تناسب ہو تاہے۔یہ خاص تناسب کم و بیش ہمیشہ یک سا ں رہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو ہم اس فضا میں سانس نہ لے سکیں۔ سانس کے ذریعے ہوا کا یہ خاص تناسب تمام جان داروں کے ا جسام میںیک ساں انداز میں موجو د ہے۔ جب کوئی جا ن دار مر جاتاہے تو کیمیائی ٹوٹ پھوٹ کے عمل کی وجہ سے گلنے سڑنے کا عمل شروع ہوجاتاہے اور یہ تناسب بدلنا شروع ہو جاتاہے۔تاب کا رعناصر ایک خا ص تناسب سے ڈی کمپوز ہوتے ہیں۔ان کے ڈی کمپو ز ہونیکا عمل وقت سے منسلک ہے۔ یعنی ایک خاص عر صے میں ایک خا ص مقدار ہی ڈی کمپوز ہوگی۔ اس طرح جب کسی مادّے میں موجودتاب کار کاربن کے ایٹمز کا تنا سب دیکھا جاتا ہے تو یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس ما دّے کو گلتے ، سڑ تے ہوئے کتنا وقت گزر چکاہے۔ اسی محتا ط اندازے کو ر یڈیو کاربن ڈیٹنگ کہا جاتا ہے۔

کاربن ڈیٹنگ کس حد تک قابل اعتبارہے یایہ کتنی پرانی اشیاء کی عمر بتا سکتی ہے،اس ضمن میںبہت سے افراد کو تحفظات ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کاربن ڈیٹنگ کا طریقہ قابل اعتبار نہیں ہے۔ لیکن سائنس دانوں کی اکثریت ا سیدرست مانتی ہے اور اگر نمونے کی مقدار اورمعیار اچھا ہو تو تقریباً 95فی صدتک درست نتائج حاصل ہوتے ہیں۔جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کتنے عرصے پر ا نے نمونیاس طریقے سیپرکھے جا سکتے ہیں تواس کا تعلق بھی ریڈیو ایکٹیوکاربن 14سے ہے۔ کیوںکہ اس کے ختم ہونے کا ایک وقت مقرر ہے۔ موجودہ ہواکے تناسب سے تقریباً 50 ہزار سال پرانے نمونوں کی عمر کا ا ند ا زہ لگایاجاسکتا ہے۔اس سے پرانے مادّے میں چوں کہ کاربن کم سے کم ہوتا چلا جاتا ہیاس لیے اس کی عمر کا اندازہ لگانے کا عمل بھی کم زور سے کم زور تر ہوتا جائے گا۔بہ ہرحال، مذکورہ قرآن پاک کے نسخے کے ضمن میںیہ کا فی قابل اعتبارتصور کیا جاتاہے، کیوں کہ اس کی عمر ڈیڑھ ہزاربرس سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ کاربن ڈیٹنگ کے مطابق جس کھال پر وہ لکھے گئے ہیں،اسے تقریباً 568 عیسوی سے 645 عیسوی کے درمیان شمار کیا گیا ہے۔ یعنی اس نسخے کی عمر کم سے کم بھی تقریباً 1370 سال ہے۔ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کا طریقہ ہی استعمال کرکے سائنس دانوں نے یہ بتایا ہے کہ مصر کی بادشاہت کے قد یم، وسطی اور جدید ادوار کی تواریخ کے بارے میں ان کے اندازے درست ہیں۔ماہرین نے تحقیق کے لیے فر عو نو ں کے مقبروں سے ملنے والے جن بیجوں پر کام کیا ان کے بارے میں پتا چلا کہ ان بیجوں کے کچھ نمونے ساڑھے چار ہزار سال پرانے ہیں۔مصر کے قدیم دور کی اشیاء کے بارے میں کاربن ڈیٹنگ کے ذریعے معلومات حاصل کرنا نئی بات نہیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار انہوں نے انتہائی درست طور پر اعداد و شمار بیان کرنے والے طریقوں کی مدد سے قدیم مصر کے ادوار کی تصدیق کی ہے۔برطانیہ میں کرین فیلڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈریو شارٹ لینڈ کے بہ قول یہ جاننے کے لیے کہ ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کی تیکنیک کتنی قابل اعتبار ہے، سب سے پہلے ا سے ان اشیا پر استعمال کیا گیا جن کے بارے میں معلوم تھا کہ وہ کب بنی تھیں۔ اب یہ تیکنیک اتنی ترقی کر چکی ہے کہ ہم اس سے یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ مصر کی تاریخ کے بارے میں ہماری معلومات درست ہیں یا نہیں۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل کی گئی نئی تحقیق میں برطانیا، فرانس، آسٹریا اور اسرائیل کے سائنس دانوں نے حصہ لیاتھا۔اس تحقیق کے لیے انہوں نے عجائب گھروں سے مختلف پودوں،بیجوں اور قدیم کاغذ کے 211نمونے حاصل کیے تھے۔ تحقیق کی قیادت برطانیہ کی ا?کسفورڈ یونیورسٹی میں محکمہ? ا?ثار قدیمہ کے کرسٹوفر رامسے نے کی۔ ان کی ٹیم نے انتہائی درستی سے معلوم کیا کہ مصر کی قدیم بادشاہت کے تیسرے دور کے فرعون زوزیرکے دورِ اقتدار کی تاریخ دو ہزار چھ سو اکیانوے قبل ِمسیح سے دو ہزار چھ سو پچیس قبلِ مسیح تھی۔


متعلقہ خبریں


سارک کورونا ایمرجنسی فنڈ ، پاکستان کا3 ملین امریکی ڈالر دینے کا اعلان وجود - جمعه 10 اپریل 2020

حکومت پاکستان نے کورونا وباکے خلاف علاقائی سطح پر کوششوں میں مدد فراہم کرنے کے لئے سارک کورونا ایمرجنسی فنڈ کے لئے 3 ملین امریکی ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔ سارک سیکریٹریٹ کو پاکستان کے فیصلے سے مطلع کرتے ہوئے آگاہ کیاگیا ہے کہ سارک سیکریٹریٹ کو یہ فنڈ بروئے کار لانا چاہئے اور اس کے استعمال کے لئے طریقہ کار کو حتمی شکل سارک منشور کے مطابق رکن ممالک کی مشارت سے دی جائے۔ پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سہیل محمودنے سارک کے سیکریٹری جنرل ایسالہ رووان ویراکوون کوجمعرات کو ٹیلی فون پر گف...

سارک کورونا ایمرجنسی فنڈ ، پاکستان کا3 ملین امریکی ڈالر دینے کا اعلان

ہم رمضان المبارک کی اجتماعی عبادات سے رواں برس محروم رہیں گے ، آیت اللہ خامنہ ای وجود - جمعه 10 اپریل 2020

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے عوام سے رمضان المبارک کی عبادت گھروں پر رہ کر کرنے کی اپیل کردی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے رمضان کی عبادات گھروں پرکرنیکی اپیل کی ہے جس کا مقصد کوروناوائرس کا پھیلاؤ روکنا ہے ،اپنے بیان میں سپریم لیڈر نے کہا کہ رواں برس ہم سب رمضان المبارک کی اجتماعی عبادات سے محروم رہیں گے ، ہم سب کو گھروں پر تنہائی میں کی گئی عبادات کا موقع نہیں گنوانا چاہیے ۔ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہمیں اپنے گھروں میں ا...

ہم رمضان المبارک کی اجتماعی عبادات سے رواں برس محروم رہیں گے ، آیت اللہ خامنہ ای

سعودی عرب کے شاہی خاندان کے150 افراد کورونا وائرس میں مبتلا ہوگئے ، امریکی اخبار وجود - جمعه 10 اپریل 2020

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں ذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے شاہی خاندان کے کم سے کم 150 افراد کورونا وائرس میں مبتلا ہوگئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے 9 اپریل کی شام تک وہاں تقریبا 3 ہزار افراد کے کورونا میں مبتلا ہونے اور 41 افراد کے ہلاک ہونے کی بھی تصدیق کی گئی تاہم حکومت نے کسی بھی شاہی خاندان کے فرد کے حوالے سے کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی۔نیویارک ٹائمز نے 8 اپریل کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے گورن...

سعودی عرب کے شاہی خاندان کے150 افراد کورونا وائرس میں مبتلا ہوگئے ، امریکی اخبار

بل کلنٹن و مونیکا کا اسکینڈل سامنے لانے والی خاتون چل بسیں وجود - جمعه 10 اپریل 2020

سابق امریکی صدر بل کلنٹن کا وائٹ ہاؤس کی انٹرنی ملازمہ مونیکا لیونسکی کے ساتھ جنسی اسکینڈل سامنے لانے والی وائٹ ہاؤس کی سینئر ملازم لندا ٹرپ انتقال کرگئیں۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق 70 سالہ لندا ٹرپ کی فیملی نے میڈیا کو بتایا کہ ان کا انتقال لبلبے کے کینسر کے باعث ہوا۔خیال رہے کہ وائٹ ہاؤس کی خاتون سینیئر ملازم لندا ٹرپ نے مونیکا لیونسکی کے ذاتی فون کا ڈیٹا خفیہ طور پر حاصل کیا تھا جس سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ وہ سابق صدر بل کلنٹن کے ساتھ رومانوی تعلقات...

بل کلنٹن و مونیکا کا اسکینڈل سامنے لانے والی خاتون چل بسیں

کورونا وائرس کے خلاف جنگ مل کر جیتیں گے ، مودی کا ٹرمپ کو پیغام وجود - جمعه 10 اپریل 2020

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاہے کہ کورونا وائرس کے خلاف انسانیت کی مدد کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرین گے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی پر بھارت کی جانب سے امریکا کو کورونا وائرس کے علاج میں مددگار ملیریا کی دوا برآمد کرنے پر آمادگی کا اظہار کرنے کے بعد اب حال ہی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پیغام دیا ہے کہ امریکا اور بھارت دونوں کورونا وائرس کے خلاف جنگ مل کر جیتیں گے ۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ...

کورونا وائرس کے خلاف جنگ مل کر جیتیں گے ، مودی کا ٹرمپ کو پیغام

آئی سی یو میں زیر علاج کورونا سے متاثرہ برطانوی وزیراعظم کی حالت میں بہتری وجود - جمعه 10 اپریل 2020

چار روز سے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں زیر علاج کورونا وائرس سے متاثرہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی حالت میں بہتری آنے لگی۔برطانوی وزیر ثقافت اولیور ڈاؤڈین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم بورس جانسن کی حالت میں بہتری آرہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم جانسن کی طبیعت اب کافی بہتر ہے ، برطانیہ میں لاک ڈاؤن بڑھانے سے متعلق فیصلہ اگلے ہفتے تک کیا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ صورتحال دیکھ کر کیا جائے گا لیکن ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔

آئی سی یو میں زیر علاج کورونا سے متاثرہ برطانوی وزیراعظم کی حالت میں بہتری

کورونا وائرس، بھارت میں ماں سے ملنے کیلئے تڑپتی بچی کی ویڈیو نے سب کو رلادیا وجود - جمعه 10 اپریل 2020

بھارت کی ایک نرس کی جانب سے بیٹی کو چاہتے ہوئے بھی گلے نہ لگا پانے کی ویڈیو نے سب کو رلادیا۔تفصیلات کے مطابق کچھ دن قبل سوشل میڈیا پر سعودی عرب میں ایک ڈاکٹر کی ویڈیو نے بھی دنیا بھر کے حساس لوگوں کو رلا دیا تھا۔سعودی عرب کے ڈاکٹر کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ہسپتال کی ڈیوٹی کے بعد گھر آنے والے والد سے گلے ملنے کے لیے بیٹا بے تابی سے والد کے پاس دوڑتا چلا جاتا ہے مگر والد انہیں حفاظتی احتیاطی تدابیر کے پیش نظر گلے نہیں لگا پاتے ۔چاہتے ہوئے بھی بیٹے کو گلے نہ لگاپانے کے ب...

کورونا وائرس، بھارت میں ماں سے ملنے کیلئے تڑپتی بچی کی ویڈیو نے سب کو رلادیا

سعودی حکومت کی غیر ملکی ملازمین کو بلامعاوضہ چھٹی پر بھیجنے کی اجازت وجود - بدھ 08 اپریل 2020

سعودی عرب میں کورونا وائرس کی باعث وزارت افرادی قوت نے اعلان کیا ہے کہ نجی ادارے غیر ملکیوں کو بلا تنخواہ چھٹی پر بھیج سکتے ہیں تاہم یہ ادارے ملازمین سے معاہدے ختم کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے ۔ سعودی حکومت مہلک وائرس کورونا کے باعث پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کے لیے ہر سطح پر کوششیں کر رہی ہے ۔وزارت افرادی قوت و سماجی بہبود نے جاری بیان میں کہا کہ درپیش بحران سے نمٹنے کے لیے نجی ادارے ملازمین کے اوقات کار اور تنخواہوں میں کمی اور انہیں بلاتنخواہ چھٹی پر بھیجنے یا ہنگامی چھٹی د...

سعودی حکومت کی غیر ملکی ملازمین کو بلامعاوضہ چھٹی پر بھیجنے کی اجازت

کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز ، کیسز 13 لاکھ سے زائد وجود - بدھ 08 اپریل 2020

دنیا بھر میں پھیلے کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز کرگئی ، تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 13 لاکھ سے بھی زائد ہے ۔عالمی ادارہ صحت اور متعدد عالمی اداروں کی جانب سے بنائے گئے کورونا وائرس کے عالمی آن لائن میپ کے مطابق 7 اپریل کی شام تک کورونا وائرس سے 75 ہزار 973 ہلاکتیں ہوچکی ہیں ، وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 13 لاکھ 60 ہزار رہی۔عالمی میپ کے مطابق دنیا بھر میں بیمار ہونے والے مریضوں میں سے 7 اپریل کی شام تک تک 2 لاکھ 91 ہزار 991 افراد صحت یاب بھی ہوچکے تھے ، ج...

کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز ، کیسز 13 لاکھ سے زائد

کورونا وائرس،آئرلینڈ کے وزیراعظم بطور ڈاکٹر خدمات دینے لگے وجود - بدھ 08 اپریل 2020

جزیرہ نما یورپی ملک آئرلینڈ کے وزیر اعظم 41 سالہ لوئے ورادکر نے ملک میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ اور وہاں پر ڈاکٹرز کی قلت کے باعث بطور ڈاکٹر ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کردیں۔لوئے ورادکر سیاست میں متحرک ہونے سے قبل بطور ڈاکٹر خدمات سر انجام دیتے تھے تاہم 2013 میں انہوں نے سیاست میں انٹری دی تو انہوں نے خود کو ڈاکٹری کے پیشے سے الگ کرلیا۔سیاست میں آتے ہی انہیں کامیابی ملی اور چند ہی سال میں وہ ملک کے وزیر دفاع بھی بن گئے ، اس سے قبل ہی انہوں نے آئرلینڈ کی سیاست اور حکومتی ...

کورونا وائرس،آئرلینڈ کے وزیراعظم بطور ڈاکٹر خدمات دینے لگے

بورس جانسن کی حالت بہتر ہے ، ترجمان برطانوی وزیراعظم وجود - بدھ 08 اپریل 2020

برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے بتایا ہے کہ کوورنا وائرس کوویڈ 19 کے مرض میں مبتلا برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی حالت اب بہتر ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بورس جانسن بغیر کسی آلہ کی مدد سے سانس لے رہے ہیں اور ان میں نمونیا کی تشخیص نہیں ہوئی ہے ۔ گزشتہ دنوں کورونا وائرس سے متاثر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو حالت خراب ہونے پر آئی سی یو میں منتقل کردیا گیا تھا۔ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا تھا کہ وزیراعظم بورس جانسن کو ڈاکٹروں کی ہدایات کے بعد ہس...

بورس جانسن کی حالت بہتر ہے ، ترجمان برطانوی وزیراعظم

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 69 ہزار 456 ہوگئی وجود - پیر 06 اپریل 2020

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاک افراد کی تعداد 69 ہزار 456 ہوگئی، امریکا میں عالمی وبا سے 9 ہزار 633 افراد جان کی بازی ہار گئے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق دنیا کے 208 ممالک اور علاقے کورونا کی زد میں آگئے ۔ امریکا بدستور دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں مسلسل پانچویں روز ایک ہزار سے زائد اموات ریکارڈ ہو رہی ہیں، 24 گھنٹوں میں 1200 ہلاکتوں کے بعد مرنے والوں کی تعداد 9 ہزار 633 ہوگئی۔ 3 لاکھ 36 ہزار 830 افراد کورونا کا شکار ہوچکے ہیں۔نیویارک کے بعد نیو جرسی اور نیو آرلین...

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 69 ہزار 456 ہوگئی