وجود

... loading ...

وجود

شہاب ثاقب میں سائنس دانوں کی دل چسپی

پیر 07 مئی 2018 شہاب ثاقب میں سائنس دانوں کی دل چسپی

شہابِ ثاقب کے بارے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ دراصل تقریباً ساڑھے چار ارب سال قبل نظامِ شمسی کی تخلیق کے بعد بچ جانے والا ملبہ ہیں اور ان پر تحقیق سے ممکنہ طور پر یہ بات سامنے آسکتی ہے کہ ابتدائی نظام ِ شمسی کے اجزائے ترکیبی کیا تھے اور یہ کہ زمین جیسے سیارے کیسے وجود میں آئے۔ اسی لیے طویل عرصے سے سائنس داں ان پر مختلف پہلووئوں سے تحقیق کرنے میں مصروف ہیں۔شہاب ثاقب کے ماہرین کی نظر میں انٹارکٹیکا ان چٹانوں کی تلاش کے لیے بہترین جگہ ہے۔ایک نئی تحقیق کے مطابق براعظم انٹارکٹیکا میں برف کی تہوں کے نیچے لوہے کی خصوصیات والے شہاب ثاقب کے ٹکڑے پو شید ہ ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ وہاں گلیشیئرزکے اپنی جگہ بد لنے سے خلائی چٹانوں کے ٹکڑے برف کی اوپری سطح پر آجاتے ہیں، تاہم دنیا بھر میں ملنے والے شہاب ثاقب کے ٹکڑوں کے مقابلے میں وہاںسے ملنے والے بہت کم شہابیوں میں لوہے کے ٹکڑے شامل ہوتے ہیں۔

تجربہ گاہ میں کیے جانے والے تجربات کی روشنی میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گم شدہ دھاتی چٹانی ٹکڑے ممکنہ طور پر سورج کی روشنی کی حِدّت سے برف پگھلنے کی وجہ سے خود کو برف میں مزید اندر کی طرف دھنسا رہے ہیں۔اپنے اس خیال کی تصدیق کے لیے سائنس داں ان دھاتی چٹانوں میں بہت دل چسپی رکھتے ہیں۔سائنسی جریدے’’ نیچر کمیونی کیشن‘‘ میں شایع شدہ ایک تحقیق کی شریک مصنفہ، یونی ورسٹی آف مانچسٹر سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر کیتھرین جوائے کے مطابق تحقیق کے ذریعے سامنے آنے والے منطقی نظریے کے مطابق مذکورہ دھاتی نمونے وہاں موجود ہونے چاہییں۔ ہمیں محض انہیںتلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ملنے والا ہر شہاب ثا قب ہمارے نظام شمسی کے بارے میں کوئی نئی بات بتاتا ہے۔لوہے کی خصوصیات والے شہابِ ثاقب اس بات کی ترجمانی کرتے ہیں کہ وہ کبھی کسی سیارے کے مرکزی اجرام کا حصہ تھے اور مختلف فضائے بسیط کے دقیق زرات میں شامل تھے۔ہمارے خیال میں نظام شمسی میںسیکڑوں ایسے سیارے تھے جو ابتدائی مراحل میں باہمی ٹکڑائو کے عمل کے باعث ٹوٹ گئے۔وہ کبھی ارتقائی منازل طے نہیں کر پائے اور بڑے نہیں ہوسکے۔

برفانی بہاوکے باعث شہابی پتھر ایک محدود علا قے میں جمع ہوجاتے ہیں اور اسی وجہ سے شہاب ثاقب کے ما ہرین کی نظر میں انٹارکٹیکا ان چٹانوں کی تلاش کے لیے بہترین جگہ ہے۔سائنس دانوں نے محسوس کیا ہے کہ دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں انٹارکٹیکا کے ان علاقوں سے دریافت ہونے والی شہابی پتھروں میں لوہے کی خصوصیات والی چٹانوں کی تعداد حیرت انگیز طور پر کم ہے۔

ڈاکٹر جوائے اور ان کے ساتھی سائنس دانوں کے خیال میں وہ اس کی وجہ تلاش کرنے میں کام یاب ہوگئے ہیں۔انہوںنے تقریباً ایک ہی جسامت کے شہابِ ثا قب کے دو چھوٹے ٹکڑے برف کی ایک سِل میں جما دیے جن میں سے ایک لوہے کی خصوصیت کا حامل تھا اور دوسرا ایک چٹانی ٹکڑا تھا۔پھر انہوں نے ان ٹکڑوںپر مصنو عی طورپر سو ر ج کی روشنی کا اثر دیکھنے کے لیے انہیںلیمپ کی روشنی سے گرم کیا۔یہ تجربہ بار بار دہرانے سے برف کی سِل کی سطح پگھلنے لگی اور دونوں شہابی پتھراندر کی طرف دھنس گئے تھے۔ دھاتی پتھر ہونے اور گرمی کی شدت سے زیادہ گرم ہونے کے باعث چٹانی پتھر کے مقابلے میں لوہے کی خصوصیت والا پتھر زیادہ گہرائی میں اور زیادہ تیز رفتار سے دھنسا تھا۔اس تجربے کے بارے میں ڈاکٹر جوائے کا کہنا ہے کہ ہمارے خیال میں یہ پتھر بالائی سطح پر آتے ہی نہیں ہیں۔ یہ (دھاتی) پتھر ہمیشہ کے لیے 50 سے 100 سینٹی میٹر تک برف کے اندر دھنسے ہوئے ہوتے ہیں۔ دھاتی چٹانی ٹکڑے ممکنہ طور پر سورج کی روشنی سے برف کیپگھلنے کے باعث خود کو برف میں مزید اندر کی طرف دھنسا رہے ہیں۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ عملی وجوہات کی بنا پر ا نٹا ر کٹیکا سے اب تک جتنے بھی شہاب ثاقب جمع کیے گئے ہیں ان میںبہت ہی قلیل تعداد ان پتھروں کی ہے جو برف کے نیچے سے نکالے گئے ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ جب سردی کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے تو برف کی بالائی سطح سے ہی مربوط طریقے سے ان نمونوں کو جمع کرنا دشوار عمل ہوتا ہے۔ برف کے نیچے دبے ہوئے نمونوں تک رسائی کے لیے لوگ زیادہ جدوجہد نہیں کرتے۔

درحقیقت برف کے نیچے دبے ہوئے شہابِ ثاقب کی تلاش کو ئی آسان کام نہیں ، تاہم سائنس داںپْرامید ہیں کہ ریڈار اور میٹل ڈیٹیکٹر کی مدد سے وہ اس کوشش میں کام یاب رہیں گے۔اگر وہ اس کوشش میں کام یاب ہو گئے توممکنہ طورپر اس کے بہت مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔لوہے کی خصوصیات والے شہاب ثاقب اس بات کی ترجمانی کرتے ہیں کہ وہ کبھی کسی سیارے کے مرکزی ا جرام کا حصہ تھے اور مختلف فضائے بسیط کے دقیق زرات میں شامل تھے۔خلا میں موجود شہاب ثاقب بھی سائنس دانوں کے لیے بہت اہم ہیں اور ان پر مسلسل نظر رکھی جاتی ہے۔اسی جستجو میں انہوں نے ایپوفس نامی ایک بہت بڑا شہابِ ثاقب دریافت کیا ہے۔سائنس دانوں کے بہ قول تین سو میٹر چوڑا ایپوفس نامی یہ شہابِ ثاقب دو ہزار انتیس میں زمین کے بہت قریب سے گزرے گا،لیکن وہ دنیاکے لیے خطرہ نہیں ہے۔برطانیا کے خلائی سائنس دانوں اور انجینئرز نے مستقبل میں زمین کے قریب سے گزرنے وا لے اس شہاب ثاقب کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشن ڈیزائن کیا ہے۔اسٹیونیج میں قائم ایسٹریئم کے سائنس داںاس شہابِ ثاقب کے مدار کا صحیح اندازہ کرنا چاہتے ہیں۔

سائنس داں اس شہابِ ثاقب تک ایسا خلائی جہاز بھیجنے کا منصوبہ رکھتے ہیں جووہاں تین برس گزارے اور وہاں سے اس شہابِ ثاقب کے حجم،شکل اور درجہ حر ا ر ت کے بارے میں مزید معلومات زمین پر بھیجے۔ان کے خیال میںیہ تفصیلات حاصل ہونے کے بعدیہ اندازہ لگانا آسان ہو جائیگا کہ یہ شہابیہ مستقبل میں کسی تصادم کا باعث بن سکتا ہے یا نہیں۔

اس وقت سائنس دانوں کے مطابق ایپوفس دنیا کے لیے خطرہ نہیں ہے،لیکن اگر وہ زمین سے ٹکراگیا تو کرہ ارض پر بہت بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا سبب بن سکتا ہے ۔ سائنس دانوں کے خیال میں پینسٹھ ملین سال پہلے د نیا میں بہت سے جان دار،بالخصوص ڈائناسورز کی اموات ایسی ہی کسی بہت بڑی خلائی شئے کے زمین سے ٹکر انے کی وجہ سے ہوئی تھیں۔سائنسدان اور انجینئرزشہاب ثاقب پر تحقیق کے لیے ایسا مشن بھیجنا چاہتے ہیںجوکسی شہابِ ثاقب پر مو جود عناصر کے نمونے حاصل کرسکے۔اس مشن کا مقصد نظا م شمسی کے ارتقاء کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہے۔ منصوبے کے مطابق یہ خلائی مشن زمین کے نزدیک موجود ایک کلومیٹر سے کم قطر کے کسی شہابِ ثاقب پر بھیجا جائے گاجو وہاں سے دھول، گرد کے علاوہ دیگر عناصر لا ئے گا ،جس پر بعد ازاں تجربات کیے جائیں گے۔


متعلقہ خبریں


سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم وجود - اتوار 22 فروری 2026

عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے وجود - هفته 21 فروری 2026

آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا وجود - هفته 21 فروری 2026

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف وجود - هفته 21 فروری 2026

میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار وجود - هفته 21 فروری 2026

ایئرپورٹ سیمسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنیکا انکشاف اے ایس آئی محمد عالم، ایف سی انضمام الحق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل شامل ہیں ،ذرائع نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ...

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان وجود - جمعه 20 فروری 2026

شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان

بھارت بند ہڑتال وجود - جمعه 20 فروری 2026

ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...

بھارت بند ہڑتال

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان وجود - جمعرات 19 فروری 2026

اب منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، عمران خان رہائی فورس مکمل طور پر پرامن جدوجہد کرے گی جس میں باقاعدہ چین آف کمانڈ ہو گی، یہ نہیں ہو گا کہ ذمہ داری کسی کو دیں اور اعلان کوئی کرتا پھرے مجھے بانی پی ٹی آئی کی طرف سے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے، عدالتی احکامات ردی کی...

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری وجود - جمعرات 19 فروری 2026

یہ بات سب یاد رکھیں، عدم اعتماد صرف میں لاسکتا ہوں، میںنے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہ دی تھی، مجھے بہت سوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبرو تحمل سے کام لیا،پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، وزارتیں اس لئے نہیں لیں پارٹی کو...

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار وجود - جمعرات 19 فروری 2026

قاسم اور سلیمان نے دو سال سے زائد عرصے کے بعد ویزے کیلئے درخواست دے دی انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے، دونوں بھائیوں کا مطالبہ،مگر ابھی تک جواب نہیں ملا سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی جیل میں قید اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے...

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم وجود - بدھ 18 فروری 2026

مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ،دنیا کو موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں،پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،شہباز شریف پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا ا...

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم

مضامین
زندگی بدل گئی! وجود اتوار 22 فروری 2026
زندگی بدل گئی!

بھارت منشیات کی عالمی ترسیل میں ملوث وجود اتوار 22 فروری 2026
بھارت منشیات کی عالمی ترسیل میں ملوث

زرداری اور شبنم وجود هفته 21 فروری 2026
زرداری اور شبنم

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس وجود هفته 21 فروری 2026
سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس

عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری وجود جمعه 20 فروری 2026
عمران خان کی اسیری اور جناب زرداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر