وجود

... loading ...

وجود

شہاب ثاقب میں سائنس دانوں کی دل چسپی

پیر 07 مئی 2018 شہاب ثاقب میں سائنس دانوں کی دل چسپی

شہابِ ثاقب کے بارے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ دراصل تقریباً ساڑھے چار ارب سال قبل نظامِ شمسی کی تخلیق کے بعد بچ جانے والا ملبہ ہیں اور ان پر تحقیق سے ممکنہ طور پر یہ بات سامنے آسکتی ہے کہ ابتدائی نظام ِ شمسی کے اجزائے ترکیبی کیا تھے اور یہ کہ زمین جیسے سیارے کیسے وجود میں آئے۔ اسی لیے طویل عرصے سے سائنس داں ان پر مختلف پہلووئوں سے تحقیق کرنے میں مصروف ہیں۔شہاب ثاقب کے ماہرین کی نظر میں انٹارکٹیکا ان چٹانوں کی تلاش کے لیے بہترین جگہ ہے۔ایک نئی تحقیق کے مطابق براعظم انٹارکٹیکا میں برف کی تہوں کے نیچے لوہے کی خصوصیات والے شہاب ثاقب کے ٹکڑے پو شید ہ ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ وہاں گلیشیئرزکے اپنی جگہ بد لنے سے خلائی چٹانوں کے ٹکڑے برف کی اوپری سطح پر آجاتے ہیں، تاہم دنیا بھر میں ملنے والے شہاب ثاقب کے ٹکڑوں کے مقابلے میں وہاںسے ملنے والے بہت کم شہابیوں میں لوہے کے ٹکڑے شامل ہوتے ہیں۔

تجربہ گاہ میں کیے جانے والے تجربات کی روشنی میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گم شدہ دھاتی چٹانی ٹکڑے ممکنہ طور پر سورج کی روشنی کی حِدّت سے برف پگھلنے کی وجہ سے خود کو برف میں مزید اندر کی طرف دھنسا رہے ہیں۔اپنے اس خیال کی تصدیق کے لیے سائنس داں ان دھاتی چٹانوں میں بہت دل چسپی رکھتے ہیں۔سائنسی جریدے’’ نیچر کمیونی کیشن‘‘ میں شایع شدہ ایک تحقیق کی شریک مصنفہ، یونی ورسٹی آف مانچسٹر سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر کیتھرین جوائے کے مطابق تحقیق کے ذریعے سامنے آنے والے منطقی نظریے کے مطابق مذکورہ دھاتی نمونے وہاں موجود ہونے چاہییں۔ ہمیں محض انہیںتلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ملنے والا ہر شہاب ثا قب ہمارے نظام شمسی کے بارے میں کوئی نئی بات بتاتا ہے۔لوہے کی خصوصیات والے شہابِ ثاقب اس بات کی ترجمانی کرتے ہیں کہ وہ کبھی کسی سیارے کے مرکزی اجرام کا حصہ تھے اور مختلف فضائے بسیط کے دقیق زرات میں شامل تھے۔ہمارے خیال میں نظام شمسی میںسیکڑوں ایسے سیارے تھے جو ابتدائی مراحل میں باہمی ٹکڑائو کے عمل کے باعث ٹوٹ گئے۔وہ کبھی ارتقائی منازل طے نہیں کر پائے اور بڑے نہیں ہوسکے۔

برفانی بہاوکے باعث شہابی پتھر ایک محدود علا قے میں جمع ہوجاتے ہیں اور اسی وجہ سے شہاب ثاقب کے ما ہرین کی نظر میں انٹارکٹیکا ان چٹانوں کی تلاش کے لیے بہترین جگہ ہے۔سائنس دانوں نے محسوس کیا ہے کہ دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں انٹارکٹیکا کے ان علاقوں سے دریافت ہونے والی شہابی پتھروں میں لوہے کی خصوصیات والی چٹانوں کی تعداد حیرت انگیز طور پر کم ہے۔

ڈاکٹر جوائے اور ان کے ساتھی سائنس دانوں کے خیال میں وہ اس کی وجہ تلاش کرنے میں کام یاب ہوگئے ہیں۔انہوںنے تقریباً ایک ہی جسامت کے شہابِ ثا قب کے دو چھوٹے ٹکڑے برف کی ایک سِل میں جما دیے جن میں سے ایک لوہے کی خصوصیت کا حامل تھا اور دوسرا ایک چٹانی ٹکڑا تھا۔پھر انہوں نے ان ٹکڑوںپر مصنو عی طورپر سو ر ج کی روشنی کا اثر دیکھنے کے لیے انہیںلیمپ کی روشنی سے گرم کیا۔یہ تجربہ بار بار دہرانے سے برف کی سِل کی سطح پگھلنے لگی اور دونوں شہابی پتھراندر کی طرف دھنس گئے تھے۔ دھاتی پتھر ہونے اور گرمی کی شدت سے زیادہ گرم ہونے کے باعث چٹانی پتھر کے مقابلے میں لوہے کی خصوصیت والا پتھر زیادہ گہرائی میں اور زیادہ تیز رفتار سے دھنسا تھا۔اس تجربے کے بارے میں ڈاکٹر جوائے کا کہنا ہے کہ ہمارے خیال میں یہ پتھر بالائی سطح پر آتے ہی نہیں ہیں۔ یہ (دھاتی) پتھر ہمیشہ کے لیے 50 سے 100 سینٹی میٹر تک برف کے اندر دھنسے ہوئے ہوتے ہیں۔ دھاتی چٹانی ٹکڑے ممکنہ طور پر سورج کی روشنی سے برف کیپگھلنے کے باعث خود کو برف میں مزید اندر کی طرف دھنسا رہے ہیں۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ عملی وجوہات کی بنا پر ا نٹا ر کٹیکا سے اب تک جتنے بھی شہاب ثاقب جمع کیے گئے ہیں ان میںبہت ہی قلیل تعداد ان پتھروں کی ہے جو برف کے نیچے سے نکالے گئے ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ جب سردی کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے تو برف کی بالائی سطح سے ہی مربوط طریقے سے ان نمونوں کو جمع کرنا دشوار عمل ہوتا ہے۔ برف کے نیچے دبے ہوئے نمونوں تک رسائی کے لیے لوگ زیادہ جدوجہد نہیں کرتے۔

درحقیقت برف کے نیچے دبے ہوئے شہابِ ثاقب کی تلاش کو ئی آسان کام نہیں ، تاہم سائنس داںپْرامید ہیں کہ ریڈار اور میٹل ڈیٹیکٹر کی مدد سے وہ اس کوشش میں کام یاب رہیں گے۔اگر وہ اس کوشش میں کام یاب ہو گئے توممکنہ طورپر اس کے بہت مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔لوہے کی خصوصیات والے شہاب ثاقب اس بات کی ترجمانی کرتے ہیں کہ وہ کبھی کسی سیارے کے مرکزی ا جرام کا حصہ تھے اور مختلف فضائے بسیط کے دقیق زرات میں شامل تھے۔خلا میں موجود شہاب ثاقب بھی سائنس دانوں کے لیے بہت اہم ہیں اور ان پر مسلسل نظر رکھی جاتی ہے۔اسی جستجو میں انہوں نے ایپوفس نامی ایک بہت بڑا شہابِ ثاقب دریافت کیا ہے۔سائنس دانوں کے بہ قول تین سو میٹر چوڑا ایپوفس نامی یہ شہابِ ثاقب دو ہزار انتیس میں زمین کے بہت قریب سے گزرے گا،لیکن وہ دنیاکے لیے خطرہ نہیں ہے۔برطانیا کے خلائی سائنس دانوں اور انجینئرز نے مستقبل میں زمین کے قریب سے گزرنے وا لے اس شہاب ثاقب کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشن ڈیزائن کیا ہے۔اسٹیونیج میں قائم ایسٹریئم کے سائنس داںاس شہابِ ثاقب کے مدار کا صحیح اندازہ کرنا چاہتے ہیں۔

سائنس داں اس شہابِ ثاقب تک ایسا خلائی جہاز بھیجنے کا منصوبہ رکھتے ہیں جووہاں تین برس گزارے اور وہاں سے اس شہابِ ثاقب کے حجم،شکل اور درجہ حر ا ر ت کے بارے میں مزید معلومات زمین پر بھیجے۔ان کے خیال میںیہ تفصیلات حاصل ہونے کے بعدیہ اندازہ لگانا آسان ہو جائیگا کہ یہ شہابیہ مستقبل میں کسی تصادم کا باعث بن سکتا ہے یا نہیں۔

اس وقت سائنس دانوں کے مطابق ایپوفس دنیا کے لیے خطرہ نہیں ہے،لیکن اگر وہ زمین سے ٹکراگیا تو کرہ ارض پر بہت بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا سبب بن سکتا ہے ۔ سائنس دانوں کے خیال میں پینسٹھ ملین سال پہلے د نیا میں بہت سے جان دار،بالخصوص ڈائناسورز کی اموات ایسی ہی کسی بہت بڑی خلائی شئے کے زمین سے ٹکر انے کی وجہ سے ہوئی تھیں۔سائنسدان اور انجینئرزشہاب ثاقب پر تحقیق کے لیے ایسا مشن بھیجنا چاہتے ہیںجوکسی شہابِ ثاقب پر مو جود عناصر کے نمونے حاصل کرسکے۔اس مشن کا مقصد نظا م شمسی کے ارتقاء کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہے۔ منصوبے کے مطابق یہ خلائی مشن زمین کے نزدیک موجود ایک کلومیٹر سے کم قطر کے کسی شہابِ ثاقب پر بھیجا جائے گاجو وہاں سے دھول، گرد کے علاوہ دیگر عناصر لا ئے گا ،جس پر بعد ازاں تجربات کیے جائیں گے۔


متعلقہ خبریں


حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

خیبرپختونخوا کا 2122 ارب کا بجٹ پیش، تنخواہ و پنشن میں 7 فیصد اضافہ وجود - هفته 20 جون 2026

وزیراعلیٰ نے نئے مالی سال کے 48 ارب خسارے کا بجٹ پیش کردیا، کم ازکم تنخواہ 45 ہزار کرنے کی تجویز اخراجات کا تخمینہ 2 ہزار 170 ارب جبکہ آمدن کا تخمینہ 2 ہزار 122 ارب روپے ہے، سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے مالی سال 27-2026 کا دو ہزار 122 ارب روپے ...

خیبرپختونخوا کا 2122 ارب کا بجٹ پیش، تنخواہ و پنشن میں 7 فیصد اضافہ

حکومت کی پیپلزپارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت، بلاول کو اہم وزارت ملنے کا امکان وجود - جمعه 19 جون 2026

پیپلز پارٹی کے ماننے کی صورت میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کو اہم وزارت کا قلمدان ملنے کا امکان ،وفاقی کابینہ میں ردوبدل متوقع ، نئے چہرے سامنے لائے جائیں گے‘ذرائع وزیراعظم کی تمام وزراء سے کارکردگی رپورٹ طلب ، وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوگا،کامرس، پاور، ہاؤسنگ، موا...

حکومت کی پیپلزپارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت، بلاول کو اہم وزارت ملنے کا امکان

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط وجود - جمعه 19 جون 2026

امریکا اور ایران نے وقت سے پہلے ہی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی...

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ وجود - جمعه 19 جون 2026

جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں شرکت ضروری نہیں رہی ایم او یو پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخط کے بعد بطورثالث توثیق کر دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے شیڈول دورہ منسوخ کردیا گیا۔تفصیلات کے ...

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ

کراچی میں بھاری جرمانوں کیخلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال وجود - جمعه 19 جون 2026

شہری مشکلات کا شکار، ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ کوطویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے حب ریور روڈ، شیرشاہ و دیگر علاقوں میں شہری پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر پریشان کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو...

کراچی میں بھاری جرمانوں کیخلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال

مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھنائونی سازش وجود - جمعه 19 جون 2026

موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں،رپورٹ اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسج...

مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھنائونی سازش

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

مضامین
سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں ! وجود اتوار 21 جون 2026
سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں !

خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی وجود هفته 20 جون 2026
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی

جناب،بادشاہ سلامت!! وجود هفته 20 جون 2026
جناب،بادشاہ سلامت!!

قمر احمد کرکٹ کے تاریخ نویس وجود هفته 20 جون 2026
قمر احمد کرکٹ کے تاریخ نویس

پہاڑی عوام کی سلامتی، میدانی علاقوں کی بقا کا ضامن وجود هفته 20 جون 2026
پہاڑی عوام کی سلامتی، میدانی علاقوں کی بقا کا ضامن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر