وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 06 مئی 2018 استقبال کتب

نام کتاب:عالمی کہانیاں(تراجم)
ترجمہ:ظفر قریشی
ناشر:دی ریسرچ فورم، کراچی
قیمت:600روپے
مبصر :مجیدفکری

جناب ظفر قریشی ایک سینئر صحافی ہیں جن کا تعلق روشنیوں کے شہر کراچی سے رہاہے مگروہ ایک طویل مدت سے بہ سلسلۂ روزگار دیارِ غیر میں تھے۔اس دوران انھوں نے انگریزی ادب کا خوب مطالعہ کیا ۔انگریزی ادب کی عمدہ اور نئی کہانیوں کو اُردوزبان میں ترجمہ کرکے نہ صرف اُردوادب کا دامن مالامال کر دیا ہے بلکہ تاریخ اُردو ادب میں اضافہ بھی کیا ہے۔’’عالمی کہانیاں‘‘کے عنوان سے انھوں نے اُن 15منتخب کہانیوں کا ترجمہ کیا ہے جو کہ بالکل نئی ہیں ۔یہ بات ظفر قریشی کو دیگر مترجموں سے منفردو ممتاز کرتی ہے ۔کیوں کہ اکثر انگریزی یا دیگر زبانوں سے ترجمہ کرنے والے اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ وہ اپنے انتخاب میں کیا لارہے ہیں اکثر وہی انگریزی ادب ترجمہ کردیتے ہیں جو پہلے کئی بارہو چکاہوتاہے اور جس کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ظفر قریشی کے یہ تراجم فضائے اُردو ادب میں تازہ ہواکے جھونکے ثابت ہوئے ہیں۔
اس کتاب پر ’’تخلیقی تھکن کی لذت‘‘کے عنوان سے معروف شاعرونقاد خواجہ رضی حیدر اور معروف ترجمہ نگارجناب سلیم صدیقی نے اپنی مثبت رائے ثبت کی ہیں۔ اُردوتراجم کی دنیامیں جناب ظفر صدیقی کا یہ کارِ ادب تادیر یاد رکھا جائے گا۔

نام کتاب:بے خواب دریچے(شاعری)
کلام:عاصم صدیقی
ناشر:ادارۂ ارتفاع،حیدرآباد(سندھ)
قیمت:300روپے
مبصر :مجیدفکری
جناب عاصم صدیقی سے میری پہلی ملاقات ایک ناظم کی حیثیت سے ہوئی ۔ ان کی آواز کا جادو آج بھی میرے کانوں میں رس گھول رہاہے۔پھر معلوم ہوا کہ وہ شاعربھی ہیں اور افسانہ نگاربھی۔ان سے جان کاری بڑھتی رہی اور ان کی شخصیت کی پرتیں مجھ پر کھلتی رہیں ۔ ایک دن طویل مدت کے بعد ان سے ملاقات ہوئی تو پتاچلاکہ وہ ڈرامانگار ی کر رہے ہیں کوئی چینل ایسا نہیں جس پر ان کے لکھے ہوئے اور ڈراماٹائز کیے ہوئے ڈرامے پلے نہ ہو رہے ہوں۔یہ بات بھی خوش آئند تھی مگر غم روزگار کے اس ڈرامائی چکر میں ان کی شاعری اور افسانہ نگاری بہت متاثر ہوئی۔آج مدت بعد ان کا شعری مجموعہ ’’بے خواب دریچے‘‘ نظرنواز ہواتو تمام پرانی یادیں تازہ ہوگئیں اور ایک بار پھر ان کی وہی مترنم آواز میرے کانوں میں رس گھولنے لگی۔اس شعری مجموعے سے یہ راز بھی مجھ پر کھلا کہ عاصم صدیقی بسااوقات نظامت کرتے ہوئے جو اشعار پڑھتے ہیں وہ ان کے اپنے ہوتے تھے ۔یہ شعری مجموعہ اس بات کی غمازی کر رہاہے۔یہ شعر پیش خدمت ہے:
کیسے یقین کر لوں حق ہے ترا چمن پر
جیتا نہیں وطن میں، مرتا نہیں وطن پر

اس قسم کے معتدد اشعار کا لطف پانے کے لیے آپ کو ’’بے خواب دریچے ‘‘کا مطالعہ کرنا ہو گا۔ اس مطالعے سے آپ عاصم صدیقی اور ان کی شاعری سے آشناہوجائیں گے۔

کتاب کا نام:چہادر دریا (شاعری)
کلام:غلام حسین ساجد
قیمت :250روپے
پبلشرز:سانجھ پبلی کیشنز،لاہور
جناب غلام حسین ساجد ایک سینئر شاعر ہیں جن کا شمار پاکستان کے نمائندہ شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کے متعدد مجموعہ ہائے کلام شائع ہوچکے ہیں۔ حال میں ان کا شعری مجموعہ ’’ چہار دریا‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ ان چہار دریا کا مطلب بحرِ سخن ہے جس میں خیالات کی روانی اور افکار کی طغیانی آتی ہے اور قرطاسِ ریت پر ایک نیا چہرہ نقش کرجاتی ہے جس کے ماتھے پر کبھی غزل اور کبھی نظم لکھا ہوتا ہے۔ ایک ہی بحر میں چار ردیفوں کے ساتھ تکراری قافیوں میں کہی گئی یہ غزلیں فکری کشادگی اور موضوعی تنوع لیے ہوئے ہیں۔ غلام حسین ساجدکے بحرِ سخن میں جب طغیانی آتی ہے تو وہ اپنی ساتھ سبھی کچھ بہا کر لے جاتی ہے کنکر، پتھر، مٹی اور گرد کو تہہ میں بٹھادیتی ہے اور خاروخس کو کنارے لگا کر اپنی روانی کوخوش خرام اور پانی کو صاف و شفاف بنالیتی ہے۔ ’’خواب‘‘، ’’صبح‘‘، ’’ہوش‘‘ اور’’ عشق‘‘ یہ بحرِ سخن کے چار دریا ہیںجو ایک نئے تجربے کی شکل میں مل کر بہہ رہے ہیں جن کی ہر موج قاری کے لباسِ تخیل کو بھگوتی محسوس ہوتی ہے۔

کتاب کا نام:لمحۂ بے لوث (افسانے)
افسانہ نگار:طیبہ خان
قیمت:300 روپے
ناشر :Creative پبلشرز، فیصل آباد
طیبہ خان کے افسانوں کا یہ پہلا مجموعہ ہے جس میں گیارہ افسانے شامل ہیں۔ ان کے افسانوں پر ہندوستان کے معروف فکشن رائٹر جناب شموئیل احمد نے لکھا ہے کہ فکشن کے اُفق پر اُبھرتے ہوئے نئے ستارے کا نام طیبہ خان ہے جس کی شعاعیں معاشرے میں گہری اُترتی معلوم ہوتی ہیں۔ طیبہ خان نے اپنے افسانوں میں انسانی صورتِ حال کے مختلف پہلوئوں کی کامیاب عکاسی کی ہے۔ ان کا مشاہدہ گہرا ہے۔ متوسط اور نچلے طبقے سے آئے ہوئے ان کے کردار ارد گرد کے جانے پہچانے کردار ہیں۔ موضوع کا تنوع ان کے افسانے کی خصوصیت ہے۔ ان کا اسلوب رواں دواں اور زبان تشبیہات اور استعارے سے آراستہ ہوتی ہے۔ زندگی سے جو جھتے ہوئے کسی عام آدمی کالہو لہان چہرہ’’ بابا‘‘کے روپ میں نظر آتا ہے اور کبھی نوکرانی ’’نوری‘‘کی شکل میں جو زندگی کی بے اعتنائیوں سے گھبراکر خودکشی میں فرار حاصل کرتی ہے۔ طیبہ خان اپنے افسانوں میں چونکا دینے کی کوشش نہیں کرتیں بلکہ معاشرے کے دوہرے چہرے سے آہستہ سے نقاب اُٹھا کر قاری کو سوچنے پرمجبورکردیتی ہے۔


متعلقہ خبریں


ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر وجود - پیر 04 مئی 2026

مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں وجود - پیر 04 مئی 2026

میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 04 مئی 2026

25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ وجود - پیر 04 مئی 2026

نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی وجود - اتوار 03 مئی 2026

عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی وجود - اتوار 03 مئی 2026

قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار وجود - اتوار 03 مئی 2026

گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات سے فارمیسیوں سے اہم ادویات غائب ہونے لگیں صورتِ حال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے،ماہرین مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات برطانیہ تک پہنچنا شروع ہو گئے جہاں ملک بھر میں فارمیسیوں سے اہم ادویات غائ...

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

مضامین
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ وجود پیر 04 مئی 2026
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ

مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

ہم خود ہی کافی ہیں! وجود اتوار 03 مئی 2026
ہم خود ہی کافی ہیں!

غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل وجود اتوار 03 مئی 2026
غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر