... loading ...
نام کتاب:عالمی کہانیاں(تراجم)
ترجمہ:ظفر قریشی
ناشر:دی ریسرچ فورم، کراچی
قیمت:600روپے
مبصر :مجیدفکری
جناب ظفر قریشی ایک سینئر صحافی ہیں جن کا تعلق روشنیوں کے شہر کراچی سے رہاہے مگروہ ایک طویل مدت سے بہ سلسلۂ روزگار دیارِ غیر میں تھے۔اس دوران انھوں نے انگریزی ادب کا خوب مطالعہ کیا ۔انگریزی ادب کی عمدہ اور نئی کہانیوں کو اُردوزبان میں ترجمہ کرکے نہ صرف اُردوادب کا دامن مالامال کر دیا ہے بلکہ تاریخ اُردو ادب میں اضافہ بھی کیا ہے۔’’عالمی کہانیاں‘‘کے عنوان سے انھوں نے اُن 15منتخب کہانیوں کا ترجمہ کیا ہے جو کہ بالکل نئی ہیں ۔یہ بات ظفر قریشی کو دیگر مترجموں سے منفردو ممتاز کرتی ہے ۔کیوں کہ اکثر انگریزی یا دیگر زبانوں سے ترجمہ کرنے والے اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ وہ اپنے انتخاب میں کیا لارہے ہیں اکثر وہی انگریزی ادب ترجمہ کردیتے ہیں جو پہلے کئی بارہو چکاہوتاہے اور جس کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ظفر قریشی کے یہ تراجم فضائے اُردو ادب میں تازہ ہواکے جھونکے ثابت ہوئے ہیں۔
اس کتاب پر ’’تخلیقی تھکن کی لذت‘‘کے عنوان سے معروف شاعرونقاد خواجہ رضی حیدر اور معروف ترجمہ نگارجناب سلیم صدیقی نے اپنی مثبت رائے ثبت کی ہیں۔ اُردوتراجم کی دنیامیں جناب ظفر صدیقی کا یہ کارِ ادب تادیر یاد رکھا جائے گا۔
نام کتاب:بے خواب دریچے(شاعری)
کلام:عاصم صدیقی
ناشر:ادارۂ ارتفاع،حیدرآباد(سندھ)
قیمت:300روپے
مبصر :مجیدفکری
جناب عاصم صدیقی سے میری پہلی ملاقات ایک ناظم کی حیثیت سے ہوئی ۔ ان کی آواز کا جادو آج بھی میرے کانوں میں رس گھول رہاہے۔پھر معلوم ہوا کہ وہ شاعربھی ہیں اور افسانہ نگاربھی۔ان سے جان کاری بڑھتی رہی اور ان کی شخصیت کی پرتیں مجھ پر کھلتی رہیں ۔ ایک دن طویل مدت کے بعد ان سے ملاقات ہوئی تو پتاچلاکہ وہ ڈرامانگار ی کر رہے ہیں کوئی چینل ایسا نہیں جس پر ان کے لکھے ہوئے اور ڈراماٹائز کیے ہوئے ڈرامے پلے نہ ہو رہے ہوں۔یہ بات بھی خوش آئند تھی مگر غم روزگار کے اس ڈرامائی چکر میں ان کی شاعری اور افسانہ نگاری بہت متاثر ہوئی۔آج مدت بعد ان کا شعری مجموعہ ’’بے خواب دریچے‘‘ نظرنواز ہواتو تمام پرانی یادیں تازہ ہوگئیں اور ایک بار پھر ان کی وہی مترنم آواز میرے کانوں میں رس گھولنے لگی۔اس شعری مجموعے سے یہ راز بھی مجھ پر کھلا کہ عاصم صدیقی بسااوقات نظامت کرتے ہوئے جو اشعار پڑھتے ہیں وہ ان کے اپنے ہوتے تھے ۔یہ شعری مجموعہ اس بات کی غمازی کر رہاہے۔یہ شعر پیش خدمت ہے:
کیسے یقین کر لوں حق ہے ترا چمن پر
جیتا نہیں وطن میں، مرتا نہیں وطن پر
اس قسم کے معتدد اشعار کا لطف پانے کے لیے آپ کو ’’بے خواب دریچے ‘‘کا مطالعہ کرنا ہو گا۔ اس مطالعے سے آپ عاصم صدیقی اور ان کی شاعری سے آشناہوجائیں گے۔
کتاب کا نام:چہادر دریا (شاعری)
کلام:غلام حسین ساجد
قیمت :250روپے
پبلشرز:سانجھ پبلی کیشنز،لاہور
جناب غلام حسین ساجد ایک سینئر شاعر ہیں جن کا شمار پاکستان کے نمائندہ شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کے متعدد مجموعہ ہائے کلام شائع ہوچکے ہیں۔ حال میں ان کا شعری مجموعہ ’’ چہار دریا‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ ان چہار دریا کا مطلب بحرِ سخن ہے جس میں خیالات کی روانی اور افکار کی طغیانی آتی ہے اور قرطاسِ ریت پر ایک نیا چہرہ نقش کرجاتی ہے جس کے ماتھے پر کبھی غزل اور کبھی نظم لکھا ہوتا ہے۔ ایک ہی بحر میں چار ردیفوں کے ساتھ تکراری قافیوں میں کہی گئی یہ غزلیں فکری کشادگی اور موضوعی تنوع لیے ہوئے ہیں۔ غلام حسین ساجدکے بحرِ سخن میں جب طغیانی آتی ہے تو وہ اپنی ساتھ سبھی کچھ بہا کر لے جاتی ہے کنکر، پتھر، مٹی اور گرد کو تہہ میں بٹھادیتی ہے اور خاروخس کو کنارے لگا کر اپنی روانی کوخوش خرام اور پانی کو صاف و شفاف بنالیتی ہے۔ ’’خواب‘‘، ’’صبح‘‘، ’’ہوش‘‘ اور’’ عشق‘‘ یہ بحرِ سخن کے چار دریا ہیںجو ایک نئے تجربے کی شکل میں مل کر بہہ رہے ہیں جن کی ہر موج قاری کے لباسِ تخیل کو بھگوتی محسوس ہوتی ہے۔
کتاب کا نام:لمحۂ بے لوث (افسانے)
افسانہ نگار:طیبہ خان
قیمت:300 روپے
ناشر :Creative پبلشرز، فیصل آباد
طیبہ خان کے افسانوں کا یہ پہلا مجموعہ ہے جس میں گیارہ افسانے شامل ہیں۔ ان کے افسانوں پر ہندوستان کے معروف فکشن رائٹر جناب شموئیل احمد نے لکھا ہے کہ فکشن کے اُفق پر اُبھرتے ہوئے نئے ستارے کا نام طیبہ خان ہے جس کی شعاعیں معاشرے میں گہری اُترتی معلوم ہوتی ہیں۔ طیبہ خان نے اپنے افسانوں میں انسانی صورتِ حال کے مختلف پہلوئوں کی کامیاب عکاسی کی ہے۔ ان کا مشاہدہ گہرا ہے۔ متوسط اور نچلے طبقے سے آئے ہوئے ان کے کردار ارد گرد کے جانے پہچانے کردار ہیں۔ موضوع کا تنوع ان کے افسانے کی خصوصیت ہے۔ ان کا اسلوب رواں دواں اور زبان تشبیہات اور استعارے سے آراستہ ہوتی ہے۔ زندگی سے جو جھتے ہوئے کسی عام آدمی کالہو لہان چہرہ’’ بابا‘‘کے روپ میں نظر آتا ہے اور کبھی نوکرانی ’’نوری‘‘کی شکل میں جو زندگی کی بے اعتنائیوں سے گھبراکر خودکشی میں فرار حاصل کرتی ہے۔ طیبہ خان اپنے افسانوں میں چونکا دینے کی کوشش نہیں کرتیں بلکہ معاشرے کے دوہرے چہرے سے آہستہ سے نقاب اُٹھا کر قاری کو سوچنے پرمجبورکردیتی ہے۔
پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...
ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...
جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...
میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...
آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...
بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...
لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...
وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...
بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...
محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...